Voice of Islam
إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسلامُ 
پيوندهای روزانه

کیا امام زین العابدین علیہ السلام نے یزید لعین کی بیعت کرلی تھی؟

تحریر: سید علی اصدق نقوی

ملحوظہ: یہ ہماری ایک دو سال پرانی مفصل تحقیق کا حصہ ہے کہ جس میں ہم نے ایسی تمام روایات کی سندی و متنی تحقیق کی ہے جن میں یہ شائبہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام نے ظالمین کی بیعت کرلی تھی۔

حدیث اور اس سے متعلقہ علوم یقینا از اشرف و افضل علوم ہیں۔ اور ان میں علم روایت اور علم درایت دونوں شامل ہیں۔ جب تک انسان دونوں کو جمع نہ کرلے اس کے لیئے حدیث پر کلام مناسب نہیں اور بتحقیق درایت، روایت سے افضل ہے جیسا کہ متعدد فرامین ائمہ علیہم السلام سے ثابت ہے اور جیسا کہ عقل کا تقاضا ہے۔ نواصب کتب تشیع سے ایسی مرویات نقل کیا کرتے ہیں کہ جن میں ذکر ہوا ہے کہ ائمہ علیہم السلام نے گویا غیر معصوم کی بیعت کرلی تھی۔ اسی قبیل سے الکافی کی ایک روایت مروی ہے کہ جس میں امام سجاد علیہ السلام نے معاذ اللہ یزید پلید کی بیعت کرلی تھی۔ چنانچہ مروی ہے:

313- ابْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ (عَلَيْهِ السَّلام) يَقُولُ إِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ فَبَعَثَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ أَتُقِرُّ لِي أَنَّكَ عَبْدٌ لِي إِنْ شِئْتُ بِعْتُكَ وَإِنْ شِئْتُ اسْتَرْقَيْتُكَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ وَاللهِ يَا يَزِيدُ مَا أَنْتَ بِأَكْرَمَ مِنِّي فِي قُرَيْشٍ حَسَباً وَلا كَانَ أَبُوكَ أَفْضَلَ مِنْ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالإسْلامِ وَمَا أَنْتَ بِأَفْضَلَ مِنِّي فِي الدِّينِ وَلا بِخَيْرٍ مِنِّي فَكَيْفَ أُقِرُّ لَكَ بِمَا سَأَلْتَ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ إِنْ لَمْ تُقِرَّ لِي وَاللهِ قَتَلْتُكَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَيْسَ قَتْلُكَ إِيَّايَ بِأَعْظَمَ مِنْ قَتْلِكَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ (عَلَيْهِما السَّلام) ابْنَ رَسُولِ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) مَعَ يَزِيدَ لَعَنَهُ اللهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَقَالَتِهِ لِلْقُرَشِيِّ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أُقِرَّ لَكَ أَلَيْسَ تَقْتُلُنِي كَمَا قَتَلْتَ الرَّجُلَ بِالأمْسِ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ لَعَنَهُ اللهُ بَلَى فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) قَدْ أَقْرَرْتُ لَكَ بِمَا سَأَلْتَ أَنَا عَبْدٌ مُكْرَهٌ فَإِنْ شِئْتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ شِئْتَ فَبِعْ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ لَعَنَهُ اللهُ أَوْلَى لَكَ حَقَنْتَ دَمَكَ وَلَمْ يَنْقُصْكَ ذَلِكَ مِنْ شَرَفِكَ.

برید بن معاویہ کہتے ہیں میں نے امام باقر علیہ السلام کو فرماتے سنا: یزید بن معاویہ مدینہ داخل ہوا اور حج کرنا چاہتا تھا تو اس نے قریش کے ایک شخص کو بلایا اور وہ اس کے پاس آیا۔ یزید نے اس سے کہا: کیا تو میرے لیئے إقرار کرتا ہے کہ تو میرا غلام ہے اور اگر میں چاہوں تو تجھے بیچ دوں اور اگر چاہوں تو تجھے غلامی میں رکھوں؟ تو اس شخص نے یزید سے کہا: خدا کی قسم، اے یزید! تو قریش میں نہ مجھ سے زیادہ عزت والا ہے حسب میں اور نہ ہی تیرا باپ میرے باپ سے افضل تھا جاہلیت میں اور نہ اسلام میں، اور نہ ہی تو مجھ سے دین میں افضل ہے نہ مجھ سے بہتر ہے۔ تو میں کیسے اس کا إقرار تیرے لیئے کروں جو تو نے طلب کیا ہے؟ پس یزید نے اس سے کہا: اگر تو نے إقرار نہ کیا تو خدا کی قسم میں تجھے قتل کردوں گا۔ اس شخص نے کہا: تیرا مجھے قتل کرنا اس سے بڑھ کر تو نہیں ہے جو تو نے حسین بن علیہما السلام، فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو قتل کیا ہے۔ تو یزید نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ قتل ہوگیا۔ پھر علی بن حسین علیہما السلام کا واقعہ یزید لعنہ اللہ کے ساتھ یہ ہوا کہ اس نے علی بن حسین علیہما السلام کو پیغام بھیجا اور وہی کہا جو اس قرشی سے کہا تھا۔ پس امام علی بن حسین علیہما السلام نے اس سے کہا: میں نے جو تو نے کہا ہے اس کا تیرے لیئے إقرار کیا ہے۔ میں ایک مجبور غلام ہوں۔ اگر تو چاہتا ہے تو مجھے روک لے اور اگر چاہتا ہے تو بیچ دے۔ پس یزید لعنہ اللہ نے ان سے کہا: یہ آپ کے حق میں بہتر ہے، آپ نے اپنا خون بہنے سے بچا لیا اور اس بات نے آپ کے شرف میں کوئی کمی نہیں کی۔ (1)

میں کہتا ہوں: اس روایت کی سند صحیح ہے، اگرچہ ابن محبوب نے کئی غرائب کو روایت کیا ہے اور اس نے کئی مقامات پر تدلیس بھی کی ہے جس کو ہم اپنی کتابِ رجال میں واضح کر چکے۔ مگر یزید لعین کا مدینہ آنا تواریخ میں وارد نہیں ہوا اور یہ امر ثابت نہیں ہے۔ اس ہی روایت کے حاشیہ میں علامہ مجلسی رحمہ اللہ کا کہنا ہے:

هذا غريب إذ المعروف بين أهل السير أن هذا الملعون بعد الخلافة لم يأت المدينة بل لم يخرج من الشام حتى مات ودخل النار ولعل هذا كان من مسلم بن عقبة والى هذا الملعون حيث بعثه لقتل أهل المدينة فجرى منه ما في قتل الحرة ما جرى وقد نقل انه جرى بينه وبين علي بن الحسين (عليهما السلام) قريب من ذلك فاشتبه على بعض الرواة.

یہ بڑی عجیب بات ہے (کہ یزید مدینہ آیا)، کیونکہ اہل سیرت کے درمیان معروف ہے کہ یہ ملعون خلافت کے بعد مدینہ آیا ہی نہیں بلکہ شام سے کبھی نکلا ہی نہیں جب تک مر نہ گیا اور جہنم واصل ہوگیا۔ شاید یہ بات مسلم بن عقبہ سے ہے جو اس ملعون کا والی تھا، کیونکہ اِس نے اُس کو اہل مدینہ کا قتل کرنے بھیجے تھا پس اس سے وہ جاری ہوا جو واقعہ حرہ میں قتل ہوا تھا۔ اور یہ منقول ہے کہ اس کے اور امام علی بن حسین علیہ السلام کے درمیان اس کے قریب کا ہی واقعہ پیش آیا تھا پس بعض راویان پر یہ بات مشتبہ ہوگئی (2)۔

اس میں الکافی کے محقق نے اضافہ کیا ہے:

(آت) هذا الاحتمال في غاية البعد فان مسلم بن عقبة لم يكن قرشيا. ثم إن المسعودي روى عكس ذلك قال إن مسلم بن عقبة لما نظر إلى علي بن الحسين (عليه السلام) سقط في يديه وقام واعتذر منه، فقيل له في ذلك فقال قد ملا قلبي منه رعبا.

اور یہ احتمال بہت بعید ہے کیونکہ مسلم بن عقبہ تو قرشی تھا ہی نہیں۔ پھر یہ کہ مسعودی نے اس کے برعکس روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ مسلم بن عقبہ نے جب امام علی بن حسین علیہ السلام کی جانب نگاہ کی تو ہاتھوں کے بل گر گیا اور اس نے کھڑے ہوکر ان سے معذرت کی۔ اس سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: میرا دل ان کے رُعب سے بھر گیا تھا (3)۔

یہی بات محدث نوری رضی اللہ عنہ نے خاتمۃ المستدرک میں اور علامہ مجلسی رحمہ اللہ نے بحار الانوار میں بیان کی ہے (4)۔ ان شاء اللہ ہم اپنا رسالہ بھی جلد ذکر کریں گے۔

حق بات یہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام نے ایک لحظہ کے لیئے بھی کسی غیر معصوم کی بیعت نہیں کی۔ اور ایسی روایات اور دیگر روایات جو کتب تشیع میں اسرائیلات میں سے مروی ہیں یا غنوصی و سریانی مصادر سے آئی ہیں، اور اس پر ہم الگ تحقیقات پیش کر چکے ہیں۔ اس سب میں اہل بصیرت کے لیئے نشانی ہے کہ Ḥadīth Dogmatism یعنی حدیث پرستی کا منہج کس قدر نقصان دہ ہے کہ جس میں انسان درایت اور قرائن سے عاری ہوکر کتب اربعہ یا دیگر کتب کی تمام روایات کو اس مفروضے پر قبول کرے کہ چونکہ یہ مصنفین سے نقل ہیں تو یہ سب کی سب صادر از معصوم علیہ السلام ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہی کتب میں انہی مصنفین کی کتب سے ایسی مرویات نقل ہوئی ہیں جو تورات و انجیل کی گستاخانہ فقرات سے آتی ہیں یا جو اسرائیلات اور یہود و نصاری کے قصوں کو امام علیہ السلام سے جوڑ کر پیش کرتی ہیں۔ اور انہی روایات میں تضادات کثیرہ بھی پائے جاتے ہیں جو کہ کتب کے ادنیٰ مطالعے سے معلوم ہوجائے گا۔ پس یہ نہایت سطحی منہج ہوا کہ ہم ایک حدیث کو پڑھ کر قبول کریں جب تک اس کا مکمل تجزئہ و تحلیل نہ کریں اور اس کے تاریخی، کلامی، فقہی سیاق اور دیگر متعلقہ تحقیقات کو پورا نہ کریں۔ اور دوسری طرف رجالی منہج بھی نہایت سطحی ہے کہ ہم رجال کی بناء پر احادیث کو رد یا قبول کریں کہ اسانید کو بھی گھڑا گیا ہے اور کتب مصنفین میں بھی روایات شامل کی گئی ہیں۔ اس سے قدرے بہتر ایکڈیمک طرز تحقیق ہے کہ جو ان دونوں سطحی مناہج کی محدودیت سے کافی حد تک آزاد ہے، البتہ اس کے نتائج ان دونوں مناہج والوں کے حق میں نہیں اور خود ایکڈیمک منہج کی اپنی محدودیت ہے۔

پس حق منہج وہ ہے جو تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کو جمع کرے اور جو اصول، سنت، عقل، فطرت، عرف، تاریخی سیاق، لسانی پہلو، دیگر ادیان سے تقابل اور سب علوم درایت و روایت کی متنوع جہات کا احاطہ کرنے کے بعد حاصل ہو۔ مگر ایسا شخص کہاں دستیاب ہوگا؟

مآخذ:

(1) الكافي، ج 8، ص 234 – 235، الرقم: 313
(2) مرآة العقول، ج 26، ص 178 – 179
(3) هامش الكافي، ج 8، ص 234
(4) خاتمة المستدرك، ج 5، ص 198، بحار الأنوار، ج 46، ص 138

کیا امام زمانہ ؑ کے علاوہ باقی آئمہ اہل بیت ؑ کی گردن پر طاغوت کا طوق تھا؟

وأخبرني جماعة، عن جعفر بن محمد بن قولويه وأبي غالب الزراري (وغيرهما) عن محمد بن يعقوب الكليني، عن إسحاق بن يعقوب قال

إنه لم يكن أحد من آبائي إلا وقد وقعت في عنقه بيعة لطاغية زمانه، وإني أخرج حين أخرج ولا بيعة لاحد من الطواغيت في عنقي

ہمارئے آباء و اجداد میں سے کوئی بھی ایک ایسا نہیں گزرا جس کی گردن پہ اس زمانے کے طاغوت کی بیعت نہ ہو ۔ لیکن جب میں خروج کروں گا تو میری گردن پر کسی طاغوت کی بیعت نہیں ہو گی۔

اس روایت میں محمد بن یعقوب روای مجھول ہے

الغيبة - الشيخ الطوسي - ج ١ - الصفحة ٣١٥

شيخ مفيد رضوان الله تعالي عليه نے اس سلسلے میں نقل کہا ہے :

قد اجمعت الأمّة على أن أمير الموءمنين عليه‏السلام تأخّر عن بيعة أبي بكر ... والمحققّون من أهل الإمامة يقولون: لم يبايع ساعة قطّ .

امت کا اس پر اجماع ہے که امير المؤمنين عليه السلام نے چھے مہینے تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی اب اس کے بعد اہل سنت والے کہتے ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے بیعت کی۔ لیکن شیعہ محققین کا اس پر عقیدہ ہے کہ حضرت علیہ السلام نے ایک لحظہ کے لئے بھی ابوبکر کی بیعت نہیں کی ۔

الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبري البغدادي (متوفاى413 هـ)، الفصول المختارة، 56، تحقيق السيد علي مير شريفي ، ناشر: دار المفيد ـ بيروت، الطبعة: الثانية، 1414 هـ ـ 1993م
#طوسی

[ شنبه یازدهم مهر ۱۴۰۵ ] [ 7:45 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

تقلید غیر معصوم کے حرام ھونے
کے بارے میں 14 حدیثیں

1 »»»» قال الصادق ع ((إياكم و التقليد فإنه من قلد في دينه هلك إن الله تعالى يقول اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَ رُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ فلا و الله ما صلوا لهم و لا صاموا و لكنهم أحلوا لهم حراما و حرموا عليهم حلالا فقلدوهم في ذلك فعبدوهم و هم لا يشعرون ))
تصحيح الاعتقاد – للشيخ المفيد ص : 73.

ترجمہ
مولا صادق آل محمد ع نے فرمایا
" ھوشیار خبردار تقلید نہیں کرنا بے شک جس نے بھی دین میں تقلید سے کام لیا وہ ھلاک ھو گیا الله تعالی فرماتا ھے (( اتخذوا احبارھم و رھبانھم اربابا من دون الله یعنی یہود و نصاری الله تعالی کے بجائے اپنے مجتہدوں اور عالموں کو اپنا رب بنا کر پرستش کرتے تھے )) خدا کی قسم انہوں نے نہ ان کے لئے نماز پڑھی تھی نہ روزے رکھے تھے لیکن ان کے مجتہدین اور علماء ( اجتہاد کرکے ) حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتے تھے اور وہ لوگ ( یہود و نصاری ) ان لوگوں ( مجتہدوں اور عالموں ) کے فتووں پر عمل کرتے تھے تو گویا انہوں نے ان کی عبادت کی تھی جبکہ وہ جانتے بھی نہیں تھے کہ ان کی عبادت کر رھے ہیں "
حوالہ : تصحيح الاعتقاد – للشيخ المفيد ص : 73.

2 »»»» عن أمير المؤمنين عليه افضل الصلاة والسلام (وينتقم من اهل الفتوى في الدين لما لا يعلمون ، فتعساً لهم ولأتباعهم ، اكان الدين ناقصاً فتمموه ؟ أم كان به عوج فقوموه ؟ أم الناس هموا بالخلاف فأطاعوه ؟ ام أمرهم بالصواب فعصوه؟)
بيان الائمة ع جلد 3 ص298
ترجمہ
مولا امیر المومنین و امام المتقین ع نے فرمایا :
" جب ہمارا قائم ظہور فرمائیں گے تو اھل فتوی (مجتہدیں) سے انتقام لیں گے افسوس ھو ان پر اور ان کے پیروکاروں ( مقلدین ) پر ، کیا دین میں کوئی کمی رہ گئی تھی جو انہوں نے ( اپنے جعلی فتووں سے ) پوری کر دی !!؟ یا دین میں کوئی کج روی تھی جو انہوں نے ( اپنے جعلی فتؤوں سے ) سیدھی کی !!؟ یا لوگون کے ڈر کی وجہ سے لوگوں کی پیروی کی ( اور لوگوں کے من پسند فتوے صادر کئے ) !!؟ یا یہ کہ حق کا حکم دیا تھا لیکن لوگوں نے نافرمانی کی !!؟
حوالہ : بيان الائمة ع جلد 3 ص298

3 »»»» قال ايضاً عليه السلام :-(( ترد على احدهم القضيه في حكم من الاحكام فيحكم فيها برأيه ، ثم ترد تلك القضيه بعينها على غيره فيحكم فيها بخلاف قوله ... )
( واللهم واحد ، ونبيهم واحد ، وكتابهم واحد، افأمرهم الله سبحانه بألاختلاف فأطعوه ، ام نهاهم عنه فعصوه ، أم انزل الله سبحانه ديناً ناقصاً فأستعان بهم على اتمامه ، أم كانوا شركاء لهُ، فلهم أن يقولوا ، وعليه أن يرضى ؟ أم انزل الله سبحانه ديناً تاماً فقصر الرسول (( صلى الله عليه واله وسلم )) عن تبليغه وادائه ، والله سبحانه يقول ( ما فرطنا في الكتاب من شيء) وفيه تبيان لكل شيء وذكر ان الكتاب يصدق بعضة بعضا ، وانه لا اختلاف فيه فقال سبحانه ( ولو كان من عند غير الله لوجوا فيه اختلافا كثيرا ) وان القرآن ظاهره انيق ، وباطنه عميق ، لاتفنى عجائبه ، ولا تنقضي غرائبه ، ولاتكشف الظلمات الا به )
نهج البلاغه خ 18 ( ص 60-61 )
ترجمہ :
مولائے متقیان ع فرماتے ہیں :
" جب ان کے پاس کوئی مسئلہ پیش آتا ھے تو اس میں اپنی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ھے جب یہی مسئلہ دوسرے کے سامنے پیش ھوتا ھے تو پہلے کے برخلاف کوئی اور فیصلہ کر دیتا ھے !! جبکہ ان کا الله ایک ھے نبی ص ایک ھے کتاب ایک ھے !! کیا الله نے ان کو اختلاف کرنے کا حکم دیا جس کی فرمانبرداری کی گئی یا اختلاف سے منع کیا تھا اور انہوں نے نافرمانی کی !! یا الله نے دین کو ناقص اتارا اور مکمل کرنے کے لئے ان سے مدد لی ھے یا یہ لوگ دین کو بنانے میں الله کے شریک تھے کہ ان کے من پسند فتووں پر راضی ھونا الله کے لئے ضروری ھو گیا !! یا الله نے دین کو مکمل اتارا تھا لیکن رسول الله ص نے پہنچانے میں اور پورا کرنے میں کمی بیشی کی !! جبکہ الله تعالی خود فرماتا ھے (( ما فرطنا فی الکتاب من شیئ ہم نے کتاب میں کسی چیز کا بھی تذکرہ نہیں چھوڑا ھے )) اور (( فیه تبیان کل شیئ اس ( قرآن ) میں ھر چیز کو بیان کیا گیا ھے )) پھر یہ بھی کہا کہ قرآن کے بعض بعض کی تصدیق کرتی ھے اور اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا فرماتا ھے (( و لو من عند غیر الله لوجدوا فیه اختلافا کثیرا اگر یہ الله کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ھوتا تو اس میں بہت سارے اختلاف پایا جاتا )) قرآن کا ظاھر نہایت خوبصورت اور باطن بہت گہرا ھے ، قرآن کی رازیں تمام نہیں ھوتی اور نہ ہی حیران کن اسرار ختم ھوتے ہیں اور اندھیرے اسی کے بغیر چھٹ نہیں سکتے "
حوالہ :۔ نھج البلاغہ خطبہ 18 صفحہ 127

4 »»»» عن ابي بصير قال قلت لأبي عبدالله (ع) اتخذوا احبارهم ارباباً من دون الله فقال : (اما والله ما دعوهم الى عبادة انفسهم ولو دعوهم ما أجابوهم ولكن احلوا لهم حراماً وحرموا عليهم حلالاً فعبدوهم من حيث لا يشعرون)
الكافي ج1 ص53
ترجمہ :
ابو بصیر کہتا ھے کہ میں نے مولا صادق آل محمد ع سے اس آیت ( اتخذوا احبارھم و رھبانھم اربابا من دون الله ) سے متعلق پوچھا تو آپ ع نے فرمایا " خدا کی قسم انہوں نے اپنی عبادت کرنے کی دعوت نہیں دی تھی اگر دعوت دیتے تو قبول بھی نہ کرتے لیکن انہوں نے کسی حلال کو حرام کیا اور کسی حرام کو حلال کیا اور انہوں نے قبول کیا تو غیر شعوری طور پر ان کی عبادت کی تھی "
حوالہ : الكافي جلد 1 صفحہ 53

5 »»»» وقد جاء في بيان الائمة عليهم السلام ج3 ص 99 :
( ... اذا خرج الامام المهدي فليس له عدو مبين الا الفقهاء خاصة ، ولولا السيف بيده لأفتى الفقهاء بقتله ، .... )

ترجمہ :
کتاب بیان الآئمہ ع جلد 3 صفحہ 99 میں یہ بھی ذکر ھوا ھے کہ " جب امام مھدی ع خروج فرمائیں گے تو آپ ع کے کھلم کھلا دشمن مجتہدین ھونگے اگر آپ کے ہاتھوں میں تلوار نہیں ھوتی تو مجتہدین آپ کو شہید کرنے کا فتوی جاری کرتے "
( جیسے قاضی شریح نے مولا حسین ع کو شہید کرنے کا فتوی دیا تھا )

6 »»»» وايضاً على نفس المعنى في يوم الخلاص ص 279:
( .. اعداؤءه الفقهاء المقلدون ، يدخلون تحت حكمه خوفاً من سيفه وسطوته ، ورغبه فيما لديه ..)
ترجمہ :
کتاب یوم الخلاص صفحہ 270 میں آیا ھے کہ " امام مھدی ع کے بدترین دشمن مراجع تقلید ھونگے وہ آپ ع کی تلوار کے خوف سے مجبور ھو کر اور پیسے کی لالچ میں آپ ع کی حکومت کو قبول کریں گے نہ کہ دل سے

7 »»»» وعن امامنا ومقتدانا سيد الاوصياء أمير المؤمنين صلوات الله وسلامه عليه :
( يامعشر شيعتنا، المنتحلين مودتنا ، إياكم وأصحاب الرأي ، فأنهم اعداء السنن ، تفلتت منهم الاحاديث ان يحفظوها ، وأعتهم السنة أن يعوها ، فأتخذوا عباد الله خولا ، وماله دولا ، فذلت لهم الرقاب ، واطاعهم الخلق اشباه الكلاب ، ونازعوا الحق اهله ، وتمثلوا بإلائمه الصادقين ، وهم من الكفار الملاعين ، فسُئلوا عما يعملون ، فأنفوا أن يعترفوا بأنهم لا يعملون ، فعارضوا الدين بأراهم فضلوا وأضلوا )
المستدرك ج17 ص 309
ترجمہ :
مولائے متقیان ع نے ارشاد فرمایا :
اے ہمارے شیعو اور ہماری مودت و محبت کا دم بھرنے والو
ھوشیار خبردار صاحبان رائے ( مجتہدین ) سے دور رھو بے شک یہ لوگ سنت کے دشمن ہیں نہ ان کو احادیث و روایات یاد ھوتی ہیں اور نہ ہی سیرت و سنت کو سمجھ سکتے ہیں انہوں نے لوگوں کو بے وقوف اور ان کی دولت کو یرغمال بنا رکھے ہیں ! ( بے وقوف لوگوں کی ) گردنیں ان کے سامنے جھک جاتی ہیں اور کتوں کی طرح ان کی اطاعت کرنے لگ جاتی ہیں ، ان لوگوں نے اہل حق ( آئمہ معصومین ع ) کے ساتھ جھگڑا کیا ھے ، اور سچے اماموں ع کے منصب ( افتاء ) پر خود جاگزین ھوا ھے جبکہ یہ لوگوں کفار ملاعنہ میں سے ہیں اور جب ان سے مسئلہ پوچھا جاتا ھے تو " میں نہیں جانتا " کہنے سے عار محسوس کرکے اپنی رائے کی بنیاد پر فتوی دیتا ھے یوں خود بھی گمراہ ھو جاتا ھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر دیتا ھے "
حوالہ : مستدرك الوسائل ج17 ص 309

8 »»»» عن أبي بصير قال : قلت لأبي عبد الله (ع) ( ترد علينا أشياء ليس نعرفها في كتاب الله ولا سنة فننظر فيها ؟ قال لا أما انك ان أصبت لم تؤجر ، وان أخطأت كذبت على الله عز وجل )

الكافي الشریف ج1 ص77
ترجمہ :
ابو بصیر رح کہتا ھے کہ میں نے مولا صادق آل محمد ع سے پوچھا کہ : کبھی ہمارے پاس ایسے مسئلے پیش آتے ہیں کہ جن کا حکم ہمیں کتاب الله اور سنت رسول ص میں نہیں پاتا تو کیا ہم خود اس میں نظر کر سکتے ہیں ؟؟ ( یعنی کیا ہم اپنی رائے سے فتوی دے سکتے ہیں ؟ )
آپ ع نے فرمایا " بالکل نہیں اگر تمہارا فتوی درست نکلا تو تمہیں کوئی اجر و ثواب نہیں ملے گا اور اگر درست نہیں نکلا تو تم نے الله پر جھوٹ باندھا ھے " ( یعنی الله پر جھوٹ باندھنے کا گناہ ملے گا )
حوالہ :۔ الكافي ج1 ص77

9 »»»» عن يونس بن عبد الرحمن قال ، قلت لأبي الحسن الأول (ع) ( بما أوحد الله ؟ فقال يا يونس لا تكونن مبتدعاً ، من نظر برأيه هلك ، ومن ترك أهل بيت نبيه (ص) ضل ، ومن ترك كتاب الله وقول نبيه كفر )
الكافي ج1ص77
ترجمہ :
یونس ابن عبد الرحمن رض نے مولا موسی ابن جعفر ع سے روایت کی ہیں کہ وہ کہتے ہیں میں نے مولا ع سے پوچھا کہ : مولا ع میں کیسے موحد بن سکتا ھوں ؟ آپ ع نے فرمایا : اے یونس بدعت گزار مت بنو جو بھی اپنی رائے پر چلا وہ ہلاک ھوگیا اور جس نے بھی اپنے نبی کی عترت ع کو چھوڑا وہ گمراہ ھوگیا اور جس نے بھی قرآن و سنت رسول ص کو ترک کیا وہ کافر ھوگیا "
حوالہ : الكافي ج1ص77

10 »»»» وعن أمير المؤمنين (ع) قال : ( فقهائهم يفتون بما يشتهون وقضاتهم يقولون ما لا يعملون وأكثرهم بالزور يشهدون من كان عنده دراهم كان موقراً مرفوعاً وان كان مقلاً فهو عندهم موضوع )
بشارة الإسلام ص77
ترجمہ :
امیر المومنین ع نے فرمایا
" ان کے مجتہدین اپنی خواھش کے مطابق فتوے دیتے ہیں اور ان کے قاضی جانے بغیر فیصلے کرتے ہیں جبکہ ان کے اکثر لوگ جھوٹی گواہی دیتے ہیں اور جن کے پاس پیسہ ھو وہ ان کے نزدیک سربلند اور عزت مآب بن جاتے ہیں ، جن کے پاس پیسہ نہیں ھوتا وہ ان کے نزدیک پست اور حقیر ھو جاتے ہیں "
حوالہ : بشارۃ الاسلام صفحہ 77

11 »»»» عن ْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيّاً ع يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَ لَا تُفْتُوا النَّاسَ بِمَا لَا تَعْلَمُونَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَدْ قَالَ قَوْلًا آلَ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ وَ قَدْ قَالَ قَوْلًا مَنْ وَضَعَهُ غَيْرَ مَوْضِعِهِ كَذَبَ عَلَيْهِ فَقَامَ عَبِيدَةُ وَ عَلْقَمَةُ وَ الْأَسْوَدُ وَ أُنَاسٌ مِنْهُمْ فَقَالُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا نَصْنَعُ بِمَا قَدْ خُبِّرْنَا بِهِ فِي الْمُصْحَفِ قَالَ يُسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ عُلَمَاءُ آلِ مُحَمَّدٍ (ع )
حوالہ وسائل الشيعة ج 18 ص 13
ترجمہ :
عبیدہ سلمانی کہتا ھے کہ میں نے امیر المؤمنین ع کو فرماتے سنا کہ " اے لوگو الله تعالی سے ڈرو اور لوگوں کو ( قرآن و سنت ) جانے بغیر فتوی نہ دو کبھی رسول الله ص نے کچھ ارشاد فرمایا جبکہ ان ص کی مراد کچھ اور ھوتی تھی اور رسول الله ص کے فرمان کو جس نے اس کے معنی سے پھیر دی اس نے رسول الله ص پر جھوٹ باندھا " اس وقت عبیدہ ، علقمہ اسود اور کچھ لوگ کھڑے ھو گئے اور کہنے لگے " یا امیر المومنین ع پھر قرآن مجید میں دی گئی خبروں اور آیتوں کا کیا کریں ( کہ اس سے مراد کیا لی گئی ھے ) !!؟
آپ ع نے فرمایا " ان کا معنی و مفھوم کیا ھے یہ آل محمد ع کے علماء سے پوچھنا ھوگا " یعنی آئمہ معصومین ع سے ۔
حوالہ : وسائل الشيعة جلد 18 صفحہ 13

12 »»»» قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ وَ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ يُسَمَّوْنَ بِهِ وَ هُمْ أَبْعَدُ النَّاسِ مِنْهُ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَ هِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى فُقَهَاءُ ذَلِكَ الزَّمَانِ شَرُّ فُقَهَاءَ تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مِنْهُمْ خَرَجَتِ الْفِتْنَةُ وَ إِلَيْهِمْ تَعُودُ))
الكافي 8 ص3.7
ترجمہ :
رسول الله ص نے ارشاد فرمایا :
" لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ قرآن کی صرف لکھائی رہ جائے گی اسلام کا صرف نام رہ جائے گا ، نام تو اسلام کا لیا جائے گا لیکن اسلام سے سب سے زیادہ دور یہی لوگ ھونگے ، مسجدیں تو آباد ھونگی لیکن ھدایت سے خالی ، اس زمانے کے مجتہدین آسمان تلے سب سے بدترین مخلوق ھونگے انہی سے فتنہ نکلے گا اور انہی کے گلے پڑ جائے گا (( یعنی تقلید کا فتنہ یہی لوگ پھیلائیں گے اور یہی تقلید ان کے زوال کا سبب بن جائے گا ))
حوالہ : الکافی الشریف جلد 8 کتاب الروضہ حدیث 479

13 »»»» عن رسول الله ص .. يا ابن مسعود (علماؤهم وفقهاؤهم خونة فجرة ، ألا إنهم أشرار خلق الله ، وكذلك أتباعهم ومن يأتيهم ويأخذ منهم ويحبهم ويجالسهم ويشاورهم أشرار خلق الله يدخلهم نار جهنم (صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لا يَرْجِعُونَ) يقول الله تعالى (لَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُوا فَلا فَوْتَ وَأُخِذُوا مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ) . يعني العلماء والفقهاء ).
مكارم الأخلاق : ص 450 - 451
ترجمہ :
رسول الله ص نے ارشاد فرمایا :
" اے ابن مسعود ان ( آخری زمانے ) کے علماء و مجتہدین سب سے زیادہ خائن اور فاجر ھونگے ، آگاہ رھو یہی لوگ الله تعالی کے بدترین مخلوق ھونگے اسی طرح ان کے پیروکار ( مقلدین ) اور جو ان کے پاس آتا ھے اور ان سے ( فتوے ) لیتے ہیں اور جو انہیں چاھتے ہیں اور ان کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ھے اور جو ان سے مشورے لیتے ہیں یہ سب کے سب الله کے بدترین مخلوق ھونگے الله تعالی ان سب کو ( اوندھے ) جہنم میں ڈال دیں گے
(( صم بکم عمی فھم لا یرجعون یہ لوگ گونگے ، بہرے اور اندھے ہیں یہ لوگ کبھی ( رشد و ھدایت کی طرف ) نہیں پلٹ سکتے )) اور فرماتا ھے (( لو تری اذ فزعوا فلا فوت و أخذوا من مکان قریب یعنی تم دیکھ لیتا کہ کس طرح یہ لوگ چیخیں گے اور بچ نہیں پائیں گے اور قریب ہی سے ان کو پکڑ لیا جائے گا )) ان سے مراد علماء اور مجتہدین ہیں "
حوالہ : مكارم الأخلاق : ص 450

14 »»»» وفي سفينة البحار ومدينة الحكم والاثار ج2 ص57 وص58 ج4
( عن الامام الحسن العسكري عليه السلام ، انه قال قال لأبي هاشم الجعفري ، يا ابا هاشم سيأتي زمان على الناس ، وجوههم ضاحكة مستبشرة وقلوبهم مظلمة منكدرة ، السنة فيهم بدعة والبدعه فيهم سنة ، المؤمن بينهم محقر، والفاسق بينهم موقر، أمراؤهم جائرون ، وعلماؤهم في ابواب الظلمظ سائرون ، أغنياؤهم يسرقون زاد الفقراء ، وأصاغرهم يتقدمون على الكبراء ، كل جاهل عندهم خبير ، وكل محيل ( يعني الماكر ) عندهم فقير ، لايميزون بين المخلص والمرتاب ، ولايعرفون الضأن من الذئاب ، علماؤهم شرار خلق الله على وجه الأرض ، لأنهم يميلون الى الفلسفه والتصوف ، ويضلون شيعتنا وموالينا ،فأن نالوا منصباً لم يشبعوا عن الرشا ، وأن خذلوا عبدوا الله على الرياء ، الا انهم قطاع طريق المؤمنين
ترجمہ :
مولا حسن العسکری ع نے اپنے صحابی ابو ھاشم جعفری رض سے فرمایا :
لوگوں پر ایسا وقت آئے گا جب ان کے چہرے ہشاش بشاش ، ہنستے مسکراتے نظر آئیں گے اور ان کے دل کالے و مردے ھونگے ، ان میں سنت بدعت اور بدعت سنت کہلائیں گے ، ان کے نزدیک مومن حقیر اور منافق صاحب عزت ھونگے ، امیر لوگ جفاکار ھونگے ، ان کے علماء ظالم و سرکشوں کے چوکھٹ پر جھکیں گے ، ان کے ثروت مند غریبوں کا نوالہ چرائیں گے ، اور ان کے چھوٹے بڑوں پر حکمرانی کریں گے ، ان کے نزدیک ھر جاھل عالم ھوگا اور ہر مچبور فقیر ، وہ مخلص اور غدار میں تمیز نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی بھیڑیا اور بھیڑ کو پہچان سکیں گے ، ان کے علماء اس روئے زمین پر بدترین مخلوق ھون گے کیونکہ وہ لوگ فلسفہ اور تصوف ( عرفان ) کی طرف مائل ھونگے ، وہ ہمارے شیعوں اور موالیوں کو گمراہ کریں گے ، اگر ان کو کوئی منصب مل جائے تو رشوت کھاتے ھوئے ان کے پیٹ نہیں بھریں گے اور اگر کوئی منصب نہ ملے تو ریاکاری کے ساتھ الله تعالی کی عبادت کریں گے ، جان لو یہی لوگ ہیں مومنین کی ( آئمہ معصومین ع سے اتصال کے ) راہ میں حائل ھونے والے
قطاع الطریق "
حوالہ : کتاب سفینۃ البحار جلد 2 صفحہ 57

التماس دعا !! علی رضا ،
التماس دعا ؛؛ سرگانی

[ پنجشنبه دوم مهر ۱۴۰۵ ] [ 7:24 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

بررسی حدیث ردّ الشمس

الف؛ سابقه تاریخی ردّ الشمس ؛- پیامبران گذشته :از جمله مواردی که می تواند شاهد صدقی برای حدیث رد الشمس باشد ، نقل این واقعه برای پیامبران گذشته ، همچون حضرت سلیمان و یوشع می باشد که در منابع شیعه و سنی به آن اشاره گردیده است ولی از طرف مستشکلین ایرادی بر آنها گرفته نشده است و بلکه برعکس توسط کسانی که پاسخ اشکال کنندگان را داده اند (اعم از شیعه و سنی) شاهد صدقی برای این واقعه بیان گردیده است .البته در یکی از سایتهای اهل سنت متعلق به کشور کویت به آدرس www.kuwaitchat.net ادعا گردیده است که این حدیث را شیعیان از قصه رجوع خورشید برای سلیمان گرفته اند که آن هم از اسرائیلیات است . مشخص می باشد که این سخن ادعایی بدون دلیل بیش نمی باشد و توجه اعضای این سایت را به منابع اهل سنت که این حادثه را نقل کرده اند جلب می نمائیم (فصل چهارم) .علامه مجلسی رحمه الله به نقل از مناقب ابن شهر آشوب می گوید : « و عن ابن عباس بطرق کثیره انه لم تردّ الشمس الّا لسلیمان وصیّ داود و لیوشع وصیّ موسی و لعلیّ بن ابی طالب وصیّ محمّد صلوات الله علیهم اجمعین » (1).(از ابن عباس به طرق زیادی نقل گردیده است که : خورشید برنگشت مگر برای سلیمان ، وصیِ داوود ، و برای یوشع ، وصیّ موسی ، و برای علی بن ابی طالب ، وصیّ محمد صلی الله علیه و آله ) .فخر رازی در تفسیر خود می گوید : « و اما سلیمان فان الله تعالی ردّ له الشمس مره و فعل ذلک ایضا للرسول حین نام و رأسه فی حجر علی … (۲).(و اما سلیمان پس خداوند تعالی یک مرتبه برگرداند برای او خورشید را و همچنین برای رسول الله صلی الله علیه (و آله) و سلم هنگامی که خوابیده بودند و سر ایشان بر روی دامن علی علیه السلام بود ) .سبط ابن جوزی در جواب به اشکال جدش ادعای اجماع می کند و می گوید : « … و قد حبست لیوشع بالاجماع …»(3) . ( خورشید به اجماع علما برای یوشع حبس گردید ) .ابن حجر عسقلانی می گوید : « … و جاﺀ ایضا انها حبست لموسی لما حمل تابوت یوسف »(4) .( همچنین آمده است که خورشید برای موسی متوقف گردید ، هنگامی که تابوت یوسف را حمل می کرد) .ماجرای توقف خورشید برای حضرت موسی را عینی چنین بیان می کند : « … و وقع لموسى علیه الصلاه والسلام تأخیر طلوع الفجر روى إبن إسحاق فی المبتدأ من حدیث یحیى بن عروه عن أبیه أن الله عز وجل أمر موسى علیه الصلاه والسلام بالمسیر ببنی إسرائیل وأمره بحمل تابوت یوسف ولم یدل علیه حتى کاد الفجر یطلع وکان وعد بنی إسرائیل أن یسیر بهم إذا طلع الفجر فدعا ربه أن یؤخر طلوعه حتى یفرغ من أمر یوسف ففعل الله عز وجل ذلک وبنحوه ذکر الضحاک فی تفسیره الکبیر … » (5).( و برای موسی علیه الصلاه و السلام تأخیر خورشید از طلوع واقع گردید و آنرا ابن اسحاق در کتاب مبتدأ از حدیث یحیی بن عروه و او از پدرش روایت کرده است که خداوند عز و جل امر کرد به موسی علیه السلام و الصلاه به حرکت با بنی اسرائیل و فرمان داد به او به حمل کردن تابوت یوسف ولی او آنرا پیدا نکرد تا جایی که نزدیک بود فجر طلوع کند پس از خداوند خواست که طلوع خورشید را به تأخیر بیاندازد تا از امر یوسف فارغ آید ، پس خداوند عز و جل آنرا انجام داد . و مانند این مطلب را ضحاک در تفسیر کبیر بیان کرده است ) .ابن تیمیه می گوید : « … وقد أخرجا فی الصحیحین عن أبی هریره قال غزا نبی من الأنبیاﺀ فقال لقومه لا یتبعنی رجل قد ملک بضع امرأه یضع امرأه یرید أن یبنی بها ولما یبن ولا رجل قد بنى بیتا ولم یرفع سقفه ولا رجل اشترى غنما أو خلفات وهو ینتظر ولادها قال فغزوا فدنا من القریه حتى صلى العصر قریبا من ذلک فقال للشمس أنت مأموره وأنا مأمور اللهم احبسها علی شیئا فحسبت علیه حتى فتح الله علیه … »(6) .( در صحیح بخاری و صحیح مسلم به نقل از ابوهریره آمده است پیامبری از پیامبران الهی جنگید و به قوم خود گفت : مردی که صاحب طعام زنی می باشد وزنش زائیده است و می خواهد برای او سر پناهی بسازد ولی هنوز نساخته است و مردی که خانه ای ساخته است ولی هنوز سقفش را بنا نکرده است و … به همراه من نیاید . پس هنگام نماز عصر و یا نزدیک به آن به روستا رسید پس به خورشید گفت : تو مأموری و من نیز مأمور هستم ؛ خدایا خورشید را برای من نگاه دار . پس خورشید متوقف شد تا فاتح گردید … ) .این روایت را کنجی شافعی نیز نقل می کند و بعد از آن می گوید : « هذا حدیث متفق علی صحته رواه البخاری فی الغلول و اخرجه مسلم فی الجهاد و رواه احمد بن حنبل فی مسنده و … و رواه الطبرانی فی معجمه »(7) .(بر صحت این حدیث اتفاق نظر وجود دارد و آنرا بخاری در باب غلول و مسلم در باب جهاد و احمد بن حنبل در مسندش نقل کرده اند و … همچنین طبرانی در معجمش .)این روایت را بدرالدین عینی چنین بیان می کند : « حدثنا ( محمد بن العلاﺀ ) قال حدثنا ( ابن المبارک ) عن ( معمر ) عن ( همام بن منبه ) عن ( أبی هریره رضی الله تعالى عنه) قال قال رسول الله غزا نبی من الأنبیاﺀ فقال لقومه … » (8).(ابوهریره به نقل از رسول الله صلی الله علیه و آله می گوید: پیامبری از پیامبران جنگید و به قوم خود گفت …)او بعد از نقل حدیث می گوید : « والحدیث أخرجه البخاری أیضا فی النکاح وأخرجه مسلم فی المغازی عن أبی کریب أیضا عن ابن المبارک به . ذکر معناه قوله غزا نبی من الأنبیاﺀ قال ابن إسحاق هذا النبی هو یوشع بن نون … » (9).(حدیث را بخری نیز در باب نکاح آورده است و همچنین مسلم در باب مغازی. ابن عینی ماجرای دیگری را هم برای حضرت یوشع به این صورت نقل می کند : « وقال ابن إسحاق لما مات موسى علیه السلام وانقضت الأربعون سنه بعث یوشع بن نون نبیا فأخبر بنی إسرائیل أنه نبی الله وأن الله قد أمره بقتال الجبارین فصدقوه وبایعوه … فسقط سور المدینه فدخلوها وقتلوا الجبارین وکان القتال یوم الجمعه فبقیت منهم بقیه وکادت الشمس تغرب وتدخل لیله السبت فخشی یوشع أن یعجزوا فقال أللهم أردد الشمس علی فقال لها إنک فی طاعه الله وأنا فی طاعه الله وهو معنى قوله إنک مأموره وأنا مأمور یعنی إنک مأموره بالغروب وأنا مأمور بالصلاه أو القتال قبل الغروب … » (10).( ابن اسحاق گفته است هنگامی که موسی علیه السلام از دنیا رفت و چهل سال از آن گذشت خداوند یوشع بن نون را به عنوان پیامبر فرستاد و او بنی اسرائیل را از این امر مطلع کرد و اینکه خداوند به او فرمان داده است که با ستمکاران بجنگد ، پس بنی اسرائیل او را تصدیق کردند و با او بیعت نمودند … پس شهر سقوط کرد و داخل شهر گردیدند و ستمکاران را کشتند و جنگ در روز جمعه بود و مقداری از ستمکاران باقی مانده بودند و خورشید نزدیک به غروب کردن بود و وارد شدن به شب شنبه پس یوشع ترسید که شکست بخورد پس گفت : خدایا خورشید را بر من برگردان . و به خورشید گفت : تو در طاعت الهی هستی و من نیز . و این معنای گفته اوست که تو مأموری و من نیز ؛ یعنی تو مأمور به غروب هستی و من مأمور به نماز خواندن و یا جنگ قبل از غروب … ) .بیهقی این ماجرا را چنین نقل می کند : « … وعلى یوشع بن نون حین قاتل الجبارین یوم الجمعه ، فلما أدبرت الشمس خاف أن تغیب قبل أن یفرغ منهم ویدخل السبت فلا یحل له قتالهم فیه ، فدعا الله فرد علیه الشمس حتى فرغ من قتالهم … » (11).( و خورشید برای یوشع بن نون برگشت هنگامی که در روز جمعه با ستمکاران می جنگید ، پس هنگامی که خورشید پشت کرد ترسید که قبل از اینکه از جنگ با آنها تمام شود خورشید غروب کند و وارد شنبه شود و در نتیجه جنگیدن با آنها برایش جایز نباشد ، پس به درگاه الهی دعا کرد و خورشید برای او برگردانده شد تا جایی که جنگ با آنها به پایان رسید ) .
– پیامبر اعظم صلی الله علیه و آله :راجع به رد الشمس برای ایشان بیشتر در کتب عامه سخن به میان آمده است و در میان شیعه تنها علامه مجلسی رحمه الله آنرا از زیاده مناقب غزالی نقل می کنند(۱۲) و همچنین مرحوم طریحی بعد از ادعای تواتر حدیث رد الشمس برای امیرالمؤمنین علیه السلام ، رد الشمس برای پیامبر صلی الله علیه و آله را نسبت به قیل می دهند(۱۳) .باید توجه داشت که این روایات علاوه بر مشکل سندی ، مشکل محتوایی و متنی نیز دارند زیرا این روایات با عصمت معصوم علیه السلام منافات دارند . و شاید به همین خاطر باشد که علمای شیعه از نقل کردن آن خودداری کرده اند .برای ایشان راجع به دو زمان این واقعه را نقل کرده اند ؛
۱- بعد از معراج :این روایت به این صورت آمده است : « … و روى یونس بن بکیر فی زیاده المغازى روایته عن ابن إسحق لما أسرى برسول الله صلى الله علیه وسلم وأخبر قومه بالرفقه والعلامه التى فی العیر قالوا متى تجئ قال یوم الأربعاﺀ فلما کان ذلک الیوم أشرفت قریش ینظرون وقد ولى النهار ولم تجئ فدعا رسول الله صلى الله علیه وسلم فزید له فی النهار ساعه وفحبست علیه الشمس … » (14).( هنگامی که رسول الله صلی الله علیه و آله به معراج رفتند و قوم خود را از گروه و علامتی که با کاروان بود خبر دادند ، پرسیدند چه موقه کاروان می آید و ایشان گفتند در روز چهارم پس هنگامی که روز چهارم شد قریش منتظر بودند ولی کاروان نیامد و روز در حال به پایان رسیدن بود پس پیامبر صلی الله علیه و آله دعا کردند و روز افزایش پیدا کرد و خورشید برای ایشان متوقف گردید … ) .بیهقی روایت را به این صورت بیان می کند : « أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : حدثنا أبو العباس محمد بن یعقوب قال : حدثنا أحمد بن عبد الجبار قال : حدثنا یونس بن بکیر ، عن أسباط بن نصر الهمدانی ، عن إسماعیل بن عبد الرحمن القرشی قال : « لما أسری برسول الله صلى الله علیه وسلم وأخبر قومه بالرفقه والعلامه فی العیر ، قالوا … » (15).(هنگامی که رسول الله صلى الله علیه (و آله )وسلم به معراج رفتند و قومشان را از گروه و علامتی در کاروان خبر دادند، گفتند …)
۲- در جنگ خندق :بدرالدین عینی می گوید : « … قلت حبست أیضا فی الخندق حین شغل عن صلاه العصر حتى غابت الشمس فصلاها ذکره عیاض فی ( إکماله ) وقال الطحاوی رواته ثقات … » (16).(خورشید همچنین در جنگ خندق ایستاد هنگامی که مشغول شدند از نماز تا اینکه وقت آن گذشت، این مطلب را عیاض در کتاب اکمال ذکر کرده است و طحاوی می گوید: راویان آن از ثقات می باشند …)ب- زمان وقوع ردّ الشمس برای امیرالمؤمنین علیه السلام ؛راجع به این موضوع که زمان وقوع رد الشمس کی می باشد باید توجه داشت که بیان زمان دقیق برای یک واقعه دلالت بر اهمیت و شهرت آن واقعه دارد تا جایی که حتی زمان دقیق آن ثبت گردیده است . در این زمینه دو نقل وجود دارد :۱- علامه مجلسی رحمه الله روز ۱۷ شوال را روز اتفاق این ماجرا می داند و می گوید : « و یوم ردت الشمس علیه و هو سابع عشر شوال »(17) .( و روزی که خورشید برای او بازگشت و آن روز ۱۷ شوال می باشد )همچنین در کتاب « تتمه کتاب أعمال السنین و الشهور » در « تتمه أبواب أعمال شهر رمضان من الأدعیه و الصلوات » باب « ما یتعلق بسوانح شهور السنه العربیه و ما شاکلها » می گویند : « قد صنف أصحابنا رضی الله عنهم فی خصوص هذا المطلب کتبا و رسائل ؛ فمنها ما وجدت بخط الشیخ محمد بن علی الجبعی رحمه الله نقلا من خط الشیخ قدس الله روحه قال کتبته من ظهر کتاب بمشهد الکاظم علیه السلام بخزانته الشریفه : یوم سبعه عشر من شوال ردت الشمس … »(18) .(اصحاب ما در خصوص این مطلب کتابها و رساله های زیادی نوشته اند و از آن جمله چیزی است که به دستخط شیخ محمد بن علی جبعی رحمه الله یافت گردیده است به نقل از خط شیخ قدس الله روحه که گفته است آنرا از پشت کتابی در مشهد (امام)کاظم علیه السلام در خزانه آن نوشتم: روز ۱۷ شوال خورشید برگشت …)۲- «ابراهیم بن على عاملى کفعمی » در کتاب « مصباح » ، فصل ۴۲ (فی ذکر الشهور الاثنی عشر و النبی و الأئمه الاثنی عشر علیهم السلام ) روز ۱۵ شوال را روز اتفاق این ماجرا می داند و می گوید : « … و قیل سابع عشره غزوه أحد و مقتل حمزه علیه السلام و فیه أیضا ردت الشمس على علی علیه السلام … »(19) .( … و گفته شده است روز هفدهم روز جنگ احد و کشته شدن حمزه عایه السلام می باشد و همچنین در آن خورشید برای علی علیه السلام برگشت …)مرحوم شیخ عباس قمی رحمه الله نیز همین قول را بر می گزیند و راجع به وقایع ۱۵ شوال می گوید می گوید : « … و نیز در این روز ، به قول بعض علما ردّ شمس شده برای حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام و مشهور نزد اصحاب و مقتضای اخبار کثیره آن است که دو دفعه آفتاب برای امیرالمؤمنین علیه السلام برگشته : یکی در حیات رسول خدا صلی الله علیه و آله در نزدیکی مسجد قبا، در آن موضعی که او را الان مسجد ردّ شمس و مسجد فضیح می گویند و دیگر بعد از وفات رسول خدا صلی الله علیه و آله در اراضی بابل نزدیک به حله سیفیّه که تفصیل هر دو در کتب مناقب و معجزات ذکر شده و سید حمیری در قصیده مذهبه به هر دو اشارت کرده ، در آنجا که گفته :
ردّت علیه الشمس لمّا فاتهوقت الصلوه و قد دنت للمغرب »(20) .( خورشید هنگامی که غروب کرده بود برای او بازگشت در هنگام نماز در حالی که نزدیک به غروب بود )همچنین عبدالحسین نیشابوری در کتاب تقویم الشیعه در ذیل وقایع روز پانزدهم شوال می گوید : « فی هذا الیوم فی سنه ۸-۷ ردّت الشمس لامیرالمؤمنین علی علیه السلام (۲۱). و علی قول آخر : کانت هذه الحادثه فی ۱۷ شوال(۲۲) . و ردّت الشمس له علیه السلام مره اخری فی ۶ شوال سنه ۳۶ ه(۲۳) » .(در این روز در سال ۷-۸ خورشید برای امیرالمؤمنین علیه السلام برگشت و بنابر قول دیگری این حادثه در روز ۱۷ شوال بوده است. و همچنین خورشبد یک بار دیگر در روز ۶ شوال در سال ۳۶ه برای ایشان برگشته است )
ج- احتمالات مطرح شده برای ردّ الشمس ؛راجع به اینکه چگونه امکان دارد خورشید باز گردد بعضی از علما احتمالاتی داده اند تا بوسیله آن بتوانند نامأنوس بودن این مطلب را با ذهن به گونه ای جبران کنند و قبول آنرا برای افراد راحت تر نمایند .باید توجه داشت ؛ مطرح کردن احتمال برای یک واقعه فرع بر قبول داشتن آن واقعه و مسلم بودن آن در نزد شخص می باشد .در پایان این مطلب حدیثی از کتاب «العلل» بیان گردیده است که به عنوان احتمال نمی توان به آن نگاه کرد ، ولی چون ممکن است برخی صحت آن حدیث را به خاطر مرسله بودن قبول نداشته باشند آنرا جزﺀ احتمالات مطرح می کنیم .سید بن طاووس به نقل از ابن مغازلی در کتاب مناقب می گوید : « و هذا ممکن من طرق کثیره عند الله تعالى منها أن یخلق مثل الشمس فی الموضع الذی أعادها الله إلیه ابتداﺀ أو یهبط بعض الأرض فتظهر الشمس أو یخلق مثل الشمس فی صورتها و یجعل حکمها فی صلاه علی کحکم تلک الشمس و غیر ذلک من مقدوراته یعلمها سبحانه و قد رووا أیضا أن الشمس حبست لبعض‏ الأنبیاﺀ فیما سلف » (24)( این امر از جهات زیادی ممکن می باشد از جمله اینکه خداوند در مکانی که خورشید را به سوی ایشان برگردانید مانند آن را خلق کرده باشد . و یا اینکه مقداری از زمین فرو رفته باشد و خورشید نمایان شده باشد . و یا اینکه خداوند چیزی مانند خورشید خلق کرده باشد و حکم آن را در نماز مانند حکم خورشید قرار داده باشد . و غیر این مطالب از مقدورات الهی که خداوند به آن علم دارد . همچنین خورشید برای برخی از انبیاﺀ گذشته نگه داشته شده است ) .البته باید توجه داشت که این احتمالات با تصریح حدیث بر بازگشت خورشید منافات دارد .سبط ابن جوزی در جواب به جدّ خود ، در توضیح این حدیث می گوید : « و انما نقول : انها وقفت عن سیرها المعتاد . و لو رُدَّت على الحقیقه لم یکن عجباً، لأنَّ ذلک یکون معجزه لرسول اللَّه صلى الله علیه و سلم و کرامه لعلیّ علیه السلام، و قد حُبست لیوشع بالإجماع، و لا یخلو إمّا أن یکون ذلک معجزه لموسى أو کرامه لیوشع، فإن کان لموسى فنبیّنا صلى الله علیه و سلم أفضل منه، و إن کان لیوشع فعلیّ علیه السلام أفضل من یوشع، قال صلى الله علیه و سلم: «علماﺀ أمّتی کأنبیاﺀ بنی إسرائیل»، و هذا فی حقّ الآحاد، فما ظنّک بعلیّ علیه السلام؟ » (25).( ما می گوئیم خورشید متوقف شد از حرکت معمولی خود و اگر هم ردّ حقیقی صورت گرفته باشد عجیب نمی باشد ، زیرا آن معجزه ای برای رسول الله صلی الله علیه و (آله) و سلم و کرامتی برای علی علیه السلام می باشد . و خورشید بالاجماع برای یوشع متوقف گردید واین مطلب یا به خاطر معجزه ای برای موسی بود و یا کرامتی برای یوشع اگر برای موسی بود پیامبر ما از او افضل است و اگر برای یوشع بود علی علیه السلام از او افضل می باشد . پیامبر صلی الله علیه و آله فرمودند علمای امت من مانند انبیاﺀ بنی اسرائیل می باشند ؛ و این مطلب راجع به همگان است پس فکر تو راجع به علی علیه السلام چیست ؟ )همچنین علامه مجلسی رحمه الله از کتاب « العلل » متعلق به محمد بن علی بن ابراهیم چنین نقل می کند :« قَالَ الْعَالِمُ علیه السلام : عِلَّه رَدِّ الشَّمْسِ عَلَى أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ علیه السلام وَ مَا طَلَعَتْ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ کُلِّهِمْ أَنَّهُ جَلَّلَ اللَّهُ السَّمَاﺀ بِالْغَمَامِ إِلَّا الْمَوْضِعَ الَّذِی کَانَ فِیهِ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ علیه السلام وَ أَصْحَابُهُ فَإِنَّهُ جَلَّاهُ حَتَّى طَلَعَتْ عَلَیْهِمْ ۰۰۰ » (26).(عالم علیه السلام فرمود : علت اینکه خورشید برای امیرالمؤمنین علیه السلام برگشت و هیچ کس از آن مطلع نگردید این بود که خداوند آسمان را با ابرها پوشانید مگر مکان امیرالمؤمنین علیه السلام و یارانشان را …)شاین ذکر است که علامه مجلسی رحمه الله در قسمت مصادر کتاب شریف بحارالانوار راجع به کتاب «العلل» می گویند : « و کتاب العلل و إن لم یکن مؤلفه مذکورا فی کتب الرجال لکن أخباره مضبوطه موافقه لما رواه والده و الصدوق و غیرهما و مؤلفه مذکور فی أسانید بعض الروایات و روى الکلینی فی باب من رأى القائم علیه السلام عن محمد و الحسن ابنی علی بن إبراهیم بتوسط علی بن محمد و کذا فی موضع آخر من الباب المذکور عنه فقط بتوسطه و هذا مما یؤید الاعتماد و إن کان لا یخلو من غرابه لروایته عن علی بن إبراهیم کثیرا بلا واسطه بل الأظهر کما سنح لی أخیرا أنه محمد بن علی بن إبراهیم بن محمد الهمدانی و کان وکیل الناحیه کما أوضحته فی تعلیقاتی على الکافی » (27).(کتاب علل و اگر چه مؤلفش در کتابهای رجالی مذکور نمی باشد ، لکن اخبار آن مضبوط و موافق با آنچه پدر او و شیخ صدوق و غیر ایشان نقل کرده اند می باشد و مؤلف آن مذکور در بعضی از اسانید روایات می باشد و کلینی در باب کسانی که امام زمان عجل الله تعالی فرجه را دیده اند از محمد و حسن پسران علی ابن ابراهیم به توسط علی بن محمد روایت نقل کرده است و همچنین در جای دیگری از همین باب بواسطه او حدیث نقل کرده است و این نشان دهنده اعتماد ایشان به این کتاب می باشد و اگر چه خالی از غرابت نمی باشد زیرا او از علی بن ابراهیم بدون واسطه زیاد نقل کرده است ، بلکه ظاهرتر همانطوری که در این اواخر برای من هویدا شد این است که او محمد بن علی بن ابراهیم بن محمد همدانی و وکیل امام زمان عجل الله تعالی فرجه می باشد همانگونه که آنرا در تعلیقاتم بر کافی توضیح دادم) .
د- احتجاجات ائمه صلوات الله علیهم و سخنان دیگران با حدیث ردّ الشمس ؛از جمله مواردی که می تواند شاهد صدقی بر حدیث رد الشمس باشد احتجاج ائمه علیهم السلام بر این حدیث می باشد که نشان دهنده صحت این حدیث در نزد ایشان می باشد ؛ زیرا لازمه کمک گرفتن از مطلبی برای اثبات مطلبی دیگر این است که آن مطلب در نزد شخص و همچنین کسی که برای او دلیل آورده می شود جزﺀ قطعیات باشد .۱- احتجاج امیرالمؤمنین علیه السلام بر حدیث رد الشمس در برابر خلیفه اول برای اثبات اینکه ایشان سزاوارتر می باشند به امر خلافت نسبت به او ؛« عن جعفر بن محمد عن أبیه عن جده علیهم السلام : « … قال أنت الذی ردت علیه الشمس لوقت صلاته فصلاها ثم توارت أم أنا قال بل أنت …»(28) .(از امام صادق علیه السلام از پدران بزرگوارشان نقل گردیده است ؛ امیرالمؤمنین علیه السلام گفتند : تو هستی کسی که خورشید برای او بازگشت در وقت نماز و نمازش را خواند و سپس غروب کرد یا من هستم ؟! خلیفه اول گفت : بلکه تو هستی ) .۲- احتجاج امیرالمؤمنین علیه السلام در روز شورا برای اثبات سزاوارتر بودن ایشان به امر خلافت نسبت به دیگر اعضای شورای تشکیل شده توسط خلیفه دوم برای تعیین خلیفه بعدی ؛« قال ( علیه السلام ) : … فهل فیکم أحد ردت علیه الشمس بعد ما غربت، أو کادت، حتى صلى العصر فی وقتها غیری » (29).(امیرالمؤمنین علیه السلام فرمودند : آیا در میان شما غیر از من کسی هست که خورشید بعد از اینکه غروب کرده باشد و یا نزدیک به غروب کردن باشد برای او برگردد تا نماز عصر را در وقتش بخواند ؟! )و در نقلی دیگر آمده است ؛ «انشدکم بالله ! هل فیکم من ردت له الشمس غیری حین نام رسول الله و جعل رأسه فی حجری حتی غابت الشمس فانتبه فقال یا علی صلیت العصر قلت الهم لا فقال الهم ارددها علیه فانه کان فی طاعتک و طاعه رسولک » (30).(شما را به خدا قسم! آیا در میان شما غیر از من کسی هست که خورشید برایش برگشته باشد، در هنگامی که رسول الله خوابیده بود و سرش را بر دامن من گذاشته بودتا اینکه خورشید غایب شد و هنگامی که بیدار گردید فرمود: ای علی نماز عصر را خواندی و من گفتم نه پس فرمودند: خدایا برای او خورشید را بازگردان چرا که او در طاعت تو و طاعت رسولت می باشد )و همچنین در نقل دیگر آمده است؛ « فانشدکم بالله هل فیکم احد ردت علیه الشمس حتی صلی العصر فی وقتها غیری ؟ قالوا : الهم لا »(31).(شما را به خدا قسم! آیا در میان شما غیر از من کسی هست که خورشید برایش برگشته باشد، تا اینکه نماز عصر را بخواند؟ گفتند: نه )شافعی این ماجرا را به این صورت نقل می کند : « عن عامر بن واثله قال کنت علی الباب یوم الشوری و علی فی البیت فسمعته یقول : … أما و الله لاحاجنهم بخصال لا یستطیع عربیهم و لا عجمیهم المعاهد منهم و المشرک ان ینکر منها خصله ، انشدکم بالله ایها الخمسه أ منکم اخو رسول الله غیری قالوا لا … قال أ منکم احد ردت علیه الشمس بعد غروبها حتی صلیت العصر غیری قالوا لا … » (32).( عامر بن واثله می گوید : من در روز شورا نزدیک در بودم و علی (علیه السلام ) در خانه بود ، پس شنیدم که می گفت : … به خدا قسم دلیل می آورم برای شما به خصلتهایی که عرب و عجب ، چه دیندار و چه مشرک ، توان انکار یک خصلت از آن را نداشته باشند ؛ قسم می دهم شما پنج نفر را به خداوند که آیا از شما برادر رسول الله (صلی الله علیه و آله ) غیر از من وجود دارد ؟ گفتند : نه … فرمودند : آیا از شما غیر از من کسی وجود دارد که خورشید بعد از اینکه غروب کند برای او برگردد تا نماز عصر را بخواند ؟ گفتند : نه … ) .

[ یکشنبه بیست و نهم شهریور ۱۴۰۵ ] [ 20:23 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

بسم تعالی

درس نمبر ۲

(مولانا سید رمیز الحسن موسوی)

👈 *بسترِ مرگ پر شیطان کی موجودگی*

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

"کوئی انسان ایسا نہیں جس کی موت کے وقت شیطان اپنے نمائندوں میں سے کسی ایک کو اس کے پاس نہ بھیجے۔ وہ اسے وسوسوں میں مبتلا کرتا، اس کے دین میں شک پیدا کرتا اور اسے کفر کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وسوسہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اس کی روح جسم سے جدا نہ ہوجائے۔

لیکن اگر محتضر مؤمن ہو تو شیطان اس پر غالب نہیں آسکتا اور نہ ہی اس کا ایمان چھین سکتا ہے۔ لہٰذا جب بھی تم کسی محتضر کے پاس جاؤ تو اسے شہادتین کی تلقین کرو تاکہ شیطان اس پر قابو نہ پاسکے۔"

👈شیطان نے مہلت کیوں مانگی؟*

جب شیطان نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو وہ اللہ کی رحمت سے دھتکار دیا گیا۔ اس وقت اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک مہلت طلب کی تاکہ انسانوں کو گمراہ کرسکے۔

«قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ»

"اے میرے پروردگار! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔"(سورہ ص 79)

اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مقررہ وقت تک مہلت عطا فرمائی:

«إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ»

"ایک مقررہ وقت کے دن تک۔"(سورہ ص 81)

شیطان نے قسم کھائی کہ وہ اللہ کے خالص بندوں کے علاوہ تمام انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا:

«رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۝ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ»

"اے میرے پروردگار! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں بھی زمین میں ان کے لیے گناہوں کو خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا، سوائے تیرے ان بندوں کے جو مخلص ہیں۔"(سورہ حجر 39-40)

لہٰذا یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیطان انسان کو آخری لمحات تک گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی مکاری اور وسوسوں سے باز نہیں آتا۔

👈شیطان کی آخری کوششوں کے کون کون سے حربے ہیں؟*

1۔ شیطان کا کفر و شرک کی دعوت دینا

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ جب ہمارے کسی شیعہ کی موت کا وقت آتا ہے تو شیطان اس کے دائیں اور بائیں جانب سے آتا ہے تاکہ اسے ایمان سے گمراہ کرکے کفر کی طرف لے جائے، لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس سے محفوظ رکھتا ہے۔

2۔ شبہات اور شکوک پیدا کرنا

شیطان آخری وقت میں اپنے کارندوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ انسان کے دل میں دینی عقائد کے بارے میں شک و شبہات پیدا کریں۔

3۔ امامت و ولایت سے دور کرنا

ولایت اور امامت سے دوری شیطان کا ایک بڑا جال ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ مؤمن کو اہلِ بیتؑ سے جدا کردے اور اسے ان کی محبت و ولایت سے دور کردے۔

4۔ کمزوریوں اور دنیوی وابستگیوں کا غلط استعمال کرنا

شیطان انسان کی دنیوی وابستگیوں اور کمزوریوں سےفائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

روایت میں بیان ہوا ہے کہ موت کے وقت انسان کو شدید پیاس لگ سکتی ہے۔ شیطان ٹھنڈے پانی کا پیالہ لے کر آتا ہے اور پانی دینے کے بدلے اللہ تعالیٰ یا رسولؐ کا انکار کرنے کی شرط رکھتا ہے۔ اگر انسان اس کے بہکاوے میں نہ آئے تو وہ سعادت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔

5۔ برے اخلاق و صفات کا سبب بننا

حسد، تکبر، دنیا سے شدید محبت اور والدین کی نافرمانی، یعنی عاقِ والدین، جیسے برے اخلاق انسان کی سوء عاقبت اور برے انجام کا سبب بن سکتے ہیں۔

👈شیطان کے وسوسوں سے بچاؤ کے طریقے*

1۔ ایمان کو مضبوط رکھنا

انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں اپنے ایمان کو اتنا مضبوط کرے کہ آخری وقت میں شیطان اسے ڈگمگا نہ سکے۔

2۔ محتضر کو تلقین کرنا

محتضر کے پاس شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا انتہائی مؤثر قرار دیا گیا ہے۔

3۔ نماز کو قائم رکھنا

جو شخص اپنی نمازیں وقت اور شرائط کے مطابق ادا کرتا ہے، موت کے وقت ملک الموتؑ شیطان کو اس سے دور بھگا دیتے ہیں۔

4۔ محتضر کو مصلّٰی پر منتقل کرنا

اگر ممکن ہو تو محتضر کو گھر میں اس جگہ منتقل کیا جائے جہاں وہ شخص زیادہ نماز پڑھا کرتا تھا۔

5۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا

محتضر کے قریب سورۂ یٰسین اور سورۂ صافات کی تلاوت کرنا بھی بیان کیا گیا ہے۔

6۔ دعائے «رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا» پڑھنا

ہر واجب نماز کے بعد اس دعا کی مدد انسان کے ایمان کو ثابت قدم رکھنے کا ذریعہ بیان کی گئی ہے۔

7۔ دعائے عدیلہ پڑھنا

دعائے عدیلہ پڑھنا اور اپنے عقائد کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا آخری وقت میں شیطان کے شر سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

8۔ اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت پر قائم رہنا

اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت دنیا، برزخ اور موت کے وقت انسان کے کام آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا باعث بنتی ہے۔

👈 *خلاصہ درس*

موت انسان کی زندگی کا انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ اس وقت شیطان انسان کو وسوسوں، شکوک اور مختلف ترغیبات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی ہی میں ایمان کو مضبوط کرے، نماز کی پابندی کرے، قرآن سے وابستہ رہے، اپنے اخلاق درست کرے اور اہلِ بیتؑ کی محبت و ولایت کو مضبوطی سے تھامے۔

محتضر کے وقت اسے شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور دعاؤں کے ذریعے اس کے ایمان کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرنا اسلامی تعلیمات میں اہم امور کے طور پر بیان ہوا ہے۔

👈 *چند وضاحتیں*

مُحتَضَر : وہ شخص ہے جو حالتِ نزع میں ہو اور جس کی روح جسم سے جدا ہونے والی ہو۔

دعائے رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا: مفاتیح الجنان میں یہ دعا تعقیباتِ نماز کے ضمن میں آئی ہے

دعائے عدیلہ: مفاتیح الجنان میں موجود ہے، اور اس کا تعلق خاص طور پر حالتِ احتضار اور موت کے وقت ایمان کی حفاظت سے بیان کیا گیا ہے۔

[ چهارشنبه چهارم شهریور ۱۴۰۵ ] [ 14:17 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

صحاح ستہ کے شیعہ راوی جنہوں نے ھماری صحاح ستہ کا 80٪ بوجھ اٹھایا ھوا ھے ،
محمد بن مسلم ابن شھاب الزھری ،،
شیخ عباس قمی اپنی کتاب تتمۃ المنتہی میں لکھتے ھیں ،،
واختلف کلمات علمائنا فی مدحہ و قدحہ و قد فصل صاحب الروضات فقال انہ کان فی بدء امرہ من جملۃ علماء اھل السنہ و ندمائے حزب الشیطان ، ثمہ علمہ و ادراکہ ادرکاہ و ارشداہ الحق المبین فصیراہ فی اواخر عمرہ من الراجعین الی الامام زین العابدین علیہ السلام وفی زمرۃ المستفیدین من برکات انفاسہ الشریفہ ثم ذکرہ شوھد قولہ ،،
ابن شھاب الزھری کی مدح و قدح میں ھمارے علماء کے مختلف اقوال ھیں ، صاحب روضات نے تفصیل کرتے ھوئے اپنی کتاب روضات میں لکھا ھے کہ وہ ابتدا میں تو سنی علماء میں سے تھا اور شیطان کی پارٹی کے ھم نشینوں میں سے تھا ، پھر اس کے علم اور فہم نے اسے کھلے ھوئے حق کی طرف راھنمائی کی اور زندگی کے آخری حصوں میں اسے ان لوگوں میں سے بنا دیا جو امام زین العابدین سے رجوع کرنے والے تھے اور آپ کی خدمت شریف سے فیض حاصل کرنے والے تھے،،
اصول کافی میں اس کی احادیث نو مواقع پر درج ھیں شیعہ اسماء الرجال کی کتاب " عین الغزال فی اسماء الرجال " میں ابن شہاب الزھری کے تعارف میں شیعی لکھا ھوا ھے ،،
ھمارے محدثین کتنی بھی احتیاط کریں مگر جو لوگ خود کو چھپانا چاھیں وہ مہارت بھی حاصل کر لیتے ھیں یہانتک کہ اللہ پاک مدینے کے منافقین کے بارے میں اپنے رسول ﷺ کو فرماتے ھیں کہ مردوا علی النفاق ، لاتعلمھم نحن نعلمھم ،، یہ نفاق میں ماھر ھو چکے ھیں ، آپ ان کو نہیں پہچانتے ھم ان کو جانتے ھیں ،، چنانچہ قاضی نور اللہ شوستری اپنی کتاب مجالس المومنین میں لکھتا ھے کہ ھم لوگ شروع شروع میں سنی ، حنفی ،شافعی ، مالکی ،حنبلی بن کر اھل سنت کے استاذ اور ان کے شاگرد بنے رھے ، ان سے روایتیں لیتے تھے اور ان کو حدیثیں سناتے تھے اور تقیہ سے کام لیتے تھے

ابان بن تغلب بن رباح قاری کوفی
علامہ ذہبی ان کے حالات میں لکھتے ہیں :
“ ابان بن تغلب کوفہ کے رہنے والے تھے اور بڑے کٹر شیعہ ہیں لیکن صدوق ہیں۔ ہمیں ان کی سچائی سے غرض ہے ان کی بدعت کا بار ان کے سر ہے احمد بن حنبل ، ابو حاتم اور ابن معین نے انھیں موثق قرار دیا ہے۔ ابن عدی نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ بڑے غالی شیعہ تھے۔ ان سے امام مسلم او ابو داؤد و ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ نے حدیثیں روایت کی ہیں آپ کا انتقال سنہ۱۴۱ھ میں ہوا۔

ابراہیم بن یزید بن عمرو بن اسود بن عمرو نخعی کوفی
علامہ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔
ان کی حدیثیں صحیح بخاری ، مسلم دونوں میں موجود ہیں۔ ان کی پیدائش سنہ۵۰ھ اور انتقال سنہ۹۵ھ یا سنہ۹۶ھ میں حجاج کے مرنے کے چار مہینے کے بعد ہوا۔

احمد بن مفضل ابن کوفی حفری
ان سے ابوذرعہ و ابو حاتم نے روایت کی اور ان کی بیان کی ہوئی حدیث سے اپنے مسلک پر دلیل پیش کی ہے حالانکہ ابوزرعہ و ابو حاتم نے ان کی شیعیت کی صراحت بھی کی ہے۔ علامہ ذہبی نے ابوحاتم کا یہ فقرہ احمد بن مفضل کے متعلق نقل کیا ہے کہ احمد بن مفضل رؤساء شیعہ میں سے تھے اور صدوق تھے ان کی روایت کردہ حدیثیں سنن ابی داؤد ، سنن نسائی دونوں میں موجود ہیں۔

اسماعیل بن ابان
امام بخاری کے شیخ ہیں۔ بخاری و ترمذی دونوں نے ان کی حدیث سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے جیسا کہ علامہ ذہبی نے تحریر کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے یہ بھی ان کے متعلق لکھا ہے کہ یحی و احمد نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔ اور بخاری نے انھیں صدوق کہا ہے۔ امام بخاری نے متعدد جگہ صحیح بخاری میں بلاواسطہ ان کی حدیثیں ذکر کی ہیں۔

اسماعیل بن خلیفہ ملائی کوفی
ان کی کنیت ابو اسرائیل ہے اور اسی کے ساتھ مشہور بھی ہیں۔ علامہ ذہبی نے ان کا تذکرہ میزان الاعتدال میں ان الفاظ میں کیا ہے۔ کہ بڑے متعصب شیعہ اور ان لوگوں میں سے تھے جو عثمان کو کافر کہتے ہیں اور بھی بہت کچھ ان کے متعلق لکھا ہے لیکن ان سب کے باوجود ترمذی نے اور دیگر اصحابِ سنن نے ان سے روایت کی ہے۔ ابوحاتم نے ان کی حدیثوں کو حسن کہا ہے۔ ابوزرعہ نے کہا ہے کہ صدوق ہیں اگر چہ خیالات غالیانہ تھے امام احمد نے کہا ہے کہ ان کی حدیثیں درج کرنے کے قابل ہیں۔ ابن معین نے ثقہ کہا۔ فلاس نے کہا یہ جھوٹ بولنے والوں میں نہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ترمذی میں موجود ہیں۔ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔

اسماعیل ابن زکریا خلقانی کوفی
ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھا ہے کہ صدوق ہیں اور شیعہ ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جن سے صحاح ستہ میں حدیثیں لی گئی ہیں۔ ان کی حدیث بخاری اور مسلم میں موجود ہے۔ سنہ ۱۷۴ھ میں بغداد میں انتقال کیا۔

اسماعیل بن عباد بن عباس طالقانی
صاحب بن عباد کے نام مشہور ہیں ابو داؤد و ترمذی نے ان سے روایتیں لی ہیں۔ جیسا کہ امام ذہبی نے میزان میں صراحت کی ہے نیز یہ بھی لکھا ہے کہ بڑے با کمال ادیب اور شیعہ تھے۔ ان کی شیعیت میں کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا اور شیعیت ہی کی وجہ سے سلطنت بویہہہ کی وزارت عظمی پر فائز ہوئے۔ یہ پہلے وہ شخص ہیں جو صاحب کے لقب سے ملقب ہوئے اس لیے کہ یہ موید الدولہ بن بویہ کے جوانی کے زمانہ سے مصاحب رہے اور مؤید الدولہ ہی نے ان کا نام صاحب رکھا اور برابر اسی نام سے پکارے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ اسی نام سے مشہور ہوگئے اور ان کے بعد جو شخص وزارت کے درجہ پر آیا وہ بھی صاحب ہی کے نام سے پکارا گیا۔ یہ پہلے موید الدولہ کے وزیر رہے اس کے مرنے پر اس کے بھائی فخر الدولہ نے بھی انھیں وزارت عظمی پر برقرار رکھا۔ جب ان کا انتقال ہوا ( ۲۴ صفر سنہ۳۸۵ھ میں ۹۵ برس کی عمر میں) تو شہر رے کے دروازے بند ہوگئے اور تمام لوگ ان کے مکان پر آکر جنازہ کا انتظار کرنے لگے خود بادشاہ فخرالدولہ اور وزراء، و سروران فوج جنازہ میں ساتھ ساتھ تھے۔ یہ بڑے جلیل القدر عالم اور گرانقدر کتب و رسائل کے مصنف شخص تھے۔

اسماعیل بن عبدالرحمن بن ابی کریمہ مشہور مفسر
جو سدی کے نام سے شہرت رکھتے ہیں
علامہ ذہبی نے ان کے حالات میں لکھا ہے کہ متہم بالتشیع ہیں اور حسین بن واقد مروزی سے اس کی بھی روایت کی ہے کہ انھوں نے ابوبکر و عمر کو سب و شتم کرتے سنا تھا مگر ان سب کے باوجود ثوری ابوبکر بن عباس و غیرہ نے ان سے حدیثیں لیں اور امام مسلم و ترمذی و ابوداؤد ، ابن ماجہ، نسائی صاحبانِ صحاح نے ان کی حدیثیں اپنے مسلک کی تائید میں درج کی ہیں۔ امام احمد نے انھیں ثقہ، ابن عدی نے صدوق کہا ہے۔ یحی بن سعید کا قول ہے کہ میں نے ہر ایک کو دیکھا کہ وہ سدی کو اچھا ہی کہتا ہے اور سبھی نے اس سے حدیثیں لی ہیں سنہ۱۲۷ھ میں انتقال کیا ہے۔

اسماعیل بن موسی فزاری کوفی
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے حالات میں لکھا ہے کہ ابن عدی ان کے متعلق کہتے تھے کہ شیعیت میں بہت زیادہ غلو رکھنے کی وجہ سے لوگ انھیں ناپسند کرتے تھے اور عبدان بیان کرتے تھے کہ ہناد اور ابن شیبہ ہمارا اسماعیل کے پاس جانا پسند نہیں کرتے تھے اور کیا کرتے تم لوگ اس فاسق کے پاس جاکر کیا کرتے ہو جو بزرگوں کو سب وشتم کیا کرتاہے۔ ان سب کے باوجود ابن خزیمہ، ابو عرویہ اور بہت سے لوگوں نے ان سے حدیث کا استفادہ کیا اور یہ اس طبقہ کے شیخ تھے جیسے ابوداؤد و ترمذی وغیرہ۔ ان سب حضرات نے ان سے حدیث لی اور اپنے اپنے صحیح میں درج کی۔ ابوحاتم نے انھیں صدوق کہا ہے۔ نسائی نے کہا ہے کہ کوئی مضائقہ نہیں ان سے حدیث لینے میں۔ سنہ۲۴۵ھ میں انتقال کیا۔ بعض لوگ انھیں سدی کا نواسہ بتاتے ہیں۔

ت :-
تلید بن سلیمان کوفی
ابن معین نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ یہ عثمان کوسب وشتم کیا کرتے تھے۔ بعض عثمانیوں نے سن لیا۔ انھوں نے اسے تیر مارا جس سے ان کا پیر ٹوٹ گیا۔ ابوداؤد نے ان کے متعلق کہا کہ یہ رافضی ہیں۔ ابوبکر و عمر کو سب وشتم کیا کرتے تھے مگر ان سب کے باوجود احمد و ابن نمیر نے ان سے تحصیل حدیث کی۔ امام احمد نے ان کے متعلق کہا کہ تلید شیعہ ہیں مگر ان سے حدیث لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ صحیح ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

ث :-
ثابت بن دینار
جو ابوحمزہ ثمالی کے نام سے مشہور ہیں ان کی شیعیت اظہر من الشمس ہے۔ ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

ثوبر بن ابی فاختہ
ام ہانی بنت ابی طالب کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ذہبی نے ان کے رافضی ہونے کی صراحت کی ہے۔ امام محمد باقر(ع) کے عقیدت مندوں میں تھے ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

ج : -
جابر بن یزید جعفی کوفی
علامہ ذہبی نے ان کے حالات میں لکھا ہے کہ یہ علماء شیعہ میں سے تھے۔ نیز سفیان سے ان کا قول نقل کیا ہے کہ انھوں نے جابر کو کہتے سنا۔ علم پیغمبر(ص) سے علی(ع) کی طرف منتقل ہوا اور علی(ع) سے حسن(ع) کی طرف۔ ایک امام سے دوسرے امام تک منتقل ہو کر امام جعفر صادق(ع) تک پہنچا یہ امام جعفر صادق(ع) کے زمانہ میں تھے اور آپ نے بکثرت حدیثیں حاصل کیں چنانچہ خود جابر کہا کرتے تھے کہ میرے پاس ستر ہزار حدیثیں امام محمد باقر(ع) کی روایت کردہ ہیں۔ جابر جب امام محمد باقر(ع) سے کوئی حدیث روایت کر کے بیان کرتے تھے تو کہتے مجھ سے وصی الانبیاء نے بیان کیا۔ علامہ ذہبی نے میزان میں زائدہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جابر رافضی ہیں۔ سب و شتم کیا کرتے ہیں، ان سے امام ابو داؤد وترمذی ، نسائی نے حدیثیں روایت کی ہیں۔ سفیان ثوری نے انھیں حدیث میں بہت محتاط کہا ہے۔ شیعہ نے صدوق قرار دیا ہے۔ وکیع نے ثقہ کہا ہے سنہ ۱۲۷ھ میں انتقال کیا۔

جریر بن عبدالحمید جنبی کوفی
علامہ ابن قتیبہ نے اپنی کتاب معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال کا تذکرہ کرتے ہوئے بڑی حمدو ثنا کی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ جریر اہل رے کے عالم اور صدوق ہیں اور ان کے اقوال سے کتابوں میں استدلال کیا جاتا ہے اور ان کے ثقہ ہونے پر جملہ محدثین کا اجماع و اتفاق ہے۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہیں سنہ۱۷۸ھ میں انتقال کیا۔

جعفر بن زیاد احمر کوفی
امام ابوداؤد نے ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ صدوق ہیں اور شیعہ ہیں۔ ابن عدی نے انھیں صالح اور شیعہ لکھا ہے۔ ابن معین نے ثقہ، امام احمد نے صالح الحدیث فرمایا ہے۔ صحیح ترمذی و سنن نسائی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ ۱۶۷ھ میں انتقال کیا۔

جعفر بن سلیمان ضبعی بصری
علامہ ابن قتیبہ نے معارف صفحہ ۲۰۶ میں انھیں مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے ابن سعد نے ان کی شیعیت اور ثقہ ہونے کی تصریح کی ہے۔ ابن عدی ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ شیعہ ہیں ۔ میں توقع کرتا ہوں کہ ان کوئی حرج نہیں اور ان کے حدیثیں قابل انکار نہیں اور میرے نزدیک اس قابل ہیں کہ ان کی حدیثیں قبول کی جائیں۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں انھیں راہد علمائے شیعہ میں سے لکھا ہے ان کی حدیثیں صحیح مسلم و نسائی میں موجود ہیں سنہ۱۷۹ھ میں انتقال کیا۔

جمیع بن عمیرہ بن ثعلبہ کوفی تیمی
میزان الاعتدلال میں ہے کہ ان کے متعلق ابو حاتم کا یہ فقرہ ہے کہ صالح الحدیث اور شرفا الشیعہ سے ہیں۔ جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

ح :-
حارث بن حصیرہ کوفی
ابوحاتم رازی، ابو احمد زبیری، ابن عدی ، یحی بن معین ، امام نسائی وغیرہ نے ان کی شیعیت کی تصریح بھی کی ہے اور ان کے ثقہ ہونے کا بھی اقرار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے انھیں صدوق لکھا ہے۔ امام نسائی نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔

حارث بن عبداﷲ ہمدانی
صحابی و حواری امیرالمومنین(ع) ، ابن قتیبہ نے مشاہیر شیعہ میں پہلے ان کا ہی نام لکھا ہے۔ ذہبی نے لکھا ہے کہ یہ کبار علماء تابعین سے تھے اور ابن حبان انھیں بہت غالی شیعہ کہا کرتے تھے۔ جمہور اہلسنت انھیں اسی شیعیت کی وجہ سے بہت دشمن رکھتے تھے مگر باوجود اس کے ان کے علم و فضل اور ثقہ ہونے سے کسی کو انکار نہیں۔ سنن ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ وابو داؤد میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۶۵ھ میں انتقال کیا۔

حبیب بن ابی ثابت اسدی
کوفہ کو رہنے والے اور تابعی ہیں۔ ابن قتیبہ نے معارف میں شہرستانی نے ملل و نحل میں انھیں مشاہییر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ ان سے جملہ اربابِ صحاح ستہ نے بلا تردد روایتیں لی ہیں۔ سنہ ۱۱۹ھ میں انتقال کیا۔

حسن بن حیَ
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھتے ہیں یہ اجلہ علماء میں سے ہیں اور ان میں شیعیت کی بدعت موجود تھی۔ نماز جمعہ میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ ظالم حکام پر خروج جائز جانتے تھے۔ عثمان پر ترس نہیں کھاتے تھے۔ ابن سعد نے طبقات جلد۶ میں ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ثقہ ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ہیں اور یہ شیعہ تھے۔ ابن قتیبہ نے بھی ان کی شیعیت کی تصریح کی ہے۔ صحیح مسلم اور دیگر سنن میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۱۰۰ ھ میں پیدا اور سنہ۱۹۹ھ میں انتقال کیا۔

حکم بن عتیبہ کوفی
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۱۱۵ھ میں انتقال کیا۔

حماد بن عیسیٰ
صاحب منتہی المقال و غیرہ نے انھیں علماء شیعہ میں سے لکھا ہے اور ہر ایک نے انھیں ثقہ و معتمد سمجھا ہے۔ و امام موسی کاظم(ع) کے اصحاب میں سے ہیں۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ترمذی اور دیگر سنن میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

حمران بن اعین
مشہور ترین صحابی امام محمد باقر(ع) و امام جعفر صادق(ع) ۔ سنن ابی داؤد و غیرہ میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

خ : -
خالد بن مخلد قطوانی کوفی
امام بخاری کے شیخ الحدیث ہیں۔ علامہ ابن سعد نے طبقات جلد۶ صفحہ۲۸۳ میں اور امام ابو داؤد نے انھیں شیعہ اور صدوق لکھا ہے۔ امام بخاری و مسلم دونوں نے ان کی حدیثیں اپنی صحیح میں درج کی ہیں اور بھی دیگر اصحاب سنن نے ان کی شیعیت سے واقف ہوتے ہوئے ان کی حدیثوں سے کام لیا ہے۔

ز : -
زبید بن حارث بن عبدالکریم کوفی
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے حالات میں لکھتے ہیں کہ یہ ثقات تابعین مین سے ہیں اور ان میں تشیع تھا۔ اس کے بعد ذہبی نے بہت سے علماء و محدثین کے اقوال ان کے ثقہ ہونے کے متعلق نقل کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہیں۔ سنہ۱۲۴ھ میں انتقال کیا۔

زید بن الحباب کوفی تمیمی
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے اور علامہ ذہبی نے انھیں عابد ، ثقہ اور صدوق لکھا ہے اور ان کے ثقہ و صدوق ہونے کے متعلق دیگر بہت سے علماء کے اقوال نقل کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح مسلم میں موجود ہیں۔

س :-
سالم بن ابی الجعد اشجعی کوفی
ابن سعد نے طبقات جلد۶ صفحہ۲۰۳ میں ابن قتیبہ نے معارف صفحہ۱۵۶ علامہ شہرستانی نے ملل و نحل جلد۲ صفحہ۲۷ میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے علامہ ذہبی نے انھیں ثقات تابعین میں لکھا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم دونوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

سالم بن ابی حفصہ عجلی کوفی
علامہ شہرستانی نے ملل و نحل میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں اور علامہ ابن سعد نے طبقات جلد۶ صفحہ ۲۳۴ میں ان کی شدت تشیع کی کیفیت ذکر کی ہے۔ ان کی حدیثیں جامع ترمذی میں موجود ہیں۔ سنہ۱۳۷ھ میں انتقال کیا۔

سعد بن طریف الاسکاف حنظلی کوفی
علامہ ذہبی نے علماء محدثین کے اقوال ان کے تشیع کے متعلق درج کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ترمذی میں موجود ہیں۔

سعید بن اشوع
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ کوفہ کے قاضی تھے اور مشہور صدوق ہیں۔ امام نسائی نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ ان میں کوئی خرابی نہ تھی۔ جو زجانی نے کہا ہے کہ یہ بڑے غالی اور شیعیت میں حد سے بڑے ہوئے تھے۔ صحیح بخاری و مسلم دونوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

سعید بن خیثم
یحی بن معین سے ان کے متعلق پوچھا گیا کہ سعید بن خیثم شیعہ ہیں آپ ان کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔ انھوں نے کہا شیعہ ہوں گے مگر ہیں ثقہ جامع ترمذی و سنن نسائی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

سلمہ بن الفضل الابرش
رے کے قاضی تھے۔ ان کی شیعیت کی علماء نے صراحت کی ہے مگر ارباب صحاح نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔ چنانچہ جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

سلمہ بن کمیل بن حصین حضرمی
علامہ قتیبہ نے معارف صفحہ ۲۰۶ میں، علامہ شہرستانی نے ملل و نحل جلد۲ صفحہ۲۷ میں ان کو مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے۔ جملہ ارباب صحاح ستہ نے ان کی حدیثوں سے کام لیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں سنہ ۱۲۱ھ میں انتقال کیا۔

سلیمان بن صرد خزاعی کوفی
شیعیان عراق کے بزرگ ترینِ فرد اور مرجع مومنین بزرگ تھے۔ انتقام خون حسین(ع) لینے والوں کے راس و رئیس اور قائد بھی تھے۔ جملہ ارباب سیر و تاریخ نے ان کے علم و فضل زہد و ورع عبادت کا فراخ دلی سے تذکرہ کیا ہے جنگِ صفین میں امیرالمومنین(ع) کے ہمراہ تھے۔ دشمنان اہل بیت(ع) کو گمراہ سمجھتے تھے ان کی حدیثیں صحیح مسلم و صحیح بخاری دونوں میں موجود ہیں۔

سلیمان بن طرخان تیمی بصری
ابنِ قتیبہ نے اپنی کتاب معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے ان کی حدیثوں سے اربابِ صحاح نے بھی کام جلیا ہے اور دیگر محدثین بے بھی صحیح بخاری و مسلم دوںوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ ۱۴۳ھ میں انتقال کیا۔

سلیمان بن قرم بن معاذضبی کوفی
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق ابن حبان کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ بڑے غالی رافضی تھے اور ابن عدی نے ان کے متعلق یہ کہا ہے کہ ان کی حدیثیں عمدہ ہیں۔ صحیح مسلم، سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

سلیمان بن مہران کاہلی کوفی مشہور بہ اعمش
یہ بزرگان شیعہ سے ایک جلیل القدر فرد اور کبار محدثین میں نامور بزرگ ہیں بہت سے محققین علماء اہل سنت مثلا ابن قتیبہ نے اپنی معارف میں اور علامہ شہرستانی نے اپنی ملل ونحل میں اور دیگر حضرات نے ان کی شیعہ ہونے کی صراحت کی ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں جوزجانی کا یہ فقرہ نقل کیا ہے کہ باشندگان کوفہ میں سے ایک جماعت ایسی تھی کہ لوگ ان کے عقائد و مذہب کو ناپسند سمجھتے تھے۔ مگر وہی حضرات محدثین کوفہ کے راس و رئیس تھے مثلا ابو اسحاق منصور زبید یامی اور اعمش اور انھیں جیسے دیگر حضرات کو ان کے سچے ہونے کی وجہ سے ان کی حدیثوں کو لوگوں نے سر آنکھوں پر رکھا جو زجانی کا یہ فقرہ جس قدر رکیک اور ان کے تعصب کا مظہر ہے پوشیدہ نہیں۔ ناصبی لوگوں نے ان بزرگوں کے مذہب و عقائد کو جو پسند نہیں کیا تو محض اس جرم کی وجہ سے کہ یہ حضرات اہل بیت(ع) کی محبت دل میں رکھ کر ان کے دامن سے متمسک ہوکر اجر رسالت پیغمبر(ص) ادا کرتے تھے۔ ناصبی افراد نے ان کی حدیثوں کو سر آنکھوں پر جو رکھا تو محض اس وجہ سے نہیں کہ یہ حضرات سچے تھے بلکہ اس لیے کہ بغیر ان کی طرف رجوع کیے ہوئے کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اگر ایسے حضرات کی حدیثیں یہ ناصبی لوگ ٹھکرا دیتے تو پیغمبر(ص) کی ساری حدیثیں ہوا ہوجاتیں۔ سنن و آثار پیغمبر(ص) کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ جیسا کہ خود علامہ ذہبی نے ابان بن تغلب کے تذکرہ کے سلسلہ میں اعتراف کیا ہے۔
اعمش کے چند عجیب و غریب نوادر ہیں جو ان کی جلالت و قدر کا ظاہر کرتے ہیں چنانچہ علامہ ابن خلکان ان کے حالات میں یہ واقعہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے ان کے پاس اپنا قاصد بھیجا کہ عثمان کے فضائل اور علی(ع) کی برائیاں مجھے لکھ بھیجو۔ اعمش نے ہشام کا خط لے کر بکری کے منہ میں دے دیا اور وہ اس خط کو چبا گئی اور قاصد سے کہا جا کر ہشام سے کہہ دینا کہ تمہارے خط کا یہی جواب ہے۔ قاصد نے کہا کہ ہشام نے قسم کھائی تھی کہ اگر میں تمہارا جواب لے کر نہ گیا تو مجھے قتل کر ڈالے گا۔ قاصد نے اعمش کے اعزہ و احباب سے بھی سفارش کرائی۔ جب سب نے اصرار کیا تو انھوں نے جواب میں لکھا۔
“ اگر دنیا بھر کے لوگوں کے فضائل عثمان کو حاصل ہوجائیں اور دنیا بھر کے لوگوں کی برائیاں علی(ع) میں اکٹھا ہوجائیں تو تمہیں کیا تم اپنے آپ کو دیکھا کرو۔”
علامہ بن عبدالبر نے ان کا ایک واقعہ یہ نقل کیا ہے کہ فضل بن موسی بیان کرتے تھے کہ امام ابو حنیفہ کے ہمراہ اعمش کی عیادت کو گیا ابو حنیفہ نے کہا اے ابو محمد (اعمش) اگر تمہارے بارِ خاطر نہ ہوتا تو میں جتنی بار تمہاری عیادت کو آتا ہوں اس سے زیادہ آتا۔ اعمش نے کہا کہ خدا کی قسم جب تم اپنے گھر میں ہوتے ہو تو بھی میرے لیے بارگراں ہوتے ہو جب میرے پاس ہوگے تو میرا کیا حال ہوگا؟
ایک اور ان کا واقعہ شریک بن عبداﷲ قاضی کی زبانی ہے۔ شریک کہتے ہیں کہ میں اعمش کے مرض الموت میں ان کے پاس حاضر تھا کہ اتنے میں ابن شبرمہ اور ابن ابی لیلیٰ اور امام ابوحنیفہ ان کی عیادت کو آئے۔ لوگوں نے ان کی مزاج پرسی کی، انھوں نے انتہائی کمزوری و نقاہت کا ذکر کیا۔ اپنی خطاؤں پر اپنی ہراسانی ظاہر کی اور کچھ آب دیدہ سے ہوگئے۔ امام ابو حنیفہ مڑے اور انھوں نے فرمایا : اے ابو محمد! خدا سے ڈریے اور اپنے اوپر ترس کھائیے۔ آپ حضرت علی(ع) کے متعلق ایسی حدیثیں بیان کرتے تھے اگر آپ ان سے توبہ کرلیتے تو آپ کے لیے اچھا ہوتا۔ اعمش نے کہا۔ تم میرے ایسے شخص کے لیے ایسی بات کہتے ہو اور خوب سخت و سست سنایا۔ مختصر یہ کہ اعمش بڑے ثقہ و معتمد عالم و فاضل بزرگ تھے۔ ان کے صدق و عدالت تقوی و پرہیزگاری پر سب کا اتفاق ہے۔ جملہ ارباب صحاح و غیرہ نے ان کی روایت کردہ حدیثوں سے کام لیا ہے۔
صحیح بخاری ، صحیح مسلم سب ہی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۶۱ ھ میں پیدا ہوئے۔ سنہ۱۴۸ھ میں انتقال کیا۔

ش :-
قاضی شریک بن عبداﷲ بن سنان بن انس نخعی کوفی
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے۔ میزان الاعتدال علامہ ذہبی میں بہ ذیل حالاتِ شریک مذکور ہے۔ عبداﷲ بن ادریس خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ شریک شیعہ ہیں۔ اسی میزان میں یہ بھی ہے کہ ابو داؤد درہاوی روایت کرتے ہیں کہ ہم نے شریک کو کہتے سنا کہ :
“ علی خير البشر فمن ابی فقد کفر”
“ علی(ع) تمام خلائق میں سب سے بہتر ہیں جس نے اس کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔”
مطلب یہ ہے کہ حضرت علی(ع) بعد رسول اﷲ(ص) سب سے بہتر ہیں۔ شریک منجملہ ان حضرات کے ہیں جنھوں نے امیرالمومنین(ع) کے نص خلافت کی حدیثیں روایت کی ہیں چنانچہ میزان الاعتدال میں ایک مرفوع حدیث ابوہریرہ سے ہے:۔
“لکل نبی وصی و وارث وان عليا وصيی و وارثی”
“ ارشاد فرمایا پیغمبر نے کہ ہر نبی کا وصی و وارث ہوا کرتا ہے اور علی میرے وصی و وارث ہیں۔”
یہ شریک حضرت علی کے فضائل و مناقب کی نشر و اشاعت میں بڑے مستعد و سرگرم اور آپ کے فضائل و مناقب بیان کر کے بنوامیہ کو خوب زچ کیا کرتے تھے۔
مورخ ابن خلکان نے اپنی کتاب وفیات الاعیان میں بسلسلہ حالاتِ شریک کتاب درة الغواص سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ:
“ ایک اموی شخص شریک کی صحبت میں اٹھا بیٹھا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ شریک نے حضرت علی کے فضائل بیان کیے۔ اس پر اموی نے کہا : “ نعم الرجل علی” اچھے شخص تھے علی ” اس پر شریک کو غصہ آگیا اور بگڑ کر کہنے لگے کہ کیا علی کے لیے بس یہی کہہ دینا کافی ہے؟ نعم الرجل” اچھے شخص تھے۔” اس سے زیادہ کچھ اور نہیں کہنے کو؟۔”
شریک کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد کسی کو بھی اس میں ذرہ برابر شک و شبہ نہیں رہے گا کہ یہ دوستدارانِ اہلبیت میں سے تھے اور علماء اہلبیت سے بکثرت حدیثیں انھوں نے روایت کی ہیں۔ عبداﷲ بن مبارک ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ سفیان سے زیادہ حدیث کے عالم ہیں اور دشمنانِ علی کے سخت ترین دشمن تھے اور انھیں بہت برا کہا کرتے۔ ایک مرتبہ عبدالسلام بن حزب نے شریک سے پوچھا کہ اپنے ایک بھائی کی عیادت کو چلتے ہو؟
پوچھا کون؟ عبدالسلام نے کہا مالک بن مغول۔ شریک نے کہا جو شخص علی و عمار کو عیب لگائے وہ میرا بھائی نہیں۔
ایک مرتبہ شریک کے سامنے معاویہ کا تذکرہ ہوا۔ لوگوں نے کہا معاویہ بڑے حلیم تھے۔ شریک نے کہا۔ جو شخص حق سے اعراض کرے اور علی سے جنگ کرے وہ حلیم ہرگز نہیں۔ انھیں شریک نے ہی یہ حدیث پیغمبر روایت کی ہے:
“ اذا رايتم معاويه علی منبر فاقتلوه۔”
“ جب تم میرے منبر پر معاویہ کو دیکھنا قتل کر ڈالنا”
مختصر یہ کہ ان کا شیعہ ہونا اظہر من الشمس ہے مگر باوجود اس کے علامہ ذہبی نے انھیں حافظ و صدوق اور یکے از ائمہ کہا ہے اور ابن معین کا ان کے متعلق لکھا ہے کہ یہ منجملہ خزینہ داران علم تھے۔ ان سے اسحاق ارزق نے نو ہزار حدیثیں حاصل کیں۔ امام مسلم اور دیگر ارباب صحاح نے بھی ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے اور اپنے صحاح نے بھی ان کی روایات کو لیا ہے ۔
منقول ۔

[ دوشنبه بیست و ششم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 11:8 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

اگر زمین گھوم رہی ہے تو جہاز پیچھے کیوں نہیں رہ جاتا؟ زمین کی حرکت کو بالکل عام مثالوں سے سمجھنے کی ایک کوشش
​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
​یہ تحریر خاص طور پر ان دوستوں کے لیے ہے جو کہتے ہیں کہ اگر زمین اتنی تیزی سے گھوم رہی ہے تو ہمیں محسوس کیوں نہیں ہوتا؟ یا جہاز زمین سے اوپر اٹھ جائے تو زمین اس کے نیچے سے کیوں نہیں نکل جاتی؟ اگر زمین سورج کے گرد ایک لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے جا رہی ہے تو ہم سب پیچھے کیوں نہیں رہ جاتے؟ یہ سوال بے وقوفانہ نہیں ہیں۔ جس شخص نے حرکت کے بنیادی اصول باقاعدہ نہیں پڑھے، اس کے ذہن میں یہ سوال آنا بالکل فطری ہے۔ اس لیے آج ہم مشکل اصطلاحات اور پیچیدہ مساوات سے بچ کر اسے روزمرہ زندگی کی مثالوں سے سمجھیں گے۔ بس ایک بات ذہن میں رکھیں کہ کسی بات کا فوری طور پر ہماری عقل میں نہ آنا، اس بات کے غلط ہونے کی دلیل نہیں ہوتا۔
​فرض کریں ایک بڑی آرام دہ بس 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بالکل ہموار سڑک پر چل رہی ہے۔ آپ بس میں بیٹھے ہیں اور آپ کے ہاتھ میں ایک سیب ہے۔ آپ سیب کو سیدھا اوپر اچھالتے ہیں۔ سیب ہوا میں گیا اور اس لمحے اس کا بس کے فرش سے رابطہ ختم ہو گیا۔ چونکہ بس 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے آگے بڑھ رہی ہے، تو کیا سیب بس کے پچھلے حصے میں جا کر گرے گا؟ نہیں۔ وہ تقریباً آپ کے ہاتھ میں واپس آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیب کو اوپر اچھالنے سے پہلے وہ پہلے ہی بس کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ جس لمحے آپ نے اسے اوپر اچھالا، اس نے اپنی وہ آگے والی حرکت اچانک کھو نہیں دی۔
​بس یہی ایک بات سمجھ آ گئی تو زمین اور جہاز والا آدھا مسئلہ یہیں ختم ہو گیا۔ اب بس کی جگہ زمین کو رکھ کر دیکھیں۔ ہم زمین پر کھڑے ہیں اور زمین اپنے محور پر گھوم رہی ہے۔ خطِ استوا کے قریب اس سطح کی رفتار تقریباً 1,670 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچتی ہے، اور یہی زمین سورج کے گرد تقریباً 107,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ یہ اعداد کوئی اندازے نہیں بلکہ فلکیاتی پیمائشوں سے معلوم کیے گئے ہیں۔ لیکن یہاں وہ بات یاد رکھیے جو بس میں سیکھی تھی۔ آپ زمین پر کھڑے ہیں تو صرف زمین نہیں چل رہی، بلکہ آپ بھی زمین کے ساتھ چل رہے ہیں۔ آپ کا مکان، آپ کی گاڑی، ایئرپورٹ اور رن وے سب چل رہے ہیں۔
​رن وے پر کھڑا جہاز بھی زمین کی اس حرکت میں پہلے سے شریک ہے۔ اور زمین کے گرد موجود فضا بھی مجموعی طور پر اسی زمین کے ساتھ حرکت کر رہی ہے، اگرچہ اس کے اندر ہوائیں مختلف سمتوں اور رفتاروں سے چلتی رہتی ہیں۔ زمین کی گردش واقعی فضائی حرکات پر قابلِ پیمائش اثرات ڈالتی ہے۔ یہاں اصل غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ بعض دوست سمجھتے ہیں کہ جیسے ہی جہاز کے پہیے زمین سے اٹھے، اس کا زمین کی حرکت سے سارا تعلق ختم ہو گیا۔ ایسا نہیں ہوتا۔ جہاز اڑنے سے ایک سیکنڈ پہلے زمین کے ساتھ حرکت کر رہا تھا۔ ایک سیکنڈ بعد فضا میں پہنچتے ہی اس کی وہ تمام حرکت غائب نہیں ہو جاتی، بالکل اسی طرح جیسے چلتی بس میں اچھالی ہوئی گیند بس کی آگے والی رفتار اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔
​آپ یہ بات خود ایک اور تجربے سے سمجھ سکتے ہیں۔ ایک ہموار رفتار سے چلتی ٹرین کے اندر چھلانگ لگائیے۔ آپ کا جسم چند لمحوں کے لیے فرش سے الگ ہو جائے گا۔ کیا ٹرین آپ کے نیچے سے نکل جائے گی اور آپ دس سیٹ پیچھے جا گریں گے؟ نہیں۔ آپ تقریباً اسی جگہ اتریں گے کیونکہ چھلانگ لگاتے وقت آپ بھی ٹرین کی رفتار میں شریک تھے۔ ایک بند گاڑی ہموار رفتار سے چل رہی ہو اور اس کے اندر ایک مکھی اڑ رہی ہو، تو کیا گاڑی 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے آگے نکل جاتی ہے اور مکھی فوراً پچھلے شیشے سے جا ٹکراتی ہے؟ نہیں۔ مکھی، گاڑی اور گاڑی کے اندر کی ہوا پہلے سے اسی مجموعی حرکت میں شریک ہیں۔ زمین کا معاملہ بہت بڑا ہے، مگر بنیادی تصور اسی قسم کا ہے۔
​پھر ہمیں زمین کی رفتار محسوس کیوں نہیں ہوتی؟ ہمیں عام طور پر ہموار رفتار اتنی محسوس نہیں ہوتی جتنی رفتار میں اچانک تبدیلی۔ آپ ایک بڑے مسافر جہاز میں بیٹھے ہوں اور جہاز ایک مستقل رفتار سے ہموار پرواز کر رہا ہو۔ اگر کھڑکی بند کر دی جائے تو کئی مرتبہ آپ صرف اپنے جسم سے یہ بھی اندازہ نہیں کر سکتے کہ جہاز 900 کلومیٹر فی گھنٹہ سے چل رہا ہے۔ مگر جہاز اچانک نیچے آئے، مڑے یا جھٹکا لگے تو فوراً محسوس ہوگا۔ اسی طرح گاڑی میں بھی 120 کی رفتار سے زیادہ، زور سے لگنے والی بریک محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مجھے زمین کی حرکت محسوس نہیں ہوتی اس لیے زمین حرکت نہیں کرتی، ایسا ہی ہے جیسے جہاز کا مسافر کہے کہ مجھے رفتار محسوس نہیں ہو رہی، لہٰذا جہاز رکا ہوا ہے۔
​اگر زمین اتنی تیز گھوم رہی ہے تو ہم اڑ کیوں نہیں جاتے؟ کیونکہ زمین ہمیں اپنی کششِ ثقل (Gravity) سے اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور ہم اسی کشش کی وجہ سے زمین پر قائم ہیں۔ زمین کی گردش کا ایک معمولی اثر ضرور موجود ہے، مگر وہ اتنا نہیں کہ زمین کی کشش پر غالب آ کر انسانوں، سمندروں اور عمارتوں کو خلا میں پھینک دے۔ ہواؤں، سمندری دھاروں، راکٹوں اور طویل فاصلے کی حرکات میں زمین کی گردش کے اثرات واقعی سامنے آتے ہیں اور انہیں باقاعدہ ناپا جاتا ہے۔ جہاز مشرق کی طرف جائے تو زمین بھی گھوم رہی ہے، لیکن جہاز جس ہوائی فضا میں اڑ رہا ہے وہ کوئی ایسی ساکن چادر نہیں جس کے نیچے زمین اکیلی گھومتی چلی جا رہی ہو۔ فضا بھی زمین سے جڑی ہوئی ہے اور مجموعی طور پر زمین کی گردش میں شریک ہے۔
​کچھ دوست کہتے ہیں کہ یہ بات میری عقل میں نہیں آتی۔ یہ کہنا بالکل جائز ہے کیونکہ ہر چیز ہر انسان کی عقل میں پہلی دفعہ نہیں آتی۔ لیکن اگلا جملہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ لہٰذا یہ غلط ہے۔ فرض کیجیے ڈاکٹر آپ کے سامنے دل کی ای سی جی (ECG) رکھ کر کہتا ہے کہ یہاں ایک مسئلہ ہے۔ آپ کو وہ کاغذ صرف ٹیڑھی میڑھی لکیروں کا مجموعہ دکھائی دیتا ہے۔ کیا آپ کہیں گے کہ مجھے ان لکیروں میں بیماری نظر نہیں آ رہی، لہٰذا ڈاکٹر جھوٹ بول رہا ہے؟ نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر نے برسوں وہ علم پڑھا ہے جو آپ نے نہیں پڑھا۔ شک ہو تو آپ دوسرے ڈاکٹر سے رائے لیں گے، مگر صرف اپنی ناسمجھی کی بنیاد پر اسے جھوٹا نہیں کہیں گے۔
​یہی اصول فلکیات پر بھی لگائیے۔ اگر آپ کو ناسا پسند نہیں، تو جاپان، چین، روس، یورپ اور بھارت کے ماہرین کو دیکھ لیجیے۔ دنیا کے مختلف ممالک اور بعض اوقات ایک دوسرے کے حریف ممالک، زمین کی بنیادی حرکت اور خلائی پرواز کے حسابات میں ایک ہی طبیعی قوانین استعمال کرتے ہیں۔ خلا میں صرف انگریز نہیں گئے، مسلمان بھی جا چکے ہیں۔ ہمارے اپنے خطے کی ایک خوبصورت مثال سعودی عرب کی ریانہ برناوی ہیں، جو 2023 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر گئیں اور خلا میں جانے والی پہلی سعودی خاتون بنیں۔ ان کے ساتھ سعودی خلاباز علی القرنی بھی شامل تھے۔ آپ کے اپنے خطے کے لوگ وہاں جا رہے ہیں، زمین کو اوپر سے دیکھ رہے ہیں، تجربات کر رہے ہیں اور واپس آ رہے ہیں۔
​اب اگر کوئی کہے کہ یہ سب جھوٹ ہے، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنے ممالک، سائنس دان، انجینئر اور خلاباز جھوٹ بول رہے ہیں؟ اور یہ سب ایک دوسرے کے حریف ہو کر ایک ہی جھوٹ پر کیسے متفق ہو گئے؟ مجھے سمجھ نہیں آیا، ایک بہترین جملہ ہے جس سے شرمانا نہیں چاہیے۔ آپ کو موبائل فون کے اندر اربوں مائیکروسکوپک آپریشنز یا جی پی ایس (GPS) کی مکمل ریاضی معلوم نہیں ہوتی، مگر آپ انہیں روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کے لیے آپ کی ذاتی سمجھ کائنات کا معیار نہیں بن جاتی۔ اگر بات سمجھ آ گئی تو بہت اچھا، نہیں آئی تو سوال کریں، پڑھیں، مگر عاجزی کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
​حاصلِ کلام
​ہم ایک ایسی زمین پر رہ رہے ہیں جو مسلسل حرکت میں ہے، اور ہم خود بھی فضا سمیت اسی نظام کی مجموعی حرکت میں شریک ہیں۔ چلتی ہوئی زمین سے جہاز کے اٹھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جہاز زمین کی پہلے سے حاصل شدہ حرکت کھو بیٹھا، بالکل اسی طرح جیسے چلتی ٹرین میں اچھالی ہوئی گیند پیچھے نہیں رہ جاتی۔ زمین کا گھومنا پہلی نظر میں عجیب ضرور لگ سکتا ہے، مگر کسی چیز کا عجیب لگنا اور اس کا سائنسی طور پر غلط ہونا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔ علم کا پہلا دروازہ یہی ہے کہ انسان میں اتنی ہمت ہو کہ وہ کہہ سکے: "یہ بات ابھی میری سمجھ میں نہیں آئی، آئیے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔"
​حوالہ جات:
​فزکس کے بنیادی اصول — قانونِ جمود (Law of Inertia) اور اضافی حرکت (Relative Motion)۔
​ناسا (NASA) — زمین کی گردش اور فضائی حرکات (Coriolis Effect) پر تحقیقاتی رپورٹ۔
​سعودی خلائی ایجنسی (Saudi Space Agency) — ریانہ برناوی اور علی القرنی کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کا مشن 2023۔
​#زمین_کی_گردش #سائنس #فلکیات #قانون_جمود #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں


ادامه مطلب
[ یکشنبه بیست و پنجم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 5:7 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

*چالیس احادیث از امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام*

۱۔ عقل اور ادب

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

لَا أَدَبَ لِمَنْ لَا عَقْلَ لَهُ۔

ترجمہ:

جس شخص میں عقل نہیں، اس میں ادب بھی نہیں۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۱، ح ۶۔

________________________________________

۲۔ بخل کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بخل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا:

أَنْ تَرَى مَا فِي يَدَيْكَ شَرَفًا، وَمَا أَنْفَقْتَ تَلَفًا۔

ترجمہ:

بخل یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود مال کو باعثِ عزت سمجھے اور جو کچھ خرچ کرے اسے ضائع شدہ تصور کرے۔

ماخذ: وسائل الشیعة، ج ۱۶، ص ۵۳۹، ح ۱۔

________________________________________

۳۔ بزدلی کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بزدلی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

الجُرْأَةُ عَلَى الصَّدِيقِ، وَالنُّكُولُ عَنِ العَدُوِّ۔

ترجمہ:

بزدلی یہ ہے کہ آدمی دوست کے مقابلے میں بے جا دلیری دکھائے اور دشمن کے مقابلے سے پسپا ہو جائے۔

________________________________________

۴۔ جہالت کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے جہالت کی حقیقت دریافت کی گئی تو فرمایا:

سُرْعَةُ الوُثُوبِ عَلَى الفُرْصَةِ قَبْلَ الاسْتِمْكَانِ مِنْهَا، وَالامْتِنَاعُ عَنِ الجَوَابِ۔

ترجمہ:

جہالت یہ ہے کہ انسان کسی موقع کو پوری طرح اپنے اختیار میں آنے سے پہلے ہی اس پر جھپٹ پڑے اور جہاں جواب دینا چاہیے وہاں جواب دینے سے گریز کرے۔

ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔

________________________________________

۵۔ حلم کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے حلم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

كَظْمُ الغَيْظِ وَمِلْكُ النَّفْسِ۔

ترجمہ:

حلم یہ ہے کہ انسان اپنے غصے کو پی جائے اور اپنے نفس پر قابو رکھے۔

________________________________________

۶۔ اللہ کی بندگی کا ثمر

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ عَبَدَ اللّهَ عَبَّدَ اللّهُ لَهُ كُلَّ شَيْءٍ۔

ترجمہ:

جو شخص اللہ کی بندگی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے ہر چیز کو مسخر کر دیتا ہے۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۸۔

________________________________________

۷۔ دعا اور اجابت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَا فَتَحَ اللّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أَحَدٍ بَابَ مَسْأَلَةٍ فَخَزَنَ عَنْهُ بَابَ الإِجَابَةِ۔

ترجمہ:

اللہ عزوجل جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھولتا ہے، اس کے لیے قبولیت کا دروازہ بند نہیں کرتا۔

________________________________________

۸۔ دعا کی قبولیت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

أَنَا الضَّامِنُ لِمَنْ لَمْ يَهْجُسْ فِي قَلْبِهِ إِلَّا الرِّضَا أَنْ يَدْعُوَ اللّهَ فَيُسْتَجَابَ لَهُ۔

ترجمہ:

میں اس شخص کے لیے ضمانت دیتا ہوں جس کے دل میں اللہ کی رضا کے سوا کوئی اور خواہش نہ ہو کہ وہ اللہ سے دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۵، ص ۳۵۱، ح ۴۳۔

________________________________________

۹۔ قرآن اور قبولیتِ دعا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ قَرَأَ القُرْآنَ كَانَتْ لَهُ دَعْوَةٌ مُجَابَةٌ، إِمَّا مُعَجَّلَةً وَإِمَّا مُؤَجَّلَةً۔

ترجمہ:

جو شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کے لیے ایک مستجاب دعا ہوتی ہے؛ خواہ اس کی قبولیت جلد ظاہر ہو یا مؤخر ہو کر۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۳، ص ۳۱۳، ح ۱۷۔

________________________________________

۱۰۔ اللہ کے انتخاب پر رضا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ اتَّكَلَ عَلَى حُسْنِ الاخْتِيَارِ مِنَ اللّهِ، لَمْ يَتَمَنَّ أَنَّهُ فِي غَيْرِ الحَالِ الَّتِي اخْتَارَهَا اللّهُ لَهُ۔

ترجمہ:

جو شخص اللہ کے حسنِ انتخاب پر بھروسا رکھتا ہے، وہ اس حالت کے علاوہ کسی دوسری حالت کی تمنا نہیں کرتا جسے اللہ نے اس کے لیے منتخب کیا ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۶، ح ۶۔

________________________________________

۱۱۔ تقدیرِ الٰہی پر رضا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

كَيْفَ يَكُونُ المُؤْمِنُ مُؤْمِنًا وَهُوَ يَسْخَطُ قِسْمَتَهُ، وَيُحَقِّرُ مَنْزِلَتَهُ، وَالحَاكِمُ عَلَيْهِ اللّهُ؟

ترجمہ:

مؤمن حقیقی مؤمن کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ وہ اپنی قسمت پر ناراض اور اپنی حالت کو حقیر سمجھتا ہو، حالانکہ اس پر حکم چلانے والا اللہ ہے؟

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۴۳، ص ۳۵۱، ح ۲۵۔

________________________________________

۱۲۔ زکوٰۃ اور مال

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَا نَقَصَتْ زَكَاةٌ مِنْ مَالٍ قَطُّ۔

ترجمہ:

زکوٰۃ نے کبھی کسی مال کو کم نہیں کیا۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۶، ص ۲۳، ح ۵۶۔

________________________________________

۱۳۔ بیٹی کے لیے شوہر کا انتخاب

ایک شخص نے اپنی بیٹی کے نکاح کے بارے میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے مشورہ کیا تو آپؑ نے فرمایا:

زَوِّجْهَا مِنْ رَجُلٍ تَقِيٍّ، فَإِنَّهُ إِنْ أَحَبَّهَا أَكْرَمَهَا، وَإِنْ أَبْغَضَهَا لَمْ يَظْلِمْهَا۔

ترجمہ:

اپنی بیٹی کا نکاح کسی متقی شخص سے کرو؛ کیونکہ اگر وہ اسے پسند کرے گا تو عزت و اکرام سے رکھے گا، اور اگر اسے ناپسند بھی کرے گا تو اس پر ظلم نہیں کرے گا۔

ماخذ: مكارم الأخلاق، ج ۱، ص ۴۴۶، ح ۱۵۳۴۔

________________________________________

۱۴۔ سوال کرنے کی ضرورت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

إِنَّ المَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: دَمٍ مُفْجِعٍ، أَوْ دَيْنٍ مُقْرِحٍ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ۔

ترجمہ:

کسی سے مالی مدد طلب کرنا صرف تین صورتوں میں جائز ہے:

۱۔ خون بہا کی ادائیگی کی ضرورت ہو؛

۲۔ ایسا سخت قرض ہو جس نے انسان کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہو؛

۳۔ انتہائی فقر و فاقہ لاحق ہو۔

________________________________________

۱۵۔ سوال سے پہلے عطا کرنا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

الإِعْطَاءُ قَبْلَ السُّؤَالِ مِنْ أَكْبَرِ السُّؤْدُدِ۔

ترجمہ:

کسی کے سوال کرنے سے پہلے اسے عطا کرنا اعلیٰ درجے کی بزرگی ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔

________________________________________

۱۶۔ شجاعت کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے شجاعت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

مُوَاقَفَةُ الأَقْرَانِ، وَالصَّبْرُ عِنْدَ الطِّعَانِ۔

ترجمہ:

شجاعت یہ ہے کہ ہم پلہ حریف کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے اور معرکے میں ضربیں سہتے ہوئے ثابت قدم رہا جائے۔

ماخذ: تحف العقول، ص ۲۲۶۔

________________________________________

۱۷۔ تشیع کا حقیقی مفہوم

ایک شخص نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے کہا: "میں آپ کے شیعوں میں سے ہوں۔" آپؑ نے فرمایا:

يَا عَبْدَ اللّهِ، إِنْ كُنْتَ لَنَا فِي أَوَامِرِنَا وَزَوَاجِرِنَا مُطِيعًا، فَقَدْ صَدَقْتَ...

ترجمہ:

اے بندۂ خدا! اگر تم ہمارے اوامر کی پیروی اور ہماری نواہی سے اجتناب کرتے ہو تو تمہارا یہ دعویٰ درست ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرتے تو اپنے گناہوں میں یہ ایک اور گناہ شامل نہ کرو کہ ایسی عظیم منزلت کا دعویٰ کرو جس کے اہل نہیں ہو۔

یہ کہنے کے بجائے کہ "میں تمہارے شیعوں میں سے ہوں"، یوں کہو: "میں تم سے محبت کرنے والوں میں سے ہوں، تمہارے دوستوں سے محبت کرتا ہوں اور تمہارے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ہوں۔" ایسی صورت میں تم خیر پر ہو اور خیر ہی کی طرف گامزن ہو۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۶۔

________________________________________

۱۸۔ خاموشی کا وقار

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

قَدْ أَكْثَرَ مِنَ الهَيْبَةِ الصَّامِتُ۔

ترجمہ:

خاموش رہنے والا شخص زیادہ باوقار ہوتا ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔

________________________________________

۱۹۔ خاموشی کی افادیت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

نِعْمَ العَوْنُ الصَّمْتُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ كُنْتَ فَصِيحًا۔

ترجمہ:

بہت سے مواقع پر خاموشی بہترین مددگار ثابت ہوتی ہے، خواہ تم کتنے ہی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہو۔

ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔

________________________________________

۲۰۔ مصیبت اور اجر

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

المَصَائِبُ مَفَاتِيحُ الأَجْرِ۔

ترجمہ:

مصیبتیں اجر کے دروازے کھولنے والی چابیاں ہیں۔

________________________________________

۲۱۔ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

صَاحِبِ النَّاسَ مِثْلَ مَا تُحِبُّ أَنْ يُصَاحِبُوكَ بِهِ۔

ترجمہ:

لوگوں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں۔

ماخذ: أعلام الدين، ص ۲۹۷۔

________________________________________

۲۲۔ عقل اور دونوں جہان

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

بِالعَقْلِ تُدْرَكُ الدَّارَانِ جَمِيعًا، وَمَنْ حُرِمَ مِنَ العَقْلِ حُرِمَهُمَا جَمِيعًا۔

ترجمہ:

عقل کے ذریعے دنیا و آخرت، دونوں جہان حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور جو عقل سے محروم رہا وہ دونوں جہانوں کی خیر سے محروم رہا۔

ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔

________________________________________

۲۳۔ عقل اور صبر

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

التَّجَرُّعُ لِلغُصَّةِ حَتَّى تَنَالَ الفُرْصَةَ۔

ترجمہ:

عقل یہ ہے کہ انسان تلخیوں کو برداشت کرتا رہے، یہاں تک کہ مناسب موقع حاصل ہو جائے۔

ماخذ: معاني الأخبار، ص ۲۴۰، ح ۱۔

________________________________________

۲۴۔ عقل اور امانتِ قلب

امام علی علیہ السلام نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا تو آپؑ نے فرمایا:

حِفْظُ قَلْبِكَ مَا اسْتَوْدَعْتَهُ۔

ترجمہ:

عقل یہ ہے کہ تمہارا دل ان چیزوں کی حفاظت کرے جو تم نے اس کے سپرد کی ہیں۔

ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔

________________________________________

۲۵۔ عادات کا غلبہ

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

العَادَاتُ قَاهِرَاتٌ، فَمَنِ اعْتَادَ شَيْئًا فِي سِرِّهِ وَخَلَوَاتِهِ، فَضَحَهُ فِي عَلَانِيَتِهِ وَعِنْدَ المَلَإِ۔

ترجمہ:

عادتیں انسان پر غالب آ جاتی ہیں۔ جو شخص خلوت اور تنہائی میں کسی کام کا عادی ہو جائے، وہی عادت بالآخر اسے لوگوں کے سامنے رسوا کر دیتی ہے۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۱۳۔

________________________________________

۲۶۔ غفلت کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

الغَفْلَةُ تَرْكُكَ المَسْجِدَ، وَطَاعَتُكَ المُفْسِدَ۔

ترجمہ:

غفلت یہ ہے کہ تم مسجد کو چھوڑ دو اور کسی مفسد و بدکردار شخص کی اطاعت اختیار کر لو۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۰۔

________________________________________

۲۷۔ فرائض کا فلسفہ

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

إِنَّ اللّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِمَنِّهِ وَرَحْمَتِهِ لَمَّا فَرَضَ عَلَيْكُمُ الفَرَائِضَ لَمْ يَفْرِضْهَا عَلَيْكُمْ لِحَاجَةٍ مِنْهُ إِلَيْكُمْ، بَلْ رَحْمَةً مِنْهُ عَلَيْكُمْ... لِيُمَيِّزَ الخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ، وَلِيَبْتَلِيَ مَا فِي صُدُورِكُمْ، وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ۔

ترجمہ:

اللہ عزوجل نے اپنے فضل و رحمت سے جب تم پر فرائض عائد کیے تو انہیں اس لیے فرض نہیں کیا کہ اسے تمہاری ضرورت تھی، بلکہ یہ تم پر اس کی رحمت ہے؛ تاکہ پاکیزہ کو ناپاک سے جدا کرے، تمہارے سینوں کے اندر موجود چیزوں کو آزمائے اور تمہارے دلوں کو پاک و خالص کرے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۳، ص ۹۹، ح ۳۔

________________________________________

۲۸۔ تفکر اور بصیرت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

التَّفَكُّرُ حَيَاةُ قَلْبِ البَصِيرِ۔

ترجمہ:

غور و فکر صاحبِ بصیرت کے دل کی زندگی ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۱۔

________________________________________

۲۹۔ تفکر؛ خیر کی بنیاد

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللّهِ وَإِدَامَةِ التَّفَكُّرِ؛ فَإِنَّ التَّفَكُّرَ أَبُو كُلِّ خَيْرٍ وَأُمُّهُ۔

ترجمہ:

میں تمہیں تقوائے الٰہی اور مسلسل غور و فکر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ تفکر ہر خیر کا باپ بھی ہے اور ماں بھی۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۱، ص ۵۲۔

________________________________________

۳۰۔ قناعت اور رضا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

اعْلَمْ أَنَّ مُرُوَّةَ القَنَاعَةِ وَالرِّضَا أَكْثَرُ مِنْ مُرُوَّةِ الإِعْطَاءِ۔

ترجمہ:

جان لو کہ قناعت اور رضا کی مروّت، عطا و بخشش کی مروّت سے بھی برتر ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۱، ح ۶۔

________________________________________

۳۱۔ معرفتِ الٰہی اور تواضع

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

لَا يَنْبَغِي لِمَنْ عَرَفَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَعَاظَمَ، فَإِنَّ رِفْعَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَوَاضَعُوا، وَعِزَّ الَّذِينَ يَعْرِفُونَ مَا جَلَالُ اللّهِ أَنْ يَتَذَلَّلُوا لَهُ۔

ترجمہ:

جو شخص اللہ کی عظمت کو پہچان لے، اسے زیب نہیں دیتا کہ وہ خود کو بڑا سمجھے۔ جو لوگ اللہ کی عظمت سے آشنا ہوتے ہیں، ان کی رفعت تواضع میں ہے، اور جو اس کے جلال کو پہچانتے ہیں، ان کی عزت اللہ کے سامنے فروتنی اختیار کرنے میں ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۴، ح ۳۔

________________________________________

۳۲۔ کھانے کے آداب

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

فِي المَائِدَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ خَصْلَةً يَجِبُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَعْرِفَهَا: أَرْبَعٌ مِنْهَا فَرْضٌ، وَأَرْبَعٌ سُنَّةٌ، وَأَرْبَعٌ تَأْدِيبٌ...

ترجمہ:

دسترخوان کے بارہ آداب ہیں جنہیں ہر مسلمان کو جاننا چاہیے: ان میں سے چار فرض، چار سنت اور چار آداب ہیں۔

فرض: معرفت، رضا، تسمیہ اور شکر۔

سنت: کھانے سے پہلے وضو کرنا، بائیں جانب بیٹھنا، تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا۔

آداب: اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا رکھنا، اچھی طرح چبانا اور کھاتے وقت دوسروں کے چہروں کو کم دیکھنا۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۳، ص ۳۰۵، ح ۲۳۔

________________________________________

۳۳۔ علم سیکھنا اور سکھانا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

عَلِّمِ النَّاسَ وَتَعَلَّمْ عِلْمَ غَيْرِكَ، فَتَكُونَ قَدْ أَتْقَنْتَ عِلْمَكَ وَعَلِمْتَ مَا لَمْ تَعْلَمْ۔

ترجمہ:

لوگوں کو علم سکھاؤ اور دوسروں کا علم بھی سیکھو؛ اس طرح تم اپنے علم کو پختہ کرو گے اور وہ کچھ جان لو گے جس سے پہلے ناواقف تھے۔

ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔

________________________________________

۳۴۔ غصہ اور درست رائے

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

لَا يَعْزِبُ الرَّأْيُ إِلَّا عِنْدَ الغَضَبِ۔

ترجمہ:

غصے کے وقت درست رائے انسان سے دور ہو جاتی ہے۔

ماخذ: نزهة الناظر، ص ۷۲، ح ۱۴۔

________________________________________

۳۵۔ علم اور ذمہ داری

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

قَطَعَ العِلْمُ عُذْرَ المُتَعَلِّمِينَ۔

ترجمہ:

علم نے علم حاصل کرنے والوں کے تمام عذر ختم کر دیے ہیں۔

ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۶۔

________________________________________

۳۶۔ آخرت کی تیاری

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَمْ تَزَلْ فِي هَدْمِ عُمُرِكَ مُنْذُ سَقَطْتَ مِنْ بَطْنِ أُمِّكَ، فَخُذْ مِمَّا فِي يَدَيْكَ لِمَا بَيْنَ يَدَيْكَ؛ فَإِنَّ المُؤْمِنَ يَتَزَوَّدُ، وَالكَافِرَ يَتَمَتَّعُ۔

ترجمہ:

اے ابنِ آدم! جب سے تو اپنی ماں کے بطن سے دنیا میں آیا ہے، اسی وقت سے تیری عمر کم ہوتی جا رہی ہے۔ لہٰذا جو کچھ تیرے پاس ہے، اسے اس منزل کے لیے استعمال کر جو تیرے سامنے ہے؛ کیونکہ مؤمن زادِ راہ تیار کرتا ہے، جبکہ کافر محض دنیاوی لذتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۲، ح ۶۔

________________________________________

۳۷۔ دل کی سلامتی

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

أَسْلَمُ القُلُوبِ مَا طَهُرَ مِنَ الشُّبُهَاتِ۔

ترجمہ:

سب سے زیادہ سلامت دل وہ ہے جو شکوک و شبہات سے پاک ہو۔

ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۵۔

________________________________________

۳۸۔ سخاوت کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

الابْتِدَاءُ بِالعَطِيَّةِ قَبْلَ المَسْأَلَةِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ فِي المَحْلِ۔

ترجمہ:

سخاوت یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے عطا کیا جائے اور قحط و تنگ دستی کے زمانے میں لوگوں کو کھانا کھلایا جائے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۲، ح ۲۔

________________________________________

۳۹۔ احسان جتانا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ عَدَّدَ نِعَمَهُ مَحَقَ كَرَمَهُ۔

ترجمہ:

جو شخص اپنی عطاؤں اور احسانات کو شمار کراتا رہے، وہ اپنی سخاوت کی قدر و قیمت مٹا دیتا ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔

________________________________________

۴۰۔ دنیا کی رغبت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

الرَّاغِبُ فِيهَا عَبْدٌ لِمَنْ يَمْلِكُهَا۔

ترجمہ:

جو شخص دنیا کا حریص ہو، وہ اس شخص کا غلام بن جاتا ہے جو دنیا کا مالک ہے۔

ماخذ: كنز العمّال، ج ۱۶، ص ۲۱۴، ح ۴۴۲۳۶۔

________________________________________

ترجمه و ترتیب و پیشکش: فرقان اکیڈمی 💫

التماس دعا: ڈاکٹر محمد فرقان گوہر

[ چهارشنبه بیست و یکم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 18:26 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

🔴 نبی پاک کی شہادت ہوئی یا وفات؟ 🔴

🖋 تحقیق: ابومہدی فرمان علی معصومی

اہل سنت حضرات کا نظریہ ہے کہ نبی پاک کی شہادت نہیں ہوئی بلکہ وفات ہوئی تھی جبکہ اہل تشیع اس نظریہ پر ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔

ہم آ پ کے سامنے چند شواہد پیش کرتے ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔

1ـ نبی پاک کو زہر دے کر شہید کیا گیا:

الف:خیبر کے موقع پر زینب بنت الحارث کے ہاتھوں زہر دیا گیا:
اہل سنت کے معتبر عالم بدر الدین عینی نے اپنی کتاب عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں:

📚 عمده القاري شرح صحيح البخاري
كتاب الطب

📜 55 - (بابُ مَا يُذْكَرُ فِي سَمِّ النبيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم)
وأوضح ذَلِك مَا تقدم فِي الْهِبَة من حَدِيث أنس أَن يَهُودِيَّة أَتَت النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، بِشَاة مَسْمُومَة فَأكل مِنْهَا الحَدِيث، فَعلم من ذَلِك أَن الَّتِي أَهْدَت هِيَ امْرَأَة يَهُودِيَّة وَلَكِن لَيْسَ فِيهِ بَيَان اسْمهَا، وَقد تقدم فِي الْمَغَازِي أَنَّهَا زَيْنَب بنت الْحَارِث امْرَأَة سَلام بن مشْكم، فَعلم مِنْهُ أَن اسْمهَا زَيْنَب.

📃 سب سے واضح بات وہ ہے جو انس بن مالک کی حدیث میں گذر چکا کہ ایک یہودی عورت نبی پاک کے پاس بکری کا زہر آلود لے آئی اور نبی پاک نے اس سے کچھ کھالیا تو یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ جس عورت نے ھدیہ دیا تھا وہ ایک یہودی عورت تھی لیکن اس میں اس کا نام نہیں بتایا گیا ہے جبکہ کتاب المغازی میں گذر چکا کہ وہ سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث تھی، یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا نام زینب ہے۔

ب ـ نبی پاک نے خود زہر کا ذکر فرمایا:

نبی پاک نے مرض الموت کے وقت واضح طور پہ فرمایا کہ میری تکلیف اسی زہر کی وجہ سے بڑھ رہی ہے جو خیبر کے موقع پر دیا گیا!

ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں:

📚 صحيح البخاري (جلد6/صفحه 9)
64 - كِتَابُ المَغَازِي
بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ

📜 4428 - وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ»
نبی پاک اپنے مرض الموت میں فرماتے رہے : اے عائشہ! جو کھانا میں نے خیبر کے موقع پر کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے پھر یہ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اسی زہر کی وجہ سے میری شہ رگ کٹ رہی ہے۔

یعنی مرض الموت کے وقت موت کا سبب یہی زہر تھا جو خیبر کے وقت زینب بن الحارث نے دیا تھا۔

2ـ بزرگان اہل سنت کی اس بات پر تاکید کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی ہے:

الف: عبداللہ بن مسعود:

📚 المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 60)

📜 4394 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لِأَنْ أَحْلِفُ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً إِنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

✅ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4394 - على شرط البخاري ومسلم

📃 عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: میں نو مرتبہ قسم کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید کیا گیا ہے لیکن ایک بار بھی یہ قسم نہیں کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید نہیں کیا گیا ہے اور یہی سبب ہے کہ اللہ پاک نے محمد مصطفی ص کو نبی بھی منتخب کیا اور شہید بھی منتخب کیا۔

یہ حدیث بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے ۔

علامہ ذہبی حاشیہ میں لکھتے ہیں یہ روایت بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے۔

بـ عامر الشعبی:

📚 المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 61)

📜 4395 - فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ غَيْرَ مَرَّةٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: «وَاللَّهِ لَقَدْ سُمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُمَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَقُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ صَبْرًا، وَقُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ صَبْرًا، وَقُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَبْرًا، وَسُمَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ صَبْرًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَمَا نَرْجُو بَعْدَهُمْ»

📃 شعبی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! نبی پاک کو زہر دیا گیا ہے اور ابوبکر کو زہر دیا گیا ہے اور عمر کو قتل کیا گیا کہ وہ صبر کی حالت میں تھا اور عثمان کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور علی بن ابی طالب کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور امام حسن بن علی کو زہر دیا گیا اور حسین بن علی کو صبر کی حالت میں قتل کیا گیا (رضی اللہ عنھم)اس کے بعد ہم (دنیا سے) کیا امید رکھیں؟!

3ـ علماء اہل سنت کی تصریح:

علماء اہل سنت نے واضح طور پہ لکھا ہے کہ نبی پاک کی شہادت ہوئی ہے۔

الفـ علی بن عبد الکافی السبکی

📚 شفاء السقام في زيارة خير الأنام صلى الله عليه وآله وسلم
جلد 2 صفحه 14

📜 الثالث: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم شهيد، فإنه صلى الله عليه وآله وسلم لما سم بخيبر، وأكل من الشاة المسمومة، وكان ذلك سما قاتلا من ساعته، مات منه بشر بن البراء رضي الله عنه، وبقي النبي صلى الله عليه وآله وسلم وذلك معجزة في حقه، صار ألم السم يتعاهده إلى أن مات به صلى الله عليه وآله وسلم [وقال] في مرضه الذي مات فيه: (ما زالت أكلة خيبر تعاودني حتى كان الآن أوان قطعت أبهري). قال العلماء: فجمع الله له بذلك بين النبوة والشهادة. وتكون الحياة الثابتة للشهداء لا تختص بمن قتل في المعركة، فإنا إنما اشترطنا ذلك في الأحكام الدنيوية، كالغسل، والصلاة، أما الآخرة فلا، وهذا لا شك فيه بالنسبة إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم.

📃 علامہ سبکی لکھتے ہیں: بے شک نبی پاک ص شہید ہیں کیونکہ نبی پاک کو خیبر کے موقع پہ ذہر دیا گیا تھا اور زہر آلود بکری کا گوشت کھایا یہ وہ زہر تھا جو ایک لحظہ میں مار دیتا ہے جس سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی اور نبی پاک بچ گئے کہ یہ در حقیقت نبی پاک کے حق میں ایک معجزہ ہے، موت کے وقت تک یہ زہر کا درد نبی پاک کو ہوتا رہتا تھا کہ نبی پاک نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے)۔ علماء نے کہا ہے: نبی پاک کے لیے اللہ تعالی نے نبوت اور شھادت دونوں کو جمع کردیا۔ شہداء کی جو زندگی اور حیاتی ہے وہ ایسے شہیدوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جو جنگ کے میدان میں شہید ہوتے ہیں البتہ اتنا ہے کہ ہمارے ہاں میدان شہید ہونے والوں کے دنیاوی احکام الگ ہیں جیساکہ غسل اور نماز لیکن آخرت میں الگ نہیں ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نبی پاک بھی شہید ہیں (چہ جائیکہ ان کے لیے جنگی شہید والے احکام نہیں ہیں)۔

ب ـ ابن بطال:

📚 شرح صحيح البخارى لابن بطال (جلد 5/صفحه 347)
كتاب الجزية

📜 7 - باب: إِذَا غَدَرَ المشْرِكُون بِالْمُسْلِمِينَ هَلْ يُعْفَى عَنْهُم؟
قال لعائشة: (ما زالت أكلة خيبر تعادنى فهذا أوان قطع أبهري) لكنه عفا عنهم حين لم يعلم أنه يقضى عليه؛ لأن الله تعالى دفع عنه ضر السم بعد أن أطلعه على المكيدة فيه بآية معجزة أظهرها له من كلام الذراع، ثم عصمه الله من ضره مدة حياته، حتى إذا دنا أجله بغى عليه السم، فوجد ألمه وأراد الله له الشهادة بتلك الأكلة؛ فلذلك لم يعاقبهم

📃 ابن بطال لکھتے ہیں: نبی پاک نے ام المومنین عائشہ کو بتایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے) لیکن نبی پاک نے انہیں (یہودیوں کو) معاف کردیا اور معلوم نہ ہونے تک ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالی نے زہر کے نقصان کو دور کردیا پھر نبی پاک کو اللہ تعلای نے معجزانہ طور پر اس کید و فریب سے آگاہ فرمایا کہ بکری کی بھونی ہوئی ٹانگ سے آواز ائی کہ وہ زہر الود ہے پھر اللہ تعالی نے زہر کے نقصان سے تا حیات نبی پاک کو بچایا یہاں تک کہ موت کا وقت آن پہنچا تو زہر نے شدت اختیار کرلی اور اس کا درد محسوس کرنے لگے اور اللہ تعالی نے نبی پاک کے لیے اسی کھانے کے بدلے شہادت نصیب فرمائی جس کی وجہ سے ان یہودیوں کو سزا اور عقاب نہیں کیا۔

ج_ عبدالعزیز بن باز

📚 فتح الباري، المؤلف : أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى : 852هـ)، المحقق : عبد العزيز بن عبد الله بن باز ومحب الدين الخطيب
جلد 8 صفحہ 131

📜 وروى ابن سعد عن شيخه الواقدي بأسانيد متعددة في قصة الشاة التي سمت له بخيبر، فقال في آخر ذلك: "وعاش بعد ذلك ثلاث سنين حتى كان وجعه الذي قبض فيه. وجعل يقول: ما زلت أحد ألم الأكلة التي أكلتها بخيبر عدادا حتى كان هذا أوان انقطاع أبهري" عرق في الظهر وتوفي شهيدا انتهى

📃 بن باز فتح الباری کے تحقیقی نسخہ میں لکھتے ہیں:
محمد بن سعد نے اپنے استاد واقدی سے زہر آلود بکری کے قصہ میں کئی اسناد سے نقل کیا ہے اور اس کے آخر میں کہا ہے: نبی پاک اس کے بعد تین سال زندہ رہے یہاں تک کہ زہر کا درد ہوا جس سے ان کی روح قبض ہوئی اور فرماتے رہے: میں نے خیبر کے موقع پہ جو زہر آلود لقمہ کھایا تھا اس کا درد کئی بار ہوا مگر اس بار جو درد ہورہا ہے وہ شہ رگ کو کاٹ رہا ہے! اور یوں نبی پاک نے بطور شہادت وفات پائی😪

تعلیماتِ اہلبیتؑ

[ چهارشنبه بیست و یکم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 13:41 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

محمدی دین اور کوفی دین

پہلی بات: حضور ﷺ پر دین مکمل ہوا اور اس دین کو صحابہ کرام نے تابعین اور تابعین نے تبع تابعین تک پہنچایا۔ صحابہ کرام کو نبوت کی روشنی سے اسلام میں داخل کرنے والے ہمارے نبی ہیں اور صحابہ کرام نبی اکرم ﷺ کی احادیث کے راوی ہیں۔

دوسری بات؛ مجوسی اہلتشیع جماعت نبوت کی تعلیم رکھتی ہے تو بتا دے، اسکے راوی کونسے ہیں اور کب مسلمان ہوئے؟

تیسری بات: اگر مجوسی اہلتشیع کہتے ہیں کہ نبوت کے بعد امامت تھی تو امامت کی روشنی میں پہلے امام نے کس کس کو عقیدہ امامت پر بیعت کر کے مسلمان کیا؟ اور امامت کی تعلیم کے راوی کب پیدا ہوئے اور کب مسلمان ہوئے؟ حوالوں سے لکھیں جیسے روایت کرنے والے صحابہ کرام اور ان کی مرویات کی تعداد؛

1۔ دوہزاریا اس سے زائد روایت کرنے والے حضرات کی تعداد مرویات

1۔ حضرت ابو ہریرہ 5374

2۔ حضرت عبداللہ بن عمر 2630

3۔ حضرت انس بن مالک 2286

4۔ سیدہ عائشہ 2210

2۔ ایک ہزار سے یا اس سے کچھ زائد روایت کرنے والے حضرات کی تعداد مرویات

5۔ حضرت عبداللہ بن عباس 1660

6۔ حضرت جابر بن عبداللہ 1660

7۔ حضرت ابو سعید خدری 1170

نوٹ: واضح رہے کہ ایک ہزار یا اس سے زائد حدیث کی روایت کرنے والے کو محدثین کی اصطلاح میں مکثرین کہا جاتا ہے۔

3۔ ایک ہزار سے کم روایت کرنے والے حضرات

8۔ حضرت عبداللہ بن مسعود 848

9۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص 700

10۔ حضرت عمر بن خطاب 537

11۔ حضرت علی بن ابی طالب 500

12۔ حضرت ام سلمہ 378

13۔ حضرت ابو موسی اشعری 360

14۔ حضرت براء بن عازب 305

4۔ دوسو یا کچھ زائد روایت کرنے والے حضرات

15۔ حضرت ابو ذر غفاری 281

16۔ حضرت سعد بن ابی وقاص 271

17۔ حضرت ابوامامہ باہلی 270

18۔ حضرت حذیفہ بن الیمان 225

5۔ سو یا اس سے زائد روایت کرنے والے حضرات

19۔ حضرت سہل بن سعد 188

20۔ حضرت عبادہ بن صامت 181

21۔ حضرت عمران بن حصین 181

22۔ حضرت ابودردائ 179

23۔ حضرت ابوقتادہ 170

24۔ حضرت بریدہ الحصیب الاسلمی 176

25۔ حضرت ابی بن کعب 164

26۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان 173

27۔ حضرت ابو ایوب انصاری 155

28۔ حضرت معاذ بن جبل 157

29۔ حضرت عثمان بن عفان 146

30۔ حضرت جابر بن سمرہ انصاری 146

31۔ حضرت ابوبکر صدیق 142

32۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ 136

33۔ حضرت ابوبکر 132

34۔ حضرت اسامہ بن زید 128

35۔ حضرت ثوبان (مولی رسول) 128

36۔ حضرت نعمان بن بشیر 114

37۔ حضرت ابومسعود انصاری 102

38۔ حضرت جریر بن عبداللہ البجلی 101

6۔ سو سے کم حدیث روایت کرنے والے صحابہ کرام

39۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی 95

40۔ حضرت زید بن خالد 81

41۔ حضرت اسماء بنت یزید بن السکن 81

42۔ حضرت کعب بن مالک 80

43۔ حضرت رافع بن خدیج 78

44۔ حضرت سلمہ بن اکوع 77

45۔ حضرت میمو نہ (ام المومنین) 76

46۔ حضرت وائل بن حُجر 71

47۔ حضرت زید بن ارقم انصاری 70

48۔ حضرت ابو رافع(مولیٰ رسول) 68

49۔ حضرت ابوعوف بن مالک 67

50۔ حضرت عدی بن حاتم 66

51۔ حضرت ام حبیبہ (ام المومنین) 66

52۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف 65

53۔ حضرت عمار بن یاسر 62

54۔ حضرت سلمان الفارسی 60

55۔ حضرت حفصہ (ام المومنین) 60

56۔ حضرت اسماء بنت عُمَیس 60

57۔ حضرت جبیر بن مُطعِم 60

58۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر 58

59۔ حضرت واثلہ بن اسقع 56

60۔ حضرت عقبہ بن عامر الجہنی 55

61۔ حضرت شداد بن اوس 50

62۔ حضرت فضالہ بن عُبَید 50

63۔ حضرت عبداللہ بن بشیر 50

64۔ حضرت سعید بن زیدبن عمرو بن نفیل 43

65۔ حضرت مقدام بن معدیکرب 47

66۔ حضرت عبداللہ بن زید 48

67۔ حضرت کعب بن عُجرہ 47

68۔ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب 46

69۔ حضرت ابوبَرزَہ اسلمی 46

70۔ حضرت ابو جُحَیفہ 45

71۔ حضرت بلال (موذن رسول) 44

72۔ حضرت جندب بن عبداللہ بن سفیان 43

73۔ حضرت عبداللہ بن مغفل 43

74۔ حضرت مقداد 42

75۔ حضرت معاویہ بن حبوۃ 42

76۔ حضرت سہل بن حُنیف 40

77۔ حضرت حکیم بن حِزام 40

78۔ حضرت ابوثعلبہ خُشَنی 40

79۔ حضرت ام عطیہ 40

80۔ حضرت عمرو بن العاص 39

81۔ حضرت خزیمہ بن ثابت 38

82۔ حضرت زبیر بن عوام 38

83۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ 38

84۔ حضرت عمرو بن عنبسہ 38

85۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب 35

86۔ حضرت معقل بن یسار 34

87۔ حضرت فاطمہ بنت قیس 34

88۔ حضرت عبداللہ بن زبیر 33

89۔ حضرت خباب بن الارت 32

90۔ حضرت عِرباض بن ساریہ 31

91۔ حضرت معاذ بن انس 30

92۔ حضرت عیاض بن حماد 30

93۔ حضرت سہیب 30

94۔ حضرت فضل بنت حارث 30

95۔ حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی 29

96۔ حضرت یعلی بن امیہ 28

97۔ حضرت عقبہ بن عبد 28

98۔ حضرت ابو اسید الساعدی 28

99۔ حضرت عبداللہ بن مالک بن بجنیہ 28

100۔ حضرت ابو مالک اشعری 27

101۔ حضرت ابوحمید الساعدی 27

102۔ حضرت یعلی بن مُرّہ 26

103۔ حضرت عبداللہ بن جعفر 26

104۔ حضرت ابوطلحہ انصاری 25

105۔ حضرت عبدالسلام بن سلام 25

106۔ حضرت سہل بن ابی حشمہ 25

107۔ حضرت ابو ملیح الہذلی 25

108۔ حضرت فضل بن عباس 24

109۔ حضرت ابوواقد اللیثی 24

110۔ حضرت رِفاعہ بن رافع 24

111۔ حضرت عبداللہ بن اُنیس 24

112۔ حضرت اوس بن اوس 24

113۔ حضرت لقیط بن عامر 24

114۔ حضرت ام قیس بنت مِحصن 24

115۔ حضرت عامر بن ربیعہ 22

116۔ حضرت قرۃ المزنی 22

117۔ حضرت سائب بن یزید 22

118۔ حضرت سعد بن عُبادہ 21

119۔ حضرت الربیع بنت مُعوذ 21

7۔ بیس عدد روایت کرنے والے اصحاب رسول ﷺ

120۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی

121۔ حضرت ابو شریح الکعبی

122۔ حضرت عبداللہ بن جراد

123۔ حضرت مسور بن مخرمہ

124۔ حضرت عمرو بن امیہ ضمری

125۔ حضرت صفوان بن عسال

8۔ انیس حدیث کے راوی

126۔ حضرت سراقہ بن مالک

127۔ حضرت سبرہ بن معہد الجُہُنی

9۔ اٹھارہ حدیث کے راوی

128۔ حضرت تمیم الداری

129۔ حضرت خالد بن ولید

130۔ حضرت عمرو بن حریث

131۔ حضرت اُسید بن حُضیر

132۔ حضرت فاطمہ بنت رسول

133۔ عبداللہ بن حوالہ الازدی

10۔ سترہ حدیث کے راوی

134۔ النواس بن سمعان الکلابی

135۔ حضرت عبداللہ بن سَرجِس

136۔ عبداللہ بن الحارث بن جزء

11۔ سولہ حدیث کے راوی

137۔ حضرت صعب بن جثامہ

138۔ حضرت قیس بن سعدبن عبادہ

139۔ محمد بن مسلمہ

15۔ پندرہ حدیث کے راوی

140۔ مالک بن حیرث اللیثی

141۔ ابولُبابہ بن عبدالمنذر

142۔ سلمان بن صُرَد

143۔ خولہ بنت حکیم

16۔ چودہ حدیث کے راوی

144۔ عبدالرحمن بن شبل

145۔ ثابت بن ضِحاک

146۔ عبداللہ الصنابحی

147 عبیدہ بن الجراح

148۔ طلق بن علی

149۔ عبدالرحمن مرہ

150۔ حضرت سفینہ مولی رسول ﷺ

151۔ کعب بن مُرّہ

152۔ ام سُلیم بنت مِلحان

153۔ الحکم بن عُمیر

17۔ تیرہ حدیث کے راوی

154۔ معاویہ بن حکم

155۔ حسن بن علی بن ابی طالب

156۔ حذیفہ بن اسد الغفاری

157۔ سلیمان بن عامر

158۔ عروۃ البارقی

159۔ صفوان بن امیہ بن خلف

160۔ ابویعلیٰ انصاری

18۔ بارہ حدیث کے راوی

161۔ عبدالرحمن بن البزی

162۔ عبداللہ بن عُکَیم

163۔ عمر بن مسلمہ

164۔ عامر بن ربیعہ

165۔ ربیعہ بن کعب

166۔ سلمہ بن مُحبَق الہُذَلی

167۔ الشفا بنت عبداللہ العدویہ

168۔ سبیعہ الاسلمہ

169۔ ابوبصرہ الغفاری

19۔ گیارہ حدیث روایت کرنے والے حضرات صحابہ

170۔ عمرو بن الحِمْق

171۔ قبیصہ یزید بن قنافہ الطائی

172۔ وابصہ بن معبد الاسدی

173۔ زینب بنت جحش (ام المومنین)

174۔ ضباعہ بنت زبیربن عبدالمطلب

175۔ ابوالیَسر

176۔ بسرہ بنت صفوان

177۔ نبیشہ بن ابو کبشہ الانماری

20۔ جن صحابہ کرام سے دس احادیث مروی ہیں

178۔ ابومحذورہ

179۔ ام المومنین حضرت صفیہ

180۔ عتبان بن مالک

181۔ عروۃ بن مضرس

182۔ عمیر مولیٰ ابوللحم

183۔ مجمع بن جاریہ

184۔ نعیم بن ہمار

185۔ ام کلثوم

186۔ ام مبشر الانصاریہ

187۔ ام معقل الاسدیہ

188۔ ام ہشام بنت حارثہ الانصاریہ

189۔ ام کرزہ

190۔ خریم بن فاتک

191۔ عدی بن عمیرۃ

21۔ نو احادیث کے روای

192۔ بشیر بن خصاصیہ

193۔ حمزہ بن عمرو اسلمی

194۔ عمارہ بن روبہ

195۔ مطلب بن ابووداعہ

196۔ نوفل بن معاویہ

197۔ ہشام بن عامر

198۔ ابوریحانہ (نام شمعون)

199۔ ابوصرمہ

200۔ ابوالطفیل

201۔ ابیض بن حمال

202۔اشعث بن قیس

203۔ ابن الحنظلیۃ (سہیل)

22۔ آٹھ احادیث کے راوی صحابہ کرام

204۔ اسماء بن شریک

205۔ اسود بن سریع

206۔ امیمہ بنت رقیقہ

207۔ ابن الحارث

208۔ جرہد

209۔ حسین بن علی

210۔ حنظلہ الکاتب

211۔ خولہ بنت قیس

212۔ بنت خذام

213۔ رویفع بن ثابت

214۔ زینب (زوجہ مسعود)

215۔ عاتذ بن عمرو المزنی

216۔ عبدالرحمن بن ابوبکر

217۔ عبدالمطلب بن ربیعہ

218۔ عمرو بن خارجہ

219۔ فریعہ بنت مالک

220۔ ام الحصین

221۔ ام رمیۃ

222۔ خنساء بن خدام

23۔ سات احادیث کے روای

223۔ حارث بن اوس

224۔ حارث بن یزد البکری

225۔ امۃ بنت خالد

226۔ ام المومنین حضرت جویریہ

227۔ صیب بن مسلمہ

228۔ زینب بنت ابوسلمہ

229۔ سلمہ بن قیس الاشجعی

230۔ سلمہ بن صخر البیاضی

231۔ سلمی (رسول ا کی آزادکردہ باندی)

232۔ سوید بن نعمان

233۔ عبداللہ بن السائب

234۔ عبد اللہ بن المزنی

235۔ عرفجہ ابن اسعد

236۔ عقبہ بن حارث

237۔ علی بن شیبان

238۔ عویم بن ساعدہ

239۔ قتادہ بن نعمان

240۔ قطبہ بن مالک

241۔ قیس بن طفخہ غفاری

242۔ قیس بن ابوغرزہ

243۔ محمد بن عبداللہ بن جحش

244۔ مستورد بن شداد

245۔ مسیب ابوسعید

246۔ معیقب

247۔ ابوامیہ

248۔ ابوجمعہ

249۔ ام حرام بنت ملحان

24۔ چھ احادیث کے راوی صحابہ کرام

250۔ بشیر بن سحیم

251۔ حجاج الاسلمی

252۔ حارث الاشعری

253۔ حارثہ بن وہب الخزاعی

254۔ رافع بن عرامہ

255۔ سلمہ بن یزید

256۔ سوید بن مقرن

257۔ عاصم بن عدی

258۔ عبداللہ بن حنظلہ

259۔ عبداللہ بن شخیر

260۔ عقیل بن ابی طالب

261۔ عویمر بن اشقر

262۔ فلتان بن عاصم

263۔ قبیصہ بن المخارق

264۔ کرزبن علقمہ

265۔ مالک بن الحویرث

266۔ محمد بن صفوان

267۔ مخنف بن سلیم

268۔ مہاجر بن قنفذ

269۔ نصر بن حزن

270۔ نعمان بن مقرن

271۔ ابوعیاش الزرقی

272۔ ابوالحمرائ

273۔ ابووہب الجشمی

274۔ ام حبیب ام العلاء

25۔ جن صحابہ کرام سے پانچ احادیث مروی ہیں

275۔ ثعلبہ بن الحکم

276۔ خفاف بن ابما

277۔ خولہ بنت ثعلبہ

278۔ ربیعہ بن عباد

279۔ سائب بن خلاد

280۔ سالم بن عبید

281۔ سلمہ بن نفیل

282۔ سفیان بن ابوزہیر

283۔ سفیان بن عبداللہ الطائفی

284۔ ام المومنین حضرت سودہ

285۔ صحار العبدی

286۔ صفیہ بنت ابی شیبہ

287۔ عثمان بن طلحہ

288۔ عمرو بن حزم

289۔ قابوس بن ابولمخارق لقیط بن صبرہ

290۔ مالک بن صعصعہ

291۔ مجاشع بن مسعود الاسلمی

292۔ محجن بن الاذرع

293۔ معقل بن سنان الاشجعی

294۔ معمر بن عبداللہ بن نضلہ

295۔ معن بن یزید

296۔ ہانی بن نیاز

297۔ یزید بن الاسود ابوالجعد

298۔ ابوعبس بن جبیر

299۔ ابو غریب ام ایمن ام درداء

300۔ ام بجید

26۔ جن صحابہ کرام سے چار روایتیں مروی ہیں

301۔ ابی بن مالک

302۔ بشر بن ابی ارطاۃ

303۔ جاریہ بن قدامہ

304۔ جارود العبدی

305۔ حارث بن عمرو

306۔ حارث بن قیس

307۔ حارث بن مسلم

308۔ حجاج بن عمر

309۔ خالد بن عرفطہ

310۔ دیلم الحمیری

311۔ ذویب ابوقبیصہ

312۔ رکانہ بن عبد یزید

313۔ رویبہ

314۔ زید بن حارثہ (رسول ﷺ کے آزاد کردہ غلام)

315۔ زیاد بن حارث

316۔ صبرہ بن فاتک

317۔ سعد ابوعبدالعزیز

318۔ سنان بن سنہ

319۔ ضحاک بن سفیان

320۔ طارق بن اشیم

321۔ علاء بن الحضرمی

322۔ عبداللہ بن ابوحدرد عبداللہ بن یزید الانصاری

323۔ عبدالرحمن بن حسنہ عباس بن مروان

324۔ عتبہ بن غزوان

325۔ عثمان بن مظعون

326۔ عکاف بن وداعہ

327۔ فیروز دیلمی

328۔ قیس بن عاصم المنقری

329۔ مالک بن ہبیرہ

330۔ محمد بن صیفی

331۔ معاذ بن عفرائ

332۔ معاویہ بن خدیج

333۔ وحشی بن حرب

334۔ ہانی بن ہانی

335۔ ہزال

336۔ ابوخزامہ

337۔ ابوبشیر الانصاری

338۔ ابوجبیرہ الانصاری

339۔ ابوحازم الانصاری

340۔ ابودہم

341۔ ابویزید الانصاری

342۔ ابولبیبہ

343۔ ابونجیح السلمی

344۔ ابن ابی عمیرہ

345۔ ام حبیبہ بنت سہل

346۔ ام ضبیہ

347۔ ام کردم

348۔ ام لیلیٰ

349۔ ام المنذر

27۔ جن صحابہ کرام سے تین احادیث منقول ہیں

350۔ احمر بن جزء الاغز المزنی

351۔ اقرم

352۔ انس بن مالک الاشہلی

353۔ انیسہ اہبان بن صیفی

354۔ بدیل بن ورقائ

355۔ بصرہ بن ابی بصرہ

356۔ جاریہ بن ظفر

357۔ ابوغزان الحنفی

358۔ جعدہ ابوجزئ

359۔ جنادہ الازدی

360۔ حارث بن وہب

361۔ حرملہ

362۔ حکیم بن معاویہ

363۔ حارث بن زیاد

364۔ حبشی بن جنادہ

365۔ حنظلہ بن ندیم

366۔ خارجہ بن حذافہ(خالد بن خلی)

367۔ خالد بن سعید

368۔ خالد الخزاعی

369۔ دحیہ الکلبی

370۔ درہ بنت ابولہب

371۔ ذوالجوشن

372۔ سعید بن حریث

373۔ سعید بن یربوع

374۔ ابن عنکثہ

375۔ سلمہ بن سلامہ

376۔ سوید بن ہبیرہ

377۔ سوید بن قیس

378۔ سہل بن حنظلہ الانصاری

379۔ سہل بن بیضائ

380۔ شریک بن طارق

381۔ صماد بنت بسر

382۔ عابس التمیمی

383۔ عبداللہ بن حذافہ السہمی

384۔ عبداللہ بن حبیب

385۔ عبداللہ السعدی

386۔ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی

387۔ عبداللہ بن ابی الجدعائ

388۔ عبداللہ بن ابی حبیبہ

389۔ عبداللہ بن قارب

390۔ عبدالرحمن بن یعمر

391۔ عبید مولی رسول

392۔ عبید بن خالد

393۔ عراء بن خالد

394۔ عطیہ السعدی

395۔ عطیہ القرظی

396۔ علی بن طلق

397۔ عمارہ بن حزم

398۔ عمرو بن مرہ الجہنی

399۔ غطیف بن حارث

400۔ فاطمہ بنت ابوعمیش

401۔ فروہ بن مسک

402۔ کردم

403۔ مالک بن ربیعہ

404۔ ابومریم

405۔ مالک بن عبداللہ

406۔ مالک بن عمر القشیری

407۔ محرش الکعبی

408۔ محیصہ

409۔ میمونہ بنت سعد

410۔ یزید بن ثابت

411۔ یوسف بن عبداللہ بن سلام

412۔ ابوالدراج

413۔ ابوحیہ البدری

414۔ ابوزید

415۔ ابوسعد الانصاری

416۔ ابوشہم

417۔ ابو عبدالرحمن الجہنی

418۔ ابوعزہ

419۔ ابوعنبہ الخولانی

420۔ ابوفاطمہ الازدی

421۔ ابولبید الانصاری

422۔ ابومجیبہ الباہلی

423۔ ابوہاشم بن عتبہ بن کاس

424۔ ابن ام کلثوم

425۔ ام سعد

28۔ جن صحابہ کرام سے دو حدیثیں مروی ہیں

426۔ ابی بن عمارہ

427۔ اسلع

428۔ اسید بن ظہیر

429۔ اشج بنی عصر

430۔ امیمہ اوس بن حذیفہ

431۔ اوس بن صامت

432۔ ایاس بن عبدالمزنی

433۔ جذامہ بنت وہب

434۔ جعدہ بن خالد

435۔ حارث بن برصا

436۔ حارث بن قیس

437۔ حارث بن ہشام

438۔ حارثہ بن نعمان

439۔ حارثہ بن قیس

440۔ حارث بن ہشام

441۔ حارثہ بن نعمان

442۔ حارثہ (زید کے بھائی)

443۔ حکیم بن جابر

444۔ حکیم بن سعید المزنی

445۔ حمزہ بن عبدالمطلب

446۔ حمل بن النابغہ

447۔ خالد بن لجلاج

448۔ خشخاش العبدی

449۔ بنت ثامر

450۔ دہر بن اخرم

451۔ ذوالاصابع

452۔ ذوالیدین

453۔ رافع بن عمرو

454۔ رباح بن الربیع

455۔ ربیعہ بن الہاد

456۔ رفاعہ الجہنی

457۔ زاہر کنیت ابومجراۃ

458۔ زینب

459۔ زید بن ابی مولی (سعد ابوبکر کے آزاد کردہ غلام)

460۔ سعید بن سعد

461۔ سلمہ بن سلامہ بن وفش

462۔ سلیم بن جابر الہجیمی (یااصل نام جابربن سلیم الہجیمی ہے)

463۔ سلمہ بن خزاعی

464۔ سندر

465۔ سوادہ بن ربیع

466۔ سوید بن حنظلہ

467۔ سوداء

468۔ سہلہ بنت سہیل

469۔ شرحبیل بن حسنہ

470۔ شیبہ بن عتبہ

471۔ صخر الغامدی

472۔ طارق بن مخاش

473۔ ظہیر

474۔ عائشہ بنت قدامہ

475۔ عباد

476۔ عبداللہ بن ارقم

477۔ عبداللہ بن ثعلبہ

478۔ عبداللہ بن حنظلہ (غسیل الملائکہ)

479۔ عبداللہ بن ربیعہ بن حارث

480۔ عبداللہ بن سائب

481۔ عبداللہ بن عدی

482۔ عبداللہ بن قریط

483۔ عبداللہ بن مالک

484۔ عبداللہ بن المرقع

485۔ عبداللہ بن القرشی

486۔ عبد اللہ بن ابی ربیعہ

487۔ عبدالرحمن بن عائذ

488۔ عبدہ بن حزن

489۔ عتاب بن شمیر

490۔ عتبہ بن نذر

491۔ حدمی بن عدی

492۔ عرس بن عمیرہ

493۔ عقبہ بن مالک

494۔ عمرو بن الاحوص

495۔ عمرو بن ثغلب

496۔ عمر بن غیلان

497۔ عمرو بن کعب الیامی

498۔ عمیر بن قتادہ

499۔ عیاش بن ابی ربیعہ

500۔ عیاض الاشعری

501۔ فرات بن حبان الفراسی

502۔ قتادہ بن ملحان

503۔ قدامہ بن عبداللہ

504۔ کعب بن عیاض

505۔ مالک بن عبداللہ الاودی

506۔ مالک (کنیت ابوصفوان)

507۔ ماریہ (رسول ا کی آزاد کردہ باندی)

508۔ محمد بن حاطب

509۔ محصن

510۔ مطلب بن عبداللہ حنطب

511۔ معقل بن مقرن

512۔ معقل بن ابومعقل

513۔ معاویہ بن جاہمہ

514۔ میمونہ (رسول اللہ کی آزاد کردہ باندی)

515۔ نافع بن حارث

516۔ نبیط بن شریط

517۔ نعیم بن نحام

518۔ ولید بن عقبہ

519۔ وہب بن حذیفہ

520۔ یعلی العامری

521۔ یسیر (اسیر) الدرمکی

522۔ ابوامامہ الحارثی

523۔ ابوبردہ

524۔ ابوابراہیم

525۔ ابوثابت

526۔ ابوالجعد

527۔ ابورافع الغفاری

528۔ ابورفاعہ

529۔ ابوزہیر النمیری

530۔ ابوسعید بن المعلی

531۔ ابوسلامہ

532۔ ابوسلمی (راعی و خادم رسول اللہ)

533۔ ابوسلیط

534۔ ابوشمح

535۔ ابوسیارہ المتعی

536۔ ابوعمرہ

537۔ ابوغطیف

538۔ ابوکلیب

539۔ ابومرثد الغنوی

540۔ ابونملہ (نام معاذ)

541۔ ابودردائ ام بشر بن براء

542۔ ام الحکم

543۔ ام زیاد

544۔ ام عبدالرحمن بن طارق

545۔ ام عبداللہ بنت اوس

546۔ ام عمارہ

547۔ ام معبد

548۔ ام ورقہ بن الرسیم

29۔ جن صحابہ کرام سے صرف ایک حدیث مروی ہے

549۔ ابولحم اذرع السلمی

550۔ اذینہ اسماء بن جاریہ

551۔ اسمر بن مضرس

552۔ اسود بن اصرم المحاربی

553۔ اقرع بن حابس

554۔ انیس

555۔ ابوفاطمہ

556۔ ایمن بن عبید

557۔ انیس بن ابومرثد

558۔ اوس

559۔ ایاس بن عبداللہ

560۔ بروع بنت واشق

561۔ بریرہ(حضرت عائشہؓ کی آزاد کردہ باندی)

562۔ بسر بن محجن

563۔ بشر بن عاصم

564۔ بشر کنیت ابونحیلہ

565۔ بشیر الغفاری

566۔ بشیر بن عقریہ

567۔ بشیر الاسلمی

568۔ بشیر

569۔ بقیرہ (حضرت قعقاع کی اہلیہ)

570۔ بلال بن سعد

571۔ تلب

572۔ تمیم المازنی

573۔ تمیم العدوی

574۔ ثابت بن رفیع

575۔ ثابت بن صامت

576۔ ثابت بن قیس بن شماس

577۔ ثابت بن یزد

578۔ ثابت بن ابوعاصم

579۔ ثعلبہ بن زہدم

580۔ ثعلبہ بن ابومالک

581۔ ثعلبہ

582۔ ثمامہ بن انس

583۔ جاہمہ

584۔ جابر بن عمیر

585۔ جابر الاحمسی

586۔ جبار بن سلمی

587۔ جبیر الکندی

588۔ جبلہ بن ازرق

589۔ جدارالاسلمی

590۔ جرموز الہجیمی

591۔ جعدہ بن ہبیرہ

592۔ جعفر بن ابوالحکم

593۔ جعیل الاشجعی

594۔ جمرہ ایربوعیہ

595۔ جمیلہ بنت ابی بن سلول

596۔ جبارہ بن مالک

597۔ جندب بن سلمہ

598۔ جندب بن مکیث

599۔ جندرہ بن خیشنہ

600۔ جودان

601۔ حارث بن بدل

602۔ حارث بن حارث

603۔ حارث بن حاطب

604۔ حارث بن حسان

605۔ حارث بن خزمہ

606۔ حارث بن غزیہ

607۔ حارث بن غطیف

608۔ حارث بن مالک

609۔ حارث بن نوفل

610۔ حارث الثقفی

611۔ حارثہ الخزاعی

612۔ حازم بن حرملہ

613۔ حبیب بن فدیک

614۔ حبیبہ بنت ابوتجراء

615۔ حبہ بنت خالد

616۔ حبان بن بح

617۔ حجاج بن عبداللہ

618۔ حجاج بن علاط

619۔ ججرالمدری

620۔ ججیر بن بیان

621۔ حدرد بن ابی حدرد

622۔ حذیم السعدی

623۔ حرام بن معاویہ

624۔ حرملہ العنبری

625۔ حرملہ الاسلمی

626۔ حسان بن ثابت

627۔ حسان بن ابوجابر السلمی

628۔ حصین بن عوف الاحمسی

629۔ حکم بن حزم

630۔ حکم بن عمرو الغفاری

631۔ حمزہ بن ابواسید

632۔ حمنہ بنت جحش

633۔ حنظلہ السدوسی

634۔ حواء

635۔ حویطب بن عبدالعزی

636۔ خالد بن عدی الجہنی

637۔ خالد بن ابوجبل

638۔ خلاد

639۔ خالدہ بنت انس

640۔ ام المومنین خدیجہ

641۔ خرشہ بن حارث

642۔ خزیمہ بن جزی

643۔ خوات بن جبیر

644۔ خولی

645۔ خولہ بنت صامت

646۔ خیرہ (کعب بن مالک کی اہلیہ)

647۔ دغفل

648۔ دکین بن سعید

649۔ دیلم الجیشانی

650۔ ذوالزوائد

651۔ ذوالغرہ

652۔ راوع بن بشریا ابن بسر

653۔ رافع بن عمرو المزنی

654۔ رافع بن مالک الانصاری

655۔ رافع بن مکیث

656۔ رافع بن ابورافع الطائی

657۔ ربیع الانصاری

658۔ رسیم الہجری

659۔ رشید السعدی

660۔ رفیقہ

661۔ زارع بن عامر العنبری

662۔ زہیر بن عثمان

663۔ زہیر بن علقمہ

664۔ زہیر بن عمرو

665۔ زہیر بن قیس البجلی

666۔ زنباع الجذامی

667۔ زیاد بن حارث

668۔ زید بن حارثہ

669۔ زید بن خارجہ

670۔ زید بن ثابت

671۔ زرارہ بن جزی

672۔ زنکل

673۔ سائب بن خباب

674۔ سائب بن خلاد کنیت ابو سہلہ

675۔ سابط

676۔ سالم بن حرملہ

677۔ سبرہ بن ابوفاکہ

678۔ سراء بنت نبہان

679۔ سعد بن اطول

680۔ سعد بن اسحاق

681۔ سعد بن تمیم سعد

682۔ سعید بن العاص

683۔ سعید بن عامر

684۔ سعید

685۔ سعید بن ابوراشد

686۔ سعید بن ابوذباب

687۔ سعید

688۔ سفیان بن مجیب

689۔ سفیان بن وہب الخولانی

690۔ سلمہ بن قیس

691۔ سلمہ بن نعیم

692۔ سلمی ام رافع (حضورکی آزاد کردہ باندی)

693۔ سلمی الجرمی

694۔ سلامہ بن قیصر

695۔ سلامہ بن معقل

696۔ سلیل اشجعی

697۔ سلمان

698۔ سواء بن خالد

699۔ سوید بن جبلہ

700۔ سوید الانصاری

701۔ سواد بن عمرو

702۔ سہل بن حنیف

703۔ سہیل بن یوسف

704۔ شریک بن حنبل

705۔ شداد بن اسید

706۔ شعبہ بن توام

707۔ شقی بن ماتع

708۔ شکل بن حمید

709۔ شمیر

710۔ شموس بنت نعمان

711۔ شیبہ بن عثمان

712۔ شیبان

713۔ صخر بن عیلہ

714۔ صعصعہ بن ناحیہ

715۔ صعصعہ صفوان الزہری

716۔ صلہ الغفاری

717۔ صمیتہ

718۔ صہیب (یہ صہیب رومی کے علاوہ ہیں )

719۔ ضحاک بن قیس

720۔ طارق بن عبداللہ المحاربی

721۔ طارق بن سوید

722۔ طارق بن شہاب

723۔ طعمہ بن جرء

724۔ طفیل بن سخبرہ

725۔ طلحہ بن مالک

726۔ طلحہ بن معاویہ

727۔ طلحہ السحمی

728۔ طلحہ النصری

729۔ طلق بن یزید

730۔ طہفہ الغفاری

731۔ عابس الغفاری

732۔ عامر بن شہر

733۔ عامر بن عاتذ

734۔ عامر بن مسعود

735۔ عامر المزنی

736۔ عامر الرام

737۔ عاتذ بن قرط

738۔ عبداللہ بن اقرم

739۔ عبداللہ بن بدر

740۔ عبداللہ بن جبیر الخزاعی

741۔ عبداللہ بن رواحہ

742۔ عبداللہ بن ربیعہ

743۔ عبداللہ بن زمعہ

744۔ عبداللہ بن سبرہ

745۔ عبداللہ بن سعد

746۔ عبداللہ بن السعدی

747۔ عبداللہ بن سہیل

748۔ عبداللہ بن عامر

749۔ عبداللہ بن عمار

750۔ عبداللہ بن عتبہ

751۔ عبداللہ بن عبدالرحمن

752۔ عبداللہ بن عتیک

753۔ عبداللہ بن عدی

754۔ عبداللہ بن عیسیٰ

755۔ عبداللہ بن کعب

756۔ عبداللہ بن معقل بن مقرن

757۔ عبداللہ بن معبد

758۔ عبداللہ بن ہلال الثقفی

759۔ عبداللہ بن ابوامیہ

760۔ عبداللہ بن اوشدیدہ

761۔ عبداللہ بن ابوسفیان

762۔ عبداللہ بن ابو المطرف

763۔ عبید اللہ القرشی

764۔ عبدالرحمن بن خباب

765۔ عبدالرحمن بن خماشہ

766۔ عبدالرحمن بن سبرہ بن سنۃ

767۔ عبدالرحمن بن عائش

768۔ عبدالرحمن بن عتبہ

769۔ عبدالرحمن بن عثمان

770۔ عبدالرحمن بن عدیس (یا حدیس)

771۔ عبدالرحمن بن عمروالسلمی

772۔ عبدالرحمن بن قتادہ السلمی

773۔ عبدالرحمن بن مالک

774۔ عبدالرحمن بن معاذ

775۔ عبدالرحمن بن معاویہ

776۔ عبدالرحمن بن ابوعقیل

777۔ عبادہ بن قرص

778۔ عبید بن خشخاش

779۔ عباد بن شرجیل

780۔ عباد

781۔ عبدالحمید بن عمرو

782۔ عبد عوف (قیس بن ابوحازم کے والد)

783۔ عبیدہ بن عمرو الکلابی

784۔ عبید اللیثی

785۔ عبید بن خالد السلمی

786۔ عثمان بن حنیف

787۔ عدی بن زید

788۔ عدی الجذامی

789۔ عروہ بن عامر الجہنی

790۔ عروہ بن مسعود الثقفی

791۔ عروہ

792۔ عسعس بن سلامہ

793۔ عصام المزنی

794۔ عفیف الکندی

795۔ عقبہ بن اوس

796۔ عقبہ بن مالک

798۔ عکرمہ بن ابوجہل

799۔ عکراش بن ذویب

800۔ علقمہ بن حویرث

801۔ علقمہ بن رمثہ البلوی

802۔ علمقہ بن نضلہ

803۔ عمار بن اوس

804۔ عمارہ بن زعکرہ

805۔ عمار بن مدرک

806۔ عمرو بن اراکہ

807۔ عمرو بن حارث

808۔ عمرو بن سعد

809۔ عمرو بن سفیان السلمی

810۔ عمرو بن شاس

811۔ عمرو بن شعبہ

812۔ عمرو بن عامر بن طفیل

813۔ عمرو بن مالک الروسی

814۔ عمرو بن معدی کرب

815۔ عمرو بن الوعقرب

816۔ عمرو بن العجلانی

817۔ عمرو البکالی

818۔ عمرو الجمعی

819۔ عمیر بن حبیب بن خماشہ

820۔ عمیر بن سلمہ

821۔ عمیر بن عامر بن مالک (کنیت ابوداؤد)

822۔ عمیر بن ابوسلمہ الضمری

823۔ عمر اللیثی

824۔ عمیر بن العنری

825۔ عمیر

826۔ عیاض بن غنم

827۔ غالب بن ابوابجر

828۔ عرفہ الکندی

829۔ فاکہ بن سعد

830۔ فجیع العامری

831۔ فروہ بن نوفل

832۔ قارب اللیثی

833۔ قبیصہ البجلی

834۔ قتیلہ

835۔ قسامہ بن زہیر

836۔ قطبہ بن قتادہ

837۔ قعقاع بن ابوحذرد

838۔ قیس بن خشخاش

839۔ قیس بن سائب

840۔ قیس بن سہل الفیقحی

841۔ قیس بن سہل (حضرت یحییٰ بن سعیہ کے دادا)

842۔ قیس بن عائذ (کنیت ابوالکاہل)

843۔ کبیشہ

844۔ کدیر الضبی

845۔ کردم بن قیس

846۔ کلیب الجہنی

847۔ کلثوم

848۔ کندیر

849۔ کیسان (رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام)

850۔ لیلی بنت فانف

851۔ مالک بن اخیمر

852۔ مالک بن تیہان

853۔ مالک بن خشخاش

854۔ مالک بن عبادہ الغافقی

855۔ مالک بن عتاہیہ

856۔ مالک بن عوف القشیری

857۔ مالک بن عمرو العبدی

858۔

[ جمعه شانزدهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 6:7 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

آلِ زبیر کی حکومت کا قیام اور زوال

ایک مؤثر تاریخی جائزہ

آلِ زبیر کی حکومت کے سقوط کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ حکومت کس طرح قائم ہوئی، کن حالات میں ابھری اور اس کی سلطنت کہاں تک پھیلی۔

بعض قدیم مؤرخین، خصوصاً **** کے مطابق، امام حسینؑ کی مظلومانہ شہادت کے بعد پیدا ہونے والے شدید عوامی غم و غصے سے عبداللہ بن زبیر نے سیاسی فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے بنو امیہ سے امام حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے کا نعرہ بلند کیا اور مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کی پناہ میں رہتے ہوئے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، یہاں تک کہ وہ "العائذ بالبيت" (بیت اللہ کی پناہ لینے والے) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ تاہم یزید بن معاویہ کی زندگی میں ان کا اقتدار صرف مکہ تک محدود رہا۔

جب ربیع الاول 64 ہجری میں یزید بن معاویہ کا انتقال ہوا تو خلافتِ امویہ جانشینی کے بحران کا شکار ہوگئی۔ عبداللہ بن زبیر نے اس سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مدینہ منورہ پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت مروان بن حکم اور اس کا بیٹا عبدالملک بن مروان مدینہ میں موجود تھے اور گرفتار بھی ہوئے۔

اس کے بعد ابنِ زبیر کی حکومت تیزی سے وسعت اختیار کرتی گئی۔ حجاز، یمن، عراق، خراسان اور مصر ان کے زیرِ اقتدار آگئے۔ دمشق میں ضحاک بن قیس اور حمص میں نعمان بن بشیر انصاری کو اپنا نمائندہ مقرر کیا گیا۔ ان دونوں نے اموی بیعت چھوڑ کر عبداللہ بن زبیر کی بیعت قبول کرلی۔ اس وقت صرف اردن ایسا علاقہ تھا جہاں کے گورنر حسان بن بجدل کلبی نے اموی وفاداری برقرار رکھی، اور یہی علاقہ بعد میں اموی خاندان کی پناہ گاہ بنا۔

7 رجب 64 ہجری کو عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں خود کو مسلمانوں کا خلیفہ قرار دیا اور بنو امیہ کو اپنی بیعت کی دعوت دی۔ لیکن ان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی یہ سمجھی جاتی ہے کہ انہوں نے مروان بن حکم اور عبدالملک کو رہا کر دیا۔ مروان نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بنو امیہ سے ابنِ زبیر کی بیعت لے گا، مگر رہائی کے فوراً بعد وہ اردن کے مقام جابیہ پہنچا جہاں بنو امیہ نے اسے اپنا خلیفہ منتخب کر لیا۔

مروان بن حکم نے اموی حکومت کی بحالی کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کی۔ اس نے بیت المال کے خزانے کھول دیے، لوگوں میں دولت تقسیم کی، قبائلی سرداروں کو مال و منصب کا لالچ دیا اور شام میں اپنے حامیوں کو بغاوت پر آمادہ کیا تاکہ دمشق اور حمص میں زبیری اقتدار کمزور ہو جائے۔

اسی دوران عبداللہ بن زبیر کی مالی پالیسیوں پر بھی عوام میں ناراضی پیدا ہوئی۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ عطیات اور وظائف کی ادائیگی میں تاخیر کرتے تھے، جبکہ شام کے لوگ اموی دور کی فراخ دلانہ عطاؤں کے عادی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے قبائل دوبارہ اموی حکومت کی طرف مائل ہوگئے۔

چنانچہ امویوں نے ضحاک بن قیس کو دمشق سے باہر مرجِ راہط کے مقام پر لڑائی میں شکست دی، جس کے بعد دمشق دوبارہ ان کے قبضے میں آگیا۔ پھر مروان نے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن مروان کو مصر بھیجا، جہاں بعض مقامی کمانڈروں کی حمایت حاصل کرکے 65 ہجری میں مصر پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ بعد ازاں حمص اور ساحلی علاقے بھی اموی اقتدار میں واپس آگئے، جبکہ نعمان بن بشیر کو ان کے مخالفین نے مسجد میں شہید کر دیا۔

بعد میں امویوں نے زبیری حکومت کی اندرونی مشکلات سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ایک طرف مختار ثقفی اور خوارج کے خلاف جنگیں جاری تھیں، دوسری طرف عراق اور خراسان میں مرکزی حکومت کمزور ہو چکی تھی۔ اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اموی لشکر نے 71 ہجری میں عراق پر حملہ کیا، جس میں مصعب بن زبیر شہید ہوگئے اور عراق دوبارہ امویوں کے قبضے میں چلا گیا۔

مصعب بن زبیر کی شہادت کے بعد عبداللہ بن زبیر کے پاس صرف حجاز باقی رہ گیا۔ اس موقع پر عبدالملک بن مروان نے فیصلہ کیا کہ اب زبیری حکومت کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے۔ اس نے حجاج بن یوسف ثقفی کو تقریباً بیس ہزار سپاہیوں کے ساتھ مکہ روانہ کیا۔

ذوالحجہ 72 ہجری میں حجاج طائف پہنچا اور اسے اپنا فوجی مرکز بنایا۔ ابتدا میں مکہ کے باہر شدید معرکے ہوئے جن میں ابنِ زبیر کی فوج پسپا ہو کر حرم میں داخل ہوگئی۔ حجاج نے عبدالملک سے مزید فوج اور سخت محاصرے کی اجازت طلب کی، جو اسے مل گئی۔

اسی سال حج کے موقع پر عبداللہ بن زبیر نے خود حج کی امامت نہ کی اور عبداللہ بن عمر نے دونوں فریقوں کے درمیان ایک ماہ کی جنگ بندی کروا کر لوگوں کو سکون سے حج ادا کرنے کا موقع دیا۔

73 ہجری کے آغاز اور حج کے اختتام کے بعد حجاج نے مکہ کا سخت محاصرہ کر لیا۔ جبلِ ابو قبیس پر منجنیق نصب کی گئی اور مکہ پر پتھر اور آتش گیر گولے برسائے گئے، جس سے متعدد مکانات منہدم ہوئے اور بہت سے لوگ جاں بحق ہوئے۔ محاصرہ اتنا سخت تھا کہ خوراک ختم ہوگئی، لوگ بھوک سے نڈھال ہوگئے اور بعض روایات کے مطابق مردار اور جنگلی گھاس کھانے پر مجبور ہوگئے۔ عبداللہ بن زبیر کے پاس اپنے ساتھیوں میں تقسیم کرنے کے لیے کچھ نہ بچا تو انہوں نے اپنا گھوڑا ذبح کروا دیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان کے بیشتر ساتھی اور حتیٰ کہ ان کے بعض بیٹے بھی انہیں چھوڑ کر حجاج کے پاس چلے گئے اور امان حاصل کر لی۔

جب عبداللہ بن زبیر نے دیکھا کہ اکثر لوگ ساتھ چھوڑ چکے ہیں تو وہ اپنی والدہ اسماء بنت ابی بکر کے پاس گئے اور اپنی تشویش بیان کی کہ وہ میدانِ جنگ میں مرنا چاہتے ہیں، مگر ڈرتے ہیں کہ ان کے جسدِ خاکی کی بے حرمتی کی جائے گی۔ اس پر اسماء نے وہ تاریخی جملہ کہا:

«"بیٹا! جب بکری ذبح ہو جائے تو پھر اس کی کھال اتارنے سے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔"»

یہ سن کر عبداللہ بن زبیر ثابت قدمی کے ساتھ میدان میں اترے۔ ان کے ساتھ چند ہی وفادار باقی رہ گئے تھے۔ آخرکار وہ جنگ کرتے ہوئے مارے گئے۔ ان کے بعد ان کے ساتھی بھی ایک ایک کرکے قتل ہوگئے اور یوں 17 جمادی الاول 73 ہجری کو آلِ زبیر کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

روایات کے مطابق اس کی موت کے بعد حجاج بن یوسف نے اس کی لاش کو سولی پر لٹکانے کا حکم دیا۔ چند روز بعد ان کی والدہ اسماء بنت ابی بکر کی درخواست پر لاش اتاری گئی اور مکہ کی مقبرۂ معلاۃ میں تدفین کی اجازت دی گئی۔

عبداللہ بن زبیر کی وفات کے ساتھ ہی زبیری حکومت مکمل طور پر ختم ہوگئی، حجاز دوبارہ اموی اقتدار میں شامل ہوگیا اور عبدالملک بن مروان نے کئی برسوں کی خانہ جنگی کے بعد اموی سلطنت کو ایک بار پھر متحد کر لیا۔

📚 حوالہ
- محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم والملوک (تاریخ الطبری)۔

[ سه شنبه سیزدهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 10:8 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
.: Weblog Themes By themzha :.

درباره وبلاگ

ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر
امکانات وب