|
Voice of Islam
إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسلامُ
| ||
|
بسم تعالی درس نمبر ۲ (مولانا سید رمیز الحسن موسوی)
👈 *بسترِ مرگ پر شیطان کی موجودگی*
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
"کوئی انسان ایسا نہیں جس کی موت کے وقت شیطان اپنے نمائندوں میں سے کسی ایک کو اس کے پاس نہ بھیجے۔ وہ اسے وسوسوں میں مبتلا کرتا، اس کے دین میں شک پیدا کرتا اور اسے کفر کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وسوسہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اس کی روح جسم سے جدا نہ ہوجائے۔
لیکن اگر محتضر مؤمن ہو تو شیطان اس پر غالب نہیں آسکتا اور نہ ہی اس کا ایمان چھین سکتا ہے۔ لہٰذا جب بھی تم کسی محتضر کے پاس جاؤ تو اسے شہادتین کی تلقین کرو تاکہ شیطان اس پر قابو نہ پاسکے۔"
👈شیطان نے مہلت کیوں مانگی؟*
جب شیطان نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو وہ اللہ کی رحمت سے دھتکار دیا گیا۔ اس وقت اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک مہلت طلب کی تاکہ انسانوں کو گمراہ کرسکے۔
«قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» "اے میرے پروردگار! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔"(سورہ ص 79)
اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مقررہ وقت تک مہلت عطا فرمائی: «إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ» "ایک مقررہ وقت کے دن تک۔"(سورہ ص 81)
شیطان نے قسم کھائی کہ وہ اللہ کے خالص بندوں کے علاوہ تمام انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا:
«رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ» "اے میرے پروردگار! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں بھی زمین میں ان کے لیے گناہوں کو خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا، سوائے تیرے ان بندوں کے جو مخلص ہیں۔"(سورہ حجر 39-40)
لہٰذا یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیطان انسان کو آخری لمحات تک گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی مکاری اور وسوسوں سے باز نہیں آتا۔
👈شیطان کی آخری کوششوں کے کون کون سے حربے ہیں؟*
1۔ شیطان کا کفر و شرک کی دعوت دینا
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ جب ہمارے کسی شیعہ کی موت کا وقت آتا ہے تو شیطان اس کے دائیں اور بائیں جانب سے آتا ہے تاکہ اسے ایمان سے گمراہ کرکے کفر کی طرف لے جائے، لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس سے محفوظ رکھتا ہے۔
2۔ شبہات اور شکوک پیدا کرنا
شیطان آخری وقت میں اپنے کارندوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ انسان کے دل میں دینی عقائد کے بارے میں شک و شبہات پیدا کریں۔
3۔ امامت و ولایت سے دور کرنا
ولایت اور امامت سے دوری شیطان کا ایک بڑا جال ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ مؤمن کو اہلِ بیتؑ سے جدا کردے اور اسے ان کی محبت و ولایت سے دور کردے۔
4۔ کمزوریوں اور دنیوی وابستگیوں کا غلط استعمال کرنا
شیطان انسان کی دنیوی وابستگیوں اور کمزوریوں سےفائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
روایت میں بیان ہوا ہے کہ موت کے وقت انسان کو شدید پیاس لگ سکتی ہے۔ شیطان ٹھنڈے پانی کا پیالہ لے کر آتا ہے اور پانی دینے کے بدلے اللہ تعالیٰ یا رسولؐ کا انکار کرنے کی شرط رکھتا ہے۔ اگر انسان اس کے بہکاوے میں نہ آئے تو وہ سعادت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔
5۔ برے اخلاق و صفات کا سبب بننا
حسد، تکبر، دنیا سے شدید محبت اور والدین کی نافرمانی، یعنی عاقِ والدین، جیسے برے اخلاق انسان کی سوء عاقبت اور برے انجام کا سبب بن سکتے ہیں۔
👈شیطان کے وسوسوں سے بچاؤ کے طریقے*
1۔ ایمان کو مضبوط رکھنا
انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں اپنے ایمان کو اتنا مضبوط کرے کہ آخری وقت میں شیطان اسے ڈگمگا نہ سکے۔
2۔ محتضر کو تلقین کرنا
محتضر کے پاس شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا انتہائی مؤثر قرار دیا گیا ہے۔
3۔ نماز کو قائم رکھنا
جو شخص اپنی نمازیں وقت اور شرائط کے مطابق ادا کرتا ہے، موت کے وقت ملک الموتؑ شیطان کو اس سے دور بھگا دیتے ہیں۔
4۔ محتضر کو مصلّٰی پر منتقل کرنا
اگر ممکن ہو تو محتضر کو گھر میں اس جگہ منتقل کیا جائے جہاں وہ شخص زیادہ نماز پڑھا کرتا تھا۔
5۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا
محتضر کے قریب سورۂ یٰسین اور سورۂ صافات کی تلاوت کرنا بھی بیان کیا گیا ہے۔
6۔ دعائے «رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا» پڑھنا
ہر واجب نماز کے بعد اس دعا کی مدد انسان کے ایمان کو ثابت قدم رکھنے کا ذریعہ بیان کی گئی ہے۔
7۔ دعائے عدیلہ پڑھنا
دعائے عدیلہ پڑھنا اور اپنے عقائد کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا آخری وقت میں شیطان کے شر سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
8۔ اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت پر قائم رہنا
اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت دنیا، برزخ اور موت کے وقت انسان کے کام آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا باعث بنتی ہے۔
👈 *خلاصہ درس*
موت انسان کی زندگی کا انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ اس وقت شیطان انسان کو وسوسوں، شکوک اور مختلف ترغیبات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی ہی میں ایمان کو مضبوط کرے، نماز کی پابندی کرے، قرآن سے وابستہ رہے، اپنے اخلاق درست کرے اور اہلِ بیتؑ کی محبت و ولایت کو مضبوطی سے تھامے۔
محتضر کے وقت اسے شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور دعاؤں کے ذریعے اس کے ایمان کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرنا اسلامی تعلیمات میں اہم امور کے طور پر بیان ہوا ہے۔
👈 *چند وضاحتیں*
مُحتَضَر : وہ شخص ہے جو حالتِ نزع میں ہو اور جس کی روح جسم سے جدا ہونے والی ہو۔ دعائے رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا: مفاتیح الجنان میں یہ دعا تعقیباتِ نماز کے ضمن میں آئی ہے دعائے عدیلہ: مفاتیح الجنان میں موجود ہے، اور اس کا تعلق خاص طور پر حالتِ احتضار اور موت کے وقت ایمان کی حفاظت سے بیان کیا گیا ہے۔ [ چهارشنبه چهارم شهریور ۱۴۰۵ ] [ 14:17 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
صحاح ستہ کے شیعہ راوی جنہوں نے ھماری صحاح ستہ کا 80٪ بوجھ اٹھایا ھوا ھے ، ابان بن تغلب بن رباح قاری کوفی ابراہیم بن یزید بن عمرو بن اسود بن عمرو نخعی کوفی احمد بن مفضل ابن کوفی حفری اسماعیل بن ابان اسماعیل بن خلیفہ ملائی کوفی اسماعیل ابن زکریا خلقانی کوفی اسماعیل بن عباد بن عباس طالقانی اسماعیل بن عبدالرحمن بن ابی کریمہ مشہور مفسر اسماعیل بن موسی فزاری کوفی ت :- ث :- ثوبر بن ابی فاختہ ج : - جریر بن عبدالحمید جنبی کوفی جعفر بن زیاد احمر کوفی جعفر بن سلیمان ضبعی بصری جمیع بن عمیرہ بن ثعلبہ کوفی تیمی ح :- حارث بن عبداﷲ ہمدانی حبیب بن ابی ثابت اسدی حسن بن حیَ حکم بن عتیبہ کوفی حماد بن عیسیٰ حمران بن اعین خ : - ز : - زید بن الحباب کوفی تمیمی س :- سالم بن ابی حفصہ عجلی کوفی سعد بن طریف الاسکاف حنظلی کوفی سعید بن اشوع سعید بن خیثم سلمہ بن الفضل الابرش سلمہ بن کمیل بن حصین حضرمی سلیمان بن صرد خزاعی کوفی سلیمان بن طرخان تیمی بصری سلیمان بن قرم بن معاذضبی کوفی سلیمان بن مہران کاہلی کوفی مشہور بہ اعمش ش :- [ دوشنبه بیست و ششم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 11:8 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
اگر زمین گھوم رہی ہے تو جہاز پیچھے کیوں نہیں رہ جاتا؟ زمین کی حرکت کو بالکل عام مثالوں سے سمجھنے کی ایک کوشش ادامه مطلب [ یکشنبه بیست و پنجم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 5:7 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
*چالیس احادیث از امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام*
۱۔ عقل اور ادب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: لَا أَدَبَ لِمَنْ لَا عَقْلَ لَهُ۔ ترجمہ: جس شخص میں عقل نہیں، اس میں ادب بھی نہیں۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۱، ح ۶۔ ________________________________________ ۲۔ بخل کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بخل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: أَنْ تَرَى مَا فِي يَدَيْكَ شَرَفًا، وَمَا أَنْفَقْتَ تَلَفًا۔ ترجمہ: بخل یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود مال کو باعثِ عزت سمجھے اور جو کچھ خرچ کرے اسے ضائع شدہ تصور کرے۔ ماخذ: وسائل الشیعة، ج ۱۶، ص ۵۳۹، ح ۱۔ ________________________________________ ۳۔ بزدلی کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بزدلی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: الجُرْأَةُ عَلَى الصَّدِيقِ، وَالنُّكُولُ عَنِ العَدُوِّ۔ ترجمہ: بزدلی یہ ہے کہ آدمی دوست کے مقابلے میں بے جا دلیری دکھائے اور دشمن کے مقابلے سے پسپا ہو جائے۔ ________________________________________ ۴۔ جہالت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے جہالت کی حقیقت دریافت کی گئی تو فرمایا: سُرْعَةُ الوُثُوبِ عَلَى الفُرْصَةِ قَبْلَ الاسْتِمْكَانِ مِنْهَا، وَالامْتِنَاعُ عَنِ الجَوَابِ۔ ترجمہ: جہالت یہ ہے کہ انسان کسی موقع کو پوری طرح اپنے اختیار میں آنے سے پہلے ہی اس پر جھپٹ پڑے اور جہاں جواب دینا چاہیے وہاں جواب دینے سے گریز کرے۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔ ________________________________________ ۵۔ حلم کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے حلم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: كَظْمُ الغَيْظِ وَمِلْكُ النَّفْسِ۔ ترجمہ: حلم یہ ہے کہ انسان اپنے غصے کو پی جائے اور اپنے نفس پر قابو رکھے۔ ________________________________________ ۶۔ اللہ کی بندگی کا ثمر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ عَبَدَ اللّهَ عَبَّدَ اللّهُ لَهُ كُلَّ شَيْءٍ۔ ترجمہ: جو شخص اللہ کی بندگی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے ہر چیز کو مسخر کر دیتا ہے۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۸۔ ________________________________________ ۷۔ دعا اور اجابت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَا فَتَحَ اللّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أَحَدٍ بَابَ مَسْأَلَةٍ فَخَزَنَ عَنْهُ بَابَ الإِجَابَةِ۔ ترجمہ: اللہ عزوجل جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھولتا ہے، اس کے لیے قبولیت کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ ________________________________________ ۸۔ دعا کی قبولیت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: أَنَا الضَّامِنُ لِمَنْ لَمْ يَهْجُسْ فِي قَلْبِهِ إِلَّا الرِّضَا أَنْ يَدْعُوَ اللّهَ فَيُسْتَجَابَ لَهُ۔ ترجمہ: میں اس شخص کے لیے ضمانت دیتا ہوں جس کے دل میں اللہ کی رضا کے سوا کوئی اور خواہش نہ ہو کہ وہ اللہ سے دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۵، ص ۳۵۱، ح ۴۳۔ ________________________________________ ۹۔ قرآن اور قبولیتِ دعا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ قَرَأَ القُرْآنَ كَانَتْ لَهُ دَعْوَةٌ مُجَابَةٌ، إِمَّا مُعَجَّلَةً وَإِمَّا مُؤَجَّلَةً۔ ترجمہ: جو شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کے لیے ایک مستجاب دعا ہوتی ہے؛ خواہ اس کی قبولیت جلد ظاہر ہو یا مؤخر ہو کر۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۳، ص ۳۱۳، ح ۱۷۔ ________________________________________ ۱۰۔ اللہ کے انتخاب پر رضا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ اتَّكَلَ عَلَى حُسْنِ الاخْتِيَارِ مِنَ اللّهِ، لَمْ يَتَمَنَّ أَنَّهُ فِي غَيْرِ الحَالِ الَّتِي اخْتَارَهَا اللّهُ لَهُ۔ ترجمہ: جو شخص اللہ کے حسنِ انتخاب پر بھروسا رکھتا ہے، وہ اس حالت کے علاوہ کسی دوسری حالت کی تمنا نہیں کرتا جسے اللہ نے اس کے لیے منتخب کیا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۶، ح ۶۔ ________________________________________ ۱۱۔ تقدیرِ الٰہی پر رضا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: كَيْفَ يَكُونُ المُؤْمِنُ مُؤْمِنًا وَهُوَ يَسْخَطُ قِسْمَتَهُ، وَيُحَقِّرُ مَنْزِلَتَهُ، وَالحَاكِمُ عَلَيْهِ اللّهُ؟ ترجمہ: مؤمن حقیقی مؤمن کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ وہ اپنی قسمت پر ناراض اور اپنی حالت کو حقیر سمجھتا ہو، حالانکہ اس پر حکم چلانے والا اللہ ہے؟ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۴۳، ص ۳۵۱، ح ۲۵۔ ________________________________________ ۱۲۔ زکوٰۃ اور مال امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَا نَقَصَتْ زَكَاةٌ مِنْ مَالٍ قَطُّ۔ ترجمہ: زکوٰۃ نے کبھی کسی مال کو کم نہیں کیا۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۶، ص ۲۳، ح ۵۶۔ ________________________________________ ۱۳۔ بیٹی کے لیے شوہر کا انتخاب ایک شخص نے اپنی بیٹی کے نکاح کے بارے میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے مشورہ کیا تو آپؑ نے فرمایا: زَوِّجْهَا مِنْ رَجُلٍ تَقِيٍّ، فَإِنَّهُ إِنْ أَحَبَّهَا أَكْرَمَهَا، وَإِنْ أَبْغَضَهَا لَمْ يَظْلِمْهَا۔ ترجمہ: اپنی بیٹی کا نکاح کسی متقی شخص سے کرو؛ کیونکہ اگر وہ اسے پسند کرے گا تو عزت و اکرام سے رکھے گا، اور اگر اسے ناپسند بھی کرے گا تو اس پر ظلم نہیں کرے گا۔ ماخذ: مكارم الأخلاق، ج ۱، ص ۴۴۶، ح ۱۵۳۴۔ ________________________________________ ۱۴۔ سوال کرنے کی ضرورت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: إِنَّ المَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: دَمٍ مُفْجِعٍ، أَوْ دَيْنٍ مُقْرِحٍ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ۔ ترجمہ: کسی سے مالی مدد طلب کرنا صرف تین صورتوں میں جائز ہے: ۱۔ خون بہا کی ادائیگی کی ضرورت ہو؛ ۲۔ ایسا سخت قرض ہو جس نے انسان کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہو؛ ۳۔ انتہائی فقر و فاقہ لاحق ہو۔ ________________________________________ ۱۵۔ سوال سے پہلے عطا کرنا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الإِعْطَاءُ قَبْلَ السُّؤَالِ مِنْ أَكْبَرِ السُّؤْدُدِ۔ ترجمہ: کسی کے سوال کرنے سے پہلے اسے عطا کرنا اعلیٰ درجے کی بزرگی ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔ ________________________________________ ۱۶۔ شجاعت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے شجاعت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: مُوَاقَفَةُ الأَقْرَانِ، وَالصَّبْرُ عِنْدَ الطِّعَانِ۔ ترجمہ: شجاعت یہ ہے کہ ہم پلہ حریف کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے اور معرکے میں ضربیں سہتے ہوئے ثابت قدم رہا جائے۔ ماخذ: تحف العقول، ص ۲۲۶۔ ________________________________________ ۱۷۔ تشیع کا حقیقی مفہوم ایک شخص نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے کہا: "میں آپ کے شیعوں میں سے ہوں۔" آپؑ نے فرمایا: يَا عَبْدَ اللّهِ، إِنْ كُنْتَ لَنَا فِي أَوَامِرِنَا وَزَوَاجِرِنَا مُطِيعًا، فَقَدْ صَدَقْتَ... ترجمہ: اے بندۂ خدا! اگر تم ہمارے اوامر کی پیروی اور ہماری نواہی سے اجتناب کرتے ہو تو تمہارا یہ دعویٰ درست ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرتے تو اپنے گناہوں میں یہ ایک اور گناہ شامل نہ کرو کہ ایسی عظیم منزلت کا دعویٰ کرو جس کے اہل نہیں ہو۔ یہ کہنے کے بجائے کہ "میں تمہارے شیعوں میں سے ہوں"، یوں کہو: "میں تم سے محبت کرنے والوں میں سے ہوں، تمہارے دوستوں سے محبت کرتا ہوں اور تمہارے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ہوں۔" ایسی صورت میں تم خیر پر ہو اور خیر ہی کی طرف گامزن ہو۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۶۔ ________________________________________ ۱۸۔ خاموشی کا وقار امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: قَدْ أَكْثَرَ مِنَ الهَيْبَةِ الصَّامِتُ۔ ترجمہ: خاموش رہنے والا شخص زیادہ باوقار ہوتا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔ ________________________________________ ۱۹۔ خاموشی کی افادیت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: نِعْمَ العَوْنُ الصَّمْتُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ كُنْتَ فَصِيحًا۔ ترجمہ: بہت سے مواقع پر خاموشی بہترین مددگار ثابت ہوتی ہے، خواہ تم کتنے ہی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہو۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔ ________________________________________ ۲۰۔ مصیبت اور اجر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: المَصَائِبُ مَفَاتِيحُ الأَجْرِ۔ ترجمہ: مصیبتیں اجر کے دروازے کھولنے والی چابیاں ہیں۔ ________________________________________ ۲۱۔ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: صَاحِبِ النَّاسَ مِثْلَ مَا تُحِبُّ أَنْ يُصَاحِبُوكَ بِهِ۔ ترجمہ: لوگوں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں۔ ماخذ: أعلام الدين، ص ۲۹۷۔ ________________________________________ ۲۲۔ عقل اور دونوں جہان امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: بِالعَقْلِ تُدْرَكُ الدَّارَانِ جَمِيعًا، وَمَنْ حُرِمَ مِنَ العَقْلِ حُرِمَهُمَا جَمِيعًا۔ ترجمہ: عقل کے ذریعے دنیا و آخرت، دونوں جہان حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور جو عقل سے محروم رہا وہ دونوں جہانوں کی خیر سے محروم رہا۔ ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔ ________________________________________ ۲۳۔ عقل اور صبر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: التَّجَرُّعُ لِلغُصَّةِ حَتَّى تَنَالَ الفُرْصَةَ۔ ترجمہ: عقل یہ ہے کہ انسان تلخیوں کو برداشت کرتا رہے، یہاں تک کہ مناسب موقع حاصل ہو جائے۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۲۴۰، ح ۱۔ ________________________________________ ۲۴۔ عقل اور امانتِ قلب امام علی علیہ السلام نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا تو آپؑ نے فرمایا: حِفْظُ قَلْبِكَ مَا اسْتَوْدَعْتَهُ۔ ترجمہ: عقل یہ ہے کہ تمہارا دل ان چیزوں کی حفاظت کرے جو تم نے اس کے سپرد کی ہیں۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔ ________________________________________ ۲۵۔ عادات کا غلبہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: العَادَاتُ قَاهِرَاتٌ، فَمَنِ اعْتَادَ شَيْئًا فِي سِرِّهِ وَخَلَوَاتِهِ، فَضَحَهُ فِي عَلَانِيَتِهِ وَعِنْدَ المَلَإِ۔ ترجمہ: عادتیں انسان پر غالب آ جاتی ہیں۔ جو شخص خلوت اور تنہائی میں کسی کام کا عادی ہو جائے، وہی عادت بالآخر اسے لوگوں کے سامنے رسوا کر دیتی ہے۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۱۳۔ ________________________________________ ۲۶۔ غفلت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الغَفْلَةُ تَرْكُكَ المَسْجِدَ، وَطَاعَتُكَ المُفْسِدَ۔ ترجمہ: غفلت یہ ہے کہ تم مسجد کو چھوڑ دو اور کسی مفسد و بدکردار شخص کی اطاعت اختیار کر لو۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۰۔ ________________________________________ ۲۷۔ فرائض کا فلسفہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: إِنَّ اللّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِمَنِّهِ وَرَحْمَتِهِ لَمَّا فَرَضَ عَلَيْكُمُ الفَرَائِضَ لَمْ يَفْرِضْهَا عَلَيْكُمْ لِحَاجَةٍ مِنْهُ إِلَيْكُمْ، بَلْ رَحْمَةً مِنْهُ عَلَيْكُمْ... لِيُمَيِّزَ الخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ، وَلِيَبْتَلِيَ مَا فِي صُدُورِكُمْ، وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ۔ ترجمہ: اللہ عزوجل نے اپنے فضل و رحمت سے جب تم پر فرائض عائد کیے تو انہیں اس لیے فرض نہیں کیا کہ اسے تمہاری ضرورت تھی، بلکہ یہ تم پر اس کی رحمت ہے؛ تاکہ پاکیزہ کو ناپاک سے جدا کرے، تمہارے سینوں کے اندر موجود چیزوں کو آزمائے اور تمہارے دلوں کو پاک و خالص کرے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۳، ص ۹۹، ح ۳۔ ________________________________________ ۲۸۔ تفکر اور بصیرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: التَّفَكُّرُ حَيَاةُ قَلْبِ البَصِيرِ۔ ترجمہ: غور و فکر صاحبِ بصیرت کے دل کی زندگی ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۱۔ ________________________________________ ۲۹۔ تفکر؛ خیر کی بنیاد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللّهِ وَإِدَامَةِ التَّفَكُّرِ؛ فَإِنَّ التَّفَكُّرَ أَبُو كُلِّ خَيْرٍ وَأُمُّهُ۔ ترجمہ: میں تمہیں تقوائے الٰہی اور مسلسل غور و فکر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ تفکر ہر خیر کا باپ بھی ہے اور ماں بھی۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۱، ص ۵۲۔ ________________________________________ ۳۰۔ قناعت اور رضا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اعْلَمْ أَنَّ مُرُوَّةَ القَنَاعَةِ وَالرِّضَا أَكْثَرُ مِنْ مُرُوَّةِ الإِعْطَاءِ۔ ترجمہ: جان لو کہ قناعت اور رضا کی مروّت، عطا و بخشش کی مروّت سے بھی برتر ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۱، ح ۶۔ ________________________________________ ۳۱۔ معرفتِ الٰہی اور تواضع امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: لَا يَنْبَغِي لِمَنْ عَرَفَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَعَاظَمَ، فَإِنَّ رِفْعَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَوَاضَعُوا، وَعِزَّ الَّذِينَ يَعْرِفُونَ مَا جَلَالُ اللّهِ أَنْ يَتَذَلَّلُوا لَهُ۔ ترجمہ: جو شخص اللہ کی عظمت کو پہچان لے، اسے زیب نہیں دیتا کہ وہ خود کو بڑا سمجھے۔ جو لوگ اللہ کی عظمت سے آشنا ہوتے ہیں، ان کی رفعت تواضع میں ہے، اور جو اس کے جلال کو پہچانتے ہیں، ان کی عزت اللہ کے سامنے فروتنی اختیار کرنے میں ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۴، ح ۳۔ ________________________________________ ۳۲۔ کھانے کے آداب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: فِي المَائِدَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ خَصْلَةً يَجِبُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَعْرِفَهَا: أَرْبَعٌ مِنْهَا فَرْضٌ، وَأَرْبَعٌ سُنَّةٌ، وَأَرْبَعٌ تَأْدِيبٌ... ترجمہ: دسترخوان کے بارہ آداب ہیں جنہیں ہر مسلمان کو جاننا چاہیے: ان میں سے چار فرض، چار سنت اور چار آداب ہیں۔ فرض: معرفت، رضا، تسمیہ اور شکر۔ سنت: کھانے سے پہلے وضو کرنا، بائیں جانب بیٹھنا، تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا۔ آداب: اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا رکھنا، اچھی طرح چبانا اور کھاتے وقت دوسروں کے چہروں کو کم دیکھنا۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۳، ص ۳۰۵، ح ۲۳۔ ________________________________________ ۳۳۔ علم سیکھنا اور سکھانا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: عَلِّمِ النَّاسَ وَتَعَلَّمْ عِلْمَ غَيْرِكَ، فَتَكُونَ قَدْ أَتْقَنْتَ عِلْمَكَ وَعَلِمْتَ مَا لَمْ تَعْلَمْ۔ ترجمہ: لوگوں کو علم سکھاؤ اور دوسروں کا علم بھی سیکھو؛ اس طرح تم اپنے علم کو پختہ کرو گے اور وہ کچھ جان لو گے جس سے پہلے ناواقف تھے۔ ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔ ________________________________________ ۳۴۔ غصہ اور درست رائے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: لَا يَعْزِبُ الرَّأْيُ إِلَّا عِنْدَ الغَضَبِ۔ ترجمہ: غصے کے وقت درست رائے انسان سے دور ہو جاتی ہے۔ ماخذ: نزهة الناظر، ص ۷۲، ح ۱۴۔ ________________________________________ ۳۵۔ علم اور ذمہ داری امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: قَطَعَ العِلْمُ عُذْرَ المُتَعَلِّمِينَ۔ ترجمہ: علم نے علم حاصل کرنے والوں کے تمام عذر ختم کر دیے ہیں۔ ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۶۔ ________________________________________ ۳۶۔ آخرت کی تیاری امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَمْ تَزَلْ فِي هَدْمِ عُمُرِكَ مُنْذُ سَقَطْتَ مِنْ بَطْنِ أُمِّكَ، فَخُذْ مِمَّا فِي يَدَيْكَ لِمَا بَيْنَ يَدَيْكَ؛ فَإِنَّ المُؤْمِنَ يَتَزَوَّدُ، وَالكَافِرَ يَتَمَتَّعُ۔ ترجمہ: اے ابنِ آدم! جب سے تو اپنی ماں کے بطن سے دنیا میں آیا ہے، اسی وقت سے تیری عمر کم ہوتی جا رہی ہے۔ لہٰذا جو کچھ تیرے پاس ہے، اسے اس منزل کے لیے استعمال کر جو تیرے سامنے ہے؛ کیونکہ مؤمن زادِ راہ تیار کرتا ہے، جبکہ کافر محض دنیاوی لذتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۲، ح ۶۔ ________________________________________ ۳۷۔ دل کی سلامتی امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: أَسْلَمُ القُلُوبِ مَا طَهُرَ مِنَ الشُّبُهَاتِ۔ ترجمہ: سب سے زیادہ سلامت دل وہ ہے جو شکوک و شبہات سے پاک ہو۔ ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۵۔ ________________________________________ ۳۸۔ سخاوت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الابْتِدَاءُ بِالعَطِيَّةِ قَبْلَ المَسْأَلَةِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ فِي المَحْلِ۔ ترجمہ: سخاوت یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے عطا کیا جائے اور قحط و تنگ دستی کے زمانے میں لوگوں کو کھانا کھلایا جائے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۲، ح ۲۔ ________________________________________ ۳۹۔ احسان جتانا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ عَدَّدَ نِعَمَهُ مَحَقَ كَرَمَهُ۔ ترجمہ: جو شخص اپنی عطاؤں اور احسانات کو شمار کراتا رہے، وہ اپنی سخاوت کی قدر و قیمت مٹا دیتا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔ ________________________________________ ۴۰۔ دنیا کی رغبت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الرَّاغِبُ فِيهَا عَبْدٌ لِمَنْ يَمْلِكُهَا۔ ترجمہ: جو شخص دنیا کا حریص ہو، وہ اس شخص کا غلام بن جاتا ہے جو دنیا کا مالک ہے۔ ماخذ: كنز العمّال، ج ۱۶، ص ۲۱۴، ح ۴۴۲۳۶۔ ________________________________________ ترجمه و ترتیب و پیشکش: فرقان اکیڈمی 💫 التماس دعا: ڈاکٹر محمد فرقان گوہر [ چهارشنبه بیست و یکم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 18:26 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
🔴 نبی پاک کی شہادت ہوئی یا وفات؟ 🔴 🖋 تحقیق: ابومہدی فرمان علی معصومی اہل سنت حضرات کا نظریہ ہے کہ نبی پاک کی شہادت نہیں ہوئی بلکہ وفات ہوئی تھی جبکہ اہل تشیع اس نظریہ پر ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔ ہم آ پ کے سامنے چند شواہد پیش کرتے ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔ 1ـ نبی پاک کو زہر دے کر شہید کیا گیا: الف:خیبر کے موقع پر زینب بنت الحارث کے ہاتھوں زہر دیا گیا: 📚 عمده القاري شرح صحيح البخاري 📜 55 - (بابُ مَا يُذْكَرُ فِي سَمِّ النبيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم) 📃 سب سے واضح بات وہ ہے جو انس بن مالک کی حدیث میں گذر چکا کہ ایک یہودی عورت نبی پاک کے پاس بکری کا زہر آلود لے آئی اور نبی پاک نے اس سے کچھ کھالیا تو یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ جس عورت نے ھدیہ دیا تھا وہ ایک یہودی عورت تھی لیکن اس میں اس کا نام نہیں بتایا گیا ہے جبکہ کتاب المغازی میں گذر چکا کہ وہ سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث تھی، یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا نام زینب ہے۔ ب ـ نبی پاک نے خود زہر کا ذکر فرمایا: نبی پاک نے مرض الموت کے وقت واضح طور پہ فرمایا کہ میری تکلیف اسی زہر کی وجہ سے بڑھ رہی ہے جو خیبر کے موقع پر دیا گیا! ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں: 📚 صحيح البخاري (جلد6/صفحه 9) 📜 4428 - وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ» یعنی مرض الموت کے وقت موت کا سبب یہی زہر تھا جو خیبر کے وقت زینب بن الحارث نے دیا تھا۔ 2ـ بزرگان اہل سنت کی اس بات پر تاکید کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی ہے: الف: عبداللہ بن مسعود: 📚 المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 60) 📜 4394 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لِأَنْ أَحْلِفُ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً إِنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " ✅ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4394 - على شرط البخاري ومسلم 📃 عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: میں نو مرتبہ قسم کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید کیا گیا ہے لیکن ایک بار بھی یہ قسم نہیں کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید نہیں کیا گیا ہے اور یہی سبب ہے کہ اللہ پاک نے محمد مصطفی ص کو نبی بھی منتخب کیا اور شہید بھی منتخب کیا۔ یہ حدیث بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے ۔ علامہ ذہبی حاشیہ میں لکھتے ہیں یہ روایت بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے۔ بـ عامر الشعبی: 📚 المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 61) 📜 4395 - فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ غَيْرَ مَرَّةٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: «وَاللَّهِ لَقَدْ سُمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُمَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَقُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ صَبْرًا، وَقُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ صَبْرًا، وَقُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَبْرًا، وَسُمَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ صَبْرًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَمَا نَرْجُو بَعْدَهُمْ» 📃 شعبی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! نبی پاک کو زہر دیا گیا ہے اور ابوبکر کو زہر دیا گیا ہے اور عمر کو قتل کیا گیا کہ وہ صبر کی حالت میں تھا اور عثمان کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور علی بن ابی طالب کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور امام حسن بن علی کو زہر دیا گیا اور حسین بن علی کو صبر کی حالت میں قتل کیا گیا (رضی اللہ عنھم)اس کے بعد ہم (دنیا سے) کیا امید رکھیں؟! 3ـ علماء اہل سنت کی تصریح: علماء اہل سنت نے واضح طور پہ لکھا ہے کہ نبی پاک کی شہادت ہوئی ہے۔ الفـ علی بن عبد الکافی السبکی 📚 شفاء السقام في زيارة خير الأنام صلى الله عليه وآله وسلم 📜 الثالث: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم شهيد، فإنه صلى الله عليه وآله وسلم لما سم بخيبر، وأكل من الشاة المسمومة، وكان ذلك سما قاتلا من ساعته، مات منه بشر بن البراء رضي الله عنه، وبقي النبي صلى الله عليه وآله وسلم وذلك معجزة في حقه، صار ألم السم يتعاهده إلى أن مات به صلى الله عليه وآله وسلم [وقال] في مرضه الذي مات فيه: (ما زالت أكلة خيبر تعاودني حتى كان الآن أوان قطعت أبهري). قال العلماء: فجمع الله له بذلك بين النبوة والشهادة. وتكون الحياة الثابتة للشهداء لا تختص بمن قتل في المعركة، فإنا إنما اشترطنا ذلك في الأحكام الدنيوية، كالغسل، والصلاة، أما الآخرة فلا، وهذا لا شك فيه بالنسبة إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم. 📃 علامہ سبکی لکھتے ہیں: بے شک نبی پاک ص شہید ہیں کیونکہ نبی پاک کو خیبر کے موقع پہ ذہر دیا گیا تھا اور زہر آلود بکری کا گوشت کھایا یہ وہ زہر تھا جو ایک لحظہ میں مار دیتا ہے جس سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی اور نبی پاک بچ گئے کہ یہ در حقیقت نبی پاک کے حق میں ایک معجزہ ہے، موت کے وقت تک یہ زہر کا درد نبی پاک کو ہوتا رہتا تھا کہ نبی پاک نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے)۔ علماء نے کہا ہے: نبی پاک کے لیے اللہ تعالی نے نبوت اور شھادت دونوں کو جمع کردیا۔ شہداء کی جو زندگی اور حیاتی ہے وہ ایسے شہیدوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جو جنگ کے میدان میں شہید ہوتے ہیں البتہ اتنا ہے کہ ہمارے ہاں میدان شہید ہونے والوں کے دنیاوی احکام الگ ہیں جیساکہ غسل اور نماز لیکن آخرت میں الگ نہیں ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نبی پاک بھی شہید ہیں (چہ جائیکہ ان کے لیے جنگی شہید والے احکام نہیں ہیں)۔ ب ـ ابن بطال: 📚 شرح صحيح البخارى لابن بطال (جلد 5/صفحه 347) 📜 7 - باب: إِذَا غَدَرَ المشْرِكُون بِالْمُسْلِمِينَ هَلْ يُعْفَى عَنْهُم؟ 📃 ابن بطال لکھتے ہیں: نبی پاک نے ام المومنین عائشہ کو بتایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے) لیکن نبی پاک نے انہیں (یہودیوں کو) معاف کردیا اور معلوم نہ ہونے تک ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالی نے زہر کے نقصان کو دور کردیا پھر نبی پاک کو اللہ تعلای نے معجزانہ طور پر اس کید و فریب سے آگاہ فرمایا کہ بکری کی بھونی ہوئی ٹانگ سے آواز ائی کہ وہ زہر الود ہے پھر اللہ تعالی نے زہر کے نقصان سے تا حیات نبی پاک کو بچایا یہاں تک کہ موت کا وقت آن پہنچا تو زہر نے شدت اختیار کرلی اور اس کا درد محسوس کرنے لگے اور اللہ تعالی نے نبی پاک کے لیے اسی کھانے کے بدلے شہادت نصیب فرمائی جس کی وجہ سے ان یہودیوں کو سزا اور عقاب نہیں کیا۔ ج_ عبدالعزیز بن باز 📚 فتح الباري، المؤلف : أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى : 852هـ)، المحقق : عبد العزيز بن عبد الله بن باز ومحب الدين الخطيب 📜 وروى ابن سعد عن شيخه الواقدي بأسانيد متعددة في قصة الشاة التي سمت له بخيبر، فقال في آخر ذلك: "وعاش بعد ذلك ثلاث سنين حتى كان وجعه الذي قبض فيه. وجعل يقول: ما زلت أحد ألم الأكلة التي أكلتها بخيبر عدادا حتى كان هذا أوان انقطاع أبهري" عرق في الظهر وتوفي شهيدا انتهى 📃 بن باز فتح الباری کے تحقیقی نسخہ میں لکھتے ہیں: تعلیماتِ اہلبیتؑ [ چهارشنبه بیست و یکم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 13:41 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
محمدی دین اور کوفی دین
پہلی بات: حضور ﷺ پر دین مکمل ہوا اور اس دین کو صحابہ کرام نے تابعین اور تابعین نے تبع تابعین تک پہنچایا۔ صحابہ کرام کو نبوت کی روشنی سے اسلام میں داخل کرنے والے ہمارے نبی ہیں اور صحابہ کرام نبی اکرم ﷺ کی احادیث کے راوی ہیں۔
دوسری بات؛ مجوسی اہلتشیع جماعت نبوت کی تعلیم رکھتی ہے تو بتا دے، اسکے راوی کونسے ہیں اور کب مسلمان ہوئے؟
تیسری بات: اگر مجوسی اہلتشیع کہتے ہیں کہ نبوت کے بعد امامت تھی تو امامت کی روشنی میں پہلے امام نے کس کس کو عقیدہ امامت پر بیعت کر کے مسلمان کیا؟ اور امامت کی تعلیم کے راوی کب پیدا ہوئے اور کب مسلمان ہوئے؟ حوالوں سے لکھیں جیسے روایت کرنے والے صحابہ کرام اور ان کی مرویات کی تعداد؛
1۔ دوہزاریا اس سے زائد روایت کرنے والے حضرات کی تعداد مرویات 1۔ حضرت ابو ہریرہ 5374 2۔ حضرت عبداللہ بن عمر 2630 3۔ حضرت انس بن مالک 2286 4۔ سیدہ عائشہ 2210
2۔ ایک ہزار سے یا اس سے کچھ زائد روایت کرنے والے حضرات کی تعداد مرویات
5۔ حضرت عبداللہ بن عباس 1660 6۔ حضرت جابر بن عبداللہ 1660 7۔ حضرت ابو سعید خدری 1170
نوٹ: واضح رہے کہ ایک ہزار یا اس سے زائد حدیث کی روایت کرنے والے کو محدثین کی اصطلاح میں مکثرین کہا جاتا ہے۔
3۔ ایک ہزار سے کم روایت کرنے والے حضرات
8۔ حضرت عبداللہ بن مسعود 848 9۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص 700 10۔ حضرت عمر بن خطاب 537 11۔ حضرت علی بن ابی طالب 500 12۔ حضرت ام سلمہ 378 13۔ حضرت ابو موسی اشعری 360 14۔ حضرت براء بن عازب 305
4۔ دوسو یا کچھ زائد روایت کرنے والے حضرات
15۔ حضرت ابو ذر غفاری 281 16۔ حضرت سعد بن ابی وقاص 271 17۔ حضرت ابوامامہ باہلی 270 18۔ حضرت حذیفہ بن الیمان 225
5۔ سو یا اس سے زائد روایت کرنے والے حضرات
19۔ حضرت سہل بن سعد 188 20۔ حضرت عبادہ بن صامت 181 21۔ حضرت عمران بن حصین 181 22۔ حضرت ابودردائ 179 23۔ حضرت ابوقتادہ 170 24۔ حضرت بریدہ الحصیب الاسلمی 176 25۔ حضرت ابی بن کعب 164 26۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان 173 27۔ حضرت ابو ایوب انصاری 155 28۔ حضرت معاذ بن جبل 157 29۔ حضرت عثمان بن عفان 146 30۔ حضرت جابر بن سمرہ انصاری 146 31۔ حضرت ابوبکر صدیق 142 32۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ 136 33۔ حضرت ابوبکر 132 34۔ حضرت اسامہ بن زید 128 35۔ حضرت ثوبان (مولی رسول) 128 36۔ حضرت نعمان بن بشیر 114 37۔ حضرت ابومسعود انصاری 102 38۔ حضرت جریر بن عبداللہ البجلی 101
6۔ سو سے کم حدیث روایت کرنے والے صحابہ کرام
39۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی 95 40۔ حضرت زید بن خالد 81 41۔ حضرت اسماء بنت یزید بن السکن 81 42۔ حضرت کعب بن مالک 80 43۔ حضرت رافع بن خدیج 78 44۔ حضرت سلمہ بن اکوع 77 45۔ حضرت میمو نہ (ام المومنین) 76 46۔ حضرت وائل بن حُجر 71 47۔ حضرت زید بن ارقم انصاری 70 48۔ حضرت ابو رافع(مولیٰ رسول) 68 49۔ حضرت ابوعوف بن مالک 67 50۔ حضرت عدی بن حاتم 66 51۔ حضرت ام حبیبہ (ام المومنین) 66 52۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف 65 53۔ حضرت عمار بن یاسر 62 54۔ حضرت سلمان الفارسی 60 55۔ حضرت حفصہ (ام المومنین) 60 56۔ حضرت اسماء بنت عُمَیس 60 57۔ حضرت جبیر بن مُطعِم 60 58۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر 58 59۔ حضرت واثلہ بن اسقع 56 60۔ حضرت عقبہ بن عامر الجہنی 55 61۔ حضرت شداد بن اوس 50 62۔ حضرت فضالہ بن عُبَید 50 63۔ حضرت عبداللہ بن بشیر 50 64۔ حضرت سعید بن زیدبن عمرو بن نفیل 43 65۔ حضرت مقدام بن معدیکرب 47 66۔ حضرت عبداللہ بن زید 48 67۔ حضرت کعب بن عُجرہ 47 68۔ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب 46 69۔ حضرت ابوبَرزَہ اسلمی 46 70۔ حضرت ابو جُحَیفہ 45 71۔ حضرت بلال (موذن رسول) 44 72۔ حضرت جندب بن عبداللہ بن سفیان 43 73۔ حضرت عبداللہ بن مغفل 43 74۔ حضرت مقداد 42 75۔ حضرت معاویہ بن حبوۃ 42 76۔ حضرت سہل بن حُنیف 40 77۔ حضرت حکیم بن حِزام 40 78۔ حضرت ابوثعلبہ خُشَنی 40 79۔ حضرت ام عطیہ 40 80۔ حضرت عمرو بن العاص 39 81۔ حضرت خزیمہ بن ثابت 38 82۔ حضرت زبیر بن عوام 38 83۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ 38 84۔ حضرت عمرو بن عنبسہ 38 85۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب 35 86۔ حضرت معقل بن یسار 34 87۔ حضرت فاطمہ بنت قیس 34 88۔ حضرت عبداللہ بن زبیر 33 89۔ حضرت خباب بن الارت 32 90۔ حضرت عِرباض بن ساریہ 31 91۔ حضرت معاذ بن انس 30 92۔ حضرت عیاض بن حماد 30 93۔ حضرت سہیب 30 94۔ حضرت فضل بنت حارث 30 95۔ حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی 29 96۔ حضرت یعلی بن امیہ 28 97۔ حضرت عقبہ بن عبد 28 98۔ حضرت ابو اسید الساعدی 28 99۔ حضرت عبداللہ بن مالک بن بجنیہ 28 100۔ حضرت ابو مالک اشعری 27 101۔ حضرت ابوحمید الساعدی 27 102۔ حضرت یعلی بن مُرّہ 26 103۔ حضرت عبداللہ بن جعفر 26 104۔ حضرت ابوطلحہ انصاری 25 105۔ حضرت عبدالسلام بن سلام 25 106۔ حضرت سہل بن ابی حشمہ 25 107۔ حضرت ابو ملیح الہذلی 25 108۔ حضرت فضل بن عباس 24 109۔ حضرت ابوواقد اللیثی 24 110۔ حضرت رِفاعہ بن رافع 24 111۔ حضرت عبداللہ بن اُنیس 24 112۔ حضرت اوس بن اوس 24 113۔ حضرت لقیط بن عامر 24 114۔ حضرت ام قیس بنت مِحصن 24 115۔ حضرت عامر بن ربیعہ 22 116۔ حضرت قرۃ المزنی 22 117۔ حضرت سائب بن یزید 22 118۔ حضرت سعد بن عُبادہ 21 119۔ حضرت الربیع بنت مُعوذ 21
7۔ بیس عدد روایت کرنے والے اصحاب رسول ﷺ
120۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی 121۔ حضرت ابو شریح الکعبی 122۔ حضرت عبداللہ بن جراد 123۔ حضرت مسور بن مخرمہ 124۔ حضرت عمرو بن امیہ ضمری 125۔ حضرت صفوان بن عسال
8۔ انیس حدیث کے راوی
126۔ حضرت سراقہ بن مالک 127۔ حضرت سبرہ بن معہد الجُہُنی
9۔ اٹھارہ حدیث کے راوی
128۔ حضرت تمیم الداری 129۔ حضرت خالد بن ولید 130۔ حضرت عمرو بن حریث 131۔ حضرت اُسید بن حُضیر 132۔ حضرت فاطمہ بنت رسول 133۔ عبداللہ بن حوالہ الازدی
10۔ سترہ حدیث کے راوی
134۔ النواس بن سمعان الکلابی 135۔ حضرت عبداللہ بن سَرجِس 136۔ عبداللہ بن الحارث بن جزء
11۔ سولہ حدیث کے راوی
137۔ حضرت صعب بن جثامہ 138۔ حضرت قیس بن سعدبن عبادہ 139۔ محمد بن مسلمہ
15۔ پندرہ حدیث کے راوی
140۔ مالک بن حیرث اللیثی 141۔ ابولُبابہ بن عبدالمنذر 142۔ سلمان بن صُرَد 143۔ خولہ بنت حکیم
16۔ چودہ حدیث کے راوی
144۔ عبدالرحمن بن شبل 145۔ ثابت بن ضِحاک 146۔ عبداللہ الصنابحی 147 عبیدہ بن الجراح 148۔ طلق بن علی 149۔ عبدالرحمن مرہ 150۔ حضرت سفینہ مولی رسول ﷺ 151۔ کعب بن مُرّہ 152۔ ام سُلیم بنت مِلحان 153۔ الحکم بن عُمیر
17۔ تیرہ حدیث کے راوی
154۔ معاویہ بن حکم 155۔ حسن بن علی بن ابی طالب 156۔ حذیفہ بن اسد الغفاری 157۔ سلیمان بن عامر 158۔ عروۃ البارقی 159۔ صفوان بن امیہ بن خلف 160۔ ابویعلیٰ انصاری
18۔ بارہ حدیث کے راوی
161۔ عبدالرحمن بن البزی 162۔ عبداللہ بن عُکَیم 163۔ عمر بن مسلمہ 164۔ عامر بن ربیعہ 165۔ ربیعہ بن کعب 166۔ سلمہ بن مُحبَق الہُذَلی 167۔ الشفا بنت عبداللہ العدویہ 168۔ سبیعہ الاسلمہ 169۔ ابوبصرہ الغفاری
19۔ گیارہ حدیث روایت کرنے والے حضرات صحابہ
170۔ عمرو بن الحِمْق 171۔ قبیصہ یزید بن قنافہ الطائی 172۔ وابصہ بن معبد الاسدی 173۔ زینب بنت جحش (ام المومنین) 174۔ ضباعہ بنت زبیربن عبدالمطلب 175۔ ابوالیَسر 176۔ بسرہ بنت صفوان 177۔ نبیشہ بن ابو کبشہ الانماری
20۔ جن صحابہ کرام سے دس احادیث مروی ہیں
178۔ ابومحذورہ 179۔ ام المومنین حضرت صفیہ 180۔ عتبان بن مالک 181۔ عروۃ بن مضرس 182۔ عمیر مولیٰ ابوللحم 183۔ مجمع بن جاریہ 184۔ نعیم بن ہمار 185۔ ام کلثوم 186۔ ام مبشر الانصاریہ 187۔ ام معقل الاسدیہ 188۔ ام ہشام بنت حارثہ الانصاریہ 189۔ ام کرزہ 190۔ خریم بن فاتک 191۔ عدی بن عمیرۃ
21۔ نو احادیث کے روای
192۔ بشیر بن خصاصیہ 193۔ حمزہ بن عمرو اسلمی 194۔ عمارہ بن روبہ 195۔ مطلب بن ابووداعہ 196۔ نوفل بن معاویہ 197۔ ہشام بن عامر 198۔ ابوریحانہ (نام شمعون) 199۔ ابوصرمہ 200۔ ابوالطفیل 201۔ ابیض بن حمال 202۔اشعث بن قیس 203۔ ابن الحنظلیۃ (سہیل)
22۔ آٹھ احادیث کے راوی صحابہ کرام
204۔ اسماء بن شریک 205۔ اسود بن سریع 206۔ امیمہ بنت رقیقہ 207۔ ابن الحارث 208۔ جرہد 209۔ حسین بن علی 210۔ حنظلہ الکاتب 211۔ خولہ بنت قیس 212۔ بنت خذام 213۔ رویفع بن ثابت 214۔ زینب (زوجہ مسعود) 215۔ عاتذ بن عمرو المزنی 216۔ عبدالرحمن بن ابوبکر 217۔ عبدالمطلب بن ربیعہ 218۔ عمرو بن خارجہ 219۔ فریعہ بنت مالک 220۔ ام الحصین 221۔ ام رمیۃ 222۔ خنساء بن خدام
23۔ سات احادیث کے روای
223۔ حارث بن اوس 224۔ حارث بن یزد البکری 225۔ امۃ بنت خالد 226۔ ام المومنین حضرت جویریہ 227۔ صیب بن مسلمہ 228۔ زینب بنت ابوسلمہ 229۔ سلمہ بن قیس الاشجعی 230۔ سلمہ بن صخر البیاضی 231۔ سلمی (رسول ا کی آزادکردہ باندی) 232۔ سوید بن نعمان 233۔ عبداللہ بن السائب 234۔ عبد اللہ بن المزنی 235۔ عرفجہ ابن اسعد 236۔ عقبہ بن حارث 237۔ علی بن شیبان 238۔ عویم بن ساعدہ 239۔ قتادہ بن نعمان 240۔ قطبہ بن مالک 241۔ قیس بن طفخہ غفاری 242۔ قیس بن ابوغرزہ 243۔ محمد بن عبداللہ بن جحش 244۔ مستورد بن شداد 245۔ مسیب ابوسعید 246۔ معیقب 247۔ ابوامیہ 248۔ ابوجمعہ 249۔ ام حرام بنت ملحان
24۔ چھ احادیث کے راوی صحابہ کرام
250۔ بشیر بن سحیم 251۔ حجاج الاسلمی 252۔ حارث الاشعری 253۔ حارثہ بن وہب الخزاعی 254۔ رافع بن عرامہ 255۔ سلمہ بن یزید 256۔ سوید بن مقرن 257۔ عاصم بن عدی 258۔ عبداللہ بن حنظلہ 259۔ عبداللہ بن شخیر 260۔ عقیل بن ابی طالب 261۔ عویمر بن اشقر 262۔ فلتان بن عاصم 263۔ قبیصہ بن المخارق 264۔ کرزبن علقمہ 265۔ مالک بن الحویرث 266۔ محمد بن صفوان 267۔ مخنف بن سلیم 268۔ مہاجر بن قنفذ 269۔ نصر بن حزن 270۔ نعمان بن مقرن 271۔ ابوعیاش الزرقی 272۔ ابوالحمرائ 273۔ ابووہب الجشمی 274۔ ام حبیب ام العلاء
25۔ جن صحابہ کرام سے پانچ احادیث مروی ہیں
275۔ ثعلبہ بن الحکم 276۔ خفاف بن ابما 277۔ خولہ بنت ثعلبہ 278۔ ربیعہ بن عباد 279۔ سائب بن خلاد 280۔ سالم بن عبید 281۔ سلمہ بن نفیل 282۔ سفیان بن ابوزہیر 283۔ سفیان بن عبداللہ الطائفی 284۔ ام المومنین حضرت سودہ 285۔ صحار العبدی 286۔ صفیہ بنت ابی شیبہ 287۔ عثمان بن طلحہ 288۔ عمرو بن حزم 289۔ قابوس بن ابولمخارق لقیط بن صبرہ 290۔ مالک بن صعصعہ 291۔ مجاشع بن مسعود الاسلمی 292۔ محجن بن الاذرع 293۔ معقل بن سنان الاشجعی 294۔ معمر بن عبداللہ بن نضلہ 295۔ معن بن یزید 296۔ ہانی بن نیاز 297۔ یزید بن الاسود ابوالجعد 298۔ ابوعبس بن جبیر 299۔ ابو غریب ام ایمن ام درداء 300۔ ام بجید
26۔ جن صحابہ کرام سے چار روایتیں مروی ہیں
301۔ ابی بن مالک 302۔ بشر بن ابی ارطاۃ 303۔ جاریہ بن قدامہ 304۔ جارود العبدی 305۔ حارث بن عمرو 306۔ حارث بن قیس 307۔ حارث بن مسلم 308۔ حجاج بن عمر 309۔ خالد بن عرفطہ 310۔ دیلم الحمیری 311۔ ذویب ابوقبیصہ 312۔ رکانہ بن عبد یزید 313۔ رویبہ 314۔ زید بن حارثہ (رسول ﷺ کے آزاد کردہ غلام) 315۔ زیاد بن حارث 316۔ صبرہ بن فاتک 317۔ سعد ابوعبدالعزیز 318۔ سنان بن سنہ 319۔ ضحاک بن سفیان 320۔ طارق بن اشیم 321۔ علاء بن الحضرمی 322۔ عبداللہ بن ابوحدرد عبداللہ بن یزید الانصاری 323۔ عبدالرحمن بن حسنہ عباس بن مروان 324۔ عتبہ بن غزوان 325۔ عثمان بن مظعون 326۔ عکاف بن وداعہ 327۔ فیروز دیلمی 328۔ قیس بن عاصم المنقری 329۔ مالک بن ہبیرہ 330۔ محمد بن صیفی 331۔ معاذ بن عفرائ 332۔ معاویہ بن خدیج 333۔ وحشی بن حرب 334۔ ہانی بن ہانی 335۔ ہزال 336۔ ابوخزامہ 337۔ ابوبشیر الانصاری 338۔ ابوجبیرہ الانصاری 339۔ ابوحازم الانصاری 340۔ ابودہم 341۔ ابویزید الانصاری 342۔ ابولبیبہ 343۔ ابونجیح السلمی 344۔ ابن ابی عمیرہ 345۔ ام حبیبہ بنت سہل 346۔ ام ضبیہ 347۔ ام کردم 348۔ ام لیلیٰ 349۔ ام المنذر
27۔ جن صحابہ کرام سے تین احادیث منقول ہیں
350۔ احمر بن جزء الاغز المزنی 351۔ اقرم 352۔ انس بن مالک الاشہلی 353۔ انیسہ اہبان بن صیفی 354۔ بدیل بن ورقائ 355۔ بصرہ بن ابی بصرہ 356۔ جاریہ بن ظفر 357۔ ابوغزان الحنفی 358۔ جعدہ ابوجزئ 359۔ جنادہ الازدی 360۔ حارث بن وہب 361۔ حرملہ 362۔ حکیم بن معاویہ 363۔ حارث بن زیاد 364۔ حبشی بن جنادہ 365۔ حنظلہ بن ندیم 366۔ خارجہ بن حذافہ(خالد بن خلی) 367۔ خالد بن سعید 368۔ خالد الخزاعی 369۔ دحیہ الکلبی 370۔ درہ بنت ابولہب 371۔ ذوالجوشن 372۔ سعید بن حریث 373۔ سعید بن یربوع 374۔ ابن عنکثہ 375۔ سلمہ بن سلامہ 376۔ سوید بن ہبیرہ 377۔ سوید بن قیس 378۔ سہل بن حنظلہ الانصاری 379۔ سہل بن بیضائ 380۔ شریک بن طارق 381۔ صماد بنت بسر 382۔ عابس التمیمی 383۔ عبداللہ بن حذافہ السہمی 384۔ عبداللہ بن حبیب 385۔ عبداللہ السعدی 386۔ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی 387۔ عبداللہ بن ابی الجدعائ 388۔ عبداللہ بن ابی حبیبہ 389۔ عبداللہ بن قارب 390۔ عبدالرحمن بن یعمر 391۔ عبید مولی رسول 392۔ عبید بن خالد 393۔ عراء بن خالد 394۔ عطیہ السعدی 395۔ عطیہ القرظی 396۔ علی بن طلق 397۔ عمارہ بن حزم 398۔ عمرو بن مرہ الجہنی 399۔ غطیف بن حارث 400۔ فاطمہ بنت ابوعمیش 401۔ فروہ بن مسک 402۔ کردم 403۔ مالک بن ربیعہ 404۔ ابومریم 405۔ مالک بن عبداللہ 406۔ مالک بن عمر القشیری 407۔ محرش الکعبی 408۔ محیصہ 409۔ میمونہ بنت سعد 410۔ یزید بن ثابت 411۔ یوسف بن عبداللہ بن سلام 412۔ ابوالدراج 413۔ ابوحیہ البدری 414۔ ابوزید 415۔ ابوسعد الانصاری 416۔ ابوشہم 417۔ ابو عبدالرحمن الجہنی 418۔ ابوعزہ 419۔ ابوعنبہ الخولانی 420۔ ابوفاطمہ الازدی 421۔ ابولبید الانصاری 422۔ ابومجیبہ الباہلی 423۔ ابوہاشم بن عتبہ بن کاس 424۔ ابن ام کلثوم 425۔ ام سعد
28۔ جن صحابہ کرام سے دو حدیثیں مروی ہیں
426۔ ابی بن عمارہ 427۔ اسلع 428۔ اسید بن ظہیر 429۔ اشج بنی عصر 430۔ امیمہ اوس بن حذیفہ 431۔ اوس بن صامت 432۔ ایاس بن عبدالمزنی 433۔ جذامہ بنت وہب 434۔ جعدہ بن خالد 435۔ حارث بن برصا 436۔ حارث بن قیس 437۔ حارث بن ہشام 438۔ حارثہ بن نعمان 439۔ حارثہ بن قیس 440۔ حارث بن ہشام 441۔ حارثہ بن نعمان 442۔ حارثہ (زید کے بھائی) 443۔ حکیم بن جابر 444۔ حکیم بن سعید المزنی 445۔ حمزہ بن عبدالمطلب 446۔ حمل بن النابغہ 447۔ خالد بن لجلاج 448۔ خشخاش العبدی 449۔ بنت ثامر 450۔ دہر بن اخرم 451۔ ذوالاصابع 452۔ ذوالیدین 453۔ رافع بن عمرو 454۔ رباح بن الربیع 455۔ ربیعہ بن الہاد 456۔ رفاعہ الجہنی 457۔ زاہر کنیت ابومجراۃ 458۔ زینب 459۔ زید بن ابی مولی (سعد ابوبکر کے آزاد کردہ غلام) 460۔ سعید بن سعد 461۔ سلمہ بن سلامہ بن وفش 462۔ سلیم بن جابر الہجیمی (یااصل نام جابربن سلیم الہجیمی ہے) 463۔ سلمہ بن خزاعی 464۔ سندر 465۔ سوادہ بن ربیع 466۔ سوید بن حنظلہ 467۔ سوداء 468۔ سہلہ بنت سہیل 469۔ شرحبیل بن حسنہ 470۔ شیبہ بن عتبہ 471۔ صخر الغامدی 472۔ طارق بن مخاش 473۔ ظہیر 474۔ عائشہ بنت قدامہ 475۔ عباد 476۔ عبداللہ بن ارقم 477۔ عبداللہ بن ثعلبہ 478۔ عبداللہ بن حنظلہ (غسیل الملائکہ) 479۔ عبداللہ بن ربیعہ بن حارث 480۔ عبداللہ بن سائب 481۔ عبداللہ بن عدی 482۔ عبداللہ بن قریط 483۔ عبداللہ بن مالک 484۔ عبداللہ بن المرقع 485۔ عبداللہ بن القرشی 486۔ عبد اللہ بن ابی ربیعہ 487۔ عبدالرحمن بن عائذ 488۔ عبدہ بن حزن 489۔ عتاب بن شمیر 490۔ عتبہ بن نذر 491۔ حدمی بن عدی 492۔ عرس بن عمیرہ 493۔ عقبہ بن مالک 494۔ عمرو بن الاحوص 495۔ عمرو بن ثغلب 496۔ عمر بن غیلان 497۔ عمرو بن کعب الیامی 498۔ عمیر بن قتادہ 499۔ عیاش بن ابی ربیعہ 500۔ عیاض الاشعری 501۔ فرات بن حبان الفراسی 502۔ قتادہ بن ملحان 503۔ قدامہ بن عبداللہ 504۔ کعب بن عیاض 505۔ مالک بن عبداللہ الاودی 506۔ مالک (کنیت ابوصفوان) 507۔ ماریہ (رسول ا کی آزاد کردہ باندی) 508۔ محمد بن حاطب 509۔ محصن 510۔ مطلب بن عبداللہ حنطب 511۔ معقل بن مقرن 512۔ معقل بن ابومعقل 513۔ معاویہ بن جاہمہ 514۔ میمونہ (رسول اللہ کی آزاد کردہ باندی) 515۔ نافع بن حارث 516۔ نبیط بن شریط 517۔ نعیم بن نحام 518۔ ولید بن عقبہ 519۔ وہب بن حذیفہ 520۔ یعلی العامری 521۔ یسیر (اسیر) الدرمکی 522۔ ابوامامہ الحارثی 523۔ ابوبردہ 524۔ ابوابراہیم 525۔ ابوثابت 526۔ ابوالجعد 527۔ ابورافع الغفاری 528۔ ابورفاعہ 529۔ ابوزہیر النمیری 530۔ ابوسعید بن المعلی 531۔ ابوسلامہ 532۔ ابوسلمی (راعی و خادم رسول اللہ) 533۔ ابوسلیط 534۔ ابوشمح 535۔ ابوسیارہ المتعی 536۔ ابوعمرہ 537۔ ابوغطیف 538۔ ابوکلیب 539۔ ابومرثد الغنوی 540۔ ابونملہ (نام معاذ) 541۔ ابودردائ ام بشر بن براء 542۔ ام الحکم 543۔ ام زیاد 544۔ ام عبدالرحمن بن طارق 545۔ ام عبداللہ بنت اوس 546۔ ام عمارہ 547۔ ام معبد 548۔ ام ورقہ بن الرسیم
29۔ جن صحابہ کرام سے صرف ایک حدیث مروی ہے
549۔ ابولحم اذرع السلمی 550۔ اذینہ اسماء بن جاریہ 551۔ اسمر بن مضرس 552۔ اسود بن اصرم المحاربی 553۔ اقرع بن حابس 554۔ انیس 555۔ ابوفاطمہ 556۔ ایمن بن عبید 557۔ انیس بن ابومرثد 558۔ اوس 559۔ ایاس بن عبداللہ 560۔ بروع بنت واشق 561۔ بریرہ(حضرت عائشہؓ کی آزاد کردہ باندی) 562۔ بسر بن محجن 563۔ بشر بن عاصم 564۔ بشر کنیت ابونحیلہ 565۔ بشیر الغفاری 566۔ بشیر بن عقریہ 567۔ بشیر الاسلمی 568۔ بشیر 569۔ بقیرہ (حضرت قعقاع کی اہلیہ) 570۔ بلال بن سعد 571۔ تلب 572۔ تمیم المازنی 573۔ تمیم العدوی 574۔ ثابت بن رفیع 575۔ ثابت بن صامت 576۔ ثابت بن قیس بن شماس 577۔ ثابت بن یزد 578۔ ثابت بن ابوعاصم 579۔ ثعلبہ بن زہدم 580۔ ثعلبہ بن ابومالک 581۔ ثعلبہ 582۔ ثمامہ بن انس 583۔ جاہمہ 584۔ جابر بن عمیر 585۔ جابر الاحمسی 586۔ جبار بن سلمی 587۔ جبیر الکندی 588۔ جبلہ بن ازرق 589۔ جدارالاسلمی 590۔ جرموز الہجیمی 591۔ جعدہ بن ہبیرہ 592۔ جعفر بن ابوالحکم 593۔ جعیل الاشجعی 594۔ جمرہ ایربوعیہ 595۔ جمیلہ بنت ابی بن سلول 596۔ جبارہ بن مالک 597۔ جندب بن سلمہ 598۔ جندب بن مکیث 599۔ جندرہ بن خیشنہ 600۔ جودان 601۔ حارث بن بدل 602۔ حارث بن حارث 603۔ حارث بن حاطب 604۔ حارث بن حسان 605۔ حارث بن خزمہ 606۔ حارث بن غزیہ 607۔ حارث بن غطیف 608۔ حارث بن مالک 609۔ حارث بن نوفل 610۔ حارث الثقفی 611۔ حارثہ الخزاعی 612۔ حازم بن حرملہ 613۔ حبیب بن فدیک 614۔ حبیبہ بنت ابوتجراء 615۔ حبہ بنت خالد 616۔ حبان بن بح 617۔ حجاج بن عبداللہ 618۔ حجاج بن علاط 619۔ ججرالمدری 620۔ ججیر بن بیان 621۔ حدرد بن ابی حدرد 622۔ حذیم السعدی 623۔ حرام بن معاویہ 624۔ حرملہ العنبری 625۔ حرملہ الاسلمی 626۔ حسان بن ثابت 627۔ حسان بن ابوجابر السلمی 628۔ حصین بن عوف الاحمسی 629۔ حکم بن حزم 630۔ حکم بن عمرو الغفاری 631۔ حمزہ بن ابواسید 632۔ حمنہ بنت جحش 633۔ حنظلہ السدوسی 634۔ حواء 635۔ حویطب بن عبدالعزی 636۔ خالد بن عدی الجہنی 637۔ خالد بن ابوجبل 638۔ خلاد 639۔ خالدہ بنت انس 640۔ ام المومنین خدیجہ 641۔ خرشہ بن حارث 642۔ خزیمہ بن جزی 643۔ خوات بن جبیر 644۔ خولی 645۔ خولہ بنت صامت 646۔ خیرہ (کعب بن مالک کی اہلیہ) 647۔ دغفل 648۔ دکین بن سعید 649۔ دیلم الجیشانی 650۔ ذوالزوائد 651۔ ذوالغرہ 652۔ راوع بن بشریا ابن بسر 653۔ رافع بن عمرو المزنی 654۔ رافع بن مالک الانصاری 655۔ رافع بن مکیث 656۔ رافع بن ابورافع الطائی 657۔ ربیع الانصاری 658۔ رسیم الہجری 659۔ رشید السعدی 660۔ رفیقہ 661۔ زارع بن عامر العنبری 662۔ زہیر بن عثمان 663۔ زہیر بن علقمہ 664۔ زہیر بن عمرو 665۔ زہیر بن قیس البجلی 666۔ زنباع الجذامی 667۔ زیاد بن حارث 668۔ زید بن حارثہ 669۔ زید بن خارجہ 670۔ زید بن ثابت 671۔ زرارہ بن جزی 672۔ زنکل 673۔ سائب بن خباب 674۔ سائب بن خلاد کنیت ابو سہلہ 675۔ سابط 676۔ سالم بن حرملہ 677۔ سبرہ بن ابوفاکہ 678۔ سراء بنت نبہان 679۔ سعد بن اطول 680۔ سعد بن اسحاق 681۔ سعد بن تمیم سعد 682۔ سعید بن العاص 683۔ سعید بن عامر 684۔ سعید 685۔ سعید بن ابوراشد 686۔ سعید بن ابوذباب 687۔ سعید 688۔ سفیان بن مجیب 689۔ سفیان بن وہب الخولانی 690۔ سلمہ بن قیس 691۔ سلمہ بن نعیم 692۔ سلمی ام رافع (حضورکی آزاد کردہ باندی) 693۔ سلمی الجرمی 694۔ سلامہ بن قیصر 695۔ سلامہ بن معقل 696۔ سلیل اشجعی 697۔ سلمان 698۔ سواء بن خالد 699۔ سوید بن جبلہ 700۔ سوید الانصاری 701۔ سواد بن عمرو 702۔ سہل بن حنیف 703۔ سہیل بن یوسف 704۔ شریک بن حنبل 705۔ شداد بن اسید 706۔ شعبہ بن توام 707۔ شقی بن ماتع 708۔ شکل بن حمید 709۔ شمیر 710۔ شموس بنت نعمان 711۔ شیبہ بن عثمان 712۔ شیبان 713۔ صخر بن عیلہ 714۔ صعصعہ بن ناحیہ 715۔ صعصعہ صفوان الزہری 716۔ صلہ الغفاری 717۔ صمیتہ 718۔ صہیب (یہ صہیب رومی کے علاوہ ہیں ) 719۔ ضحاک بن قیس 720۔ طارق بن عبداللہ المحاربی 721۔ طارق بن سوید 722۔ طارق بن شہاب 723۔ طعمہ بن جرء 724۔ طفیل بن سخبرہ 725۔ طلحہ بن مالک 726۔ طلحہ بن معاویہ 727۔ طلحہ السحمی 728۔ طلحہ النصری 729۔ طلق بن یزید 730۔ طہفہ الغفاری 731۔ عابس الغفاری 732۔ عامر بن شہر 733۔ عامر بن عاتذ 734۔ عامر بن مسعود 735۔ عامر المزنی 736۔ عامر الرام 737۔ عاتذ بن قرط 738۔ عبداللہ بن اقرم 739۔ عبداللہ بن بدر 740۔ عبداللہ بن جبیر الخزاعی 741۔ عبداللہ بن رواحہ 742۔ عبداللہ بن ربیعہ 743۔ عبداللہ بن زمعہ 744۔ عبداللہ بن سبرہ 745۔ عبداللہ بن سعد 746۔ عبداللہ بن السعدی 747۔ عبداللہ بن سہیل 748۔ عبداللہ بن عامر 749۔ عبداللہ بن عمار 750۔ عبداللہ بن عتبہ 751۔ عبداللہ بن عبدالرحمن 752۔ عبداللہ بن عتیک 753۔ عبداللہ بن عدی 754۔ عبداللہ بن عیسیٰ 755۔ عبداللہ بن کعب 756۔ عبداللہ بن معقل بن مقرن 757۔ عبداللہ بن معبد 758۔ عبداللہ بن ہلال الثقفی 759۔ عبداللہ بن ابوامیہ 760۔ عبداللہ بن اوشدیدہ 761۔ عبداللہ بن ابوسفیان 762۔ عبداللہ بن ابو المطرف 763۔ عبید اللہ القرشی 764۔ عبدالرحمن بن خباب 765۔ عبدالرحمن بن خماشہ 766۔ عبدالرحمن بن سبرہ بن سنۃ 767۔ عبدالرحمن بن عائش 768۔ عبدالرحمن بن عتبہ 769۔ عبدالرحمن بن عثمان 770۔ عبدالرحمن بن عدیس (یا حدیس) 771۔ عبدالرحمن بن عمروالسلمی 772۔ عبدالرحمن بن قتادہ السلمی 773۔ عبدالرحمن بن مالک 774۔ عبدالرحمن بن معاذ 775۔ عبدالرحمن بن معاویہ 776۔ عبدالرحمن بن ابوعقیل 777۔ عبادہ بن قرص 778۔ عبید بن خشخاش 779۔ عباد بن شرجیل 780۔ عباد 781۔ عبدالحمید بن عمرو 782۔ عبد عوف (قیس بن ابوحازم کے والد) 783۔ عبیدہ بن عمرو الکلابی 784۔ عبید اللیثی 785۔ عبید بن خالد السلمی 786۔ عثمان بن حنیف 787۔ عدی بن زید 788۔ عدی الجذامی 789۔ عروہ بن عامر الجہنی 790۔ عروہ بن مسعود الثقفی 791۔ عروہ 792۔ عسعس بن سلامہ 793۔ عصام المزنی 794۔ عفیف الکندی 795۔ عقبہ بن اوس 796۔ عقبہ بن مالک 798۔ عکرمہ بن ابوجہل 799۔ عکراش بن ذویب 800۔ علقمہ بن حویرث 801۔ علقمہ بن رمثہ البلوی 802۔ علمقہ بن نضلہ 803۔ عمار بن اوس 804۔ عمارہ بن زعکرہ 805۔ عمار بن مدرک 806۔ عمرو بن اراکہ 807۔ عمرو بن حارث 808۔ عمرو بن سعد 809۔ عمرو بن سفیان السلمی 810۔ عمرو بن شاس 811۔ عمرو بن شعبہ 812۔ عمرو بن عامر بن طفیل 813۔ عمرو بن مالک الروسی 814۔ عمرو بن معدی کرب 815۔ عمرو بن الوعقرب 816۔ عمرو بن العجلانی 817۔ عمرو البکالی 818۔ عمرو الجمعی 819۔ عمیر بن حبیب بن خماشہ 820۔ عمیر بن سلمہ 821۔ عمیر بن عامر بن مالک (کنیت ابوداؤد) 822۔ عمیر بن ابوسلمہ الضمری 823۔ عمر اللیثی 824۔ عمیر بن العنری 825۔ عمیر 826۔ عیاض بن غنم 827۔ غالب بن ابوابجر 828۔ عرفہ الکندی 829۔ فاکہ بن سعد 830۔ فجیع العامری 831۔ فروہ بن نوفل 832۔ قارب اللیثی 833۔ قبیصہ البجلی 834۔ قتیلہ 835۔ قسامہ بن زہیر 836۔ قطبہ بن قتادہ 837۔ قعقاع بن ابوحذرد 838۔ قیس بن خشخاش 839۔ قیس بن سائب 840۔ قیس بن سہل الفیقحی 841۔ قیس بن سہل (حضرت یحییٰ بن سعیہ کے دادا) 842۔ قیس بن عائذ (کنیت ابوالکاہل) 843۔ کبیشہ 844۔ کدیر الضبی 845۔ کردم بن قیس 846۔ کلیب الجہنی 847۔ کلثوم 848۔ کندیر 849۔ کیسان (رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام) 850۔ لیلی بنت فانف 851۔ مالک بن اخیمر 852۔ مالک بن تیہان 853۔ مالک بن خشخاش 854۔ مالک بن عبادہ الغافقی 855۔ مالک بن عتاہیہ 856۔ مالک بن عوف القشیری 857۔ مالک بن عمرو العبدی 858۔ [ جمعه شانزدهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 6:7 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
آلِ زبیر کی حکومت کا قیام اور زوال ایک مؤثر تاریخی جائزہ آلِ زبیر کی حکومت کے سقوط کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ حکومت کس طرح قائم ہوئی، کن حالات میں ابھری اور اس کی سلطنت کہاں تک پھیلی۔ بعض قدیم مؤرخین، خصوصاً **** کے مطابق، امام حسینؑ کی مظلومانہ شہادت کے بعد پیدا ہونے والے شدید عوامی غم و غصے سے عبداللہ بن زبیر نے سیاسی فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے بنو امیہ سے امام حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے کا نعرہ بلند کیا اور مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کی پناہ میں رہتے ہوئے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، یہاں تک کہ وہ "العائذ بالبيت" (بیت اللہ کی پناہ لینے والے) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ تاہم یزید بن معاویہ کی زندگی میں ان کا اقتدار صرف مکہ تک محدود رہا۔ جب ربیع الاول 64 ہجری میں یزید بن معاویہ کا انتقال ہوا تو خلافتِ امویہ جانشینی کے بحران کا شکار ہوگئی۔ عبداللہ بن زبیر نے اس سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مدینہ منورہ پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت مروان بن حکم اور اس کا بیٹا عبدالملک بن مروان مدینہ میں موجود تھے اور گرفتار بھی ہوئے۔ اس کے بعد ابنِ زبیر کی حکومت تیزی سے وسعت اختیار کرتی گئی۔ حجاز، یمن، عراق، خراسان اور مصر ان کے زیرِ اقتدار آگئے۔ دمشق میں ضحاک بن قیس اور حمص میں نعمان بن بشیر انصاری کو اپنا نمائندہ مقرر کیا گیا۔ ان دونوں نے اموی بیعت چھوڑ کر عبداللہ بن زبیر کی بیعت قبول کرلی۔ اس وقت صرف اردن ایسا علاقہ تھا جہاں کے گورنر حسان بن بجدل کلبی نے اموی وفاداری برقرار رکھی، اور یہی علاقہ بعد میں اموی خاندان کی پناہ گاہ بنا۔ 7 رجب 64 ہجری کو عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں خود کو مسلمانوں کا خلیفہ قرار دیا اور بنو امیہ کو اپنی بیعت کی دعوت دی۔ لیکن ان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی یہ سمجھی جاتی ہے کہ انہوں نے مروان بن حکم اور عبدالملک کو رہا کر دیا۔ مروان نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بنو امیہ سے ابنِ زبیر کی بیعت لے گا، مگر رہائی کے فوراً بعد وہ اردن کے مقام جابیہ پہنچا جہاں بنو امیہ نے اسے اپنا خلیفہ منتخب کر لیا۔ مروان بن حکم نے اموی حکومت کی بحالی کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کی۔ اس نے بیت المال کے خزانے کھول دیے، لوگوں میں دولت تقسیم کی، قبائلی سرداروں کو مال و منصب کا لالچ دیا اور شام میں اپنے حامیوں کو بغاوت پر آمادہ کیا تاکہ دمشق اور حمص میں زبیری اقتدار کمزور ہو جائے۔ اسی دوران عبداللہ بن زبیر کی مالی پالیسیوں پر بھی عوام میں ناراضی پیدا ہوئی۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ عطیات اور وظائف کی ادائیگی میں تاخیر کرتے تھے، جبکہ شام کے لوگ اموی دور کی فراخ دلانہ عطاؤں کے عادی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے قبائل دوبارہ اموی حکومت کی طرف مائل ہوگئے۔ چنانچہ امویوں نے ضحاک بن قیس کو دمشق سے باہر مرجِ راہط کے مقام پر لڑائی میں شکست دی، جس کے بعد دمشق دوبارہ ان کے قبضے میں آگیا۔ پھر مروان نے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن مروان کو مصر بھیجا، جہاں بعض مقامی کمانڈروں کی حمایت حاصل کرکے 65 ہجری میں مصر پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ بعد ازاں حمص اور ساحلی علاقے بھی اموی اقتدار میں واپس آگئے، جبکہ نعمان بن بشیر کو ان کے مخالفین نے مسجد میں شہید کر دیا۔ بعد میں امویوں نے زبیری حکومت کی اندرونی مشکلات سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ایک طرف مختار ثقفی اور خوارج کے خلاف جنگیں جاری تھیں، دوسری طرف عراق اور خراسان میں مرکزی حکومت کمزور ہو چکی تھی۔ اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اموی لشکر نے 71 ہجری میں عراق پر حملہ کیا، جس میں مصعب بن زبیر شہید ہوگئے اور عراق دوبارہ امویوں کے قبضے میں چلا گیا۔ مصعب بن زبیر کی شہادت کے بعد عبداللہ بن زبیر کے پاس صرف حجاز باقی رہ گیا۔ اس موقع پر عبدالملک بن مروان نے فیصلہ کیا کہ اب زبیری حکومت کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے۔ اس نے حجاج بن یوسف ثقفی کو تقریباً بیس ہزار سپاہیوں کے ساتھ مکہ روانہ کیا۔ ذوالحجہ 72 ہجری میں حجاج طائف پہنچا اور اسے اپنا فوجی مرکز بنایا۔ ابتدا میں مکہ کے باہر شدید معرکے ہوئے جن میں ابنِ زبیر کی فوج پسپا ہو کر حرم میں داخل ہوگئی۔ حجاج نے عبدالملک سے مزید فوج اور سخت محاصرے کی اجازت طلب کی، جو اسے مل گئی۔ اسی سال حج کے موقع پر عبداللہ بن زبیر نے خود حج کی امامت نہ کی اور عبداللہ بن عمر نے دونوں فریقوں کے درمیان ایک ماہ کی جنگ بندی کروا کر لوگوں کو سکون سے حج ادا کرنے کا موقع دیا۔ 73 ہجری کے آغاز اور حج کے اختتام کے بعد حجاج نے مکہ کا سخت محاصرہ کر لیا۔ جبلِ ابو قبیس پر منجنیق نصب کی گئی اور مکہ پر پتھر اور آتش گیر گولے برسائے گئے، جس سے متعدد مکانات منہدم ہوئے اور بہت سے لوگ جاں بحق ہوئے۔ محاصرہ اتنا سخت تھا کہ خوراک ختم ہوگئی، لوگ بھوک سے نڈھال ہوگئے اور بعض روایات کے مطابق مردار اور جنگلی گھاس کھانے پر مجبور ہوگئے۔ عبداللہ بن زبیر کے پاس اپنے ساتھیوں میں تقسیم کرنے کے لیے کچھ نہ بچا تو انہوں نے اپنا گھوڑا ذبح کروا دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے بیشتر ساتھی اور حتیٰ کہ ان کے بعض بیٹے بھی انہیں چھوڑ کر حجاج کے پاس چلے گئے اور امان حاصل کر لی۔ جب عبداللہ بن زبیر نے دیکھا کہ اکثر لوگ ساتھ چھوڑ چکے ہیں تو وہ اپنی والدہ اسماء بنت ابی بکر کے پاس گئے اور اپنی تشویش بیان کی کہ وہ میدانِ جنگ میں مرنا چاہتے ہیں، مگر ڈرتے ہیں کہ ان کے جسدِ خاکی کی بے حرمتی کی جائے گی۔ اس پر اسماء نے وہ تاریخی جملہ کہا: «"بیٹا! جب بکری ذبح ہو جائے تو پھر اس کی کھال اتارنے سے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔"» یہ سن کر عبداللہ بن زبیر ثابت قدمی کے ساتھ میدان میں اترے۔ ان کے ساتھ چند ہی وفادار باقی رہ گئے تھے۔ آخرکار وہ جنگ کرتے ہوئے مارے گئے۔ ان کے بعد ان کے ساتھی بھی ایک ایک کرکے قتل ہوگئے اور یوں 17 جمادی الاول 73 ہجری کو آلِ زبیر کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ روایات کے مطابق اس کی موت کے بعد حجاج بن یوسف نے اس کی لاش کو سولی پر لٹکانے کا حکم دیا۔ چند روز بعد ان کی والدہ اسماء بنت ابی بکر کی درخواست پر لاش اتاری گئی اور مکہ کی مقبرۂ معلاۃ میں تدفین کی اجازت دی گئی۔ عبداللہ بن زبیر کی وفات کے ساتھ ہی زبیری حکومت مکمل طور پر ختم ہوگئی، حجاز دوبارہ اموی اقتدار میں شامل ہوگیا اور عبدالملک بن مروان نے کئی برسوں کی خانہ جنگی کے بعد اموی سلطنت کو ایک بار پھر متحد کر لیا۔ 📚 حوالہ [ سه شنبه سیزدهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 10:8 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
غامدی صاحب کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ [ یکشنبه یازدهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 13:49 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
علماء کی تحریریں کیوں نہیں پڑھی جاتیں؟ [ یکشنبه یازدهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 13:44 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی . . میں نے سورۂ یوسف نہ جانے کتنی بار پڑھی، لیکن آج ایک ایسی بات پر نظر گئی جس نے مجھے حیران کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کی پوری زندگی کی کہانی صرف تین قمیصوں کے ذریعے بیان کر دی۔ یہ قرآن کی بہترین اندازِ بیان کی ایک شاندار مثال ہے۔ قرآن میں بے شمار معجزات کا ذکر ہے۔ لیکن سورۂ یوسف میں اللہ تعالیٰ بار بار ہماری توجہ ایک بہت عام سی چیز کی طرف دلاتے ہیں… پہلی قمیص: دھوکے اور غداری کی قمیص (سورۂ یوسف 12:18) پہلی قمیص پر جھوٹا خون لگا ہوا تھا۔ یہ دھوکے اور غداری کی علامت تھی۔ حضرت یوسفؑ کے اپنے بھائیوں نے اسی قمیص کو استعمال کر کے اپنے والد حضرت یعقوبؑ سے جھوٹ بولا۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کے سب سے گہرے زخم ہمیشہ دشمن نہیں دیتے، بلکہ کبھی کبھی وہ لوگ دیتے ہیں جن سے ہمیں محبت، حفاظت اور وفاداری کی امید ہوتی ہے۔ دوسری قمیص: انصاف کی قمیص (سورۂ یوسف 12:25-28) کئی سال بعد دوسری قمیص سامنے آتی ہے۔ اس بار حضرت یوسفؑ گناہ سے بچنے کے لیے بھاگتے ہیں، اور ان کی قمیص پیچھے سے پھٹ جاتی ہے۔ وہی قمیص، جسے پہلے ان پر جھوٹ باندھنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، اب ان کی بے گناہی کا ثبوت بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک بڑی حقیقت سکھاتے ہیں کہ سچ کو آخرکار سامنے آ ہی جانا ہوتا ہے۔ تیسری قمیص: شفا اور رحمت کی قمیص پھر تیسری قمیص آتی ہے۔ نہ اس پر جھوٹا خون ہے، حضرت یوسفؑ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں: “میری یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو۔” اللہ کے حکم سے حضرت یعقوبؑ کی بینائی واپس آ جاتی ہے، اور ان کے دل کا غم بھی دور ہو جاتا ہے۔ ذرا غور کریں… پہلی قمیص غم کی علامت ہے۔ دوسری قمیص انصاف کی علامت ہے۔ تیسری قمیص شفا، سکون اور رحمت کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت یوسفؑ کی زندگی بیان نہیں کی، بلکہ ہر مومن کے زندگی کے سفر کو بھی سمجھا دیا۔ آج ہم میں سے بہت سے لوگ پہلی قمیص والے مرحلے میں ہیں۔ لوگ ہمیں غلط سمجھتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ کچھ لوگ دوسری قمیص والے مرحلے میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سچ ظاہر کر رہے ہیں۔ پھر تیسری قمیص کا مرحلہ آتا ہے… وہ مرحلہ جسے جلدی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اصل خوبصورتی یہی ہے کہ حضرت یوسفؑ کو تیسری قمیص تک پہنچنے کے لیے پہلی دونوں آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ پہلے جھوٹے خون کا دکھ برداشت کیا، ہم اکثر اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں فوراً تیسری قمیص یعنی سکون، شفا اور خوشی دے دے، جبکہ ہم ابھی تک پہلی قمیص کے جھوٹے خون کو صاف کرنے یا دوسری قمیص کے پھٹے ہوئے حصے کو سینے میں لگے ہوتے ہیں۔ ہم ماضی کو بدلنا چاہتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتے ہیں کہ پہلی قمیص کو جانے دو۔ اس پر خون لگنا بھی اللہ کی حکمت کا حصہ تھا۔ اس کا پھٹنا بھی اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ کہانی کو آگے بڑھنے کے لیے یہ سب ضروری تھا۔ ہر مومن کو زندگی میں کبھی نہ کبھی یہ تینوں قمیصیں پہننی پڑتی ہیں۔ بس یہ یاد رکھیں کہ حضرت یوسفؑ کی کہانی لکھنے والا وہی الحکیم (سب سے زیادہ حکمت والا) ہے، جو آپ کی کہانی بھی لکھ رہا ہے۔ شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سورۂ یوسف کو فرمایا: “ہم آپ کو بہترین قصہ سناتے ہیں۔” (سورۂ یوسف، آیت 3) [ شنبه دهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 4:55 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
|
||
| [قالب وبلاگ : تمزها] [Weblog Themes By : themzha.com] | ||