Voice of Islam
إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسلامُ 
پيوندهای روزانه

بسم تعالی

درس نمبر ۲

(مولانا سید رمیز الحسن موسوی)

👈 *بسترِ مرگ پر شیطان کی موجودگی*

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

"کوئی انسان ایسا نہیں جس کی موت کے وقت شیطان اپنے نمائندوں میں سے کسی ایک کو اس کے پاس نہ بھیجے۔ وہ اسے وسوسوں میں مبتلا کرتا، اس کے دین میں شک پیدا کرتا اور اسے کفر کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وسوسہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اس کی روح جسم سے جدا نہ ہوجائے۔

لیکن اگر محتضر مؤمن ہو تو شیطان اس پر غالب نہیں آسکتا اور نہ ہی اس کا ایمان چھین سکتا ہے۔ لہٰذا جب بھی تم کسی محتضر کے پاس جاؤ تو اسے شہادتین کی تلقین کرو تاکہ شیطان اس پر قابو نہ پاسکے۔"

👈شیطان نے مہلت کیوں مانگی؟*

جب شیطان نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو وہ اللہ کی رحمت سے دھتکار دیا گیا۔ اس وقت اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک مہلت طلب کی تاکہ انسانوں کو گمراہ کرسکے۔

«قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ»

"اے میرے پروردگار! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔"(سورہ ص 79)

اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مقررہ وقت تک مہلت عطا فرمائی:

«إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ»

"ایک مقررہ وقت کے دن تک۔"(سورہ ص 81)

شیطان نے قسم کھائی کہ وہ اللہ کے خالص بندوں کے علاوہ تمام انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا:

«رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۝ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ»

"اے میرے پروردگار! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں بھی زمین میں ان کے لیے گناہوں کو خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا، سوائے تیرے ان بندوں کے جو مخلص ہیں۔"(سورہ حجر 39-40)

لہٰذا یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیطان انسان کو آخری لمحات تک گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی مکاری اور وسوسوں سے باز نہیں آتا۔

👈شیطان کی آخری کوششوں کے کون کون سے حربے ہیں؟*

1۔ شیطان کا کفر و شرک کی دعوت دینا

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ جب ہمارے کسی شیعہ کی موت کا وقت آتا ہے تو شیطان اس کے دائیں اور بائیں جانب سے آتا ہے تاکہ اسے ایمان سے گمراہ کرکے کفر کی طرف لے جائے، لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس سے محفوظ رکھتا ہے۔

2۔ شبہات اور شکوک پیدا کرنا

شیطان آخری وقت میں اپنے کارندوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ انسان کے دل میں دینی عقائد کے بارے میں شک و شبہات پیدا کریں۔

3۔ امامت و ولایت سے دور کرنا

ولایت اور امامت سے دوری شیطان کا ایک بڑا جال ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ مؤمن کو اہلِ بیتؑ سے جدا کردے اور اسے ان کی محبت و ولایت سے دور کردے۔

4۔ کمزوریوں اور دنیوی وابستگیوں کا غلط استعمال کرنا

شیطان انسان کی دنیوی وابستگیوں اور کمزوریوں سےفائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

روایت میں بیان ہوا ہے کہ موت کے وقت انسان کو شدید پیاس لگ سکتی ہے۔ شیطان ٹھنڈے پانی کا پیالہ لے کر آتا ہے اور پانی دینے کے بدلے اللہ تعالیٰ یا رسولؐ کا انکار کرنے کی شرط رکھتا ہے۔ اگر انسان اس کے بہکاوے میں نہ آئے تو وہ سعادت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔

5۔ برے اخلاق و صفات کا سبب بننا

حسد، تکبر، دنیا سے شدید محبت اور والدین کی نافرمانی، یعنی عاقِ والدین، جیسے برے اخلاق انسان کی سوء عاقبت اور برے انجام کا سبب بن سکتے ہیں۔

👈شیطان کے وسوسوں سے بچاؤ کے طریقے*

1۔ ایمان کو مضبوط رکھنا

انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں اپنے ایمان کو اتنا مضبوط کرے کہ آخری وقت میں شیطان اسے ڈگمگا نہ سکے۔

2۔ محتضر کو تلقین کرنا

محتضر کے پاس شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا انتہائی مؤثر قرار دیا گیا ہے۔

3۔ نماز کو قائم رکھنا

جو شخص اپنی نمازیں وقت اور شرائط کے مطابق ادا کرتا ہے، موت کے وقت ملک الموتؑ شیطان کو اس سے دور بھگا دیتے ہیں۔

4۔ محتضر کو مصلّٰی پر منتقل کرنا

اگر ممکن ہو تو محتضر کو گھر میں اس جگہ منتقل کیا جائے جہاں وہ شخص زیادہ نماز پڑھا کرتا تھا۔

5۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا

محتضر کے قریب سورۂ یٰسین اور سورۂ صافات کی تلاوت کرنا بھی بیان کیا گیا ہے۔

6۔ دعائے «رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا» پڑھنا

ہر واجب نماز کے بعد اس دعا کی مدد انسان کے ایمان کو ثابت قدم رکھنے کا ذریعہ بیان کی گئی ہے۔

7۔ دعائے عدیلہ پڑھنا

دعائے عدیلہ پڑھنا اور اپنے عقائد کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا آخری وقت میں شیطان کے شر سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

8۔ اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت پر قائم رہنا

اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت دنیا، برزخ اور موت کے وقت انسان کے کام آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا باعث بنتی ہے۔

👈 *خلاصہ درس*

موت انسان کی زندگی کا انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ اس وقت شیطان انسان کو وسوسوں، شکوک اور مختلف ترغیبات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی ہی میں ایمان کو مضبوط کرے، نماز کی پابندی کرے، قرآن سے وابستہ رہے، اپنے اخلاق درست کرے اور اہلِ بیتؑ کی محبت و ولایت کو مضبوطی سے تھامے۔

محتضر کے وقت اسے شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور دعاؤں کے ذریعے اس کے ایمان کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرنا اسلامی تعلیمات میں اہم امور کے طور پر بیان ہوا ہے۔

👈 *چند وضاحتیں*

مُحتَضَر : وہ شخص ہے جو حالتِ نزع میں ہو اور جس کی روح جسم سے جدا ہونے والی ہو۔

دعائے رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا: مفاتیح الجنان میں یہ دعا تعقیباتِ نماز کے ضمن میں آئی ہے

دعائے عدیلہ: مفاتیح الجنان میں موجود ہے، اور اس کا تعلق خاص طور پر حالتِ احتضار اور موت کے وقت ایمان کی حفاظت سے بیان کیا گیا ہے۔

[ چهارشنبه چهارم شهریور ۱۴۰۵ ] [ 14:17 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

صحاح ستہ کے شیعہ راوی جنہوں نے ھماری صحاح ستہ کا 80٪ بوجھ اٹھایا ھوا ھے ،
محمد بن مسلم ابن شھاب الزھری ،،
شیخ عباس قمی اپنی کتاب تتمۃ المنتہی میں لکھتے ھیں ،،
واختلف کلمات علمائنا فی مدحہ و قدحہ و قد فصل صاحب الروضات فقال انہ کان فی بدء امرہ من جملۃ علماء اھل السنہ و ندمائے حزب الشیطان ، ثمہ علمہ و ادراکہ ادرکاہ و ارشداہ الحق المبین فصیراہ فی اواخر عمرہ من الراجعین الی الامام زین العابدین علیہ السلام وفی زمرۃ المستفیدین من برکات انفاسہ الشریفہ ثم ذکرہ شوھد قولہ ،،
ابن شھاب الزھری کی مدح و قدح میں ھمارے علماء کے مختلف اقوال ھیں ، صاحب روضات نے تفصیل کرتے ھوئے اپنی کتاب روضات میں لکھا ھے کہ وہ ابتدا میں تو سنی علماء میں سے تھا اور شیطان کی پارٹی کے ھم نشینوں میں سے تھا ، پھر اس کے علم اور فہم نے اسے کھلے ھوئے حق کی طرف راھنمائی کی اور زندگی کے آخری حصوں میں اسے ان لوگوں میں سے بنا دیا جو امام زین العابدین سے رجوع کرنے والے تھے اور آپ کی خدمت شریف سے فیض حاصل کرنے والے تھے،،
اصول کافی میں اس کی احادیث نو مواقع پر درج ھیں شیعہ اسماء الرجال کی کتاب " عین الغزال فی اسماء الرجال " میں ابن شہاب الزھری کے تعارف میں شیعی لکھا ھوا ھے ،،
ھمارے محدثین کتنی بھی احتیاط کریں مگر جو لوگ خود کو چھپانا چاھیں وہ مہارت بھی حاصل کر لیتے ھیں یہانتک کہ اللہ پاک مدینے کے منافقین کے بارے میں اپنے رسول ﷺ کو فرماتے ھیں کہ مردوا علی النفاق ، لاتعلمھم نحن نعلمھم ،، یہ نفاق میں ماھر ھو چکے ھیں ، آپ ان کو نہیں پہچانتے ھم ان کو جانتے ھیں ،، چنانچہ قاضی نور اللہ شوستری اپنی کتاب مجالس المومنین میں لکھتا ھے کہ ھم لوگ شروع شروع میں سنی ، حنفی ،شافعی ، مالکی ،حنبلی بن کر اھل سنت کے استاذ اور ان کے شاگرد بنے رھے ، ان سے روایتیں لیتے تھے اور ان کو حدیثیں سناتے تھے اور تقیہ سے کام لیتے تھے

ابان بن تغلب بن رباح قاری کوفی
علامہ ذہبی ان کے حالات میں لکھتے ہیں :
“ ابان بن تغلب کوفہ کے رہنے والے تھے اور بڑے کٹر شیعہ ہیں لیکن صدوق ہیں۔ ہمیں ان کی سچائی سے غرض ہے ان کی بدعت کا بار ان کے سر ہے احمد بن حنبل ، ابو حاتم اور ابن معین نے انھیں موثق قرار دیا ہے۔ ابن عدی نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ بڑے غالی شیعہ تھے۔ ان سے امام مسلم او ابو داؤد و ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ نے حدیثیں روایت کی ہیں آپ کا انتقال سنہ۱۴۱ھ میں ہوا۔

ابراہیم بن یزید بن عمرو بن اسود بن عمرو نخعی کوفی
علامہ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔
ان کی حدیثیں صحیح بخاری ، مسلم دونوں میں موجود ہیں۔ ان کی پیدائش سنہ۵۰ھ اور انتقال سنہ۹۵ھ یا سنہ۹۶ھ میں حجاج کے مرنے کے چار مہینے کے بعد ہوا۔

احمد بن مفضل ابن کوفی حفری
ان سے ابوذرعہ و ابو حاتم نے روایت کی اور ان کی بیان کی ہوئی حدیث سے اپنے مسلک پر دلیل پیش کی ہے حالانکہ ابوزرعہ و ابو حاتم نے ان کی شیعیت کی صراحت بھی کی ہے۔ علامہ ذہبی نے ابوحاتم کا یہ فقرہ احمد بن مفضل کے متعلق نقل کیا ہے کہ احمد بن مفضل رؤساء شیعہ میں سے تھے اور صدوق تھے ان کی روایت کردہ حدیثیں سنن ابی داؤد ، سنن نسائی دونوں میں موجود ہیں۔

اسماعیل بن ابان
امام بخاری کے شیخ ہیں۔ بخاری و ترمذی دونوں نے ان کی حدیث سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے جیسا کہ علامہ ذہبی نے تحریر کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے یہ بھی ان کے متعلق لکھا ہے کہ یحی و احمد نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔ اور بخاری نے انھیں صدوق کہا ہے۔ امام بخاری نے متعدد جگہ صحیح بخاری میں بلاواسطہ ان کی حدیثیں ذکر کی ہیں۔

اسماعیل بن خلیفہ ملائی کوفی
ان کی کنیت ابو اسرائیل ہے اور اسی کے ساتھ مشہور بھی ہیں۔ علامہ ذہبی نے ان کا تذکرہ میزان الاعتدال میں ان الفاظ میں کیا ہے۔ کہ بڑے متعصب شیعہ اور ان لوگوں میں سے تھے جو عثمان کو کافر کہتے ہیں اور بھی بہت کچھ ان کے متعلق لکھا ہے لیکن ان سب کے باوجود ترمذی نے اور دیگر اصحابِ سنن نے ان سے روایت کی ہے۔ ابوحاتم نے ان کی حدیثوں کو حسن کہا ہے۔ ابوزرعہ نے کہا ہے کہ صدوق ہیں اگر چہ خیالات غالیانہ تھے امام احمد نے کہا ہے کہ ان کی حدیثیں درج کرنے کے قابل ہیں۔ ابن معین نے ثقہ کہا۔ فلاس نے کہا یہ جھوٹ بولنے والوں میں نہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ترمذی میں موجود ہیں۔ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔

اسماعیل ابن زکریا خلقانی کوفی
ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھا ہے کہ صدوق ہیں اور شیعہ ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جن سے صحاح ستہ میں حدیثیں لی گئی ہیں۔ ان کی حدیث بخاری اور مسلم میں موجود ہے۔ سنہ ۱۷۴ھ میں بغداد میں انتقال کیا۔

اسماعیل بن عباد بن عباس طالقانی
صاحب بن عباد کے نام مشہور ہیں ابو داؤد و ترمذی نے ان سے روایتیں لی ہیں۔ جیسا کہ امام ذہبی نے میزان میں صراحت کی ہے نیز یہ بھی لکھا ہے کہ بڑے با کمال ادیب اور شیعہ تھے۔ ان کی شیعیت میں کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا اور شیعیت ہی کی وجہ سے سلطنت بویہہہ کی وزارت عظمی پر فائز ہوئے۔ یہ پہلے وہ شخص ہیں جو صاحب کے لقب سے ملقب ہوئے اس لیے کہ یہ موید الدولہ بن بویہ کے جوانی کے زمانہ سے مصاحب رہے اور مؤید الدولہ ہی نے ان کا نام صاحب رکھا اور برابر اسی نام سے پکارے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ اسی نام سے مشہور ہوگئے اور ان کے بعد جو شخص وزارت کے درجہ پر آیا وہ بھی صاحب ہی کے نام سے پکارا گیا۔ یہ پہلے موید الدولہ کے وزیر رہے اس کے مرنے پر اس کے بھائی فخر الدولہ نے بھی انھیں وزارت عظمی پر برقرار رکھا۔ جب ان کا انتقال ہوا ( ۲۴ صفر سنہ۳۸۵ھ میں ۹۵ برس کی عمر میں) تو شہر رے کے دروازے بند ہوگئے اور تمام لوگ ان کے مکان پر آکر جنازہ کا انتظار کرنے لگے خود بادشاہ فخرالدولہ اور وزراء، و سروران فوج جنازہ میں ساتھ ساتھ تھے۔ یہ بڑے جلیل القدر عالم اور گرانقدر کتب و رسائل کے مصنف شخص تھے۔

اسماعیل بن عبدالرحمن بن ابی کریمہ مشہور مفسر
جو سدی کے نام سے شہرت رکھتے ہیں
علامہ ذہبی نے ان کے حالات میں لکھا ہے کہ متہم بالتشیع ہیں اور حسین بن واقد مروزی سے اس کی بھی روایت کی ہے کہ انھوں نے ابوبکر و عمر کو سب و شتم کرتے سنا تھا مگر ان سب کے باوجود ثوری ابوبکر بن عباس و غیرہ نے ان سے حدیثیں لیں اور امام مسلم و ترمذی و ابوداؤد ، ابن ماجہ، نسائی صاحبانِ صحاح نے ان کی حدیثیں اپنے مسلک کی تائید میں درج کی ہیں۔ امام احمد نے انھیں ثقہ، ابن عدی نے صدوق کہا ہے۔ یحی بن سعید کا قول ہے کہ میں نے ہر ایک کو دیکھا کہ وہ سدی کو اچھا ہی کہتا ہے اور سبھی نے اس سے حدیثیں لی ہیں سنہ۱۲۷ھ میں انتقال کیا ہے۔

اسماعیل بن موسی فزاری کوفی
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے حالات میں لکھا ہے کہ ابن عدی ان کے متعلق کہتے تھے کہ شیعیت میں بہت زیادہ غلو رکھنے کی وجہ سے لوگ انھیں ناپسند کرتے تھے اور عبدان بیان کرتے تھے کہ ہناد اور ابن شیبہ ہمارا اسماعیل کے پاس جانا پسند نہیں کرتے تھے اور کیا کرتے تم لوگ اس فاسق کے پاس جاکر کیا کرتے ہو جو بزرگوں کو سب وشتم کیا کرتاہے۔ ان سب کے باوجود ابن خزیمہ، ابو عرویہ اور بہت سے لوگوں نے ان سے حدیث کا استفادہ کیا اور یہ اس طبقہ کے شیخ تھے جیسے ابوداؤد و ترمذی وغیرہ۔ ان سب حضرات نے ان سے حدیث لی اور اپنے اپنے صحیح میں درج کی۔ ابوحاتم نے انھیں صدوق کہا ہے۔ نسائی نے کہا ہے کہ کوئی مضائقہ نہیں ان سے حدیث لینے میں۔ سنہ۲۴۵ھ میں انتقال کیا۔ بعض لوگ انھیں سدی کا نواسہ بتاتے ہیں۔

ت :-
تلید بن سلیمان کوفی
ابن معین نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ یہ عثمان کوسب وشتم کیا کرتے تھے۔ بعض عثمانیوں نے سن لیا۔ انھوں نے اسے تیر مارا جس سے ان کا پیر ٹوٹ گیا۔ ابوداؤد نے ان کے متعلق کہا کہ یہ رافضی ہیں۔ ابوبکر و عمر کو سب وشتم کیا کرتے تھے مگر ان سب کے باوجود احمد و ابن نمیر نے ان سے تحصیل حدیث کی۔ امام احمد نے ان کے متعلق کہا کہ تلید شیعہ ہیں مگر ان سے حدیث لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ صحیح ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

ث :-
ثابت بن دینار
جو ابوحمزہ ثمالی کے نام سے مشہور ہیں ان کی شیعیت اظہر من الشمس ہے۔ ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

ثوبر بن ابی فاختہ
ام ہانی بنت ابی طالب کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ذہبی نے ان کے رافضی ہونے کی صراحت کی ہے۔ امام محمد باقر(ع) کے عقیدت مندوں میں تھے ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

ج : -
جابر بن یزید جعفی کوفی
علامہ ذہبی نے ان کے حالات میں لکھا ہے کہ یہ علماء شیعہ میں سے تھے۔ نیز سفیان سے ان کا قول نقل کیا ہے کہ انھوں نے جابر کو کہتے سنا۔ علم پیغمبر(ص) سے علی(ع) کی طرف منتقل ہوا اور علی(ع) سے حسن(ع) کی طرف۔ ایک امام سے دوسرے امام تک منتقل ہو کر امام جعفر صادق(ع) تک پہنچا یہ امام جعفر صادق(ع) کے زمانہ میں تھے اور آپ نے بکثرت حدیثیں حاصل کیں چنانچہ خود جابر کہا کرتے تھے کہ میرے پاس ستر ہزار حدیثیں امام محمد باقر(ع) کی روایت کردہ ہیں۔ جابر جب امام محمد باقر(ع) سے کوئی حدیث روایت کر کے بیان کرتے تھے تو کہتے مجھ سے وصی الانبیاء نے بیان کیا۔ علامہ ذہبی نے میزان میں زائدہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جابر رافضی ہیں۔ سب و شتم کیا کرتے ہیں، ان سے امام ابو داؤد وترمذی ، نسائی نے حدیثیں روایت کی ہیں۔ سفیان ثوری نے انھیں حدیث میں بہت محتاط کہا ہے۔ شیعہ نے صدوق قرار دیا ہے۔ وکیع نے ثقہ کہا ہے سنہ ۱۲۷ھ میں انتقال کیا۔

جریر بن عبدالحمید جنبی کوفی
علامہ ابن قتیبہ نے اپنی کتاب معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال کا تذکرہ کرتے ہوئے بڑی حمدو ثنا کی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ جریر اہل رے کے عالم اور صدوق ہیں اور ان کے اقوال سے کتابوں میں استدلال کیا جاتا ہے اور ان کے ثقہ ہونے پر جملہ محدثین کا اجماع و اتفاق ہے۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہیں سنہ۱۷۸ھ میں انتقال کیا۔

جعفر بن زیاد احمر کوفی
امام ابوداؤد نے ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ صدوق ہیں اور شیعہ ہیں۔ ابن عدی نے انھیں صالح اور شیعہ لکھا ہے۔ ابن معین نے ثقہ، امام احمد نے صالح الحدیث فرمایا ہے۔ صحیح ترمذی و سنن نسائی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ ۱۶۷ھ میں انتقال کیا۔

جعفر بن سلیمان ضبعی بصری
علامہ ابن قتیبہ نے معارف صفحہ ۲۰۶ میں انھیں مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے ابن سعد نے ان کی شیعیت اور ثقہ ہونے کی تصریح کی ہے۔ ابن عدی ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ شیعہ ہیں ۔ میں توقع کرتا ہوں کہ ان کوئی حرج نہیں اور ان کے حدیثیں قابل انکار نہیں اور میرے نزدیک اس قابل ہیں کہ ان کی حدیثیں قبول کی جائیں۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں انھیں راہد علمائے شیعہ میں سے لکھا ہے ان کی حدیثیں صحیح مسلم و نسائی میں موجود ہیں سنہ۱۷۹ھ میں انتقال کیا۔

جمیع بن عمیرہ بن ثعلبہ کوفی تیمی
میزان الاعتدلال میں ہے کہ ان کے متعلق ابو حاتم کا یہ فقرہ ہے کہ صالح الحدیث اور شرفا الشیعہ سے ہیں۔ جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

ح :-
حارث بن حصیرہ کوفی
ابوحاتم رازی، ابو احمد زبیری، ابن عدی ، یحی بن معین ، امام نسائی وغیرہ نے ان کی شیعیت کی تصریح بھی کی ہے اور ان کے ثقہ ہونے کا بھی اقرار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے انھیں صدوق لکھا ہے۔ امام نسائی نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔

حارث بن عبداﷲ ہمدانی
صحابی و حواری امیرالمومنین(ع) ، ابن قتیبہ نے مشاہیر شیعہ میں پہلے ان کا ہی نام لکھا ہے۔ ذہبی نے لکھا ہے کہ یہ کبار علماء تابعین سے تھے اور ابن حبان انھیں بہت غالی شیعہ کہا کرتے تھے۔ جمہور اہلسنت انھیں اسی شیعیت کی وجہ سے بہت دشمن رکھتے تھے مگر باوجود اس کے ان کے علم و فضل اور ثقہ ہونے سے کسی کو انکار نہیں۔ سنن ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ وابو داؤد میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۶۵ھ میں انتقال کیا۔

حبیب بن ابی ثابت اسدی
کوفہ کو رہنے والے اور تابعی ہیں۔ ابن قتیبہ نے معارف میں شہرستانی نے ملل و نحل میں انھیں مشاہییر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ ان سے جملہ اربابِ صحاح ستہ نے بلا تردد روایتیں لی ہیں۔ سنہ ۱۱۹ھ میں انتقال کیا۔

حسن بن حیَ
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھتے ہیں یہ اجلہ علماء میں سے ہیں اور ان میں شیعیت کی بدعت موجود تھی۔ نماز جمعہ میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ ظالم حکام پر خروج جائز جانتے تھے۔ عثمان پر ترس نہیں کھاتے تھے۔ ابن سعد نے طبقات جلد۶ میں ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ثقہ ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ہیں اور یہ شیعہ تھے۔ ابن قتیبہ نے بھی ان کی شیعیت کی تصریح کی ہے۔ صحیح مسلم اور دیگر سنن میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۱۰۰ ھ میں پیدا اور سنہ۱۹۹ھ میں انتقال کیا۔

حکم بن عتیبہ کوفی
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۱۱۵ھ میں انتقال کیا۔

حماد بن عیسیٰ
صاحب منتہی المقال و غیرہ نے انھیں علماء شیعہ میں سے لکھا ہے اور ہر ایک نے انھیں ثقہ و معتمد سمجھا ہے۔ و امام موسی کاظم(ع) کے اصحاب میں سے ہیں۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ترمذی اور دیگر سنن میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

حمران بن اعین
مشہور ترین صحابی امام محمد باقر(ع) و امام جعفر صادق(ع) ۔ سنن ابی داؤد و غیرہ میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

خ : -
خالد بن مخلد قطوانی کوفی
امام بخاری کے شیخ الحدیث ہیں۔ علامہ ابن سعد نے طبقات جلد۶ صفحہ۲۸۳ میں اور امام ابو داؤد نے انھیں شیعہ اور صدوق لکھا ہے۔ امام بخاری و مسلم دونوں نے ان کی حدیثیں اپنی صحیح میں درج کی ہیں اور بھی دیگر اصحاب سنن نے ان کی شیعیت سے واقف ہوتے ہوئے ان کی حدیثوں سے کام لیا ہے۔

ز : -
زبید بن حارث بن عبدالکریم کوفی
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے حالات میں لکھتے ہیں کہ یہ ثقات تابعین مین سے ہیں اور ان میں تشیع تھا۔ اس کے بعد ذہبی نے بہت سے علماء و محدثین کے اقوال ان کے ثقہ ہونے کے متعلق نقل کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہیں۔ سنہ۱۲۴ھ میں انتقال کیا۔

زید بن الحباب کوفی تمیمی
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے اور علامہ ذہبی نے انھیں عابد ، ثقہ اور صدوق لکھا ہے اور ان کے ثقہ و صدوق ہونے کے متعلق دیگر بہت سے علماء کے اقوال نقل کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح مسلم میں موجود ہیں۔

س :-
سالم بن ابی الجعد اشجعی کوفی
ابن سعد نے طبقات جلد۶ صفحہ۲۰۳ میں ابن قتیبہ نے معارف صفحہ۱۵۶ علامہ شہرستانی نے ملل و نحل جلد۲ صفحہ۲۷ میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے علامہ ذہبی نے انھیں ثقات تابعین میں لکھا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم دونوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

سالم بن ابی حفصہ عجلی کوفی
علامہ شہرستانی نے ملل و نحل میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں اور علامہ ابن سعد نے طبقات جلد۶ صفحہ ۲۳۴ میں ان کی شدت تشیع کی کیفیت ذکر کی ہے۔ ان کی حدیثیں جامع ترمذی میں موجود ہیں۔ سنہ۱۳۷ھ میں انتقال کیا۔

سعد بن طریف الاسکاف حنظلی کوفی
علامہ ذہبی نے علماء محدثین کے اقوال ان کے تشیع کے متعلق درج کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ترمذی میں موجود ہیں۔

سعید بن اشوع
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ کوفہ کے قاضی تھے اور مشہور صدوق ہیں۔ امام نسائی نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ ان میں کوئی خرابی نہ تھی۔ جو زجانی نے کہا ہے کہ یہ بڑے غالی اور شیعیت میں حد سے بڑے ہوئے تھے۔ صحیح بخاری و مسلم دونوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

سعید بن خیثم
یحی بن معین سے ان کے متعلق پوچھا گیا کہ سعید بن خیثم شیعہ ہیں آپ ان کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔ انھوں نے کہا شیعہ ہوں گے مگر ہیں ثقہ جامع ترمذی و سنن نسائی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

سلمہ بن الفضل الابرش
رے کے قاضی تھے۔ ان کی شیعیت کی علماء نے صراحت کی ہے مگر ارباب صحاح نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔ چنانچہ جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

سلمہ بن کمیل بن حصین حضرمی
علامہ قتیبہ نے معارف صفحہ ۲۰۶ میں، علامہ شہرستانی نے ملل و نحل جلد۲ صفحہ۲۷ میں ان کو مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے۔ جملہ ارباب صحاح ستہ نے ان کی حدیثوں سے کام لیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں سنہ ۱۲۱ھ میں انتقال کیا۔

سلیمان بن صرد خزاعی کوفی
شیعیان عراق کے بزرگ ترینِ فرد اور مرجع مومنین بزرگ تھے۔ انتقام خون حسین(ع) لینے والوں کے راس و رئیس اور قائد بھی تھے۔ جملہ ارباب سیر و تاریخ نے ان کے علم و فضل زہد و ورع عبادت کا فراخ دلی سے تذکرہ کیا ہے جنگِ صفین میں امیرالمومنین(ع) کے ہمراہ تھے۔ دشمنان اہل بیت(ع) کو گمراہ سمجھتے تھے ان کی حدیثیں صحیح مسلم و صحیح بخاری دونوں میں موجود ہیں۔

سلیمان بن طرخان تیمی بصری
ابنِ قتیبہ نے اپنی کتاب معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے ان کی حدیثوں سے اربابِ صحاح نے بھی کام جلیا ہے اور دیگر محدثین بے بھی صحیح بخاری و مسلم دوںوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ ۱۴۳ھ میں انتقال کیا۔

سلیمان بن قرم بن معاذضبی کوفی
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق ابن حبان کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ بڑے غالی رافضی تھے اور ابن عدی نے ان کے متعلق یہ کہا ہے کہ ان کی حدیثیں عمدہ ہیں۔ صحیح مسلم، سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

سلیمان بن مہران کاہلی کوفی مشہور بہ اعمش
یہ بزرگان شیعہ سے ایک جلیل القدر فرد اور کبار محدثین میں نامور بزرگ ہیں بہت سے محققین علماء اہل سنت مثلا ابن قتیبہ نے اپنی معارف میں اور علامہ شہرستانی نے اپنی ملل ونحل میں اور دیگر حضرات نے ان کی شیعہ ہونے کی صراحت کی ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں جوزجانی کا یہ فقرہ نقل کیا ہے کہ باشندگان کوفہ میں سے ایک جماعت ایسی تھی کہ لوگ ان کے عقائد و مذہب کو ناپسند سمجھتے تھے۔ مگر وہی حضرات محدثین کوفہ کے راس و رئیس تھے مثلا ابو اسحاق منصور زبید یامی اور اعمش اور انھیں جیسے دیگر حضرات کو ان کے سچے ہونے کی وجہ سے ان کی حدیثوں کو لوگوں نے سر آنکھوں پر رکھا جو زجانی کا یہ فقرہ جس قدر رکیک اور ان کے تعصب کا مظہر ہے پوشیدہ نہیں۔ ناصبی لوگوں نے ان بزرگوں کے مذہب و عقائد کو جو پسند نہیں کیا تو محض اس جرم کی وجہ سے کہ یہ حضرات اہل بیت(ع) کی محبت دل میں رکھ کر ان کے دامن سے متمسک ہوکر اجر رسالت پیغمبر(ص) ادا کرتے تھے۔ ناصبی افراد نے ان کی حدیثوں کو سر آنکھوں پر جو رکھا تو محض اس وجہ سے نہیں کہ یہ حضرات سچے تھے بلکہ اس لیے کہ بغیر ان کی طرف رجوع کیے ہوئے کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اگر ایسے حضرات کی حدیثیں یہ ناصبی لوگ ٹھکرا دیتے تو پیغمبر(ص) کی ساری حدیثیں ہوا ہوجاتیں۔ سنن و آثار پیغمبر(ص) کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ جیسا کہ خود علامہ ذہبی نے ابان بن تغلب کے تذکرہ کے سلسلہ میں اعتراف کیا ہے۔
اعمش کے چند عجیب و غریب نوادر ہیں جو ان کی جلالت و قدر کا ظاہر کرتے ہیں چنانچہ علامہ ابن خلکان ان کے حالات میں یہ واقعہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے ان کے پاس اپنا قاصد بھیجا کہ عثمان کے فضائل اور علی(ع) کی برائیاں مجھے لکھ بھیجو۔ اعمش نے ہشام کا خط لے کر بکری کے منہ میں دے دیا اور وہ اس خط کو چبا گئی اور قاصد سے کہا جا کر ہشام سے کہہ دینا کہ تمہارے خط کا یہی جواب ہے۔ قاصد نے کہا کہ ہشام نے قسم کھائی تھی کہ اگر میں تمہارا جواب لے کر نہ گیا تو مجھے قتل کر ڈالے گا۔ قاصد نے اعمش کے اعزہ و احباب سے بھی سفارش کرائی۔ جب سب نے اصرار کیا تو انھوں نے جواب میں لکھا۔
“ اگر دنیا بھر کے لوگوں کے فضائل عثمان کو حاصل ہوجائیں اور دنیا بھر کے لوگوں کی برائیاں علی(ع) میں اکٹھا ہوجائیں تو تمہیں کیا تم اپنے آپ کو دیکھا کرو۔”
علامہ بن عبدالبر نے ان کا ایک واقعہ یہ نقل کیا ہے کہ فضل بن موسی بیان کرتے تھے کہ امام ابو حنیفہ کے ہمراہ اعمش کی عیادت کو گیا ابو حنیفہ نے کہا اے ابو محمد (اعمش) اگر تمہارے بارِ خاطر نہ ہوتا تو میں جتنی بار تمہاری عیادت کو آتا ہوں اس سے زیادہ آتا۔ اعمش نے کہا کہ خدا کی قسم جب تم اپنے گھر میں ہوتے ہو تو بھی میرے لیے بارگراں ہوتے ہو جب میرے پاس ہوگے تو میرا کیا حال ہوگا؟
ایک اور ان کا واقعہ شریک بن عبداﷲ قاضی کی زبانی ہے۔ شریک کہتے ہیں کہ میں اعمش کے مرض الموت میں ان کے پاس حاضر تھا کہ اتنے میں ابن شبرمہ اور ابن ابی لیلیٰ اور امام ابوحنیفہ ان کی عیادت کو آئے۔ لوگوں نے ان کی مزاج پرسی کی، انھوں نے انتہائی کمزوری و نقاہت کا ذکر کیا۔ اپنی خطاؤں پر اپنی ہراسانی ظاہر کی اور کچھ آب دیدہ سے ہوگئے۔ امام ابو حنیفہ مڑے اور انھوں نے فرمایا : اے ابو محمد! خدا سے ڈریے اور اپنے اوپر ترس کھائیے۔ آپ حضرت علی(ع) کے متعلق ایسی حدیثیں بیان کرتے تھے اگر آپ ان سے توبہ کرلیتے تو آپ کے لیے اچھا ہوتا۔ اعمش نے کہا۔ تم میرے ایسے شخص کے لیے ایسی بات کہتے ہو اور خوب سخت و سست سنایا۔ مختصر یہ کہ اعمش بڑے ثقہ و معتمد عالم و فاضل بزرگ تھے۔ ان کے صدق و عدالت تقوی و پرہیزگاری پر سب کا اتفاق ہے۔ جملہ ارباب صحاح و غیرہ نے ان کی روایت کردہ حدیثوں سے کام لیا ہے۔
صحیح بخاری ، صحیح مسلم سب ہی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۶۱ ھ میں پیدا ہوئے۔ سنہ۱۴۸ھ میں انتقال کیا۔

ش :-
قاضی شریک بن عبداﷲ بن سنان بن انس نخعی کوفی
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے۔ میزان الاعتدال علامہ ذہبی میں بہ ذیل حالاتِ شریک مذکور ہے۔ عبداﷲ بن ادریس خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ شریک شیعہ ہیں۔ اسی میزان میں یہ بھی ہے کہ ابو داؤد درہاوی روایت کرتے ہیں کہ ہم نے شریک کو کہتے سنا کہ :
“ علی خير البشر فمن ابی فقد کفر”
“ علی(ع) تمام خلائق میں سب سے بہتر ہیں جس نے اس کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔”
مطلب یہ ہے کہ حضرت علی(ع) بعد رسول اﷲ(ص) سب سے بہتر ہیں۔ شریک منجملہ ان حضرات کے ہیں جنھوں نے امیرالمومنین(ع) کے نص خلافت کی حدیثیں روایت کی ہیں چنانچہ میزان الاعتدال میں ایک مرفوع حدیث ابوہریرہ سے ہے:۔
“لکل نبی وصی و وارث وان عليا وصيی و وارثی”
“ ارشاد فرمایا پیغمبر نے کہ ہر نبی کا وصی و وارث ہوا کرتا ہے اور علی میرے وصی و وارث ہیں۔”
یہ شریک حضرت علی کے فضائل و مناقب کی نشر و اشاعت میں بڑے مستعد و سرگرم اور آپ کے فضائل و مناقب بیان کر کے بنوامیہ کو خوب زچ کیا کرتے تھے۔
مورخ ابن خلکان نے اپنی کتاب وفیات الاعیان میں بسلسلہ حالاتِ شریک کتاب درة الغواص سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ:
“ ایک اموی شخص شریک کی صحبت میں اٹھا بیٹھا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ شریک نے حضرت علی کے فضائل بیان کیے۔ اس پر اموی نے کہا : “ نعم الرجل علی” اچھے شخص تھے علی ” اس پر شریک کو غصہ آگیا اور بگڑ کر کہنے لگے کہ کیا علی کے لیے بس یہی کہہ دینا کافی ہے؟ نعم الرجل” اچھے شخص تھے۔” اس سے زیادہ کچھ اور نہیں کہنے کو؟۔”
شریک کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد کسی کو بھی اس میں ذرہ برابر شک و شبہ نہیں رہے گا کہ یہ دوستدارانِ اہلبیت میں سے تھے اور علماء اہلبیت سے بکثرت حدیثیں انھوں نے روایت کی ہیں۔ عبداﷲ بن مبارک ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ سفیان سے زیادہ حدیث کے عالم ہیں اور دشمنانِ علی کے سخت ترین دشمن تھے اور انھیں بہت برا کہا کرتے۔ ایک مرتبہ عبدالسلام بن حزب نے شریک سے پوچھا کہ اپنے ایک بھائی کی عیادت کو چلتے ہو؟
پوچھا کون؟ عبدالسلام نے کہا مالک بن مغول۔ شریک نے کہا جو شخص علی و عمار کو عیب لگائے وہ میرا بھائی نہیں۔
ایک مرتبہ شریک کے سامنے معاویہ کا تذکرہ ہوا۔ لوگوں نے کہا معاویہ بڑے حلیم تھے۔ شریک نے کہا۔ جو شخص حق سے اعراض کرے اور علی سے جنگ کرے وہ حلیم ہرگز نہیں۔ انھیں شریک نے ہی یہ حدیث پیغمبر روایت کی ہے:
“ اذا رايتم معاويه علی منبر فاقتلوه۔”
“ جب تم میرے منبر پر معاویہ کو دیکھنا قتل کر ڈالنا”
مختصر یہ کہ ان کا شیعہ ہونا اظہر من الشمس ہے مگر باوجود اس کے علامہ ذہبی نے انھیں حافظ و صدوق اور یکے از ائمہ کہا ہے اور ابن معین کا ان کے متعلق لکھا ہے کہ یہ منجملہ خزینہ داران علم تھے۔ ان سے اسحاق ارزق نے نو ہزار حدیثیں حاصل کیں۔ امام مسلم اور دیگر ارباب صحاح نے بھی ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے اور اپنے صحاح نے بھی ان کی روایات کو لیا ہے ۔
منقول ۔

[ دوشنبه بیست و ششم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 11:8 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

اگر زمین گھوم رہی ہے تو جہاز پیچھے کیوں نہیں رہ جاتا؟ زمین کی حرکت کو بالکل عام مثالوں سے سمجھنے کی ایک کوشش
​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
​یہ تحریر خاص طور پر ان دوستوں کے لیے ہے جو کہتے ہیں کہ اگر زمین اتنی تیزی سے گھوم رہی ہے تو ہمیں محسوس کیوں نہیں ہوتا؟ یا جہاز زمین سے اوپر اٹھ جائے تو زمین اس کے نیچے سے کیوں نہیں نکل جاتی؟ اگر زمین سورج کے گرد ایک لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے جا رہی ہے تو ہم سب پیچھے کیوں نہیں رہ جاتے؟ یہ سوال بے وقوفانہ نہیں ہیں۔ جس شخص نے حرکت کے بنیادی اصول باقاعدہ نہیں پڑھے، اس کے ذہن میں یہ سوال آنا بالکل فطری ہے۔ اس لیے آج ہم مشکل اصطلاحات اور پیچیدہ مساوات سے بچ کر اسے روزمرہ زندگی کی مثالوں سے سمجھیں گے۔ بس ایک بات ذہن میں رکھیں کہ کسی بات کا فوری طور پر ہماری عقل میں نہ آنا، اس بات کے غلط ہونے کی دلیل نہیں ہوتا۔
​فرض کریں ایک بڑی آرام دہ بس 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بالکل ہموار سڑک پر چل رہی ہے۔ آپ بس میں بیٹھے ہیں اور آپ کے ہاتھ میں ایک سیب ہے۔ آپ سیب کو سیدھا اوپر اچھالتے ہیں۔ سیب ہوا میں گیا اور اس لمحے اس کا بس کے فرش سے رابطہ ختم ہو گیا۔ چونکہ بس 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے آگے بڑھ رہی ہے، تو کیا سیب بس کے پچھلے حصے میں جا کر گرے گا؟ نہیں۔ وہ تقریباً آپ کے ہاتھ میں واپس آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیب کو اوپر اچھالنے سے پہلے وہ پہلے ہی بس کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ جس لمحے آپ نے اسے اوپر اچھالا، اس نے اپنی وہ آگے والی حرکت اچانک کھو نہیں دی۔
​بس یہی ایک بات سمجھ آ گئی تو زمین اور جہاز والا آدھا مسئلہ یہیں ختم ہو گیا۔ اب بس کی جگہ زمین کو رکھ کر دیکھیں۔ ہم زمین پر کھڑے ہیں اور زمین اپنے محور پر گھوم رہی ہے۔ خطِ استوا کے قریب اس سطح کی رفتار تقریباً 1,670 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچتی ہے، اور یہی زمین سورج کے گرد تقریباً 107,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ یہ اعداد کوئی اندازے نہیں بلکہ فلکیاتی پیمائشوں سے معلوم کیے گئے ہیں۔ لیکن یہاں وہ بات یاد رکھیے جو بس میں سیکھی تھی۔ آپ زمین پر کھڑے ہیں تو صرف زمین نہیں چل رہی، بلکہ آپ بھی زمین کے ساتھ چل رہے ہیں۔ آپ کا مکان، آپ کی گاڑی، ایئرپورٹ اور رن وے سب چل رہے ہیں۔
​رن وے پر کھڑا جہاز بھی زمین کی اس حرکت میں پہلے سے شریک ہے۔ اور زمین کے گرد موجود فضا بھی مجموعی طور پر اسی زمین کے ساتھ حرکت کر رہی ہے، اگرچہ اس کے اندر ہوائیں مختلف سمتوں اور رفتاروں سے چلتی رہتی ہیں۔ زمین کی گردش واقعی فضائی حرکات پر قابلِ پیمائش اثرات ڈالتی ہے۔ یہاں اصل غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ بعض دوست سمجھتے ہیں کہ جیسے ہی جہاز کے پہیے زمین سے اٹھے، اس کا زمین کی حرکت سے سارا تعلق ختم ہو گیا۔ ایسا نہیں ہوتا۔ جہاز اڑنے سے ایک سیکنڈ پہلے زمین کے ساتھ حرکت کر رہا تھا۔ ایک سیکنڈ بعد فضا میں پہنچتے ہی اس کی وہ تمام حرکت غائب نہیں ہو جاتی، بالکل اسی طرح جیسے چلتی بس میں اچھالی ہوئی گیند بس کی آگے والی رفتار اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔
​آپ یہ بات خود ایک اور تجربے سے سمجھ سکتے ہیں۔ ایک ہموار رفتار سے چلتی ٹرین کے اندر چھلانگ لگائیے۔ آپ کا جسم چند لمحوں کے لیے فرش سے الگ ہو جائے گا۔ کیا ٹرین آپ کے نیچے سے نکل جائے گی اور آپ دس سیٹ پیچھے جا گریں گے؟ نہیں۔ آپ تقریباً اسی جگہ اتریں گے کیونکہ چھلانگ لگاتے وقت آپ بھی ٹرین کی رفتار میں شریک تھے۔ ایک بند گاڑی ہموار رفتار سے چل رہی ہو اور اس کے اندر ایک مکھی اڑ رہی ہو، تو کیا گاڑی 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے آگے نکل جاتی ہے اور مکھی فوراً پچھلے شیشے سے جا ٹکراتی ہے؟ نہیں۔ مکھی، گاڑی اور گاڑی کے اندر کی ہوا پہلے سے اسی مجموعی حرکت میں شریک ہیں۔ زمین کا معاملہ بہت بڑا ہے، مگر بنیادی تصور اسی قسم کا ہے۔
​پھر ہمیں زمین کی رفتار محسوس کیوں نہیں ہوتی؟ ہمیں عام طور پر ہموار رفتار اتنی محسوس نہیں ہوتی جتنی رفتار میں اچانک تبدیلی۔ آپ ایک بڑے مسافر جہاز میں بیٹھے ہوں اور جہاز ایک مستقل رفتار سے ہموار پرواز کر رہا ہو۔ اگر کھڑکی بند کر دی جائے تو کئی مرتبہ آپ صرف اپنے جسم سے یہ بھی اندازہ نہیں کر سکتے کہ جہاز 900 کلومیٹر فی گھنٹہ سے چل رہا ہے۔ مگر جہاز اچانک نیچے آئے، مڑے یا جھٹکا لگے تو فوراً محسوس ہوگا۔ اسی طرح گاڑی میں بھی 120 کی رفتار سے زیادہ، زور سے لگنے والی بریک محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مجھے زمین کی حرکت محسوس نہیں ہوتی اس لیے زمین حرکت نہیں کرتی، ایسا ہی ہے جیسے جہاز کا مسافر کہے کہ مجھے رفتار محسوس نہیں ہو رہی، لہٰذا جہاز رکا ہوا ہے۔
​اگر زمین اتنی تیز گھوم رہی ہے تو ہم اڑ کیوں نہیں جاتے؟ کیونکہ زمین ہمیں اپنی کششِ ثقل (Gravity) سے اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور ہم اسی کشش کی وجہ سے زمین پر قائم ہیں۔ زمین کی گردش کا ایک معمولی اثر ضرور موجود ہے، مگر وہ اتنا نہیں کہ زمین کی کشش پر غالب آ کر انسانوں، سمندروں اور عمارتوں کو خلا میں پھینک دے۔ ہواؤں، سمندری دھاروں، راکٹوں اور طویل فاصلے کی حرکات میں زمین کی گردش کے اثرات واقعی سامنے آتے ہیں اور انہیں باقاعدہ ناپا جاتا ہے۔ جہاز مشرق کی طرف جائے تو زمین بھی گھوم رہی ہے، لیکن جہاز جس ہوائی فضا میں اڑ رہا ہے وہ کوئی ایسی ساکن چادر نہیں جس کے نیچے زمین اکیلی گھومتی چلی جا رہی ہو۔ فضا بھی زمین سے جڑی ہوئی ہے اور مجموعی طور پر زمین کی گردش میں شریک ہے۔
​کچھ دوست کہتے ہیں کہ یہ بات میری عقل میں نہیں آتی۔ یہ کہنا بالکل جائز ہے کیونکہ ہر چیز ہر انسان کی عقل میں پہلی دفعہ نہیں آتی۔ لیکن اگلا جملہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ لہٰذا یہ غلط ہے۔ فرض کیجیے ڈاکٹر آپ کے سامنے دل کی ای سی جی (ECG) رکھ کر کہتا ہے کہ یہاں ایک مسئلہ ہے۔ آپ کو وہ کاغذ صرف ٹیڑھی میڑھی لکیروں کا مجموعہ دکھائی دیتا ہے۔ کیا آپ کہیں گے کہ مجھے ان لکیروں میں بیماری نظر نہیں آ رہی، لہٰذا ڈاکٹر جھوٹ بول رہا ہے؟ نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر نے برسوں وہ علم پڑھا ہے جو آپ نے نہیں پڑھا۔ شک ہو تو آپ دوسرے ڈاکٹر سے رائے لیں گے، مگر صرف اپنی ناسمجھی کی بنیاد پر اسے جھوٹا نہیں کہیں گے۔
​یہی اصول فلکیات پر بھی لگائیے۔ اگر آپ کو ناسا پسند نہیں، تو جاپان، چین، روس، یورپ اور بھارت کے ماہرین کو دیکھ لیجیے۔ دنیا کے مختلف ممالک اور بعض اوقات ایک دوسرے کے حریف ممالک، زمین کی بنیادی حرکت اور خلائی پرواز کے حسابات میں ایک ہی طبیعی قوانین استعمال کرتے ہیں۔ خلا میں صرف انگریز نہیں گئے، مسلمان بھی جا چکے ہیں۔ ہمارے اپنے خطے کی ایک خوبصورت مثال سعودی عرب کی ریانہ برناوی ہیں، جو 2023 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر گئیں اور خلا میں جانے والی پہلی سعودی خاتون بنیں۔ ان کے ساتھ سعودی خلاباز علی القرنی بھی شامل تھے۔ آپ کے اپنے خطے کے لوگ وہاں جا رہے ہیں، زمین کو اوپر سے دیکھ رہے ہیں، تجربات کر رہے ہیں اور واپس آ رہے ہیں۔
​اب اگر کوئی کہے کہ یہ سب جھوٹ ہے، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنے ممالک، سائنس دان، انجینئر اور خلاباز جھوٹ بول رہے ہیں؟ اور یہ سب ایک دوسرے کے حریف ہو کر ایک ہی جھوٹ پر کیسے متفق ہو گئے؟ مجھے سمجھ نہیں آیا، ایک بہترین جملہ ہے جس سے شرمانا نہیں چاہیے۔ آپ کو موبائل فون کے اندر اربوں مائیکروسکوپک آپریشنز یا جی پی ایس (GPS) کی مکمل ریاضی معلوم نہیں ہوتی، مگر آپ انہیں روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کے لیے آپ کی ذاتی سمجھ کائنات کا معیار نہیں بن جاتی۔ اگر بات سمجھ آ گئی تو بہت اچھا، نہیں آئی تو سوال کریں، پڑھیں، مگر عاجزی کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
​حاصلِ کلام
​ہم ایک ایسی زمین پر رہ رہے ہیں جو مسلسل حرکت میں ہے، اور ہم خود بھی فضا سمیت اسی نظام کی مجموعی حرکت میں شریک ہیں۔ چلتی ہوئی زمین سے جہاز کے اٹھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جہاز زمین کی پہلے سے حاصل شدہ حرکت کھو بیٹھا، بالکل اسی طرح جیسے چلتی ٹرین میں اچھالی ہوئی گیند پیچھے نہیں رہ جاتی۔ زمین کا گھومنا پہلی نظر میں عجیب ضرور لگ سکتا ہے، مگر کسی چیز کا عجیب لگنا اور اس کا سائنسی طور پر غلط ہونا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔ علم کا پہلا دروازہ یہی ہے کہ انسان میں اتنی ہمت ہو کہ وہ کہہ سکے: "یہ بات ابھی میری سمجھ میں نہیں آئی، آئیے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔"
​حوالہ جات:
​فزکس کے بنیادی اصول — قانونِ جمود (Law of Inertia) اور اضافی حرکت (Relative Motion)۔
​ناسا (NASA) — زمین کی گردش اور فضائی حرکات (Coriolis Effect) پر تحقیقاتی رپورٹ۔
​سعودی خلائی ایجنسی (Saudi Space Agency) — ریانہ برناوی اور علی القرنی کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کا مشن 2023۔
​#زمین_کی_گردش #سائنس #فلکیات #قانون_جمود #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں


ادامه مطلب
[ یکشنبه بیست و پنجم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 5:7 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

*چالیس احادیث از امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام*

۱۔ عقل اور ادب

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

لَا أَدَبَ لِمَنْ لَا عَقْلَ لَهُ۔

ترجمہ:

جس شخص میں عقل نہیں، اس میں ادب بھی نہیں۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۱، ح ۶۔

________________________________________

۲۔ بخل کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بخل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا:

أَنْ تَرَى مَا فِي يَدَيْكَ شَرَفًا، وَمَا أَنْفَقْتَ تَلَفًا۔

ترجمہ:

بخل یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود مال کو باعثِ عزت سمجھے اور جو کچھ خرچ کرے اسے ضائع شدہ تصور کرے۔

ماخذ: وسائل الشیعة، ج ۱۶، ص ۵۳۹، ح ۱۔

________________________________________

۳۔ بزدلی کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بزدلی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

الجُرْأَةُ عَلَى الصَّدِيقِ، وَالنُّكُولُ عَنِ العَدُوِّ۔

ترجمہ:

بزدلی یہ ہے کہ آدمی دوست کے مقابلے میں بے جا دلیری دکھائے اور دشمن کے مقابلے سے پسپا ہو جائے۔

________________________________________

۴۔ جہالت کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے جہالت کی حقیقت دریافت کی گئی تو فرمایا:

سُرْعَةُ الوُثُوبِ عَلَى الفُرْصَةِ قَبْلَ الاسْتِمْكَانِ مِنْهَا، وَالامْتِنَاعُ عَنِ الجَوَابِ۔

ترجمہ:

جہالت یہ ہے کہ انسان کسی موقع کو پوری طرح اپنے اختیار میں آنے سے پہلے ہی اس پر جھپٹ پڑے اور جہاں جواب دینا چاہیے وہاں جواب دینے سے گریز کرے۔

ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔

________________________________________

۵۔ حلم کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے حلم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

كَظْمُ الغَيْظِ وَمِلْكُ النَّفْسِ۔

ترجمہ:

حلم یہ ہے کہ انسان اپنے غصے کو پی جائے اور اپنے نفس پر قابو رکھے۔

________________________________________

۶۔ اللہ کی بندگی کا ثمر

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ عَبَدَ اللّهَ عَبَّدَ اللّهُ لَهُ كُلَّ شَيْءٍ۔

ترجمہ:

جو شخص اللہ کی بندگی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے ہر چیز کو مسخر کر دیتا ہے۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۸۔

________________________________________

۷۔ دعا اور اجابت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَا فَتَحَ اللّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أَحَدٍ بَابَ مَسْأَلَةٍ فَخَزَنَ عَنْهُ بَابَ الإِجَابَةِ۔

ترجمہ:

اللہ عزوجل جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھولتا ہے، اس کے لیے قبولیت کا دروازہ بند نہیں کرتا۔

________________________________________

۸۔ دعا کی قبولیت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

أَنَا الضَّامِنُ لِمَنْ لَمْ يَهْجُسْ فِي قَلْبِهِ إِلَّا الرِّضَا أَنْ يَدْعُوَ اللّهَ فَيُسْتَجَابَ لَهُ۔

ترجمہ:

میں اس شخص کے لیے ضمانت دیتا ہوں جس کے دل میں اللہ کی رضا کے سوا کوئی اور خواہش نہ ہو کہ وہ اللہ سے دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۵، ص ۳۵۱، ح ۴۳۔

________________________________________

۹۔ قرآن اور قبولیتِ دعا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ قَرَأَ القُرْآنَ كَانَتْ لَهُ دَعْوَةٌ مُجَابَةٌ، إِمَّا مُعَجَّلَةً وَإِمَّا مُؤَجَّلَةً۔

ترجمہ:

جو شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کے لیے ایک مستجاب دعا ہوتی ہے؛ خواہ اس کی قبولیت جلد ظاہر ہو یا مؤخر ہو کر۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۳، ص ۳۱۳، ح ۱۷۔

________________________________________

۱۰۔ اللہ کے انتخاب پر رضا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ اتَّكَلَ عَلَى حُسْنِ الاخْتِيَارِ مِنَ اللّهِ، لَمْ يَتَمَنَّ أَنَّهُ فِي غَيْرِ الحَالِ الَّتِي اخْتَارَهَا اللّهُ لَهُ۔

ترجمہ:

جو شخص اللہ کے حسنِ انتخاب پر بھروسا رکھتا ہے، وہ اس حالت کے علاوہ کسی دوسری حالت کی تمنا نہیں کرتا جسے اللہ نے اس کے لیے منتخب کیا ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۶، ح ۶۔

________________________________________

۱۱۔ تقدیرِ الٰہی پر رضا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

كَيْفَ يَكُونُ المُؤْمِنُ مُؤْمِنًا وَهُوَ يَسْخَطُ قِسْمَتَهُ، وَيُحَقِّرُ مَنْزِلَتَهُ، وَالحَاكِمُ عَلَيْهِ اللّهُ؟

ترجمہ:

مؤمن حقیقی مؤمن کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ وہ اپنی قسمت پر ناراض اور اپنی حالت کو حقیر سمجھتا ہو، حالانکہ اس پر حکم چلانے والا اللہ ہے؟

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۴۳، ص ۳۵۱، ح ۲۵۔

________________________________________

۱۲۔ زکوٰۃ اور مال

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَا نَقَصَتْ زَكَاةٌ مِنْ مَالٍ قَطُّ۔

ترجمہ:

زکوٰۃ نے کبھی کسی مال کو کم نہیں کیا۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۶، ص ۲۳، ح ۵۶۔

________________________________________

۱۳۔ بیٹی کے لیے شوہر کا انتخاب

ایک شخص نے اپنی بیٹی کے نکاح کے بارے میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے مشورہ کیا تو آپؑ نے فرمایا:

زَوِّجْهَا مِنْ رَجُلٍ تَقِيٍّ، فَإِنَّهُ إِنْ أَحَبَّهَا أَكْرَمَهَا، وَإِنْ أَبْغَضَهَا لَمْ يَظْلِمْهَا۔

ترجمہ:

اپنی بیٹی کا نکاح کسی متقی شخص سے کرو؛ کیونکہ اگر وہ اسے پسند کرے گا تو عزت و اکرام سے رکھے گا، اور اگر اسے ناپسند بھی کرے گا تو اس پر ظلم نہیں کرے گا۔

ماخذ: مكارم الأخلاق، ج ۱، ص ۴۴۶، ح ۱۵۳۴۔

________________________________________

۱۴۔ سوال کرنے کی ضرورت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

إِنَّ المَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: دَمٍ مُفْجِعٍ، أَوْ دَيْنٍ مُقْرِحٍ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ۔

ترجمہ:

کسی سے مالی مدد طلب کرنا صرف تین صورتوں میں جائز ہے:

۱۔ خون بہا کی ادائیگی کی ضرورت ہو؛

۲۔ ایسا سخت قرض ہو جس نے انسان کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہو؛

۳۔ انتہائی فقر و فاقہ لاحق ہو۔

________________________________________

۱۵۔ سوال سے پہلے عطا کرنا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

الإِعْطَاءُ قَبْلَ السُّؤَالِ مِنْ أَكْبَرِ السُّؤْدُدِ۔

ترجمہ:

کسی کے سوال کرنے سے پہلے اسے عطا کرنا اعلیٰ درجے کی بزرگی ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔

________________________________________

۱۶۔ شجاعت کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے شجاعت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

مُوَاقَفَةُ الأَقْرَانِ، وَالصَّبْرُ عِنْدَ الطِّعَانِ۔

ترجمہ:

شجاعت یہ ہے کہ ہم پلہ حریف کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے اور معرکے میں ضربیں سہتے ہوئے ثابت قدم رہا جائے۔

ماخذ: تحف العقول، ص ۲۲۶۔

________________________________________

۱۷۔ تشیع کا حقیقی مفہوم

ایک شخص نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے کہا: "میں آپ کے شیعوں میں سے ہوں۔" آپؑ نے فرمایا:

يَا عَبْدَ اللّهِ، إِنْ كُنْتَ لَنَا فِي أَوَامِرِنَا وَزَوَاجِرِنَا مُطِيعًا، فَقَدْ صَدَقْتَ...

ترجمہ:

اے بندۂ خدا! اگر تم ہمارے اوامر کی پیروی اور ہماری نواہی سے اجتناب کرتے ہو تو تمہارا یہ دعویٰ درست ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرتے تو اپنے گناہوں میں یہ ایک اور گناہ شامل نہ کرو کہ ایسی عظیم منزلت کا دعویٰ کرو جس کے اہل نہیں ہو۔

یہ کہنے کے بجائے کہ "میں تمہارے شیعوں میں سے ہوں"، یوں کہو: "میں تم سے محبت کرنے والوں میں سے ہوں، تمہارے دوستوں سے محبت کرتا ہوں اور تمہارے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ہوں۔" ایسی صورت میں تم خیر پر ہو اور خیر ہی کی طرف گامزن ہو۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۶۔

________________________________________

۱۸۔ خاموشی کا وقار

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

قَدْ أَكْثَرَ مِنَ الهَيْبَةِ الصَّامِتُ۔

ترجمہ:

خاموش رہنے والا شخص زیادہ باوقار ہوتا ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔

________________________________________

۱۹۔ خاموشی کی افادیت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

نِعْمَ العَوْنُ الصَّمْتُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ كُنْتَ فَصِيحًا۔

ترجمہ:

بہت سے مواقع پر خاموشی بہترین مددگار ثابت ہوتی ہے، خواہ تم کتنے ہی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہو۔

ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔

________________________________________

۲۰۔ مصیبت اور اجر

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

المَصَائِبُ مَفَاتِيحُ الأَجْرِ۔

ترجمہ:

مصیبتیں اجر کے دروازے کھولنے والی چابیاں ہیں۔

________________________________________

۲۱۔ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

صَاحِبِ النَّاسَ مِثْلَ مَا تُحِبُّ أَنْ يُصَاحِبُوكَ بِهِ۔

ترجمہ:

لوگوں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں۔

ماخذ: أعلام الدين، ص ۲۹۷۔

________________________________________

۲۲۔ عقل اور دونوں جہان

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

بِالعَقْلِ تُدْرَكُ الدَّارَانِ جَمِيعًا، وَمَنْ حُرِمَ مِنَ العَقْلِ حُرِمَهُمَا جَمِيعًا۔

ترجمہ:

عقل کے ذریعے دنیا و آخرت، دونوں جہان حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور جو عقل سے محروم رہا وہ دونوں جہانوں کی خیر سے محروم رہا۔

ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔

________________________________________

۲۳۔ عقل اور صبر

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

التَّجَرُّعُ لِلغُصَّةِ حَتَّى تَنَالَ الفُرْصَةَ۔

ترجمہ:

عقل یہ ہے کہ انسان تلخیوں کو برداشت کرتا رہے، یہاں تک کہ مناسب موقع حاصل ہو جائے۔

ماخذ: معاني الأخبار، ص ۲۴۰، ح ۱۔

________________________________________

۲۴۔ عقل اور امانتِ قلب

امام علی علیہ السلام نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا تو آپؑ نے فرمایا:

حِفْظُ قَلْبِكَ مَا اسْتَوْدَعْتَهُ۔

ترجمہ:

عقل یہ ہے کہ تمہارا دل ان چیزوں کی حفاظت کرے جو تم نے اس کے سپرد کی ہیں۔

ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔

________________________________________

۲۵۔ عادات کا غلبہ

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

العَادَاتُ قَاهِرَاتٌ، فَمَنِ اعْتَادَ شَيْئًا فِي سِرِّهِ وَخَلَوَاتِهِ، فَضَحَهُ فِي عَلَانِيَتِهِ وَعِنْدَ المَلَإِ۔

ترجمہ:

عادتیں انسان پر غالب آ جاتی ہیں۔ جو شخص خلوت اور تنہائی میں کسی کام کا عادی ہو جائے، وہی عادت بالآخر اسے لوگوں کے سامنے رسوا کر دیتی ہے۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۱۳۔

________________________________________

۲۶۔ غفلت کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

الغَفْلَةُ تَرْكُكَ المَسْجِدَ، وَطَاعَتُكَ المُفْسِدَ۔

ترجمہ:

غفلت یہ ہے کہ تم مسجد کو چھوڑ دو اور کسی مفسد و بدکردار شخص کی اطاعت اختیار کر لو۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۰۔

________________________________________

۲۷۔ فرائض کا فلسفہ

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

إِنَّ اللّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِمَنِّهِ وَرَحْمَتِهِ لَمَّا فَرَضَ عَلَيْكُمُ الفَرَائِضَ لَمْ يَفْرِضْهَا عَلَيْكُمْ لِحَاجَةٍ مِنْهُ إِلَيْكُمْ، بَلْ رَحْمَةً مِنْهُ عَلَيْكُمْ... لِيُمَيِّزَ الخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ، وَلِيَبْتَلِيَ مَا فِي صُدُورِكُمْ، وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ۔

ترجمہ:

اللہ عزوجل نے اپنے فضل و رحمت سے جب تم پر فرائض عائد کیے تو انہیں اس لیے فرض نہیں کیا کہ اسے تمہاری ضرورت تھی، بلکہ یہ تم پر اس کی رحمت ہے؛ تاکہ پاکیزہ کو ناپاک سے جدا کرے، تمہارے سینوں کے اندر موجود چیزوں کو آزمائے اور تمہارے دلوں کو پاک و خالص کرے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۳، ص ۹۹، ح ۳۔

________________________________________

۲۸۔ تفکر اور بصیرت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

التَّفَكُّرُ حَيَاةُ قَلْبِ البَصِيرِ۔

ترجمہ:

غور و فکر صاحبِ بصیرت کے دل کی زندگی ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۱۔

________________________________________

۲۹۔ تفکر؛ خیر کی بنیاد

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللّهِ وَإِدَامَةِ التَّفَكُّرِ؛ فَإِنَّ التَّفَكُّرَ أَبُو كُلِّ خَيْرٍ وَأُمُّهُ۔

ترجمہ:

میں تمہیں تقوائے الٰہی اور مسلسل غور و فکر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ تفکر ہر خیر کا باپ بھی ہے اور ماں بھی۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۱، ص ۵۲۔

________________________________________

۳۰۔ قناعت اور رضا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

اعْلَمْ أَنَّ مُرُوَّةَ القَنَاعَةِ وَالرِّضَا أَكْثَرُ مِنْ مُرُوَّةِ الإِعْطَاءِ۔

ترجمہ:

جان لو کہ قناعت اور رضا کی مروّت، عطا و بخشش کی مروّت سے بھی برتر ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۱، ح ۶۔

________________________________________

۳۱۔ معرفتِ الٰہی اور تواضع

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

لَا يَنْبَغِي لِمَنْ عَرَفَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَعَاظَمَ، فَإِنَّ رِفْعَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَوَاضَعُوا، وَعِزَّ الَّذِينَ يَعْرِفُونَ مَا جَلَالُ اللّهِ أَنْ يَتَذَلَّلُوا لَهُ۔

ترجمہ:

جو شخص اللہ کی عظمت کو پہچان لے، اسے زیب نہیں دیتا کہ وہ خود کو بڑا سمجھے۔ جو لوگ اللہ کی عظمت سے آشنا ہوتے ہیں، ان کی رفعت تواضع میں ہے، اور جو اس کے جلال کو پہچانتے ہیں، ان کی عزت اللہ کے سامنے فروتنی اختیار کرنے میں ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۴، ح ۳۔

________________________________________

۳۲۔ کھانے کے آداب

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

فِي المَائِدَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ خَصْلَةً يَجِبُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَعْرِفَهَا: أَرْبَعٌ مِنْهَا فَرْضٌ، وَأَرْبَعٌ سُنَّةٌ، وَأَرْبَعٌ تَأْدِيبٌ...

ترجمہ:

دسترخوان کے بارہ آداب ہیں جنہیں ہر مسلمان کو جاننا چاہیے: ان میں سے چار فرض، چار سنت اور چار آداب ہیں۔

فرض: معرفت، رضا، تسمیہ اور شکر۔

سنت: کھانے سے پہلے وضو کرنا، بائیں جانب بیٹھنا، تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا۔

آداب: اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا رکھنا، اچھی طرح چبانا اور کھاتے وقت دوسروں کے چہروں کو کم دیکھنا۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۳، ص ۳۰۵، ح ۲۳۔

________________________________________

۳۳۔ علم سیکھنا اور سکھانا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

عَلِّمِ النَّاسَ وَتَعَلَّمْ عِلْمَ غَيْرِكَ، فَتَكُونَ قَدْ أَتْقَنْتَ عِلْمَكَ وَعَلِمْتَ مَا لَمْ تَعْلَمْ۔

ترجمہ:

لوگوں کو علم سکھاؤ اور دوسروں کا علم بھی سیکھو؛ اس طرح تم اپنے علم کو پختہ کرو گے اور وہ کچھ جان لو گے جس سے پہلے ناواقف تھے۔

ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔

________________________________________

۳۴۔ غصہ اور درست رائے

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

لَا يَعْزِبُ الرَّأْيُ إِلَّا عِنْدَ الغَضَبِ۔

ترجمہ:

غصے کے وقت درست رائے انسان سے دور ہو جاتی ہے۔

ماخذ: نزهة الناظر، ص ۷۲، ح ۱۴۔

________________________________________

۳۵۔ علم اور ذمہ داری

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

قَطَعَ العِلْمُ عُذْرَ المُتَعَلِّمِينَ۔

ترجمہ:

علم نے علم حاصل کرنے والوں کے تمام عذر ختم کر دیے ہیں۔

ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۶۔

________________________________________

۳۶۔ آخرت کی تیاری

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَمْ تَزَلْ فِي هَدْمِ عُمُرِكَ مُنْذُ سَقَطْتَ مِنْ بَطْنِ أُمِّكَ، فَخُذْ مِمَّا فِي يَدَيْكَ لِمَا بَيْنَ يَدَيْكَ؛ فَإِنَّ المُؤْمِنَ يَتَزَوَّدُ، وَالكَافِرَ يَتَمَتَّعُ۔

ترجمہ:

اے ابنِ آدم! جب سے تو اپنی ماں کے بطن سے دنیا میں آیا ہے، اسی وقت سے تیری عمر کم ہوتی جا رہی ہے۔ لہٰذا جو کچھ تیرے پاس ہے، اسے اس منزل کے لیے استعمال کر جو تیرے سامنے ہے؛ کیونکہ مؤمن زادِ راہ تیار کرتا ہے، جبکہ کافر محض دنیاوی لذتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۲، ح ۶۔

________________________________________

۳۷۔ دل کی سلامتی

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

أَسْلَمُ القُلُوبِ مَا طَهُرَ مِنَ الشُّبُهَاتِ۔

ترجمہ:

سب سے زیادہ سلامت دل وہ ہے جو شکوک و شبہات سے پاک ہو۔

ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۵۔

________________________________________

۳۸۔ سخاوت کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

الابْتِدَاءُ بِالعَطِيَّةِ قَبْلَ المَسْأَلَةِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ فِي المَحْلِ۔

ترجمہ:

سخاوت یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے عطا کیا جائے اور قحط و تنگ دستی کے زمانے میں لوگوں کو کھانا کھلایا جائے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۲، ح ۲۔

________________________________________

۳۹۔ احسان جتانا

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ عَدَّدَ نِعَمَهُ مَحَقَ كَرَمَهُ۔

ترجمہ:

جو شخص اپنی عطاؤں اور احسانات کو شمار کراتا رہے، وہ اپنی سخاوت کی قدر و قیمت مٹا دیتا ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔

________________________________________

۴۰۔ دنیا کی رغبت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

الرَّاغِبُ فِيهَا عَبْدٌ لِمَنْ يَمْلِكُهَا۔

ترجمہ:

جو شخص دنیا کا حریص ہو، وہ اس شخص کا غلام بن جاتا ہے جو دنیا کا مالک ہے۔

ماخذ: كنز العمّال، ج ۱۶، ص ۲۱۴، ح ۴۴۲۳۶۔

________________________________________

ترجمه و ترتیب و پیشکش: فرقان اکیڈمی 💫

التماس دعا: ڈاکٹر محمد فرقان گوہر

[ چهارشنبه بیست و یکم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 18:26 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

🔴 نبی پاک کی شہادت ہوئی یا وفات؟ 🔴

🖋 تحقیق: ابومہدی فرمان علی معصومی

اہل سنت حضرات کا نظریہ ہے کہ نبی پاک کی شہادت نہیں ہوئی بلکہ وفات ہوئی تھی جبکہ اہل تشیع اس نظریہ پر ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔

ہم آ پ کے سامنے چند شواہد پیش کرتے ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔

1ـ نبی پاک کو زہر دے کر شہید کیا گیا:

الف:خیبر کے موقع پر زینب بنت الحارث کے ہاتھوں زہر دیا گیا:
اہل سنت کے معتبر عالم بدر الدین عینی نے اپنی کتاب عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں:

📚 عمده القاري شرح صحيح البخاري
كتاب الطب

📜 55 - (بابُ مَا يُذْكَرُ فِي سَمِّ النبيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم)
وأوضح ذَلِك مَا تقدم فِي الْهِبَة من حَدِيث أنس أَن يَهُودِيَّة أَتَت النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، بِشَاة مَسْمُومَة فَأكل مِنْهَا الحَدِيث، فَعلم من ذَلِك أَن الَّتِي أَهْدَت هِيَ امْرَأَة يَهُودِيَّة وَلَكِن لَيْسَ فِيهِ بَيَان اسْمهَا، وَقد تقدم فِي الْمَغَازِي أَنَّهَا زَيْنَب بنت الْحَارِث امْرَأَة سَلام بن مشْكم، فَعلم مِنْهُ أَن اسْمهَا زَيْنَب.

📃 سب سے واضح بات وہ ہے جو انس بن مالک کی حدیث میں گذر چکا کہ ایک یہودی عورت نبی پاک کے پاس بکری کا زہر آلود لے آئی اور نبی پاک نے اس سے کچھ کھالیا تو یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ جس عورت نے ھدیہ دیا تھا وہ ایک یہودی عورت تھی لیکن اس میں اس کا نام نہیں بتایا گیا ہے جبکہ کتاب المغازی میں گذر چکا کہ وہ سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث تھی، یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا نام زینب ہے۔

ب ـ نبی پاک نے خود زہر کا ذکر فرمایا:

نبی پاک نے مرض الموت کے وقت واضح طور پہ فرمایا کہ میری تکلیف اسی زہر کی وجہ سے بڑھ رہی ہے جو خیبر کے موقع پر دیا گیا!

ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں:

📚 صحيح البخاري (جلد6/صفحه 9)
64 - كِتَابُ المَغَازِي
بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ

📜 4428 - وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ»
نبی پاک اپنے مرض الموت میں فرماتے رہے : اے عائشہ! جو کھانا میں نے خیبر کے موقع پر کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے پھر یہ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اسی زہر کی وجہ سے میری شہ رگ کٹ رہی ہے۔

یعنی مرض الموت کے وقت موت کا سبب یہی زہر تھا جو خیبر کے وقت زینب بن الحارث نے دیا تھا۔

2ـ بزرگان اہل سنت کی اس بات پر تاکید کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی ہے:

الف: عبداللہ بن مسعود:

📚 المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 60)

📜 4394 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لِأَنْ أَحْلِفُ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً إِنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

✅ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4394 - على شرط البخاري ومسلم

📃 عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: میں نو مرتبہ قسم کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید کیا گیا ہے لیکن ایک بار بھی یہ قسم نہیں کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید نہیں کیا گیا ہے اور یہی سبب ہے کہ اللہ پاک نے محمد مصطفی ص کو نبی بھی منتخب کیا اور شہید بھی منتخب کیا۔

یہ حدیث بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے ۔

علامہ ذہبی حاشیہ میں لکھتے ہیں یہ روایت بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے۔

بـ عامر الشعبی:

📚 المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 61)

📜 4395 - فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ غَيْرَ مَرَّةٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: «وَاللَّهِ لَقَدْ سُمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُمَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَقُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ صَبْرًا، وَقُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ صَبْرًا، وَقُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَبْرًا، وَسُمَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ صَبْرًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَمَا نَرْجُو بَعْدَهُمْ»

📃 شعبی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! نبی پاک کو زہر دیا گیا ہے اور ابوبکر کو زہر دیا گیا ہے اور عمر کو قتل کیا گیا کہ وہ صبر کی حالت میں تھا اور عثمان کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور علی بن ابی طالب کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور امام حسن بن علی کو زہر دیا گیا اور حسین بن علی کو صبر کی حالت میں قتل کیا گیا (رضی اللہ عنھم)اس کے بعد ہم (دنیا سے) کیا امید رکھیں؟!

3ـ علماء اہل سنت کی تصریح:

علماء اہل سنت نے واضح طور پہ لکھا ہے کہ نبی پاک کی شہادت ہوئی ہے۔

الفـ علی بن عبد الکافی السبکی

📚 شفاء السقام في زيارة خير الأنام صلى الله عليه وآله وسلم
جلد 2 صفحه 14

📜 الثالث: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم شهيد، فإنه صلى الله عليه وآله وسلم لما سم بخيبر، وأكل من الشاة المسمومة، وكان ذلك سما قاتلا من ساعته، مات منه بشر بن البراء رضي الله عنه، وبقي النبي صلى الله عليه وآله وسلم وذلك معجزة في حقه، صار ألم السم يتعاهده إلى أن مات به صلى الله عليه وآله وسلم [وقال] في مرضه الذي مات فيه: (ما زالت أكلة خيبر تعاودني حتى كان الآن أوان قطعت أبهري). قال العلماء: فجمع الله له بذلك بين النبوة والشهادة. وتكون الحياة الثابتة للشهداء لا تختص بمن قتل في المعركة، فإنا إنما اشترطنا ذلك في الأحكام الدنيوية، كالغسل، والصلاة، أما الآخرة فلا، وهذا لا شك فيه بالنسبة إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم.

📃 علامہ سبکی لکھتے ہیں: بے شک نبی پاک ص شہید ہیں کیونکہ نبی پاک کو خیبر کے موقع پہ ذہر دیا گیا تھا اور زہر آلود بکری کا گوشت کھایا یہ وہ زہر تھا جو ایک لحظہ میں مار دیتا ہے جس سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی اور نبی پاک بچ گئے کہ یہ در حقیقت نبی پاک کے حق میں ایک معجزہ ہے، موت کے وقت تک یہ زہر کا درد نبی پاک کو ہوتا رہتا تھا کہ نبی پاک نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے)۔ علماء نے کہا ہے: نبی پاک کے لیے اللہ تعالی نے نبوت اور شھادت دونوں کو جمع کردیا۔ شہداء کی جو زندگی اور حیاتی ہے وہ ایسے شہیدوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جو جنگ کے میدان میں شہید ہوتے ہیں البتہ اتنا ہے کہ ہمارے ہاں میدان شہید ہونے والوں کے دنیاوی احکام الگ ہیں جیساکہ غسل اور نماز لیکن آخرت میں الگ نہیں ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نبی پاک بھی شہید ہیں (چہ جائیکہ ان کے لیے جنگی شہید والے احکام نہیں ہیں)۔

ب ـ ابن بطال:

📚 شرح صحيح البخارى لابن بطال (جلد 5/صفحه 347)
كتاب الجزية

📜 7 - باب: إِذَا غَدَرَ المشْرِكُون بِالْمُسْلِمِينَ هَلْ يُعْفَى عَنْهُم؟
قال لعائشة: (ما زالت أكلة خيبر تعادنى فهذا أوان قطع أبهري) لكنه عفا عنهم حين لم يعلم أنه يقضى عليه؛ لأن الله تعالى دفع عنه ضر السم بعد أن أطلعه على المكيدة فيه بآية معجزة أظهرها له من كلام الذراع، ثم عصمه الله من ضره مدة حياته، حتى إذا دنا أجله بغى عليه السم، فوجد ألمه وأراد الله له الشهادة بتلك الأكلة؛ فلذلك لم يعاقبهم

📃 ابن بطال لکھتے ہیں: نبی پاک نے ام المومنین عائشہ کو بتایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے) لیکن نبی پاک نے انہیں (یہودیوں کو) معاف کردیا اور معلوم نہ ہونے تک ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالی نے زہر کے نقصان کو دور کردیا پھر نبی پاک کو اللہ تعلای نے معجزانہ طور پر اس کید و فریب سے آگاہ فرمایا کہ بکری کی بھونی ہوئی ٹانگ سے آواز ائی کہ وہ زہر الود ہے پھر اللہ تعالی نے زہر کے نقصان سے تا حیات نبی پاک کو بچایا یہاں تک کہ موت کا وقت آن پہنچا تو زہر نے شدت اختیار کرلی اور اس کا درد محسوس کرنے لگے اور اللہ تعالی نے نبی پاک کے لیے اسی کھانے کے بدلے شہادت نصیب فرمائی جس کی وجہ سے ان یہودیوں کو سزا اور عقاب نہیں کیا۔

ج_ عبدالعزیز بن باز

📚 فتح الباري، المؤلف : أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى : 852هـ)، المحقق : عبد العزيز بن عبد الله بن باز ومحب الدين الخطيب
جلد 8 صفحہ 131

📜 وروى ابن سعد عن شيخه الواقدي بأسانيد متعددة في قصة الشاة التي سمت له بخيبر، فقال في آخر ذلك: "وعاش بعد ذلك ثلاث سنين حتى كان وجعه الذي قبض فيه. وجعل يقول: ما زلت أحد ألم الأكلة التي أكلتها بخيبر عدادا حتى كان هذا أوان انقطاع أبهري" عرق في الظهر وتوفي شهيدا انتهى

📃 بن باز فتح الباری کے تحقیقی نسخہ میں لکھتے ہیں:
محمد بن سعد نے اپنے استاد واقدی سے زہر آلود بکری کے قصہ میں کئی اسناد سے نقل کیا ہے اور اس کے آخر میں کہا ہے: نبی پاک اس کے بعد تین سال زندہ رہے یہاں تک کہ زہر کا درد ہوا جس سے ان کی روح قبض ہوئی اور فرماتے رہے: میں نے خیبر کے موقع پہ جو زہر آلود لقمہ کھایا تھا اس کا درد کئی بار ہوا مگر اس بار جو درد ہورہا ہے وہ شہ رگ کو کاٹ رہا ہے! اور یوں نبی پاک نے بطور شہادت وفات پائی😪

تعلیماتِ اہلبیتؑ

[ چهارشنبه بیست و یکم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 13:41 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

محمدی دین اور کوفی دین

پہلی بات: حضور ﷺ پر دین مکمل ہوا اور اس دین کو صحابہ کرام نے تابعین اور تابعین نے تبع تابعین تک پہنچایا۔ صحابہ کرام کو نبوت کی روشنی سے اسلام میں داخل کرنے والے ہمارے نبی ہیں اور صحابہ کرام نبی اکرم ﷺ کی احادیث کے راوی ہیں۔

دوسری بات؛ مجوسی اہلتشیع جماعت نبوت کی تعلیم رکھتی ہے تو بتا دے، اسکے راوی کونسے ہیں اور کب مسلمان ہوئے؟

تیسری بات: اگر مجوسی اہلتشیع کہتے ہیں کہ نبوت کے بعد امامت تھی تو امامت کی روشنی میں پہلے امام نے کس کس کو عقیدہ امامت پر بیعت کر کے مسلمان کیا؟ اور امامت کی تعلیم کے راوی کب پیدا ہوئے اور کب مسلمان ہوئے؟ حوالوں سے لکھیں جیسے روایت کرنے والے صحابہ کرام اور ان کی مرویات کی تعداد؛

1۔ دوہزاریا اس سے زائد روایت کرنے والے حضرات کی تعداد مرویات

1۔ حضرت ابو ہریرہ 5374

2۔ حضرت عبداللہ بن عمر 2630

3۔ حضرت انس بن مالک 2286

4۔ سیدہ عائشہ 2210

2۔ ایک ہزار سے یا اس سے کچھ زائد روایت کرنے والے حضرات کی تعداد مرویات

5۔ حضرت عبداللہ بن عباس 1660

6۔ حضرت جابر بن عبداللہ 1660

7۔ حضرت ابو سعید خدری 1170

نوٹ: واضح رہے کہ ایک ہزار یا اس سے زائد حدیث کی روایت کرنے والے کو محدثین کی اصطلاح میں مکثرین کہا جاتا ہے۔

3۔ ایک ہزار سے کم روایت کرنے والے حضرات

8۔ حضرت عبداللہ بن مسعود 848

9۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص 700

10۔ حضرت عمر بن خطاب 537

11۔ حضرت علی بن ابی طالب 500

12۔ حضرت ام سلمہ 378

13۔ حضرت ابو موسی اشعری 360

14۔ حضرت براء بن عازب 305

4۔ دوسو یا کچھ زائد روایت کرنے والے حضرات

15۔ حضرت ابو ذر غفاری 281

16۔ حضرت سعد بن ابی وقاص 271

17۔ حضرت ابوامامہ باہلی 270

18۔ حضرت حذیفہ بن الیمان 225

5۔ سو یا اس سے زائد روایت کرنے والے حضرات

19۔ حضرت سہل بن سعد 188

20۔ حضرت عبادہ بن صامت 181

21۔ حضرت عمران بن حصین 181

22۔ حضرت ابودردائ 179

23۔ حضرت ابوقتادہ 170

24۔ حضرت بریدہ الحصیب الاسلمی 176

25۔ حضرت ابی بن کعب 164

26۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان 173

27۔ حضرت ابو ایوب انصاری 155

28۔ حضرت معاذ بن جبل 157

29۔ حضرت عثمان بن عفان 146

30۔ حضرت جابر بن سمرہ انصاری 146

31۔ حضرت ابوبکر صدیق 142

32۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ 136

33۔ حضرت ابوبکر 132

34۔ حضرت اسامہ بن زید 128

35۔ حضرت ثوبان (مولی رسول) 128

36۔ حضرت نعمان بن بشیر 114

37۔ حضرت ابومسعود انصاری 102

38۔ حضرت جریر بن عبداللہ البجلی 101

6۔ سو سے کم حدیث روایت کرنے والے صحابہ کرام

39۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی 95

40۔ حضرت زید بن خالد 81

41۔ حضرت اسماء بنت یزید بن السکن 81

42۔ حضرت کعب بن مالک 80

43۔ حضرت رافع بن خدیج 78

44۔ حضرت سلمہ بن اکوع 77

45۔ حضرت میمو نہ (ام المومنین) 76

46۔ حضرت وائل بن حُجر 71

47۔ حضرت زید بن ارقم انصاری 70

48۔ حضرت ابو رافع(مولیٰ رسول) 68

49۔ حضرت ابوعوف بن مالک 67

50۔ حضرت عدی بن حاتم 66

51۔ حضرت ام حبیبہ (ام المومنین) 66

52۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف 65

53۔ حضرت عمار بن یاسر 62

54۔ حضرت سلمان الفارسی 60

55۔ حضرت حفصہ (ام المومنین) 60

56۔ حضرت اسماء بنت عُمَیس 60

57۔ حضرت جبیر بن مُطعِم 60

58۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر 58

59۔ حضرت واثلہ بن اسقع 56

60۔ حضرت عقبہ بن عامر الجہنی 55

61۔ حضرت شداد بن اوس 50

62۔ حضرت فضالہ بن عُبَید 50

63۔ حضرت عبداللہ بن بشیر 50

64۔ حضرت سعید بن زیدبن عمرو بن نفیل 43

65۔ حضرت مقدام بن معدیکرب 47

66۔ حضرت عبداللہ بن زید 48

67۔ حضرت کعب بن عُجرہ 47

68۔ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب 46

69۔ حضرت ابوبَرزَہ اسلمی 46

70۔ حضرت ابو جُحَیفہ 45

71۔ حضرت بلال (موذن رسول) 44

72۔ حضرت جندب بن عبداللہ بن سفیان 43

73۔ حضرت عبداللہ بن مغفل 43

74۔ حضرت مقداد 42

75۔ حضرت معاویہ بن حبوۃ 42

76۔ حضرت سہل بن حُنیف 40

77۔ حضرت حکیم بن حِزام 40

78۔ حضرت ابوثعلبہ خُشَنی 40

79۔ حضرت ام عطیہ 40

80۔ حضرت عمرو بن العاص 39

81۔ حضرت خزیمہ بن ثابت 38

82۔ حضرت زبیر بن عوام 38

83۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ 38

84۔ حضرت عمرو بن عنبسہ 38

85۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب 35

86۔ حضرت معقل بن یسار 34

87۔ حضرت فاطمہ بنت قیس 34

88۔ حضرت عبداللہ بن زبیر 33

89۔ حضرت خباب بن الارت 32

90۔ حضرت عِرباض بن ساریہ 31

91۔ حضرت معاذ بن انس 30

92۔ حضرت عیاض بن حماد 30

93۔ حضرت سہیب 30

94۔ حضرت فضل بنت حارث 30

95۔ حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی 29

96۔ حضرت یعلی بن امیہ 28

97۔ حضرت عقبہ بن عبد 28

98۔ حضرت ابو اسید الساعدی 28

99۔ حضرت عبداللہ بن مالک بن بجنیہ 28

100۔ حضرت ابو مالک اشعری 27

101۔ حضرت ابوحمید الساعدی 27

102۔ حضرت یعلی بن مُرّہ 26

103۔ حضرت عبداللہ بن جعفر 26

104۔ حضرت ابوطلحہ انصاری 25

105۔ حضرت عبدالسلام بن سلام 25

106۔ حضرت سہل بن ابی حشمہ 25

107۔ حضرت ابو ملیح الہذلی 25

108۔ حضرت فضل بن عباس 24

109۔ حضرت ابوواقد اللیثی 24

110۔ حضرت رِفاعہ بن رافع 24

111۔ حضرت عبداللہ بن اُنیس 24

112۔ حضرت اوس بن اوس 24

113۔ حضرت لقیط بن عامر 24

114۔ حضرت ام قیس بنت مِحصن 24

115۔ حضرت عامر بن ربیعہ 22

116۔ حضرت قرۃ المزنی 22

117۔ حضرت سائب بن یزید 22

118۔ حضرت سعد بن عُبادہ 21

119۔ حضرت الربیع بنت مُعوذ 21

7۔ بیس عدد روایت کرنے والے اصحاب رسول ﷺ

120۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی

121۔ حضرت ابو شریح الکعبی

122۔ حضرت عبداللہ بن جراد

123۔ حضرت مسور بن مخرمہ

124۔ حضرت عمرو بن امیہ ضمری

125۔ حضرت صفوان بن عسال

8۔ انیس حدیث کے راوی

126۔ حضرت سراقہ بن مالک

127۔ حضرت سبرہ بن معہد الجُہُنی

9۔ اٹھارہ حدیث کے راوی

128۔ حضرت تمیم الداری

129۔ حضرت خالد بن ولید

130۔ حضرت عمرو بن حریث

131۔ حضرت اُسید بن حُضیر

132۔ حضرت فاطمہ بنت رسول

133۔ عبداللہ بن حوالہ الازدی

10۔ سترہ حدیث کے راوی

134۔ النواس بن سمعان الکلابی

135۔ حضرت عبداللہ بن سَرجِس

136۔ عبداللہ بن الحارث بن جزء

11۔ سولہ حدیث کے راوی

137۔ حضرت صعب بن جثامہ

138۔ حضرت قیس بن سعدبن عبادہ

139۔ محمد بن مسلمہ

15۔ پندرہ حدیث کے راوی

140۔ مالک بن حیرث اللیثی

141۔ ابولُبابہ بن عبدالمنذر

142۔ سلمان بن صُرَد

143۔ خولہ بنت حکیم

16۔ چودہ حدیث کے راوی

144۔ عبدالرحمن بن شبل

145۔ ثابت بن ضِحاک

146۔ عبداللہ الصنابحی

147 عبیدہ بن الجراح

148۔ طلق بن علی

149۔ عبدالرحمن مرہ

150۔ حضرت سفینہ مولی رسول ﷺ

151۔ کعب بن مُرّہ

152۔ ام سُلیم بنت مِلحان

153۔ الحکم بن عُمیر

17۔ تیرہ حدیث کے راوی

154۔ معاویہ بن حکم

155۔ حسن بن علی بن ابی طالب

156۔ حذیفہ بن اسد الغفاری

157۔ سلیمان بن عامر

158۔ عروۃ البارقی

159۔ صفوان بن امیہ بن خلف

160۔ ابویعلیٰ انصاری

18۔ بارہ حدیث کے راوی

161۔ عبدالرحمن بن البزی

162۔ عبداللہ بن عُکَیم

163۔ عمر بن مسلمہ

164۔ عامر بن ربیعہ

165۔ ربیعہ بن کعب

166۔ سلمہ بن مُحبَق الہُذَلی

167۔ الشفا بنت عبداللہ العدویہ

168۔ سبیعہ الاسلمہ

169۔ ابوبصرہ الغفاری

19۔ گیارہ حدیث روایت کرنے والے حضرات صحابہ

170۔ عمرو بن الحِمْق

171۔ قبیصہ یزید بن قنافہ الطائی

172۔ وابصہ بن معبد الاسدی

173۔ زینب بنت جحش (ام المومنین)

174۔ ضباعہ بنت زبیربن عبدالمطلب

175۔ ابوالیَسر

176۔ بسرہ بنت صفوان

177۔ نبیشہ بن ابو کبشہ الانماری

20۔ جن صحابہ کرام سے دس احادیث مروی ہیں

178۔ ابومحذورہ

179۔ ام المومنین حضرت صفیہ

180۔ عتبان بن مالک

181۔ عروۃ بن مضرس

182۔ عمیر مولیٰ ابوللحم

183۔ مجمع بن جاریہ

184۔ نعیم بن ہمار

185۔ ام کلثوم

186۔ ام مبشر الانصاریہ

187۔ ام معقل الاسدیہ

188۔ ام ہشام بنت حارثہ الانصاریہ

189۔ ام کرزہ

190۔ خریم بن فاتک

191۔ عدی بن عمیرۃ

21۔ نو احادیث کے روای

192۔ بشیر بن خصاصیہ

193۔ حمزہ بن عمرو اسلمی

194۔ عمارہ بن روبہ

195۔ مطلب بن ابووداعہ

196۔ نوفل بن معاویہ

197۔ ہشام بن عامر

198۔ ابوریحانہ (نام شمعون)

199۔ ابوصرمہ

200۔ ابوالطفیل

201۔ ابیض بن حمال

202۔اشعث بن قیس

203۔ ابن الحنظلیۃ (سہیل)

22۔ آٹھ احادیث کے راوی صحابہ کرام

204۔ اسماء بن شریک

205۔ اسود بن سریع

206۔ امیمہ بنت رقیقہ

207۔ ابن الحارث

208۔ جرہد

209۔ حسین بن علی

210۔ حنظلہ الکاتب

211۔ خولہ بنت قیس

212۔ بنت خذام

213۔ رویفع بن ثابت

214۔ زینب (زوجہ مسعود)

215۔ عاتذ بن عمرو المزنی

216۔ عبدالرحمن بن ابوبکر

217۔ عبدالمطلب بن ربیعہ

218۔ عمرو بن خارجہ

219۔ فریعہ بنت مالک

220۔ ام الحصین

221۔ ام رمیۃ

222۔ خنساء بن خدام

23۔ سات احادیث کے روای

223۔ حارث بن اوس

224۔ حارث بن یزد البکری

225۔ امۃ بنت خالد

226۔ ام المومنین حضرت جویریہ

227۔ صیب بن مسلمہ

228۔ زینب بنت ابوسلمہ

229۔ سلمہ بن قیس الاشجعی

230۔ سلمہ بن صخر البیاضی

231۔ سلمی (رسول ا کی آزادکردہ باندی)

232۔ سوید بن نعمان

233۔ عبداللہ بن السائب

234۔ عبد اللہ بن المزنی

235۔ عرفجہ ابن اسعد

236۔ عقبہ بن حارث

237۔ علی بن شیبان

238۔ عویم بن ساعدہ

239۔ قتادہ بن نعمان

240۔ قطبہ بن مالک

241۔ قیس بن طفخہ غفاری

242۔ قیس بن ابوغرزہ

243۔ محمد بن عبداللہ بن جحش

244۔ مستورد بن شداد

245۔ مسیب ابوسعید

246۔ معیقب

247۔ ابوامیہ

248۔ ابوجمعہ

249۔ ام حرام بنت ملحان

24۔ چھ احادیث کے راوی صحابہ کرام

250۔ بشیر بن سحیم

251۔ حجاج الاسلمی

252۔ حارث الاشعری

253۔ حارثہ بن وہب الخزاعی

254۔ رافع بن عرامہ

255۔ سلمہ بن یزید

256۔ سوید بن مقرن

257۔ عاصم بن عدی

258۔ عبداللہ بن حنظلہ

259۔ عبداللہ بن شخیر

260۔ عقیل بن ابی طالب

261۔ عویمر بن اشقر

262۔ فلتان بن عاصم

263۔ قبیصہ بن المخارق

264۔ کرزبن علقمہ

265۔ مالک بن الحویرث

266۔ محمد بن صفوان

267۔ مخنف بن سلیم

268۔ مہاجر بن قنفذ

269۔ نصر بن حزن

270۔ نعمان بن مقرن

271۔ ابوعیاش الزرقی

272۔ ابوالحمرائ

273۔ ابووہب الجشمی

274۔ ام حبیب ام العلاء

25۔ جن صحابہ کرام سے پانچ احادیث مروی ہیں

275۔ ثعلبہ بن الحکم

276۔ خفاف بن ابما

277۔ خولہ بنت ثعلبہ

278۔ ربیعہ بن عباد

279۔ سائب بن خلاد

280۔ سالم بن عبید

281۔ سلمہ بن نفیل

282۔ سفیان بن ابوزہیر

283۔ سفیان بن عبداللہ الطائفی

284۔ ام المومنین حضرت سودہ

285۔ صحار العبدی

286۔ صفیہ بنت ابی شیبہ

287۔ عثمان بن طلحہ

288۔ عمرو بن حزم

289۔ قابوس بن ابولمخارق لقیط بن صبرہ

290۔ مالک بن صعصعہ

291۔ مجاشع بن مسعود الاسلمی

292۔ محجن بن الاذرع

293۔ معقل بن سنان الاشجعی

294۔ معمر بن عبداللہ بن نضلہ

295۔ معن بن یزید

296۔ ہانی بن نیاز

297۔ یزید بن الاسود ابوالجعد

298۔ ابوعبس بن جبیر

299۔ ابو غریب ام ایمن ام درداء

300۔ ام بجید

26۔ جن صحابہ کرام سے چار روایتیں مروی ہیں

301۔ ابی بن مالک

302۔ بشر بن ابی ارطاۃ

303۔ جاریہ بن قدامہ

304۔ جارود العبدی

305۔ حارث بن عمرو

306۔ حارث بن قیس

307۔ حارث بن مسلم

308۔ حجاج بن عمر

309۔ خالد بن عرفطہ

310۔ دیلم الحمیری

311۔ ذویب ابوقبیصہ

312۔ رکانہ بن عبد یزید

313۔ رویبہ

314۔ زید بن حارثہ (رسول ﷺ کے آزاد کردہ غلام)

315۔ زیاد بن حارث

316۔ صبرہ بن فاتک

317۔ سعد ابوعبدالعزیز

318۔ سنان بن سنہ

319۔ ضحاک بن سفیان

320۔ طارق بن اشیم

321۔ علاء بن الحضرمی

322۔ عبداللہ بن ابوحدرد عبداللہ بن یزید الانصاری

323۔ عبدالرحمن بن حسنہ عباس بن مروان

324۔ عتبہ بن غزوان

325۔ عثمان بن مظعون

326۔ عکاف بن وداعہ

327۔ فیروز دیلمی

328۔ قیس بن عاصم المنقری

329۔ مالک بن ہبیرہ

330۔ محمد بن صیفی

331۔ معاذ بن عفرائ

332۔ معاویہ بن خدیج

333۔ وحشی بن حرب

334۔ ہانی بن ہانی

335۔ ہزال

336۔ ابوخزامہ

337۔ ابوبشیر الانصاری

338۔ ابوجبیرہ الانصاری

339۔ ابوحازم الانصاری

340۔ ابودہم

341۔ ابویزید الانصاری

342۔ ابولبیبہ

343۔ ابونجیح السلمی

344۔ ابن ابی عمیرہ

345۔ ام حبیبہ بنت سہل

346۔ ام ضبیہ

347۔ ام کردم

348۔ ام لیلیٰ

349۔ ام المنذر

27۔ جن صحابہ کرام سے تین احادیث منقول ہیں

350۔ احمر بن جزء الاغز المزنی

351۔ اقرم

352۔ انس بن مالک الاشہلی

353۔ انیسہ اہبان بن صیفی

354۔ بدیل بن ورقائ

355۔ بصرہ بن ابی بصرہ

356۔ جاریہ بن ظفر

357۔ ابوغزان الحنفی

358۔ جعدہ ابوجزئ

359۔ جنادہ الازدی

360۔ حارث بن وہب

361۔ حرملہ

362۔ حکیم بن معاویہ

363۔ حارث بن زیاد

364۔ حبشی بن جنادہ

365۔ حنظلہ بن ندیم

366۔ خارجہ بن حذافہ(خالد بن خلی)

367۔ خالد بن سعید

368۔ خالد الخزاعی

369۔ دحیہ الکلبی

370۔ درہ بنت ابولہب

371۔ ذوالجوشن

372۔ سعید بن حریث

373۔ سعید بن یربوع

374۔ ابن عنکثہ

375۔ سلمہ بن سلامہ

376۔ سوید بن ہبیرہ

377۔ سوید بن قیس

378۔ سہل بن حنظلہ الانصاری

379۔ سہل بن بیضائ

380۔ شریک بن طارق

381۔ صماد بنت بسر

382۔ عابس التمیمی

383۔ عبداللہ بن حذافہ السہمی

384۔ عبداللہ بن حبیب

385۔ عبداللہ السعدی

386۔ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی

387۔ عبداللہ بن ابی الجدعائ

388۔ عبداللہ بن ابی حبیبہ

389۔ عبداللہ بن قارب

390۔ عبدالرحمن بن یعمر

391۔ عبید مولی رسول

392۔ عبید بن خالد

393۔ عراء بن خالد

394۔ عطیہ السعدی

395۔ عطیہ القرظی

396۔ علی بن طلق

397۔ عمارہ بن حزم

398۔ عمرو بن مرہ الجہنی

399۔ غطیف بن حارث

400۔ فاطمہ بنت ابوعمیش

401۔ فروہ بن مسک

402۔ کردم

403۔ مالک بن ربیعہ

404۔ ابومریم

405۔ مالک بن عبداللہ

406۔ مالک بن عمر القشیری

407۔ محرش الکعبی

408۔ محیصہ

409۔ میمونہ بنت سعد

410۔ یزید بن ثابت

411۔ یوسف بن عبداللہ بن سلام

412۔ ابوالدراج

413۔ ابوحیہ البدری

414۔ ابوزید

415۔ ابوسعد الانصاری

416۔ ابوشہم

417۔ ابو عبدالرحمن الجہنی

418۔ ابوعزہ

419۔ ابوعنبہ الخولانی

420۔ ابوفاطمہ الازدی

421۔ ابولبید الانصاری

422۔ ابومجیبہ الباہلی

423۔ ابوہاشم بن عتبہ بن کاس

424۔ ابن ام کلثوم

425۔ ام سعد

28۔ جن صحابہ کرام سے دو حدیثیں مروی ہیں

426۔ ابی بن عمارہ

427۔ اسلع

428۔ اسید بن ظہیر

429۔ اشج بنی عصر

430۔ امیمہ اوس بن حذیفہ

431۔ اوس بن صامت

432۔ ایاس بن عبدالمزنی

433۔ جذامہ بنت وہب

434۔ جعدہ بن خالد

435۔ حارث بن برصا

436۔ حارث بن قیس

437۔ حارث بن ہشام

438۔ حارثہ بن نعمان

439۔ حارثہ بن قیس

440۔ حارث بن ہشام

441۔ حارثہ بن نعمان

442۔ حارثہ (زید کے بھائی)

443۔ حکیم بن جابر

444۔ حکیم بن سعید المزنی

445۔ حمزہ بن عبدالمطلب

446۔ حمل بن النابغہ

447۔ خالد بن لجلاج

448۔ خشخاش العبدی

449۔ بنت ثامر

450۔ دہر بن اخرم

451۔ ذوالاصابع

452۔ ذوالیدین

453۔ رافع بن عمرو

454۔ رباح بن الربیع

455۔ ربیعہ بن الہاد

456۔ رفاعہ الجہنی

457۔ زاہر کنیت ابومجراۃ

458۔ زینب

459۔ زید بن ابی مولی (سعد ابوبکر کے آزاد کردہ غلام)

460۔ سعید بن سعد

461۔ سلمہ بن سلامہ بن وفش

462۔ سلیم بن جابر الہجیمی (یااصل نام جابربن سلیم الہجیمی ہے)

463۔ سلمہ بن خزاعی

464۔ سندر

465۔ سوادہ بن ربیع

466۔ سوید بن حنظلہ

467۔ سوداء

468۔ سہلہ بنت سہیل

469۔ شرحبیل بن حسنہ

470۔ شیبہ بن عتبہ

471۔ صخر الغامدی

472۔ طارق بن مخاش

473۔ ظہیر

474۔ عائشہ بنت قدامہ

475۔ عباد

476۔ عبداللہ بن ارقم

477۔ عبداللہ بن ثعلبہ

478۔ عبداللہ بن حنظلہ (غسیل الملائکہ)

479۔ عبداللہ بن ربیعہ بن حارث

480۔ عبداللہ بن سائب

481۔ عبداللہ بن عدی

482۔ عبداللہ بن قریط

483۔ عبداللہ بن مالک

484۔ عبداللہ بن المرقع

485۔ عبداللہ بن القرشی

486۔ عبد اللہ بن ابی ربیعہ

487۔ عبدالرحمن بن عائذ

488۔ عبدہ بن حزن

489۔ عتاب بن شمیر

490۔ عتبہ بن نذر

491۔ حدمی بن عدی

492۔ عرس بن عمیرہ

493۔ عقبہ بن مالک

494۔ عمرو بن الاحوص

495۔ عمرو بن ثغلب

496۔ عمر بن غیلان

497۔ عمرو بن کعب الیامی

498۔ عمیر بن قتادہ

499۔ عیاش بن ابی ربیعہ

500۔ عیاض الاشعری

501۔ فرات بن حبان الفراسی

502۔ قتادہ بن ملحان

503۔ قدامہ بن عبداللہ

504۔ کعب بن عیاض

505۔ مالک بن عبداللہ الاودی

506۔ مالک (کنیت ابوصفوان)

507۔ ماریہ (رسول ا کی آزاد کردہ باندی)

508۔ محمد بن حاطب

509۔ محصن

510۔ مطلب بن عبداللہ حنطب

511۔ معقل بن مقرن

512۔ معقل بن ابومعقل

513۔ معاویہ بن جاہمہ

514۔ میمونہ (رسول اللہ کی آزاد کردہ باندی)

515۔ نافع بن حارث

516۔ نبیط بن شریط

517۔ نعیم بن نحام

518۔ ولید بن عقبہ

519۔ وہب بن حذیفہ

520۔ یعلی العامری

521۔ یسیر (اسیر) الدرمکی

522۔ ابوامامہ الحارثی

523۔ ابوبردہ

524۔ ابوابراہیم

525۔ ابوثابت

526۔ ابوالجعد

527۔ ابورافع الغفاری

528۔ ابورفاعہ

529۔ ابوزہیر النمیری

530۔ ابوسعید بن المعلی

531۔ ابوسلامہ

532۔ ابوسلمی (راعی و خادم رسول اللہ)

533۔ ابوسلیط

534۔ ابوشمح

535۔ ابوسیارہ المتعی

536۔ ابوعمرہ

537۔ ابوغطیف

538۔ ابوکلیب

539۔ ابومرثد الغنوی

540۔ ابونملہ (نام معاذ)

541۔ ابودردائ ام بشر بن براء

542۔ ام الحکم

543۔ ام زیاد

544۔ ام عبدالرحمن بن طارق

545۔ ام عبداللہ بنت اوس

546۔ ام عمارہ

547۔ ام معبد

548۔ ام ورقہ بن الرسیم

29۔ جن صحابہ کرام سے صرف ایک حدیث مروی ہے

549۔ ابولحم اذرع السلمی

550۔ اذینہ اسماء بن جاریہ

551۔ اسمر بن مضرس

552۔ اسود بن اصرم المحاربی

553۔ اقرع بن حابس

554۔ انیس

555۔ ابوفاطمہ

556۔ ایمن بن عبید

557۔ انیس بن ابومرثد

558۔ اوس

559۔ ایاس بن عبداللہ

560۔ بروع بنت واشق

561۔ بریرہ(حضرت عائشہؓ کی آزاد کردہ باندی)

562۔ بسر بن محجن

563۔ بشر بن عاصم

564۔ بشر کنیت ابونحیلہ

565۔ بشیر الغفاری

566۔ بشیر بن عقریہ

567۔ بشیر الاسلمی

568۔ بشیر

569۔ بقیرہ (حضرت قعقاع کی اہلیہ)

570۔ بلال بن سعد

571۔ تلب

572۔ تمیم المازنی

573۔ تمیم العدوی

574۔ ثابت بن رفیع

575۔ ثابت بن صامت

576۔ ثابت بن قیس بن شماس

577۔ ثابت بن یزد

578۔ ثابت بن ابوعاصم

579۔ ثعلبہ بن زہدم

580۔ ثعلبہ بن ابومالک

581۔ ثعلبہ

582۔ ثمامہ بن انس

583۔ جاہمہ

584۔ جابر بن عمیر

585۔ جابر الاحمسی

586۔ جبار بن سلمی

587۔ جبیر الکندی

588۔ جبلہ بن ازرق

589۔ جدارالاسلمی

590۔ جرموز الہجیمی

591۔ جعدہ بن ہبیرہ

592۔ جعفر بن ابوالحکم

593۔ جعیل الاشجعی

594۔ جمرہ ایربوعیہ

595۔ جمیلہ بنت ابی بن سلول

596۔ جبارہ بن مالک

597۔ جندب بن سلمہ

598۔ جندب بن مکیث

599۔ جندرہ بن خیشنہ

600۔ جودان

601۔ حارث بن بدل

602۔ حارث بن حارث

603۔ حارث بن حاطب

604۔ حارث بن حسان

605۔ حارث بن خزمہ

606۔ حارث بن غزیہ

607۔ حارث بن غطیف

608۔ حارث بن مالک

609۔ حارث بن نوفل

610۔ حارث الثقفی

611۔ حارثہ الخزاعی

612۔ حازم بن حرملہ

613۔ حبیب بن فدیک

614۔ حبیبہ بنت ابوتجراء

615۔ حبہ بنت خالد

616۔ حبان بن بح

617۔ حجاج بن عبداللہ

618۔ حجاج بن علاط

619۔ ججرالمدری

620۔ ججیر بن بیان

621۔ حدرد بن ابی حدرد

622۔ حذیم السعدی

623۔ حرام بن معاویہ

624۔ حرملہ العنبری

625۔ حرملہ الاسلمی

626۔ حسان بن ثابت

627۔ حسان بن ابوجابر السلمی

628۔ حصین بن عوف الاحمسی

629۔ حکم بن حزم

630۔ حکم بن عمرو الغفاری

631۔ حمزہ بن ابواسید

632۔ حمنہ بنت جحش

633۔ حنظلہ السدوسی

634۔ حواء

635۔ حویطب بن عبدالعزی

636۔ خالد بن عدی الجہنی

637۔ خالد بن ابوجبل

638۔ خلاد

639۔ خالدہ بنت انس

640۔ ام المومنین خدیجہ

641۔ خرشہ بن حارث

642۔ خزیمہ بن جزی

643۔ خوات بن جبیر

644۔ خولی

645۔ خولہ بنت صامت

646۔ خیرہ (کعب بن مالک کی اہلیہ)

647۔ دغفل

648۔ دکین بن سعید

649۔ دیلم الجیشانی

650۔ ذوالزوائد

651۔ ذوالغرہ

652۔ راوع بن بشریا ابن بسر

653۔ رافع بن عمرو المزنی

654۔ رافع بن مالک الانصاری

655۔ رافع بن مکیث

656۔ رافع بن ابورافع الطائی

657۔ ربیع الانصاری

658۔ رسیم الہجری

659۔ رشید السعدی

660۔ رفیقہ

661۔ زارع بن عامر العنبری

662۔ زہیر بن عثمان

663۔ زہیر بن علقمہ

664۔ زہیر بن عمرو

665۔ زہیر بن قیس البجلی

666۔ زنباع الجذامی

667۔ زیاد بن حارث

668۔ زید بن حارثہ

669۔ زید بن خارجہ

670۔ زید بن ثابت

671۔ زرارہ بن جزی

672۔ زنکل

673۔ سائب بن خباب

674۔ سائب بن خلاد کنیت ابو سہلہ

675۔ سابط

676۔ سالم بن حرملہ

677۔ سبرہ بن ابوفاکہ

678۔ سراء بنت نبہان

679۔ سعد بن اطول

680۔ سعد بن اسحاق

681۔ سعد بن تمیم سعد

682۔ سعید بن العاص

683۔ سعید بن عامر

684۔ سعید

685۔ سعید بن ابوراشد

686۔ سعید بن ابوذباب

687۔ سعید

688۔ سفیان بن مجیب

689۔ سفیان بن وہب الخولانی

690۔ سلمہ بن قیس

691۔ سلمہ بن نعیم

692۔ سلمی ام رافع (حضورکی آزاد کردہ باندی)

693۔ سلمی الجرمی

694۔ سلامہ بن قیصر

695۔ سلامہ بن معقل

696۔ سلیل اشجعی

697۔ سلمان

698۔ سواء بن خالد

699۔ سوید بن جبلہ

700۔ سوید الانصاری

701۔ سواد بن عمرو

702۔ سہل بن حنیف

703۔ سہیل بن یوسف

704۔ شریک بن حنبل

705۔ شداد بن اسید

706۔ شعبہ بن توام

707۔ شقی بن ماتع

708۔ شکل بن حمید

709۔ شمیر

710۔ شموس بنت نعمان

711۔ شیبہ بن عثمان

712۔ شیبان

713۔ صخر بن عیلہ

714۔ صعصعہ بن ناحیہ

715۔ صعصعہ صفوان الزہری

716۔ صلہ الغفاری

717۔ صمیتہ

718۔ صہیب (یہ صہیب رومی کے علاوہ ہیں )

719۔ ضحاک بن قیس

720۔ طارق بن عبداللہ المحاربی

721۔ طارق بن سوید

722۔ طارق بن شہاب

723۔ طعمہ بن جرء

724۔ طفیل بن سخبرہ

725۔ طلحہ بن مالک

726۔ طلحہ بن معاویہ

727۔ طلحہ السحمی

728۔ طلحہ النصری

729۔ طلق بن یزید

730۔ طہفہ الغفاری

731۔ عابس الغفاری

732۔ عامر بن شہر

733۔ عامر بن عاتذ

734۔ عامر بن مسعود

735۔ عامر المزنی

736۔ عامر الرام

737۔ عاتذ بن قرط

738۔ عبداللہ بن اقرم

739۔ عبداللہ بن بدر

740۔ عبداللہ بن جبیر الخزاعی

741۔ عبداللہ بن رواحہ

742۔ عبداللہ بن ربیعہ

743۔ عبداللہ بن زمعہ

744۔ عبداللہ بن سبرہ

745۔ عبداللہ بن سعد

746۔ عبداللہ بن السعدی

747۔ عبداللہ بن سہیل

748۔ عبداللہ بن عامر

749۔ عبداللہ بن عمار

750۔ عبداللہ بن عتبہ

751۔ عبداللہ بن عبدالرحمن

752۔ عبداللہ بن عتیک

753۔ عبداللہ بن عدی

754۔ عبداللہ بن عیسیٰ

755۔ عبداللہ بن کعب

756۔ عبداللہ بن معقل بن مقرن

757۔ عبداللہ بن معبد

758۔ عبداللہ بن ہلال الثقفی

759۔ عبداللہ بن ابوامیہ

760۔ عبداللہ بن اوشدیدہ

761۔ عبداللہ بن ابوسفیان

762۔ عبداللہ بن ابو المطرف

763۔ عبید اللہ القرشی

764۔ عبدالرحمن بن خباب

765۔ عبدالرحمن بن خماشہ

766۔ عبدالرحمن بن سبرہ بن سنۃ

767۔ عبدالرحمن بن عائش

768۔ عبدالرحمن بن عتبہ

769۔ عبدالرحمن بن عثمان

770۔ عبدالرحمن بن عدیس (یا حدیس)

771۔ عبدالرحمن بن عمروالسلمی

772۔ عبدالرحمن بن قتادہ السلمی

773۔ عبدالرحمن بن مالک

774۔ عبدالرحمن بن معاذ

775۔ عبدالرحمن بن معاویہ

776۔ عبدالرحمن بن ابوعقیل

777۔ عبادہ بن قرص

778۔ عبید بن خشخاش

779۔ عباد بن شرجیل

780۔ عباد

781۔ عبدالحمید بن عمرو

782۔ عبد عوف (قیس بن ابوحازم کے والد)

783۔ عبیدہ بن عمرو الکلابی

784۔ عبید اللیثی

785۔ عبید بن خالد السلمی

786۔ عثمان بن حنیف

787۔ عدی بن زید

788۔ عدی الجذامی

789۔ عروہ بن عامر الجہنی

790۔ عروہ بن مسعود الثقفی

791۔ عروہ

792۔ عسعس بن سلامہ

793۔ عصام المزنی

794۔ عفیف الکندی

795۔ عقبہ بن اوس

796۔ عقبہ بن مالک

798۔ عکرمہ بن ابوجہل

799۔ عکراش بن ذویب

800۔ علقمہ بن حویرث

801۔ علقمہ بن رمثہ البلوی

802۔ علمقہ بن نضلہ

803۔ عمار بن اوس

804۔ عمارہ بن زعکرہ

805۔ عمار بن مدرک

806۔ عمرو بن اراکہ

807۔ عمرو بن حارث

808۔ عمرو بن سعد

809۔ عمرو بن سفیان السلمی

810۔ عمرو بن شاس

811۔ عمرو بن شعبہ

812۔ عمرو بن عامر بن طفیل

813۔ عمرو بن مالک الروسی

814۔ عمرو بن معدی کرب

815۔ عمرو بن الوعقرب

816۔ عمرو بن العجلانی

817۔ عمرو البکالی

818۔ عمرو الجمعی

819۔ عمیر بن حبیب بن خماشہ

820۔ عمیر بن سلمہ

821۔ عمیر بن عامر بن مالک (کنیت ابوداؤد)

822۔ عمیر بن ابوسلمہ الضمری

823۔ عمر اللیثی

824۔ عمیر بن العنری

825۔ عمیر

826۔ عیاض بن غنم

827۔ غالب بن ابوابجر

828۔ عرفہ الکندی

829۔ فاکہ بن سعد

830۔ فجیع العامری

831۔ فروہ بن نوفل

832۔ قارب اللیثی

833۔ قبیصہ البجلی

834۔ قتیلہ

835۔ قسامہ بن زہیر

836۔ قطبہ بن قتادہ

837۔ قعقاع بن ابوحذرد

838۔ قیس بن خشخاش

839۔ قیس بن سائب

840۔ قیس بن سہل الفیقحی

841۔ قیس بن سہل (حضرت یحییٰ بن سعیہ کے دادا)

842۔ قیس بن عائذ (کنیت ابوالکاہل)

843۔ کبیشہ

844۔ کدیر الضبی

845۔ کردم بن قیس

846۔ کلیب الجہنی

847۔ کلثوم

848۔ کندیر

849۔ کیسان (رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام)

850۔ لیلی بنت فانف

851۔ مالک بن اخیمر

852۔ مالک بن تیہان

853۔ مالک بن خشخاش

854۔ مالک بن عبادہ الغافقی

855۔ مالک بن عتاہیہ

856۔ مالک بن عوف القشیری

857۔ مالک بن عمرو العبدی

858۔

[ جمعه شانزدهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 6:7 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

آلِ زبیر کی حکومت کا قیام اور زوال

ایک مؤثر تاریخی جائزہ

آلِ زبیر کی حکومت کے سقوط کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ حکومت کس طرح قائم ہوئی، کن حالات میں ابھری اور اس کی سلطنت کہاں تک پھیلی۔

بعض قدیم مؤرخین، خصوصاً **** کے مطابق، امام حسینؑ کی مظلومانہ شہادت کے بعد پیدا ہونے والے شدید عوامی غم و غصے سے عبداللہ بن زبیر نے سیاسی فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے بنو امیہ سے امام حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے کا نعرہ بلند کیا اور مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کی پناہ میں رہتے ہوئے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، یہاں تک کہ وہ "العائذ بالبيت" (بیت اللہ کی پناہ لینے والے) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ تاہم یزید بن معاویہ کی زندگی میں ان کا اقتدار صرف مکہ تک محدود رہا۔

جب ربیع الاول 64 ہجری میں یزید بن معاویہ کا انتقال ہوا تو خلافتِ امویہ جانشینی کے بحران کا شکار ہوگئی۔ عبداللہ بن زبیر نے اس سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مدینہ منورہ پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت مروان بن حکم اور اس کا بیٹا عبدالملک بن مروان مدینہ میں موجود تھے اور گرفتار بھی ہوئے۔

اس کے بعد ابنِ زبیر کی حکومت تیزی سے وسعت اختیار کرتی گئی۔ حجاز، یمن، عراق، خراسان اور مصر ان کے زیرِ اقتدار آگئے۔ دمشق میں ضحاک بن قیس اور حمص میں نعمان بن بشیر انصاری کو اپنا نمائندہ مقرر کیا گیا۔ ان دونوں نے اموی بیعت چھوڑ کر عبداللہ بن زبیر کی بیعت قبول کرلی۔ اس وقت صرف اردن ایسا علاقہ تھا جہاں کے گورنر حسان بن بجدل کلبی نے اموی وفاداری برقرار رکھی، اور یہی علاقہ بعد میں اموی خاندان کی پناہ گاہ بنا۔

7 رجب 64 ہجری کو عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں خود کو مسلمانوں کا خلیفہ قرار دیا اور بنو امیہ کو اپنی بیعت کی دعوت دی۔ لیکن ان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی یہ سمجھی جاتی ہے کہ انہوں نے مروان بن حکم اور عبدالملک کو رہا کر دیا۔ مروان نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بنو امیہ سے ابنِ زبیر کی بیعت لے گا، مگر رہائی کے فوراً بعد وہ اردن کے مقام جابیہ پہنچا جہاں بنو امیہ نے اسے اپنا خلیفہ منتخب کر لیا۔

مروان بن حکم نے اموی حکومت کی بحالی کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کی۔ اس نے بیت المال کے خزانے کھول دیے، لوگوں میں دولت تقسیم کی، قبائلی سرداروں کو مال و منصب کا لالچ دیا اور شام میں اپنے حامیوں کو بغاوت پر آمادہ کیا تاکہ دمشق اور حمص میں زبیری اقتدار کمزور ہو جائے۔

اسی دوران عبداللہ بن زبیر کی مالی پالیسیوں پر بھی عوام میں ناراضی پیدا ہوئی۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ عطیات اور وظائف کی ادائیگی میں تاخیر کرتے تھے، جبکہ شام کے لوگ اموی دور کی فراخ دلانہ عطاؤں کے عادی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے قبائل دوبارہ اموی حکومت کی طرف مائل ہوگئے۔

چنانچہ امویوں نے ضحاک بن قیس کو دمشق سے باہر مرجِ راہط کے مقام پر لڑائی میں شکست دی، جس کے بعد دمشق دوبارہ ان کے قبضے میں آگیا۔ پھر مروان نے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن مروان کو مصر بھیجا، جہاں بعض مقامی کمانڈروں کی حمایت حاصل کرکے 65 ہجری میں مصر پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ بعد ازاں حمص اور ساحلی علاقے بھی اموی اقتدار میں واپس آگئے، جبکہ نعمان بن بشیر کو ان کے مخالفین نے مسجد میں شہید کر دیا۔

بعد میں امویوں نے زبیری حکومت کی اندرونی مشکلات سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ایک طرف مختار ثقفی اور خوارج کے خلاف جنگیں جاری تھیں، دوسری طرف عراق اور خراسان میں مرکزی حکومت کمزور ہو چکی تھی۔ اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اموی لشکر نے 71 ہجری میں عراق پر حملہ کیا، جس میں مصعب بن زبیر شہید ہوگئے اور عراق دوبارہ امویوں کے قبضے میں چلا گیا۔

مصعب بن زبیر کی شہادت کے بعد عبداللہ بن زبیر کے پاس صرف حجاز باقی رہ گیا۔ اس موقع پر عبدالملک بن مروان نے فیصلہ کیا کہ اب زبیری حکومت کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے۔ اس نے حجاج بن یوسف ثقفی کو تقریباً بیس ہزار سپاہیوں کے ساتھ مکہ روانہ کیا۔

ذوالحجہ 72 ہجری میں حجاج طائف پہنچا اور اسے اپنا فوجی مرکز بنایا۔ ابتدا میں مکہ کے باہر شدید معرکے ہوئے جن میں ابنِ زبیر کی فوج پسپا ہو کر حرم میں داخل ہوگئی۔ حجاج نے عبدالملک سے مزید فوج اور سخت محاصرے کی اجازت طلب کی، جو اسے مل گئی۔

اسی سال حج کے موقع پر عبداللہ بن زبیر نے خود حج کی امامت نہ کی اور عبداللہ بن عمر نے دونوں فریقوں کے درمیان ایک ماہ کی جنگ بندی کروا کر لوگوں کو سکون سے حج ادا کرنے کا موقع دیا۔

73 ہجری کے آغاز اور حج کے اختتام کے بعد حجاج نے مکہ کا سخت محاصرہ کر لیا۔ جبلِ ابو قبیس پر منجنیق نصب کی گئی اور مکہ پر پتھر اور آتش گیر گولے برسائے گئے، جس سے متعدد مکانات منہدم ہوئے اور بہت سے لوگ جاں بحق ہوئے۔ محاصرہ اتنا سخت تھا کہ خوراک ختم ہوگئی، لوگ بھوک سے نڈھال ہوگئے اور بعض روایات کے مطابق مردار اور جنگلی گھاس کھانے پر مجبور ہوگئے۔ عبداللہ بن زبیر کے پاس اپنے ساتھیوں میں تقسیم کرنے کے لیے کچھ نہ بچا تو انہوں نے اپنا گھوڑا ذبح کروا دیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان کے بیشتر ساتھی اور حتیٰ کہ ان کے بعض بیٹے بھی انہیں چھوڑ کر حجاج کے پاس چلے گئے اور امان حاصل کر لی۔

جب عبداللہ بن زبیر نے دیکھا کہ اکثر لوگ ساتھ چھوڑ چکے ہیں تو وہ اپنی والدہ اسماء بنت ابی بکر کے پاس گئے اور اپنی تشویش بیان کی کہ وہ میدانِ جنگ میں مرنا چاہتے ہیں، مگر ڈرتے ہیں کہ ان کے جسدِ خاکی کی بے حرمتی کی جائے گی۔ اس پر اسماء نے وہ تاریخی جملہ کہا:

«"بیٹا! جب بکری ذبح ہو جائے تو پھر اس کی کھال اتارنے سے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔"»

یہ سن کر عبداللہ بن زبیر ثابت قدمی کے ساتھ میدان میں اترے۔ ان کے ساتھ چند ہی وفادار باقی رہ گئے تھے۔ آخرکار وہ جنگ کرتے ہوئے مارے گئے۔ ان کے بعد ان کے ساتھی بھی ایک ایک کرکے قتل ہوگئے اور یوں 17 جمادی الاول 73 ہجری کو آلِ زبیر کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

روایات کے مطابق اس کی موت کے بعد حجاج بن یوسف نے اس کی لاش کو سولی پر لٹکانے کا حکم دیا۔ چند روز بعد ان کی والدہ اسماء بنت ابی بکر کی درخواست پر لاش اتاری گئی اور مکہ کی مقبرۂ معلاۃ میں تدفین کی اجازت دی گئی۔

عبداللہ بن زبیر کی وفات کے ساتھ ہی زبیری حکومت مکمل طور پر ختم ہوگئی، حجاز دوبارہ اموی اقتدار میں شامل ہوگیا اور عبدالملک بن مروان نے کئی برسوں کی خانہ جنگی کے بعد اموی سلطنت کو ایک بار پھر متحد کر لیا۔

📚 حوالہ
- محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم والملوک (تاریخ الطبری)۔

[ سه شنبه سیزدهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 10:8 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

غامدی صاحب کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ
حال ہی میں آسٹریلیا کے اپنے دورے کے دوران مختلف شہروں میں اہلِ علم، طلبہ اور جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں نے مجھ سے بار بار یہ سوال کیا کہ برصغیر کے اکثر علماء جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں مثبت رائے کیوں نہیں رکھتے، اور اس سلسلے میں میری اپنی رائے کیا ہے۔
مختلف مجالس میں اس سوال کا بار بار سامنے آنا اس بات کا باعث بنا کہ اس موضوع پر شخصیات، جذبات اور گروہی وابستگیوں کے بجائے علمی دیانت، تاریخی شعور اور اصولی انصاف کی روشنی میں گفتگو کی جائے۔ ذیل میں اسی سوال کے جواب میں اپنے نقطۂ نظر کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے برصغیر کی دینی روایت اور اس کے علمی مزاج کو سمجھنا ضروری ہے۔ برصغیر میں عمومی طور پر روایت پسندی کا رجحان غالب رہا ہے، اور صدیوں سے رائج فقہی، کلامی اور صوفیانہ تعبیرات کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس ماحول میں جب بھی کوئی عالم کسی مسئلے کی ایسی تعبیر پیش کرتا ہے جو مروجہ آرا سے مختلف ہو، تو اسے عموماً جدت پسند، مغرب زدہ یا منحرف قرار دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلامی علمی روایت اس حقیقت کی گواہ ہے کہ تعبیر، اجتہاد اور فہمِ دین میں اختلاف ہمیشہ سے اہلِ علم کے درمیان موجود رہا ہے، اور اسے علمی زندگی کا ایک فطری مظہر سمجھا گیا ہے، نہ کہ دین سے انحراف کی علامت۔
مزید برآں، ہمارے دینی ماحول میں متعدد ایسی تعبیرات رائج ہیں جن کے بارے میں خود جلیل القدر علما کے درمیان بنیادی اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر وحدت الوجود کا نظریہ صدیوں سے اسلامی تصوف کے ایک بڑے طبقے میں مقبول رہا ہے، جبکہ متعدد ممتاز علماء نے اسے قرآن و سنت کے منافی، بلکہ بعض صورتوں میں کفر تک قرار دیا ہے۔ اسی طرح بعض صوفیانہ حلقوں میں اپنے بزرگوں کے لیے قطب، غوث اور قیوم جیسے القابات استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ بہت سے محققین انہیں شرک سے قریب یا کم از کم غیر محتاط تعبیرات قرار دیتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تعبیرات کا اختلاف اسلامی علمی روایت کی ایک مستقل حقیقت ہے۔ اس لیے اگر کسی عالم کی بعض آرا سے اختلاف ہو تو اسے علمی دائرے میں رکھنا چاہیے، نہ کہ اس کی بنیاد پر اس کی مجموعی علمی حیثیت کا انکار کر دیا جائے۔
اسی تناظر میں اگر جاوید احمد غامدی صاحب کے افکار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن امور میں برصغیر کے بہت سے علماء کو ان سے اختلاف ہے، ان میں سے بیشتر کا تعلق تعبیر، اجتہاد اور فقہی و فکری فروعات سے ہے، نہ کہ اصولِ دین یا قطعی ايمانيات سے۔ یقیناً ان کی بعض آراء روایتی نقطۂ نظر سے مختلف ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں سے اکثر آراء ایسی نہیں جن میں وہ اسلامی علمی روایت میں بالکل منفرد ہوں۔ مختلف ادوار میں متعدد اہلِ علم نے ان سے ملتے جلتے افکار پیش کیے ہیں۔ لہٰذا کسی رائے کو صرف اس لیے ناقابلِ قبول قرار دینا کہ وہ مروجہ تعبیر سے مختلف ہے، علمی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
میرا اصول ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ہر وہ عالم یا مفکر جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین سے قریب کرے، ان کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا علمی ازالہ کرے، اور اپنے عہد کے فکری چیلنجز کا سنجیدگی سے جواب دینے کی کوشش کرے، وہ اپنی خدمات کے اعتبار سے قابلِ قدر ہے۔ کسی عالم کی قدر کا معیار صرف یہ نہیں کہ اس کی ہر رائے سے اتفاق کیا جائے، بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس نے اپنے دور کے انسان کو دین سے جوڑنے میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کیا۔
اس معیار کی روشنی میں میرے نزدیک جاوید احمد غامدی صاحب کی خدمات قابلِ اعتراف ہیں۔ خصوصاً مشرق اور مغرب میں جدید تعلیم یافتہ طبقے کے بے شمار افراد نے ان کی تحریروں، دروس اور خطابات سے استفادہ کیا ہے۔ بہت سے ایسے نوجوان، جو جدید فکری اعتراضات، سائنسی مباحث یا مغربی فلسفے کے زیرِ اثر دین کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے، انہیں غامدی صاحب کی علمی کاوشوں کے ذریعے اسلام کو نئے زاویۂ نگاہ سے سمجھنے کا موقع ملا۔ اس خدمت کا اعتراف کرنا علمی دیانت کا تقاضا ہے، خواہ کسی شخص کو ان کی تمام آراء سے اتفاق نہ بھی ہو۔
اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی عالم کی علمی خدمات کا اعتراف اس کی ہر رائے کو درست قرار دینے کے مترادف نہیں۔ اگر غامدی صاحب کی کسی رائے سے علمی اختلاف ہو تو اسے دلیل، تحقیق اور حسنِ اخلاق کے ساتھ ضرور بیان کیا جانا چاہیے۔ تاہم یہ اصول صرف انہی کے لیے مخصوص نہیں ہونا چاہیے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جس معیار پر غامدی صاحب کی آراء کا جائزہ لیا جاتا ہے، اسی معیار پر دیگر علماء کی آراء کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اگر روایتی علماء کی تعبیرات کو تنقید سے بالاتر سمجھ لیا جائے، جبکہ صرف ایک شخصیت کو مسلسل علمی تنقید کا ہدف بنایا جائے، تو یہ رویہ علمی دیانت اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔
اسلامی تہذیب کی علمی تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہ ہے کہ فقہ، تفسیر، حدیث اور علمِ کلام کے میدانوں میں ائمۂ امت کے درمیان گہرے اختلافات موجود رہے، لیکن ان اختلافات نے کبھی باہمی احترام، حسنِ ظن اور علمی وقار کو مجروح نہیں کیا۔ اختلاف کو ہمیشہ حقیقت تک رسائی، علمی ارتقا اور فکری پختگی کا ذریعہ سمجھا گیا، نہ کہ شخصیت کشی، گروہ بندی یا باہمی نفرت کا وسیلہ۔ ہمارے معاصر دینی ماحول کو بھی اسی علمی روایت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جاوید احمد غامدی صاحب سے اختلاف کرنا ہر صاحبِ علم کا حق ہے، بلکہ اگر یہ اختلاف دلیل، تحقیق اور علمی اصولوں کی بنیاد پر ہو تو وہ ایک صحت مند علمی روایت کی علامت ہے۔ تاہم محض چند اجتہادی یا تعبیری اختلافات کی بنیاد پر ان کی مجموعی علمی خدمات کا انکار کرنا یا انہیں انحراف کا عنوان دینا انصاف اور اعتدال کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ افراد کے بجائے دلائل کو معیار بنایا جائے، اور جس میزان پر ہم غامدی صاحب کی آراء کو پرکھتے ہیں، اسی میزان پر دیگر علماء کی آراء کا بھی جائزہ لیا جائے۔ یہی رویہ امت میں علمی توازن، فکری وسعت اور باہمی احترام کو فروغ دے سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر معاملے میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے، اختلافِ رائے میں وسعتِ ظرف اور حسنِ اخلاق اختیار کرنے، دوسروں کی علمی خدمات کی قدر کرنے، اور ہمارے دلوں کو تعصب، حسد اور گروہی عصبیت سے پاک رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک زندہ علمی روایت اور ایک صالح معاشرے کی حقیقی بنیاد ہیں۔
1/8/2026

[ یکشنبه یازدهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 13:49 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

علماء کی تحریریں کیوں نہیں پڑھی جاتیں؟
از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آکسفورڈ
انسانی تاریخ میں ایک طویل عہد ایسا بھی گزرا ہے جب علماء کی تحریریں ہر طبقہ میں مقبول تھیں، کیونکہ وہ علم و تحقیق کا بہترین نمونہ ہوتیں، اور فصاحت و بلاغت کی اعلیٰ مثال۔ آج بھی ان پر نگاہ ڈالیں تو ان کے اوصاف و کمالات سے عقل و خرد مرعوب ہو جاتے ہیں، اور ان کی عظمت و ہیبت سے سرنگوں۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سیبویہ کی الکتاب، ابن سینا کی الشفاء اور القانون، امام شافعی کا الرسالة، ابن حزم کی المحلى، زمخشری کی الکشاف، البیرونی کی کتاب تحقیق ما للهند، ابن خلدون کا مقدمہ، شاطبی کی الموافقات، شاہ ولی اللہ دہلوی کی حجة الله البالغة اور اس طرح کی سیکڑوں کتابیں ہیں، جو دنیا کے علمی ورثہ میں سرفہرست ہیں۔
پھر بلادِ عرب و عجم میں مسلم معاشرے ایسے ثقافتی ادبار اور علمی تنزل کا شکار ہوئے کہ علماء کی تحریریں معیار سے فروتر ہو گئیں، اور انسانی تہذیب کے ارتقاء میں ان کا کوئی قابلِ ذکر حصہ نہ رہا۔ گویا عالمی سطح کے فکری و تعلیمی اداروں اور مرکزوں کی نگاہ میں وہ وجود ہی نہیں رکھتیں۔ نہ جدتِ فکر، نہ ندرتِ خیال، نہ رعنائیِ اسلوب، نہ خوبیِ انداز، نہ مصادر و مراجع کی تحقیق، نہ تحلیل و تجزیہ نگاری، اور نہ استدلال و استنتاج کی جدوجہد؛ بلکہ ان باتوں کا وہاں گزر ہی نہیں۔ گھسی پٹی باتیں، مکرر و معاد مسائل، اور اغلاط و اخطاء کا طومار؛ مزید برآں دون ہمتی، پست حوصلگی، ضعفِ نظر و فکر، رضا بالیسیر، واقتناع بالمعدوم۔
جدید تعلیم یافتہ طبقہ علماء کی کتابیں اور مضامین نہیں پڑھتا، بلکہ ان سے وحشت و نفرت کی حد تک بیزار ہے۔ عربی، اردو اور انگریزی، ہر زبان میں علماء کی تحریروں کا یہی حال ہے۔ بعض اہلِ علم اس تکلیف دہ انحطاط سے فکر مند ہیں، تاہم اکثریت کو اس کا احساس ہی نہیں۔ کچھ لوگ اردو میں لکھتے ہیں، پھر اپنی کتابوں کا عربی اور انگریزی میں ترجمہ کروا لیتے ہیں، اور اس خیالِ خام میں مبتلا رہتے ہیں کہ ان کا پیغام مشرق و مغرب میں پہنچ گیا۔
عزیز طلبہ! آپ اس وقت مدرسوں کی چھٹیوں کی وجہ سے فارغ ہیں، اس لیے آپ کو فکر و نظر کا پورا موقع ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس مقالہ کے عنوان سے خفا نہ ہوں، بلکہ اس تحریر میں جو بات سمجھائی جا رہی ہے، اس پر سنجیدگی سے غور کریں، اور آئندہ جدوجہد کریں کہ کس طرح ایک کامیاب مصنف بنیں؟ اور کیسے مختلف طبقوں سے ان کے مقام کے اعتبار سے خطاب کریں۔ ذیل میں آپ کی آسانی کے لیے علمی تحریروں کے عناصر کی تشریح پیش ہے:
فکر:
کسی مقالہ یا تصنیف کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر کوئی نیا پیغام ہو، یا کوئی نادر خیال، یا کوئی قیمتی فکر۔ جیسے اس مقالہ کی ابتدا میں مذکور کتابیں نئی اور مستقل افکار کی حامل ہیں۔ یا مثلاً حافظ ابن حجر عسقلانی کی شرحِ صحیح بخاری، جس میں پرانی معلومات کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کے ساتھ بہت سے نادر تحقیقات ہیں۔ عصرِ حاضر میں اس کی مثالیں علامہ شبلی نعمانی، مولانا حمید الدین فراہی، مولانا سید سلیمان ندوی، احمد امین، مولانا ابو الحسن علی ندوی، سید قطب شہید وغیرہ کی کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کو کسی بھی زبان میں منتقل کیا جائے تو ان کی افادیت کم نہیں ہوگی۔
اگر تحریر میں کوئی جدت یا ندرت نہیں تو وہ فضول ہے۔ اس کا لکھنا وقت کا ضیاع ہے، اور اس کا پڑھنا بھی وقت کا ضیاع، اور ایسی چیزوں سے عقل کے جمود میں اضافہ ہوتا ہے۔ عام علماء جو کچھ لکھتے ہیں، اس میں کوئی معنویت نہیں ہوتی، ان کی باتیں بالکل سادہ ہوتی ہیں، جن کے پیچھے کوئی سوچ نہیں۔
استناد:
یعنی جو باتیں بھی مقالہ یا کتاب میں پیش کی جائیں، اگر ان میں کچھ نقول ہیں تو ان کے اولین مراجع ذکر کیے جائیں، ثانوی مراجع صرف تائید کے لیے استعمال کریں۔ اولین اور ثانوی مراجع کی توثیق اور ان کی درجہ بندی پر بھی توجہ دیں۔ مثلاً کسی حدیث کے حوالے کے لیے یہ ترتیب اختیار کریں:
(۱) موطأ اور صحیحین۔ (۲) سنن ابی داود، سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ۔ (۳) مسند احمد بن حنبل، مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ۔ (۴) صحیح ابن خزیمہ، معاجم طبرانی، صحیح ابن حبان، شرح معانی الآثار۔ (۵) سنن دارقطنی، مستدرک حاکم، سنن بیہقی وغیرہ۔
اگر حدیث موطأ یا صحیحین کی ہے تو بالعموم اس کی صحت کی مزید تحقیق کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن اگر دوسرے مراجع کی ہے تو اس کی صحت کی تحقیق بھی کریں۔ حاکم وغیرہ کی تصحیح پر بھی نظر رکھیں، اور اسی طرح معاصرین کی تصحیح و تضعیف پر اعتماد نہ کریں، کیونکہ ان کی نظر حدیث کے علل اور اوہام پر نہیں ہوتی۔
بعض علماء مشکوٰة المصابیح، ریاض الصالحین، بلوغ المرام یا اس طرح کے دوسرے مجموعوں کا حوالہ دیتے ہیں، حالانکہ یہ کتابیں حوالہ کی کتابیں ہی نہیں، ان کی احادیث دوسری کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ اس طرح کے حوالے آپ کی تحریر کو غیر معیاری بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح تفسیر میں محدثینِ کبار کی تفسیروں، امام ابن جریر وغیرہ کی کتابوں کو ترجیح دیں، فقہ میں متقدمین کی کتب پر اعتماد کریں۔ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی بستے ہیں جو عام فقہی مسائل کے لیے حاشیہ ابن عابدین، فتاویٰ عالمگیریہ، بلکہ اردو کی فقہ و فتاویٰ کی کتابوں کے حوالے دیتے ہیں۔
تحلیل و تجزیہ:
جو باتیں پیش کریں، ان کا علمی تجزیہ کریں۔ تحلیل و تجزیہ علمی و ادبی تحریروں کے لوازم میں ہے۔ تحلیل و تجزیہ کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اپنی بات کو اجزاء میں تقسیم کریں، ہر ہر جز اور تفصیل پر "کیوں" اور "کیسے" کا سوال کریں۔ جب سارے متعلقہ سوال کر لیں، اور ان کے نقلی و عقلی جواب سے مطمئن ہوں، تو پھر ناقدانہ نگاہ سے ان کی منطقی ترتیب پر خاص توجہ دیں۔
عام طور سے علماء سیدھے سادے انداز سے ایک بات کہتے ہیں۔ ان کے اجزائے کلام غیر مرتب ہوتے ہیں، ضروری تفصیلات نظر انداز کر دی جاتی ہیں، اور غیر ضروری تفصیلات استطراداً ذکر کی جاتی ہیں۔ ان اجزاء و تفصیلات کے متعلق جو سوالات پیدا ہوتے ہیں، ان سے کوئی تعرض ہی نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ تحریریں پھسپھسی اور سطحی ہوتی ہیں۔
وضاحت:
جو کچھ لکھیں، اس کے لیے مناسب اسلوب اور معیاری زبان استعمال کریں۔ علمی مضامین کا اسلوب علمی ہو، اور ادبی مضامین کا اسلوب ادبی ہو۔ البتہ اصطلاحات اور فنی چیزوں سے حتیٰ الامکان اپنی تحریروں کو پاک رکھیں۔ شائع کرنے سے پہلے اپنی تحریریں متعلقہ علوم و فنون کے ماہرین کو پیش کرکے ان کی رائے معلوم کریں۔ جب یہ اندازہ ہو جائے کہ آپ کی بات اہلِ علم و ادب کے نزدیک قابلِ قبول ہے، تو پھر کچھ عام پڑھے لکھے لوگوں کی رائے معلوم کریں کہ وہ کس حد تک ان سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ جب یہ دونوں طبقے آپ کی تحریر منظور کر لیں، تب اسے نشر کریں۔
واضح تحریروں کے بہترین نمونے علامہ شبلی نعمانی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اور مولانا مودودی کے یہاں بکثرت ہیں۔ عربی زبان میں علمی مضامین کے لیے سب سے اچھا انداز احمد امین کا ہے۔ ان کی کتاب فجر الإسلام شاید واضح علمی اسلوب کی سب سے اچھی مثال ہے۔
عام علماء کی تحریروں میں توضیحِ مطالب کی کوشش اور زبان و اسلوب کی رعایت تقریباً مفقود ہوتی ہے، بلکہ بہت سے مصنفین اور مضمون نگاروں کو یہی نہیں معلوم ہوتا کہ ان کے مخاطب کون ہیں، اور وہ کس کے لیے لکھ رہے ہیں؟
آخری گزارش:
اس مضمون کی غایت کسی کی تنقیص یا کسی پر طعن و تشنیع نہیں، اس لیے اس طرح کی کوئی بدگمانی دل سے نکال دیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ مدارس کے طلبہ اور نوجوان فارغین کی رہنمائی کی جائے، تاکہ ان کی تحریریں زیادہ سے زیادہ مفید ہوں، اور ان کے نقائص و عیوب کی اصلاح ہو جائے۔
وما توفیقی إلا بالله، عليه توكلت وإليه أُنيب۔

[ یکشنبه یازدهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 13:44 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی . . میں نے سورۂ یوسف نہ جانے کتنی بار پڑھی، لیکن آج ایک ایسی بات پر نظر گئی جس نے مجھے حیران کر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کی پوری زندگی کی کہانی صرف تین قمیصوں کے ذریعے بیان کر دی۔ یہ قرآن کی بہترین اندازِ بیان کی ایک شاندار مثال ہے۔

قرآن میں بے شمار معجزات کا ذکر ہے۔
سمندر پھٹ جاتا ہے۔
چاند دو ٹکڑے ہو جاتا ہے۔
مردے زندہ کر دیے جاتے ہیں۔

لیکن سورۂ یوسف میں اللہ تعالیٰ بار بار ہماری توجہ ایک بہت عام سی چیز کی طرف دلاتے ہیں…
ایک قمیص۔

پہلی قمیص: دھوکے اور غداری کی قمیص (سورۂ یوسف 12:18)

پہلی قمیص پر جھوٹا خون لگا ہوا تھا۔ یہ دھوکے اور غداری کی علامت تھی۔

حضرت یوسفؑ کے اپنے بھائیوں نے اسی قمیص کو استعمال کر کے اپنے والد حضرت یعقوبؑ سے جھوٹ بولا۔

یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کے سب سے گہرے زخم ہمیشہ دشمن نہیں دیتے، بلکہ کبھی کبھی وہ لوگ دیتے ہیں جن سے ہمیں محبت، حفاظت اور وفاداری کی امید ہوتی ہے۔

دوسری قمیص: انصاف کی قمیص (سورۂ یوسف 12:25-28)

کئی سال بعد دوسری قمیص سامنے آتی ہے۔

اس بار حضرت یوسفؑ گناہ سے بچنے کے لیے بھاگتے ہیں، اور ان کی قمیص پیچھے سے پھٹ جاتی ہے۔

وہی قمیص، جسے پہلے ان پر جھوٹ باندھنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، اب ان کی بے گناہی کا ثبوت بن جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایک بڑی حقیقت سکھاتے ہیں کہ سچ کو آخرکار سامنے آ ہی جانا ہوتا ہے۔

تیسری قمیص: شفا اور رحمت کی قمیص

پھر تیسری قمیص آتی ہے۔

نہ اس پر جھوٹا خون ہے،
نہ وہ پھٹی ہوئی ہے،
نہ اس پر کوئی الزام ہے۔

حضرت یوسفؑ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں:

“میری یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو۔”

اللہ کے حکم سے حضرت یعقوبؑ کی بینائی واپس آ جاتی ہے، اور ان کے دل کا غم بھی دور ہو جاتا ہے۔

ذرا غور کریں…

پہلی قمیص غم کی علامت ہے۔

دوسری قمیص انصاف کی علامت ہے۔

تیسری قمیص شفا، سکون اور رحمت کی علامت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت یوسفؑ کی زندگی بیان نہیں کی، بلکہ ہر مومن کے زندگی کے سفر کو بھی سمجھا دیا۔

آج ہم میں سے بہت سے لوگ پہلی قمیص والے مرحلے میں ہیں۔

لوگ ہمیں غلط سمجھتے ہیں۔
ہمیں دھوکا ملا ہے۔
ہم دوسروں کے دیے ہوئے دکھوں پر رو رہے ہیں۔

لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

کچھ لوگ دوسری قمیص والے مرحلے میں ہیں۔

اللہ تعالیٰ سچ ظاہر کر رہے ہیں۔
ان کی بے گناہی ثابت ہو رہی ہے۔
اور یہ واضح ہو رہا ہے کہ صبر کبھی کمزوری نہیں ہوتا۔

پھر تیسری قمیص کا مرحلہ آتا ہے…

وہ مرحلہ جسے جلدی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

اصل خوبصورتی یہی ہے کہ حضرت یوسفؑ کو تیسری قمیص تک پہنچنے کے لیے پہلی دونوں آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔

پہلے جھوٹے خون کا دکھ برداشت کیا،
پھر پھٹی ہوئی قمیص کی آزمائش سے گزرے،
تب جا کر انہیں بادشاہت اور عزت نصیب ہوئی۔

ہم اکثر اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں فوراً تیسری قمیص یعنی سکون، شفا اور خوشی دے دے، جبکہ ہم ابھی تک پہلی قمیص کے جھوٹے خون کو صاف کرنے یا دوسری قمیص کے پھٹے ہوئے حصے کو سینے میں لگے ہوتے ہیں۔

ہم ماضی کو بدلنا چاہتے ہیں۔

لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتے ہیں کہ پہلی قمیص کو جانے دو۔

اس پر خون لگنا بھی اللہ کی حکمت کا حصہ تھا۔

اس کا پھٹنا بھی اسی منصوبے کا حصہ تھا۔

کہانی کو آگے بڑھنے کے لیے یہ سب ضروری تھا۔

ہر مومن کو زندگی میں کبھی نہ کبھی یہ تینوں قمیصیں پہننی پڑتی ہیں۔

بس یہ یاد رکھیں کہ حضرت یوسفؑ کی کہانی لکھنے والا وہی الحکیم (سب سے زیادہ حکمت والا) ہے، جو آپ کی کہانی بھی لکھ رہا ہے۔

شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سورۂ یوسف کو فرمایا:

“ہم آپ کو بہترین قصہ سناتے ہیں۔” (سورۂ یوسف، آیت 3)

[ شنبه دهم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 4:55 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
.: Weblog Themes By themzha :.

درباره وبلاگ

ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر
امکانات وب