|
Voice of Islam
إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسلامُ
| ||
|
*سید زادی کا غیر سید سے نکاح: قرآن، سنت اور فقہ جعفریہ کی روشنی میں علمی تحقیق*
تحریر: آغا ڈاکٹر کاشف علی رضوانی مدیر: مکتب فاطمیہ(س) انسٹیٹیوٹ
خلاصہ
یہ مقالہ پاکستان کے بعض علاقوں (خصوصاً پارا چنار اور اسکردو) میں پائی جانے والی اس غلط فہمی کا علمی رد پیش کرتا ہے جس کے تحت سید زادی کا غیر سید سے نکاح حرام سمجھا جاتا ہے، اور بعض انتہا پسند عناصر نے اس بنیاد پر بے گناہ افراد کو قتل تک پہنچایا ہے۔
یہ مقالہ چار سطحوں پر استدلال کرتا ہے: (1) قرآن مجید کی ازدواجی ممانعتوں کی جامع اور محدود فہرست، (2) نبی کریمؐ اور ائمہ طاہرینؑ کے دور کے عملی واقعات، (3) شیعہ فقہ کے معتبر مراجع کی واضح فتاویٰ، اور (4) نسب پر مبنی امتیاز کی عقلی و کلامی تردید۔ نتیجہ یہ ہے کہ سید زادی کا غیر سید سے نکاح فقہ جعفریہ میں بالکل جائز اور حلال ہے، اور اسے حرام سمجھنا جاہلیت کی باقیات اور اسلام کی روح کے منافی ہے۔
کلیدی الفاظ: سید، غیر سید، نکاح، فقہ جعفریہ، قرآن، سنت، نسب، جاہلیت
اول: تمہید
برصغیر پاک و ہند کے بعض سید گھرانوں میں ایک ایسی رسمی ممانعت پائی جاتی ہے جو شیعہ فقہ کے مسلمات سے واضح طور پر متصادم ہے: سید زادی کا غیر سید سے نکاح ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس مسئلے نے ایک دردناک شکل اختیار کی ہے، جب پارا چنار سے تعلق رکھنے والے ایک جاہل سید خاندان کی جانب سے اسکردو میں معصوم بچوں سمیت ان کے والدین کو ذبح کرنے کا واقعہ پیش آیا، اور سوشل میڈیا پر مراجع عظام کو گالیاں بکی گئیں۔ یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات سے انحراف ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک مخصوص جاہلیت کارفرما ہے جو نسب کو دین پر فوقیت دیتی ہے۔
اس مقالے کا مقصد یہ ہے کہ اس مسئلے کو قرآن، سنت اور فقہ جعفریہ کی محکم اور مستند دلیلوں کی روشنی میں واضح کیا جائے، تاکہ معاشرے کی اصلاح اور اس طرح کے جاہلانہ اقدامات کی روک تھام ہو سکے۔
دوم: قرآن مجید کی ازدواجی ممانعتوں کی جامعیت
اسلامی فقہ میں نکاح کی ممانعتوں (محرمات) کا بنیادی ماخذ سورۃ النساء کی آیات 22 اور 23 ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام خواتین کی تفصیل بیان فرمائی ہے جن سے نکاح دائمی طور پر حرام ہے:
«وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ... حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ... وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ» (النساء: 22-23)
اس آیت کے دو اہم فقہی پہلو ہیں:
پہلا: ممانعتوں کی فہرست جامع اور محدود (حصری) ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر محرم رشتے کی تفصیل بیان فرمائی ہے اور اسے "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ" (تم پر حرام کیا گیا) کے صیغے سے بیان فرمایا ہے۔
دوسرا: اس فہرست میں سید اور غیر سید کے فرق کا کوئی ذکر نہیں۔ اصول فقہ (اصول فقہ) کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جو چیز قرآن نے حرام نہیں قرار دی، وہ اصولاً حلال ہے۔ لہٰذا سید زادی کا غیر سید سے نکاح قرآن کی رو سے بالکل جائز ہے، اور اسے حرام قرار دینا اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے مقرر کردہ حدود سے تجاوز ہے۔
سوم: نبی کریمؐ اور ائمہ طاہرینؑ کی عملی سنت
نظری استدلال کے علاوہ اسلامی تاریخ کے متعدد محکم واقعات اس بات کی قطعی دلیل ہیں کہ نسب کا اختلاف نکاح میں کبھی رکاوٹ نہیں رہا۔
(الف) نبی کریمؐ کا خود سید زادی کا غیر سید سے نکاح کرانا
1. حضرت زینب بنت جحشؑ اور زید بن حارثہ کا نکاح: حضرت زینب بنت جحش نبی کریمؐ کی پھوپھی زاد بہن تھیں، یعنی ہاشمی سید زادی۔ زید بن حارثہ آپؐ کے آزاد کردہ غلام تھے اور نسب کے لحاظ سے ہاشمی نہیں تھے۔ ابتدا میں حضرت زینبؑ نے نسبی برتری کی بنیاد پر انکار کیا، لیکن نبی کریمؐ نے یہ نکاح کرایا، اور اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی:
«وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ» (الأحزاب: 36)
یہ واقعہ اعلان نبوت کے بعد کا ہے، اور نبی کریمؐ کا اس نکاح کو کرانا اور پھر نسبی برتری کے انکار کو آیت کے ذریعے رد کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سید زادی کا غیر سید سے نکاح دین میں کوئی قباحت نہیں رکھتا۔
2. حضرت ضباعہ بنت زبیرؑ اور حضرت مقداد بن اسودؓ کا نکاح: حضرت ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب نبی کریمؐ کی چچا زاد بہن تھیں (ہاشمی سید زادی)، اور حضرت مقداد بن اسودؓ غیر ہاشمی صحابی تھے۔ نبی کریمؐ نے خود یہ نکاح کرایا۔
چہارم: شیعہ فقہ کے معتبر مراجع کی واضح رائے
شیعہ فقہ جعفریہ میں اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں۔ آیت اللہ العظمیٰ خویی سے ایک سوال کیا گیا:
سوال: کیا سید زادی (جس پر صدقہ حرام ہے اور خمس لے سکتی ہے) کا نکاح ایسے مرد سے ہو سکتا ہے جو سید نہیں؟
جواب: "مؤمن مرد مؤمن خاتون کا ہم کفو ہے، اور ایک دوسرے سے نکاح میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ اس مسئلے میں علوی (سید) اور غیر علوی میں کوئی فرق نہیں، سید زادی غیر سید مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔" (آیت اللہ خویی، احکام شرعی برای زنان، ج1، ص240)
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے اس مسئلے کو مزید وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بعض متعصب افراد کی جانب سے اس نکاح کی ممانعت اس حد تک پہنچی ہے کہ "اگر کوئی سید زادی کو پیغام نکاح دے تو اسے قتل کر دیا جائے"، اور انہوں نے اس رویے کو "خرافہ و ضلالت" (اوہام اور گمراہی) قرار دیا ہے جو ائمہ اور تمام فقہا کے اجماع کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ آیت اللہ خویی اور آیت اللہ گلپایگانی، جو خود سید تھے نے اپنی بیٹیوں کی شادیاں غیر سیدوں سے کیں۔ (مکارم شیرازی، انوار الفقاہۃ، ج2، ص571)
پنجم: "نسب پرستی" کی عقلی و کلامی تردید
(الف) "کفو" کا صحیح مفہوم
اسلام میں نکاح کے لیے "کفو" (برابری) کا معیار بنیادی طور پر دین داری اور اخلاق ہے، نہ کہ نسب۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: "جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص رشتہ لے کر آئے جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے نکاح کرو۔" (وسائل الشیعہ، ج14، باب اول، ح1)۔ سید زادی کا غیر سید دیندار مرد سے نکاح کفو کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
(ب) "صدقہ" اور نکاح کا الگ الگ حکم
ایک جذباتی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ "صدقہ کھانے والے پر سید زادی کیسے حلال ہو سکتی ہے؟" اس کا جواب یہ ہے کہ صدقہ اور نکاح دو الگ الگ احکام ہیں۔ سید کے لیے صدقہ حرام ہونا "مالی معاونت" کے سلسلے میں ایک خاص ضابطہ ہے تاکہ ان کی عزت نفس محفوظ رہے، اس کا نکاح کے جواز سے کوئی تعلق نہیں۔ جیسے ایک امیر آدمی کو زکوٰۃ نہیں ملتی لیکن وہ شادی کر سکتا ہے، اسی طرح سید زادی صدقہ نہیں لے سکتی لیکن وہ کسی بھی نیک کردار مسلمان مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔
(ج) "ماں اور بیٹے" کی جذباتی مثال کی تردید
ایک اور جذباتی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ "سید زادی ماں اور امتی بیٹا ہے، ماں کا نکاح بیٹے سے کیسے ہو سکتا ہے؟" یہ استدلال فقہی طور پر بالکل بے بنیاد ہے۔ نکاح کی ممانعتوں میں "ماں اور بیٹا" سے مراد حقیقی نسبی یا رضاعی رشتہ ہے، نہ کہ مجازی یا سماجی نسبت۔ اگر اس مجازی نسبت کو ممانعت کی بنیاد مانا جائے تو پھر سید مرد کا غیر سید لڑکی سے نکاح بھی حرام ہونا چاہیے کیونکہ وہ "بیٹی" کے مثل ہے۔ اور یہ خود اس استدلال کی خود ساختہ بطلان ہے۔
(د) تقویٰ ہی معیار فضیلت ہے
قرآن مجید نے واضح طور پر فرمایا:
«إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ» (الحجرات: 13)
آیت اللہ مکارم شیرازی نے اسی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ نسب کی بنیاد پر نکاح کو حرام قرار دینا جاہلیت کی باقیات ہیں۔
ششم: سوشل میڈیا پر مراجع عظام کو گالیاں بکنا اور قتل و غارت کا جواز
اس مقالے کا ایک اہم محرک یہ ہے کہ حالیہ واقعات میں بعض افراد نے مراجع عظام کو گالیاں بکیں اور قتل و غارت کو "جواز" قرار دیا۔ اسلامی تعلیمات میں:
1. مراجع عظام کی توہین یہ علمائے دین کی حرمت اور ان کی علمی کاوشوں کی توہین ہے، جو خود حرام ہے۔ قرآن نے فرمایا: «یَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ» (المجادلہ: 11)۔
2. بے گناہ مسلمانوں کا قتل یہ اسلام میں سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔ قرآن نے فرمایا: «مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا» (المائدہ: 32)۔
3. "نسب کی حفاظت" کے نام پر قتل آیت اللہ مکارم شیرازی نے واضح کیا کہ یہ رویہ ائمہ اور تمام فقہا کے اجماع کے خلاف ہے، اور قرآن نے فرمایا: «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» (الحجرات: 1) یعنی اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔
نتیجہ:
مندرجہ بالا چاروں سطحوں کے استدلال سے درج ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں:
اول: قرآن مجید کی ازدواجی ممانعتوں کی فہرست جامع اور محدود ہے، اور اس میں "سید غیر سید" کا فرق شامل نہیں، لہٰذا یہ نکاح اصولاً حلال ہے۔
دوم: نبی کریمؐ نے خود حضرت زینب بنت جحش جیسی ہاشمی سید زادی کا نکاح زید بن حارثہ سے کرایا، حضرت ضباعہ بنت زبیر کا نکاح حضرت مقداد سے کرایا۔ یہ عملی سنت اس نکاح کی قطعی (جواز) کی دلیل ہے۔
سوم: شیعہ فقہ جعفریہ کے معتبر مراجع آیت اللہ خویی، آیت اللہ مکارم شیرازی نے واضح فتویٰ دیا ہے کہ یہ نکاح جائز ہے، اور اسے حرام قرار دینے کو "خرافہ و ضلالت" اور اجماع کے خلاف قرار دیا ہے۔
چہارم: نسب کی بنیاد پر قتل و غارت، مراجع عظام کو گالیاں، اور بے گناہوں کی ذبح یہ سب اسلامی تعلیمات کے قطعی منافی ہیں اور جاہلیت کی باقیات ہیں، جن کی کوئی دینی جواز نہیں۔
لہٰذا پارا چنار اور اسکردو کے حالیہ واقعات اسلامی فقہ میں کسی بھی طور پر جائز نہیں، اور مسلمانوں بالخصوص شیعہ علماء اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس قسم کی سوچ جو لاعلمی یا خاندانی روایات پر مشتمل ہے کو ختم کرنے کےلئے علمی دلیلوں کی روشنی میں اس جاہلانہ رسم کا قلع قمع کریں اور نکاح کے حق کو تحفظ فراہم کریں۔
حوالہ جات
1. آیت اللہ خویی، احکام شرعی برای زنان، ج1، ص240۔ 2. آیت اللہ مکارم شیرازی، انوار الفقاہۃ، ج2، ص571۔ 3. ابن حجر، فتح الباری، حضرت ضباعہ بنت زبیر اور حضرت مقداد کے نکاح کا ذکر۔ 4. سیوطی، الدر المنثور، حضرت زینب بنت جحش کے نکاح کی روایت۔ 5. کشی، رجال الکشی، ص241، امام صادقؑ کی بیٹی کی شادی کی روایت۔ 6. وسائل الشیعہ، ج14، باب اول، ح1 (کفو کے معیار کے بارے میں)۔ 7. آیت اللہ مکارم شیرازی کا فقہی ویب سائٹ، سید اور غیر سید کے نکاح کے بارے میں فتویٰ۔ [ پنجشنبه چهاردهم آبان ۱۴۰۵ ] [ 18:53 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
صرف علی ع ہی صدیق اکبر و فاروق اعظم ہیں: [ چهارشنبه سیزدهم آبان ۱۴۰۵ ] [ 17:15 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
کیا امام زین العابدین علیہ السلام نے یزید لعین کی بیعت کرلی تھی؟ تحریر: سید علی اصدق نقوی ملحوظہ: یہ ہماری ایک دو سال پرانی مفصل تحقیق کا حصہ ہے کہ جس میں ہم نے ایسی تمام روایات کی سندی و متنی تحقیق کی ہے جن میں یہ شائبہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام نے ظالمین کی بیعت کرلی تھی۔ حدیث اور اس سے متعلقہ علوم یقینا از اشرف و افضل علوم ہیں۔ اور ان میں علم روایت اور علم درایت دونوں شامل ہیں۔ جب تک انسان دونوں کو جمع نہ کرلے اس کے لیئے حدیث پر کلام مناسب نہیں اور بتحقیق درایت، روایت سے افضل ہے جیسا کہ متعدد فرامین ائمہ علیہم السلام سے ثابت ہے اور جیسا کہ عقل کا تقاضا ہے۔ نواصب کتب تشیع سے ایسی مرویات نقل کیا کرتے ہیں کہ جن میں ذکر ہوا ہے کہ ائمہ علیہم السلام نے گویا غیر معصوم کی بیعت کرلی تھی۔ اسی قبیل سے الکافی کی ایک روایت مروی ہے کہ جس میں امام سجاد علیہ السلام نے معاذ اللہ یزید پلید کی بیعت کرلی تھی۔ چنانچہ مروی ہے: 313- ابْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ (عَلَيْهِ السَّلام) يَقُولُ إِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ فَبَعَثَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ أَتُقِرُّ لِي أَنَّكَ عَبْدٌ لِي إِنْ شِئْتُ بِعْتُكَ وَإِنْ شِئْتُ اسْتَرْقَيْتُكَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ وَاللهِ يَا يَزِيدُ مَا أَنْتَ بِأَكْرَمَ مِنِّي فِي قُرَيْشٍ حَسَباً وَلا كَانَ أَبُوكَ أَفْضَلَ مِنْ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالإسْلامِ وَمَا أَنْتَ بِأَفْضَلَ مِنِّي فِي الدِّينِ وَلا بِخَيْرٍ مِنِّي فَكَيْفَ أُقِرُّ لَكَ بِمَا سَأَلْتَ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ إِنْ لَمْ تُقِرَّ لِي وَاللهِ قَتَلْتُكَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَيْسَ قَتْلُكَ إِيَّايَ بِأَعْظَمَ مِنْ قَتْلِكَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ (عَلَيْهِما السَّلام) ابْنَ رَسُولِ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) مَعَ يَزِيدَ لَعَنَهُ اللهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَقَالَتِهِ لِلْقُرَشِيِّ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أُقِرَّ لَكَ أَلَيْسَ تَقْتُلُنِي كَمَا قَتَلْتَ الرَّجُلَ بِالأمْسِ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ لَعَنَهُ اللهُ بَلَى فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) قَدْ أَقْرَرْتُ لَكَ بِمَا سَأَلْتَ أَنَا عَبْدٌ مُكْرَهٌ فَإِنْ شِئْتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ شِئْتَ فَبِعْ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ لَعَنَهُ اللهُ أَوْلَى لَكَ حَقَنْتَ دَمَكَ وَلَمْ يَنْقُصْكَ ذَلِكَ مِنْ شَرَفِكَ. میں کہتا ہوں: اس روایت کی سند صحیح ہے، اگرچہ ابن محبوب نے کئی غرائب کو روایت کیا ہے اور اس نے کئی مقامات پر تدلیس بھی کی ہے جس کو ہم اپنی کتابِ رجال میں واضح کر چکے۔ مگر یزید لعین کا مدینہ آنا تواریخ میں وارد نہیں ہوا اور یہ امر ثابت نہیں ہے۔ اس ہی روایت کے حاشیہ میں علامہ مجلسی رحمہ اللہ کا کہنا ہے: اس میں الکافی کے محقق نے اضافہ کیا ہے: یہی بات محدث نوری رضی اللہ عنہ نے خاتمۃ المستدرک میں اور علامہ مجلسی رحمہ اللہ نے بحار الانوار میں بیان کی ہے (4)۔ ان شاء اللہ ہم اپنا رسالہ بھی جلد ذکر کریں گے۔ حق بات یہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام نے ایک لحظہ کے لیئے بھی کسی غیر معصوم کی بیعت نہیں کی۔ اور ایسی روایات اور دیگر روایات جو کتب تشیع میں اسرائیلات میں سے مروی ہیں یا غنوصی و سریانی مصادر سے آئی ہیں، اور اس پر ہم الگ تحقیقات پیش کر چکے ہیں۔ اس سب میں اہل بصیرت کے لیئے نشانی ہے کہ Ḥadīth Dogmatism یعنی حدیث پرستی کا منہج کس قدر نقصان دہ ہے کہ جس میں انسان درایت اور قرائن سے عاری ہوکر کتب اربعہ یا دیگر کتب کی تمام روایات کو اس مفروضے پر قبول کرے کہ چونکہ یہ مصنفین سے نقل ہیں تو یہ سب کی سب صادر از معصوم علیہ السلام ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہی کتب میں انہی مصنفین کی کتب سے ایسی مرویات نقل ہوئی ہیں جو تورات و انجیل کی گستاخانہ فقرات سے آتی ہیں یا جو اسرائیلات اور یہود و نصاری کے قصوں کو امام علیہ السلام سے جوڑ کر پیش کرتی ہیں۔ اور انہی روایات میں تضادات کثیرہ بھی پائے جاتے ہیں جو کہ کتب کے ادنیٰ مطالعے سے معلوم ہوجائے گا۔ پس یہ نہایت سطحی منہج ہوا کہ ہم ایک حدیث کو پڑھ کر قبول کریں جب تک اس کا مکمل تجزئہ و تحلیل نہ کریں اور اس کے تاریخی، کلامی، فقہی سیاق اور دیگر متعلقہ تحقیقات کو پورا نہ کریں۔ اور دوسری طرف رجالی منہج بھی نہایت سطحی ہے کہ ہم رجال کی بناء پر احادیث کو رد یا قبول کریں کہ اسانید کو بھی گھڑا گیا ہے اور کتب مصنفین میں بھی روایات شامل کی گئی ہیں۔ اس سے قدرے بہتر ایکڈیمک طرز تحقیق ہے کہ جو ان دونوں سطحی مناہج کی محدودیت سے کافی حد تک آزاد ہے، البتہ اس کے نتائج ان دونوں مناہج والوں کے حق میں نہیں اور خود ایکڈیمک منہج کی اپنی محدودیت ہے۔ پس حق منہج وہ ہے جو تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کو جمع کرے اور جو اصول، سنت، عقل، فطرت، عرف، تاریخی سیاق، لسانی پہلو، دیگر ادیان سے تقابل اور سب علوم درایت و روایت کی متنوع جہات کا احاطہ کرنے کے بعد حاصل ہو۔ مگر ایسا شخص کہاں دستیاب ہوگا؟ مآخذ: (1) الكافي، ج 8، ص 234 – 235، الرقم: 313 کیا امام زمانہ ؑ کے علاوہ باقی آئمہ اہل بیت ؑ کی گردن پر طاغوت کا طوق تھا؟ وأخبرني جماعة، عن جعفر بن محمد بن قولويه وأبي غالب الزراري (وغيرهما) عن محمد بن يعقوب الكليني، عن إسحاق بن يعقوب قال إنه لم يكن أحد من آبائي إلا وقد وقعت في عنقه بيعة لطاغية زمانه، وإني أخرج حين أخرج ولا بيعة لاحد من الطواغيت في عنقي ہمارئے آباء و اجداد میں سے کوئی بھی ایک ایسا نہیں گزرا جس کی گردن پہ اس زمانے کے طاغوت کی بیعت نہ ہو ۔ لیکن جب میں خروج کروں گا تو میری گردن پر کسی طاغوت کی بیعت نہیں ہو گی۔ اس روایت میں محمد بن یعقوب روای مجھول ہے الغيبة - الشيخ الطوسي - ج ١ - الصفحة ٣١٥ شيخ مفيد رضوان الله تعالي عليه نے اس سلسلے میں نقل کہا ہے : قد اجمعت الأمّة على أن أمير الموءمنين عليهالسلام تأخّر عن بيعة أبي بكر ... والمحققّون من أهل الإمامة يقولون: لم يبايع ساعة قطّ . امت کا اس پر اجماع ہے که امير المؤمنين عليه السلام نے چھے مہینے تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی اب اس کے بعد اہل سنت والے کہتے ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے بیعت کی۔ لیکن شیعہ محققین کا اس پر عقیدہ ہے کہ حضرت علیہ السلام نے ایک لحظہ کے لئے بھی ابوبکر کی بیعت نہیں کی ۔ الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبري البغدادي (متوفاى413 هـ)، الفصول المختارة، 56، تحقيق السيد علي مير شريفي ، ناشر: دار المفيد ـ بيروت، الطبعة: الثانية، 1414 هـ ـ 1993م [ شنبه یازدهم مهر ۱۴۰۵ ] [ 7:45 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
تقلید غیر معصوم کے حرام ھونے 1 »»»» قال الصادق ع ((إياكم و التقليد فإنه من قلد في دينه هلك إن الله تعالى يقول اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَ رُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ فلا و الله ما صلوا لهم و لا صاموا و لكنهم أحلوا لهم حراما و حرموا عليهم حلالا فقلدوهم في ذلك فعبدوهم و هم لا يشعرون )) ترجمہ 2 »»»» عن أمير المؤمنين عليه افضل الصلاة والسلام (وينتقم من اهل الفتوى في الدين لما لا يعلمون ، فتعساً لهم ولأتباعهم ، اكان الدين ناقصاً فتمموه ؟ أم كان به عوج فقوموه ؟ أم الناس هموا بالخلاف فأطاعوه ؟ ام أمرهم بالصواب فعصوه؟) 3 »»»» قال ايضاً عليه السلام :-(( ترد على احدهم القضيه في حكم من الاحكام فيحكم فيها برأيه ، ثم ترد تلك القضيه بعينها على غيره فيحكم فيها بخلاف قوله ... ) 4 »»»» عن ابي بصير قال قلت لأبي عبدالله (ع) اتخذوا احبارهم ارباباً من دون الله فقال : (اما والله ما دعوهم الى عبادة انفسهم ولو دعوهم ما أجابوهم ولكن احلوا لهم حراماً وحرموا عليهم حلالاً فعبدوهم من حيث لا يشعرون) 5 »»»» وقد جاء في بيان الائمة عليهم السلام ج3 ص 99 : ترجمہ : 6 »»»» وايضاً على نفس المعنى في يوم الخلاص ص 279: 7 »»»» وعن امامنا ومقتدانا سيد الاوصياء أمير المؤمنين صلوات الله وسلامه عليه : 8 »»»» عن أبي بصير قال : قلت لأبي عبد الله (ع) ( ترد علينا أشياء ليس نعرفها في كتاب الله ولا سنة فننظر فيها ؟ قال لا أما انك ان أصبت لم تؤجر ، وان أخطأت كذبت على الله عز وجل ) الكافي الشریف ج1 ص77 9 »»»» عن يونس بن عبد الرحمن قال ، قلت لأبي الحسن الأول (ع) ( بما أوحد الله ؟ فقال يا يونس لا تكونن مبتدعاً ، من نظر برأيه هلك ، ومن ترك أهل بيت نبيه (ص) ضل ، ومن ترك كتاب الله وقول نبيه كفر ) 10 »»»» وعن أمير المؤمنين (ع) قال : ( فقهائهم يفتون بما يشتهون وقضاتهم يقولون ما لا يعملون وأكثرهم بالزور يشهدون من كان عنده دراهم كان موقراً مرفوعاً وان كان مقلاً فهو عندهم موضوع ) 11 »»»» عن ْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيّاً ع يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَ لَا تُفْتُوا النَّاسَ بِمَا لَا تَعْلَمُونَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَدْ قَالَ قَوْلًا آلَ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ وَ قَدْ قَالَ قَوْلًا مَنْ وَضَعَهُ غَيْرَ مَوْضِعِهِ كَذَبَ عَلَيْهِ فَقَامَ عَبِيدَةُ وَ عَلْقَمَةُ وَ الْأَسْوَدُ وَ أُنَاسٌ مِنْهُمْ فَقَالُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا نَصْنَعُ بِمَا قَدْ خُبِّرْنَا بِهِ فِي الْمُصْحَفِ قَالَ يُسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ عُلَمَاءُ آلِ مُحَمَّدٍ (ع ) 12 »»»» قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ وَ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ يُسَمَّوْنَ بِهِ وَ هُمْ أَبْعَدُ النَّاسِ مِنْهُ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَ هِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى فُقَهَاءُ ذَلِكَ الزَّمَانِ شَرُّ فُقَهَاءَ تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مِنْهُمْ خَرَجَتِ الْفِتْنَةُ وَ إِلَيْهِمْ تَعُودُ)) 13 »»»» عن رسول الله ص .. يا ابن مسعود (علماؤهم وفقهاؤهم خونة فجرة ، ألا إنهم أشرار خلق الله ، وكذلك أتباعهم ومن يأتيهم ويأخذ منهم ويحبهم ويجالسهم ويشاورهم أشرار خلق الله يدخلهم نار جهنم (صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لا يَرْجِعُونَ) يقول الله تعالى (لَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُوا فَلا فَوْتَ وَأُخِذُوا مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ) . يعني العلماء والفقهاء ). 14 »»»» وفي سفينة البحار ومدينة الحكم والاثار ج2 ص57 وص58 ج4 التماس دعا !! علی رضا ، [ پنجشنبه دوم مهر ۱۴۰۵ ] [ 7:24 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
بررسی حدیث ردّ الشمس الف؛ سابقه تاریخی ردّ الشمس ؛- پیامبران گذشته :از جمله مواردی که می تواند شاهد صدقی برای حدیث رد الشمس باشد ، نقل این واقعه برای پیامبران گذشته ، همچون حضرت سلیمان و یوشع می باشد که در منابع شیعه و سنی به آن اشاره گردیده است ولی از طرف مستشکلین ایرادی بر آنها گرفته نشده است و بلکه برعکس توسط کسانی که پاسخ اشکال کنندگان را داده اند (اعم از شیعه و سنی) شاهد صدقی برای این واقعه بیان گردیده است .البته در یکی از سایتهای اهل سنت متعلق به کشور کویت به آدرس www.kuwaitchat.net ادعا گردیده است که این حدیث را شیعیان از قصه رجوع خورشید برای سلیمان گرفته اند که آن هم از اسرائیلیات است . مشخص می باشد که این سخن ادعایی بدون دلیل بیش نمی باشد و توجه اعضای این سایت را به منابع اهل سنت که این حادثه را نقل کرده اند جلب می نمائیم (فصل چهارم) .علامه مجلسی رحمه الله به نقل از مناقب ابن شهر آشوب می گوید : « و عن ابن عباس بطرق کثیره انه لم تردّ الشمس الّا لسلیمان وصیّ داود و لیوشع وصیّ موسی و لعلیّ بن ابی طالب وصیّ محمّد صلوات الله علیهم اجمعین » (1).(از ابن عباس به طرق زیادی نقل گردیده است که : خورشید برنگشت مگر برای سلیمان ، وصیِ داوود ، و برای یوشع ، وصیّ موسی ، و برای علی بن ابی طالب ، وصیّ محمد صلی الله علیه و آله ) .فخر رازی در تفسیر خود می گوید : « و اما سلیمان فان الله تعالی ردّ له الشمس مره و فعل ذلک ایضا للرسول حین نام و رأسه فی حجر علی … (۲).(و اما سلیمان پس خداوند تعالی یک مرتبه برگرداند برای او خورشید را و همچنین برای رسول الله صلی الله علیه (و آله) و سلم هنگامی که خوابیده بودند و سر ایشان بر روی دامن علی علیه السلام بود ) .سبط ابن جوزی در جواب به اشکال جدش ادعای اجماع می کند و می گوید : « … و قد حبست لیوشع بالاجماع …»(3) . ( خورشید به اجماع علما برای یوشع حبس گردید ) .ابن حجر عسقلانی می گوید : « … و جاﺀ ایضا انها حبست لموسی لما حمل تابوت یوسف »(4) .( همچنین آمده است که خورشید برای موسی متوقف گردید ، هنگامی که تابوت یوسف را حمل می کرد) .ماجرای توقف خورشید برای حضرت موسی را عینی چنین بیان می کند : « … و وقع لموسى علیه الصلاه والسلام تأخیر طلوع الفجر روى إبن إسحاق فی المبتدأ من حدیث یحیى بن عروه عن أبیه أن الله عز وجل أمر موسى علیه الصلاه والسلام بالمسیر ببنی إسرائیل وأمره بحمل تابوت یوسف ولم یدل علیه حتى کاد الفجر یطلع وکان وعد بنی إسرائیل أن یسیر بهم إذا طلع الفجر فدعا ربه أن یؤخر طلوعه حتى یفرغ من أمر یوسف ففعل الله عز وجل ذلک وبنحوه ذکر الضحاک فی تفسیره الکبیر … » (5).( و برای موسی علیه الصلاه و السلام تأخیر خورشید از طلوع واقع گردید و آنرا ابن اسحاق در کتاب مبتدأ از حدیث یحیی بن عروه و او از پدرش روایت کرده است که خداوند عز و جل امر کرد به موسی علیه السلام و الصلاه به حرکت با بنی اسرائیل و فرمان داد به او به حمل کردن تابوت یوسف ولی او آنرا پیدا نکرد تا جایی که نزدیک بود فجر طلوع کند پس از خداوند خواست که طلوع خورشید را به تأخیر بیاندازد تا از امر یوسف فارغ آید ، پس خداوند عز و جل آنرا انجام داد . و مانند این مطلب را ضحاک در تفسیر کبیر بیان کرده است ) .ابن تیمیه می گوید : « … وقد أخرجا فی الصحیحین عن أبی هریره قال غزا نبی من الأنبیاﺀ فقال لقومه لا یتبعنی رجل قد ملک بضع امرأه یضع امرأه یرید أن یبنی بها ولما یبن ولا رجل قد بنى بیتا ولم یرفع سقفه ولا رجل اشترى غنما أو خلفات وهو ینتظر ولادها قال فغزوا فدنا من القریه حتى صلى العصر قریبا من ذلک فقال للشمس أنت مأموره وأنا مأمور اللهم احبسها علی شیئا فحسبت علیه حتى فتح الله علیه … »(6) .( در صحیح بخاری و صحیح مسلم به نقل از ابوهریره آمده است پیامبری از پیامبران الهی جنگید و به قوم خود گفت : مردی که صاحب طعام زنی می باشد وزنش زائیده است و می خواهد برای او سر پناهی بسازد ولی هنوز نساخته است و مردی که خانه ای ساخته است ولی هنوز سقفش را بنا نکرده است و … به همراه من نیاید . پس هنگام نماز عصر و یا نزدیک به آن به روستا رسید پس به خورشید گفت : تو مأموری و من نیز مأمور هستم ؛ خدایا خورشید را برای من نگاه دار . پس خورشید متوقف شد تا فاتح گردید … ) .این روایت را کنجی شافعی نیز نقل می کند و بعد از آن می گوید : « هذا حدیث متفق علی صحته رواه البخاری فی الغلول و اخرجه مسلم فی الجهاد و رواه احمد بن حنبل فی مسنده و … و رواه الطبرانی فی معجمه »(7) .(بر صحت این حدیث اتفاق نظر وجود دارد و آنرا بخاری در باب غلول و مسلم در باب جهاد و احمد بن حنبل در مسندش نقل کرده اند و … همچنین طبرانی در معجمش .)این روایت را بدرالدین عینی چنین بیان می کند : « حدثنا ( محمد بن العلاﺀ ) قال حدثنا ( ابن المبارک ) عن ( معمر ) عن ( همام بن منبه ) عن ( أبی هریره رضی الله تعالى عنه) قال قال رسول الله غزا نبی من الأنبیاﺀ فقال لقومه … » (8).(ابوهریره به نقل از رسول الله صلی الله علیه و آله می گوید: پیامبری از پیامبران جنگید و به قوم خود گفت …)او بعد از نقل حدیث می گوید : « والحدیث أخرجه البخاری أیضا فی النکاح وأخرجه مسلم فی المغازی عن أبی کریب أیضا عن ابن المبارک به . ذکر معناه قوله غزا نبی من الأنبیاﺀ قال ابن إسحاق هذا النبی هو یوشع بن نون … » (9).(حدیث را بخری نیز در باب نکاح آورده است و همچنین مسلم در باب مغازی. ابن عینی ماجرای دیگری را هم برای حضرت یوشع به این صورت نقل می کند : « وقال ابن إسحاق لما مات موسى علیه السلام وانقضت الأربعون سنه بعث یوشع بن نون نبیا فأخبر بنی إسرائیل أنه نبی الله وأن الله قد أمره بقتال الجبارین فصدقوه وبایعوه … فسقط سور المدینه فدخلوها وقتلوا الجبارین وکان القتال یوم الجمعه فبقیت منهم بقیه وکادت الشمس تغرب وتدخل لیله السبت فخشی یوشع أن یعجزوا فقال أللهم أردد الشمس علی فقال لها إنک فی طاعه الله وأنا فی طاعه الله وهو معنى قوله إنک مأموره وأنا مأمور یعنی إنک مأموره بالغروب وأنا مأمور بالصلاه أو القتال قبل الغروب … » (10).( ابن اسحاق گفته است هنگامی که موسی علیه السلام از دنیا رفت و چهل سال از آن گذشت خداوند یوشع بن نون را به عنوان پیامبر فرستاد و او بنی اسرائیل را از این امر مطلع کرد و اینکه خداوند به او فرمان داده است که با ستمکاران بجنگد ، پس بنی اسرائیل او را تصدیق کردند و با او بیعت نمودند … پس شهر سقوط کرد و داخل شهر گردیدند و ستمکاران را کشتند و جنگ در روز جمعه بود و مقداری از ستمکاران باقی مانده بودند و خورشید نزدیک به غروب کردن بود و وارد شدن به شب شنبه پس یوشع ترسید که شکست بخورد پس گفت : خدایا خورشید را بر من برگردان . و به خورشید گفت : تو در طاعت الهی هستی و من نیز . و این معنای گفته اوست که تو مأموری و من نیز ؛ یعنی تو مأمور به غروب هستی و من مأمور به نماز خواندن و یا جنگ قبل از غروب … ) .بیهقی این ماجرا را چنین نقل می کند : « … وعلى یوشع بن نون حین قاتل الجبارین یوم الجمعه ، فلما أدبرت الشمس خاف أن تغیب قبل أن یفرغ منهم ویدخل السبت فلا یحل له قتالهم فیه ، فدعا الله فرد علیه الشمس حتى فرغ من قتالهم … » (11).( و خورشید برای یوشع بن نون برگشت هنگامی که در روز جمعه با ستمکاران می جنگید ، پس هنگامی که خورشید پشت کرد ترسید که قبل از اینکه از جنگ با آنها تمام شود خورشید غروب کند و وارد شنبه شود و در نتیجه جنگیدن با آنها برایش جایز نباشد ، پس به درگاه الهی دعا کرد و خورشید برای او برگردانده شد تا جایی که جنگ با آنها به پایان رسید ) . [ یکشنبه بیست و نهم شهریور ۱۴۰۵ ] [ 20:23 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
بسم تعالی درس نمبر ۲ (مولانا سید رمیز الحسن موسوی)
👈 *بسترِ مرگ پر شیطان کی موجودگی*
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
"کوئی انسان ایسا نہیں جس کی موت کے وقت شیطان اپنے نمائندوں میں سے کسی ایک کو اس کے پاس نہ بھیجے۔ وہ اسے وسوسوں میں مبتلا کرتا، اس کے دین میں شک پیدا کرتا اور اسے کفر کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وسوسہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اس کی روح جسم سے جدا نہ ہوجائے۔
لیکن اگر محتضر مؤمن ہو تو شیطان اس پر غالب نہیں آسکتا اور نہ ہی اس کا ایمان چھین سکتا ہے۔ لہٰذا جب بھی تم کسی محتضر کے پاس جاؤ تو اسے شہادتین کی تلقین کرو تاکہ شیطان اس پر قابو نہ پاسکے۔"
👈شیطان نے مہلت کیوں مانگی؟*
جب شیطان نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو وہ اللہ کی رحمت سے دھتکار دیا گیا۔ اس وقت اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک مہلت طلب کی تاکہ انسانوں کو گمراہ کرسکے۔
«قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» "اے میرے پروردگار! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔"(سورہ ص 79)
اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مقررہ وقت تک مہلت عطا فرمائی: «إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ» "ایک مقررہ وقت کے دن تک۔"(سورہ ص 81)
شیطان نے قسم کھائی کہ وہ اللہ کے خالص بندوں کے علاوہ تمام انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا:
«رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ» "اے میرے پروردگار! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں بھی زمین میں ان کے لیے گناہوں کو خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا، سوائے تیرے ان بندوں کے جو مخلص ہیں۔"(سورہ حجر 39-40)
لہٰذا یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیطان انسان کو آخری لمحات تک گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی مکاری اور وسوسوں سے باز نہیں آتا۔
👈شیطان کی آخری کوششوں کے کون کون سے حربے ہیں؟*
1۔ شیطان کا کفر و شرک کی دعوت دینا
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ جب ہمارے کسی شیعہ کی موت کا وقت آتا ہے تو شیطان اس کے دائیں اور بائیں جانب سے آتا ہے تاکہ اسے ایمان سے گمراہ کرکے کفر کی طرف لے جائے، لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس سے محفوظ رکھتا ہے۔
2۔ شبہات اور شکوک پیدا کرنا
شیطان آخری وقت میں اپنے کارندوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ انسان کے دل میں دینی عقائد کے بارے میں شک و شبہات پیدا کریں۔
3۔ امامت و ولایت سے دور کرنا
ولایت اور امامت سے دوری شیطان کا ایک بڑا جال ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ مؤمن کو اہلِ بیتؑ سے جدا کردے اور اسے ان کی محبت و ولایت سے دور کردے۔
4۔ کمزوریوں اور دنیوی وابستگیوں کا غلط استعمال کرنا
شیطان انسان کی دنیوی وابستگیوں اور کمزوریوں سےفائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
روایت میں بیان ہوا ہے کہ موت کے وقت انسان کو شدید پیاس لگ سکتی ہے۔ شیطان ٹھنڈے پانی کا پیالہ لے کر آتا ہے اور پانی دینے کے بدلے اللہ تعالیٰ یا رسولؐ کا انکار کرنے کی شرط رکھتا ہے۔ اگر انسان اس کے بہکاوے میں نہ آئے تو وہ سعادت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔
5۔ برے اخلاق و صفات کا سبب بننا
حسد، تکبر، دنیا سے شدید محبت اور والدین کی نافرمانی، یعنی عاقِ والدین، جیسے برے اخلاق انسان کی سوء عاقبت اور برے انجام کا سبب بن سکتے ہیں۔
👈شیطان کے وسوسوں سے بچاؤ کے طریقے*
1۔ ایمان کو مضبوط رکھنا
انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں اپنے ایمان کو اتنا مضبوط کرے کہ آخری وقت میں شیطان اسے ڈگمگا نہ سکے۔
2۔ محتضر کو تلقین کرنا
محتضر کے پاس شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا انتہائی مؤثر قرار دیا گیا ہے۔
3۔ نماز کو قائم رکھنا
جو شخص اپنی نمازیں وقت اور شرائط کے مطابق ادا کرتا ہے، موت کے وقت ملک الموتؑ شیطان کو اس سے دور بھگا دیتے ہیں۔
4۔ محتضر کو مصلّٰی پر منتقل کرنا
اگر ممکن ہو تو محتضر کو گھر میں اس جگہ منتقل کیا جائے جہاں وہ شخص زیادہ نماز پڑھا کرتا تھا۔
5۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا
محتضر کے قریب سورۂ یٰسین اور سورۂ صافات کی تلاوت کرنا بھی بیان کیا گیا ہے۔
6۔ دعائے «رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا» پڑھنا
ہر واجب نماز کے بعد اس دعا کی مدد انسان کے ایمان کو ثابت قدم رکھنے کا ذریعہ بیان کی گئی ہے۔
7۔ دعائے عدیلہ پڑھنا
دعائے عدیلہ پڑھنا اور اپنے عقائد کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا آخری وقت میں شیطان کے شر سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
8۔ اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت پر قائم رہنا
اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت دنیا، برزخ اور موت کے وقت انسان کے کام آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا باعث بنتی ہے۔
👈 *خلاصہ درس*
موت انسان کی زندگی کا انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ اس وقت شیطان انسان کو وسوسوں، شکوک اور مختلف ترغیبات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی ہی میں ایمان کو مضبوط کرے، نماز کی پابندی کرے، قرآن سے وابستہ رہے، اپنے اخلاق درست کرے اور اہلِ بیتؑ کی محبت و ولایت کو مضبوطی سے تھامے۔
محتضر کے وقت اسے شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور دعاؤں کے ذریعے اس کے ایمان کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرنا اسلامی تعلیمات میں اہم امور کے طور پر بیان ہوا ہے۔
👈 *چند وضاحتیں*
مُحتَضَر : وہ شخص ہے جو حالتِ نزع میں ہو اور جس کی روح جسم سے جدا ہونے والی ہو۔ دعائے رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا: مفاتیح الجنان میں یہ دعا تعقیباتِ نماز کے ضمن میں آئی ہے دعائے عدیلہ: مفاتیح الجنان میں موجود ہے، اور اس کا تعلق خاص طور پر حالتِ احتضار اور موت کے وقت ایمان کی حفاظت سے بیان کیا گیا ہے۔ [ چهارشنبه چهارم شهریور ۱۴۰۵ ] [ 14:17 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
صحاح ستہ کے شیعہ راوی جنہوں نے ھماری صحاح ستہ کا 80٪ بوجھ اٹھایا ھوا ھے ، ابان بن تغلب بن رباح قاری کوفی ابراہیم بن یزید بن عمرو بن اسود بن عمرو نخعی کوفی احمد بن مفضل ابن کوفی حفری اسماعیل بن ابان اسماعیل بن خلیفہ ملائی کوفی اسماعیل ابن زکریا خلقانی کوفی اسماعیل بن عباد بن عباس طالقانی اسماعیل بن عبدالرحمن بن ابی کریمہ مشہور مفسر اسماعیل بن موسی فزاری کوفی ت :- ث :- ثوبر بن ابی فاختہ ج : - جریر بن عبدالحمید جنبی کوفی جعفر بن زیاد احمر کوفی جعفر بن سلیمان ضبعی بصری جمیع بن عمیرہ بن ثعلبہ کوفی تیمی ح :- حارث بن عبداﷲ ہمدانی حبیب بن ابی ثابت اسدی حسن بن حیَ حکم بن عتیبہ کوفی حماد بن عیسیٰ حمران بن اعین خ : - ز : - زید بن الحباب کوفی تمیمی س :- سالم بن ابی حفصہ عجلی کوفی سعد بن طریف الاسکاف حنظلی کوفی سعید بن اشوع سعید بن خیثم سلمہ بن الفضل الابرش سلمہ بن کمیل بن حصین حضرمی سلیمان بن صرد خزاعی کوفی سلیمان بن طرخان تیمی بصری سلیمان بن قرم بن معاذضبی کوفی سلیمان بن مہران کاہلی کوفی مشہور بہ اعمش ش :- [ دوشنبه بیست و ششم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 11:8 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
اگر زمین گھوم رہی ہے تو جہاز پیچھے کیوں نہیں رہ جاتا؟ زمین کی حرکت کو بالکل عام مثالوں سے سمجھنے کی ایک کوشش ادامه مطلب [ یکشنبه بیست و پنجم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 5:7 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
*چالیس احادیث از امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام*
۱۔ عقل اور ادب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: لَا أَدَبَ لِمَنْ لَا عَقْلَ لَهُ۔ ترجمہ: جس شخص میں عقل نہیں، اس میں ادب بھی نہیں۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۱، ح ۶۔ ________________________________________ ۲۔ بخل کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بخل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: أَنْ تَرَى مَا فِي يَدَيْكَ شَرَفًا، وَمَا أَنْفَقْتَ تَلَفًا۔ ترجمہ: بخل یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود مال کو باعثِ عزت سمجھے اور جو کچھ خرچ کرے اسے ضائع شدہ تصور کرے۔ ماخذ: وسائل الشیعة، ج ۱۶، ص ۵۳۹، ح ۱۔ ________________________________________ ۳۔ بزدلی کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بزدلی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: الجُرْأَةُ عَلَى الصَّدِيقِ، وَالنُّكُولُ عَنِ العَدُوِّ۔ ترجمہ: بزدلی یہ ہے کہ آدمی دوست کے مقابلے میں بے جا دلیری دکھائے اور دشمن کے مقابلے سے پسپا ہو جائے۔ ________________________________________ ۴۔ جہالت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے جہالت کی حقیقت دریافت کی گئی تو فرمایا: سُرْعَةُ الوُثُوبِ عَلَى الفُرْصَةِ قَبْلَ الاسْتِمْكَانِ مِنْهَا، وَالامْتِنَاعُ عَنِ الجَوَابِ۔ ترجمہ: جہالت یہ ہے کہ انسان کسی موقع کو پوری طرح اپنے اختیار میں آنے سے پہلے ہی اس پر جھپٹ پڑے اور جہاں جواب دینا چاہیے وہاں جواب دینے سے گریز کرے۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔ ________________________________________ ۵۔ حلم کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے حلم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: كَظْمُ الغَيْظِ وَمِلْكُ النَّفْسِ۔ ترجمہ: حلم یہ ہے کہ انسان اپنے غصے کو پی جائے اور اپنے نفس پر قابو رکھے۔ ________________________________________ ۶۔ اللہ کی بندگی کا ثمر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ عَبَدَ اللّهَ عَبَّدَ اللّهُ لَهُ كُلَّ شَيْءٍ۔ ترجمہ: جو شخص اللہ کی بندگی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے ہر چیز کو مسخر کر دیتا ہے۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۸۔ ________________________________________ ۷۔ دعا اور اجابت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَا فَتَحَ اللّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أَحَدٍ بَابَ مَسْأَلَةٍ فَخَزَنَ عَنْهُ بَابَ الإِجَابَةِ۔ ترجمہ: اللہ عزوجل جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھولتا ہے، اس کے لیے قبولیت کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ ________________________________________ ۸۔ دعا کی قبولیت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: أَنَا الضَّامِنُ لِمَنْ لَمْ يَهْجُسْ فِي قَلْبِهِ إِلَّا الرِّضَا أَنْ يَدْعُوَ اللّهَ فَيُسْتَجَابَ لَهُ۔ ترجمہ: میں اس شخص کے لیے ضمانت دیتا ہوں جس کے دل میں اللہ کی رضا کے سوا کوئی اور خواہش نہ ہو کہ وہ اللہ سے دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۵، ص ۳۵۱، ح ۴۳۔ ________________________________________ ۹۔ قرآن اور قبولیتِ دعا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ قَرَأَ القُرْآنَ كَانَتْ لَهُ دَعْوَةٌ مُجَابَةٌ، إِمَّا مُعَجَّلَةً وَإِمَّا مُؤَجَّلَةً۔ ترجمہ: جو شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کے لیے ایک مستجاب دعا ہوتی ہے؛ خواہ اس کی قبولیت جلد ظاہر ہو یا مؤخر ہو کر۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۳، ص ۳۱۳، ح ۱۷۔ ________________________________________ ۱۰۔ اللہ کے انتخاب پر رضا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ اتَّكَلَ عَلَى حُسْنِ الاخْتِيَارِ مِنَ اللّهِ، لَمْ يَتَمَنَّ أَنَّهُ فِي غَيْرِ الحَالِ الَّتِي اخْتَارَهَا اللّهُ لَهُ۔ ترجمہ: جو شخص اللہ کے حسنِ انتخاب پر بھروسا رکھتا ہے، وہ اس حالت کے علاوہ کسی دوسری حالت کی تمنا نہیں کرتا جسے اللہ نے اس کے لیے منتخب کیا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۶، ح ۶۔ ________________________________________ ۱۱۔ تقدیرِ الٰہی پر رضا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: كَيْفَ يَكُونُ المُؤْمِنُ مُؤْمِنًا وَهُوَ يَسْخَطُ قِسْمَتَهُ، وَيُحَقِّرُ مَنْزِلَتَهُ، وَالحَاكِمُ عَلَيْهِ اللّهُ؟ ترجمہ: مؤمن حقیقی مؤمن کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ وہ اپنی قسمت پر ناراض اور اپنی حالت کو حقیر سمجھتا ہو، حالانکہ اس پر حکم چلانے والا اللہ ہے؟ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۴۳، ص ۳۵۱، ح ۲۵۔ ________________________________________ ۱۲۔ زکوٰۃ اور مال امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَا نَقَصَتْ زَكَاةٌ مِنْ مَالٍ قَطُّ۔ ترجمہ: زکوٰۃ نے کبھی کسی مال کو کم نہیں کیا۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۶، ص ۲۳، ح ۵۶۔ ________________________________________ ۱۳۔ بیٹی کے لیے شوہر کا انتخاب ایک شخص نے اپنی بیٹی کے نکاح کے بارے میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے مشورہ کیا تو آپؑ نے فرمایا: زَوِّجْهَا مِنْ رَجُلٍ تَقِيٍّ، فَإِنَّهُ إِنْ أَحَبَّهَا أَكْرَمَهَا، وَإِنْ أَبْغَضَهَا لَمْ يَظْلِمْهَا۔ ترجمہ: اپنی بیٹی کا نکاح کسی متقی شخص سے کرو؛ کیونکہ اگر وہ اسے پسند کرے گا تو عزت و اکرام سے رکھے گا، اور اگر اسے ناپسند بھی کرے گا تو اس پر ظلم نہیں کرے گا۔ ماخذ: مكارم الأخلاق، ج ۱، ص ۴۴۶، ح ۱۵۳۴۔ ________________________________________ ۱۴۔ سوال کرنے کی ضرورت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: إِنَّ المَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: دَمٍ مُفْجِعٍ، أَوْ دَيْنٍ مُقْرِحٍ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ۔ ترجمہ: کسی سے مالی مدد طلب کرنا صرف تین صورتوں میں جائز ہے: ۱۔ خون بہا کی ادائیگی کی ضرورت ہو؛ ۲۔ ایسا سخت قرض ہو جس نے انسان کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہو؛ ۳۔ انتہائی فقر و فاقہ لاحق ہو۔ ________________________________________ ۱۵۔ سوال سے پہلے عطا کرنا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الإِعْطَاءُ قَبْلَ السُّؤَالِ مِنْ أَكْبَرِ السُّؤْدُدِ۔ ترجمہ: کسی کے سوال کرنے سے پہلے اسے عطا کرنا اعلیٰ درجے کی بزرگی ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔ ________________________________________ ۱۶۔ شجاعت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے شجاعت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: مُوَاقَفَةُ الأَقْرَانِ، وَالصَّبْرُ عِنْدَ الطِّعَانِ۔ ترجمہ: شجاعت یہ ہے کہ ہم پلہ حریف کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے اور معرکے میں ضربیں سہتے ہوئے ثابت قدم رہا جائے۔ ماخذ: تحف العقول، ص ۲۲۶۔ ________________________________________ ۱۷۔ تشیع کا حقیقی مفہوم ایک شخص نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے کہا: "میں آپ کے شیعوں میں سے ہوں۔" آپؑ نے فرمایا: يَا عَبْدَ اللّهِ، إِنْ كُنْتَ لَنَا فِي أَوَامِرِنَا وَزَوَاجِرِنَا مُطِيعًا، فَقَدْ صَدَقْتَ... ترجمہ: اے بندۂ خدا! اگر تم ہمارے اوامر کی پیروی اور ہماری نواہی سے اجتناب کرتے ہو تو تمہارا یہ دعویٰ درست ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرتے تو اپنے گناہوں میں یہ ایک اور گناہ شامل نہ کرو کہ ایسی عظیم منزلت کا دعویٰ کرو جس کے اہل نہیں ہو۔ یہ کہنے کے بجائے کہ "میں تمہارے شیعوں میں سے ہوں"، یوں کہو: "میں تم سے محبت کرنے والوں میں سے ہوں، تمہارے دوستوں سے محبت کرتا ہوں اور تمہارے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ہوں۔" ایسی صورت میں تم خیر پر ہو اور خیر ہی کی طرف گامزن ہو۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۶۔ ________________________________________ ۱۸۔ خاموشی کا وقار امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: قَدْ أَكْثَرَ مِنَ الهَيْبَةِ الصَّامِتُ۔ ترجمہ: خاموش رہنے والا شخص زیادہ باوقار ہوتا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔ ________________________________________ ۱۹۔ خاموشی کی افادیت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: نِعْمَ العَوْنُ الصَّمْتُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ كُنْتَ فَصِيحًا۔ ترجمہ: بہت سے مواقع پر خاموشی بہترین مددگار ثابت ہوتی ہے، خواہ تم کتنے ہی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہو۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔ ________________________________________ ۲۰۔ مصیبت اور اجر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: المَصَائِبُ مَفَاتِيحُ الأَجْرِ۔ ترجمہ: مصیبتیں اجر کے دروازے کھولنے والی چابیاں ہیں۔ ________________________________________ ۲۱۔ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: صَاحِبِ النَّاسَ مِثْلَ مَا تُحِبُّ أَنْ يُصَاحِبُوكَ بِهِ۔ ترجمہ: لوگوں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں۔ ماخذ: أعلام الدين، ص ۲۹۷۔ ________________________________________ ۲۲۔ عقل اور دونوں جہان امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: بِالعَقْلِ تُدْرَكُ الدَّارَانِ جَمِيعًا، وَمَنْ حُرِمَ مِنَ العَقْلِ حُرِمَهُمَا جَمِيعًا۔ ترجمہ: عقل کے ذریعے دنیا و آخرت، دونوں جہان حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور جو عقل سے محروم رہا وہ دونوں جہانوں کی خیر سے محروم رہا۔ ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔ ________________________________________ ۲۳۔ عقل اور صبر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: التَّجَرُّعُ لِلغُصَّةِ حَتَّى تَنَالَ الفُرْصَةَ۔ ترجمہ: عقل یہ ہے کہ انسان تلخیوں کو برداشت کرتا رہے، یہاں تک کہ مناسب موقع حاصل ہو جائے۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۲۴۰، ح ۱۔ ________________________________________ ۲۴۔ عقل اور امانتِ قلب امام علی علیہ السلام نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا تو آپؑ نے فرمایا: حِفْظُ قَلْبِكَ مَا اسْتَوْدَعْتَهُ۔ ترجمہ: عقل یہ ہے کہ تمہارا دل ان چیزوں کی حفاظت کرے جو تم نے اس کے سپرد کی ہیں۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔ ________________________________________ ۲۵۔ عادات کا غلبہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: العَادَاتُ قَاهِرَاتٌ، فَمَنِ اعْتَادَ شَيْئًا فِي سِرِّهِ وَخَلَوَاتِهِ، فَضَحَهُ فِي عَلَانِيَتِهِ وَعِنْدَ المَلَإِ۔ ترجمہ: عادتیں انسان پر غالب آ جاتی ہیں۔ جو شخص خلوت اور تنہائی میں کسی کام کا عادی ہو جائے، وہی عادت بالآخر اسے لوگوں کے سامنے رسوا کر دیتی ہے۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۱۳۔ ________________________________________ ۲۶۔ غفلت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الغَفْلَةُ تَرْكُكَ المَسْجِدَ، وَطَاعَتُكَ المُفْسِدَ۔ ترجمہ: غفلت یہ ہے کہ تم مسجد کو چھوڑ دو اور کسی مفسد و بدکردار شخص کی اطاعت اختیار کر لو۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۰۔ ________________________________________ ۲۷۔ فرائض کا فلسفہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: إِنَّ اللّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِمَنِّهِ وَرَحْمَتِهِ لَمَّا فَرَضَ عَلَيْكُمُ الفَرَائِضَ لَمْ يَفْرِضْهَا عَلَيْكُمْ لِحَاجَةٍ مِنْهُ إِلَيْكُمْ، بَلْ رَحْمَةً مِنْهُ عَلَيْكُمْ... لِيُمَيِّزَ الخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ، وَلِيَبْتَلِيَ مَا فِي صُدُورِكُمْ، وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ۔ ترجمہ: اللہ عزوجل نے اپنے فضل و رحمت سے جب تم پر فرائض عائد کیے تو انہیں اس لیے فرض نہیں کیا کہ اسے تمہاری ضرورت تھی، بلکہ یہ تم پر اس کی رحمت ہے؛ تاکہ پاکیزہ کو ناپاک سے جدا کرے، تمہارے سینوں کے اندر موجود چیزوں کو آزمائے اور تمہارے دلوں کو پاک و خالص کرے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۳، ص ۹۹، ح ۳۔ ________________________________________ ۲۸۔ تفکر اور بصیرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: التَّفَكُّرُ حَيَاةُ قَلْبِ البَصِيرِ۔ ترجمہ: غور و فکر صاحبِ بصیرت کے دل کی زندگی ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۱۔ ________________________________________ ۲۹۔ تفکر؛ خیر کی بنیاد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللّهِ وَإِدَامَةِ التَّفَكُّرِ؛ فَإِنَّ التَّفَكُّرَ أَبُو كُلِّ خَيْرٍ وَأُمُّهُ۔ ترجمہ: میں تمہیں تقوائے الٰہی اور مسلسل غور و فکر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ تفکر ہر خیر کا باپ بھی ہے اور ماں بھی۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۱، ص ۵۲۔ ________________________________________ ۳۰۔ قناعت اور رضا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اعْلَمْ أَنَّ مُرُوَّةَ القَنَاعَةِ وَالرِّضَا أَكْثَرُ مِنْ مُرُوَّةِ الإِعْطَاءِ۔ ترجمہ: جان لو کہ قناعت اور رضا کی مروّت، عطا و بخشش کی مروّت سے بھی برتر ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۱، ح ۶۔ ________________________________________ ۳۱۔ معرفتِ الٰہی اور تواضع امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: لَا يَنْبَغِي لِمَنْ عَرَفَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَعَاظَمَ، فَإِنَّ رِفْعَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَوَاضَعُوا، وَعِزَّ الَّذِينَ يَعْرِفُونَ مَا جَلَالُ اللّهِ أَنْ يَتَذَلَّلُوا لَهُ۔ ترجمہ: جو شخص اللہ کی عظمت کو پہچان لے، اسے زیب نہیں دیتا کہ وہ خود کو بڑا سمجھے۔ جو لوگ اللہ کی عظمت سے آشنا ہوتے ہیں، ان کی رفعت تواضع میں ہے، اور جو اس کے جلال کو پہچانتے ہیں، ان کی عزت اللہ کے سامنے فروتنی اختیار کرنے میں ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۴، ح ۳۔ ________________________________________ ۳۲۔ کھانے کے آداب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: فِي المَائِدَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ خَصْلَةً يَجِبُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَعْرِفَهَا: أَرْبَعٌ مِنْهَا فَرْضٌ، وَأَرْبَعٌ سُنَّةٌ، وَأَرْبَعٌ تَأْدِيبٌ... ترجمہ: دسترخوان کے بارہ آداب ہیں جنہیں ہر مسلمان کو جاننا چاہیے: ان میں سے چار فرض، چار سنت اور چار آداب ہیں۔ فرض: معرفت، رضا، تسمیہ اور شکر۔ سنت: کھانے سے پہلے وضو کرنا، بائیں جانب بیٹھنا، تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا۔ آداب: اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا رکھنا، اچھی طرح چبانا اور کھاتے وقت دوسروں کے چہروں کو کم دیکھنا۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۳، ص ۳۰۵، ح ۲۳۔ ________________________________________ ۳۳۔ علم سیکھنا اور سکھانا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: عَلِّمِ النَّاسَ وَتَعَلَّمْ عِلْمَ غَيْرِكَ، فَتَكُونَ قَدْ أَتْقَنْتَ عِلْمَكَ وَعَلِمْتَ مَا لَمْ تَعْلَمْ۔ ترجمہ: لوگوں کو علم سکھاؤ اور دوسروں کا علم بھی سیکھو؛ اس طرح تم اپنے علم کو پختہ کرو گے اور وہ کچھ جان لو گے جس سے پہلے ناواقف تھے۔ ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔ ________________________________________ ۳۴۔ غصہ اور درست رائے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: لَا يَعْزِبُ الرَّأْيُ إِلَّا عِنْدَ الغَضَبِ۔ ترجمہ: غصے کے وقت درست رائے انسان سے دور ہو جاتی ہے۔ ماخذ: نزهة الناظر، ص ۷۲، ح ۱۴۔ ________________________________________ ۳۵۔ علم اور ذمہ داری امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: قَطَعَ العِلْمُ عُذْرَ المُتَعَلِّمِينَ۔ ترجمہ: علم نے علم حاصل کرنے والوں کے تمام عذر ختم کر دیے ہیں۔ ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۶۔ ________________________________________ ۳۶۔ آخرت کی تیاری امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَمْ تَزَلْ فِي هَدْمِ عُمُرِكَ مُنْذُ سَقَطْتَ مِنْ بَطْنِ أُمِّكَ، فَخُذْ مِمَّا فِي يَدَيْكَ لِمَا بَيْنَ يَدَيْكَ؛ فَإِنَّ المُؤْمِنَ يَتَزَوَّدُ، وَالكَافِرَ يَتَمَتَّعُ۔ ترجمہ: اے ابنِ آدم! جب سے تو اپنی ماں کے بطن سے دنیا میں آیا ہے، اسی وقت سے تیری عمر کم ہوتی جا رہی ہے۔ لہٰذا جو کچھ تیرے پاس ہے، اسے اس منزل کے لیے استعمال کر جو تیرے سامنے ہے؛ کیونکہ مؤمن زادِ راہ تیار کرتا ہے، جبکہ کافر محض دنیاوی لذتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۲، ح ۶۔ ________________________________________ ۳۷۔ دل کی سلامتی امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: أَسْلَمُ القُلُوبِ مَا طَهُرَ مِنَ الشُّبُهَاتِ۔ ترجمہ: سب سے زیادہ سلامت دل وہ ہے جو شکوک و شبہات سے پاک ہو۔ ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۵۔ ________________________________________ ۳۸۔ سخاوت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الابْتِدَاءُ بِالعَطِيَّةِ قَبْلَ المَسْأَلَةِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ فِي المَحْلِ۔ ترجمہ: سخاوت یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے عطا کیا جائے اور قحط و تنگ دستی کے زمانے میں لوگوں کو کھانا کھلایا جائے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۲، ح ۲۔ ________________________________________ ۳۹۔ احسان جتانا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ عَدَّدَ نِعَمَهُ مَحَقَ كَرَمَهُ۔ ترجمہ: جو شخص اپنی عطاؤں اور احسانات کو شمار کراتا رہے، وہ اپنی سخاوت کی قدر و قیمت مٹا دیتا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔ ________________________________________ ۴۰۔ دنیا کی رغبت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الرَّاغِبُ فِيهَا عَبْدٌ لِمَنْ يَمْلِكُهَا۔ ترجمہ: جو شخص دنیا کا حریص ہو، وہ اس شخص کا غلام بن جاتا ہے جو دنیا کا مالک ہے۔ ماخذ: كنز العمّال، ج ۱۶، ص ۲۱۴، ح ۴۴۲۳۶۔ ________________________________________ ترجمه و ترتیب و پیشکش: فرقان اکیڈمی 💫 التماس دعا: ڈاکٹر محمد فرقان گوہر [ چهارشنبه بیست و یکم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 18:26 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
🔴 نبی پاک کی شہادت ہوئی یا وفات؟ 🔴 🖋 تحقیق: ابومہدی فرمان علی معصومی اہل سنت حضرات کا نظریہ ہے کہ نبی پاک کی شہادت نہیں ہوئی بلکہ وفات ہوئی تھی جبکہ اہل تشیع اس نظریہ پر ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔ ہم آ پ کے سامنے چند شواہد پیش کرتے ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔ 1ـ نبی پاک کو زہر دے کر شہید کیا گیا: الف:خیبر کے موقع پر زینب بنت الحارث کے ہاتھوں زہر دیا گیا: 📚 عمده القاري شرح صحيح البخاري 📜 55 - (بابُ مَا يُذْكَرُ فِي سَمِّ النبيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم) 📃 سب سے واضح بات وہ ہے جو انس بن مالک کی حدیث میں گذر چکا کہ ایک یہودی عورت نبی پاک کے پاس بکری کا زہر آلود لے آئی اور نبی پاک نے اس سے کچھ کھالیا تو یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ جس عورت نے ھدیہ دیا تھا وہ ایک یہودی عورت تھی لیکن اس میں اس کا نام نہیں بتایا گیا ہے جبکہ کتاب المغازی میں گذر چکا کہ وہ سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث تھی، یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا نام زینب ہے۔ ب ـ نبی پاک نے خود زہر کا ذکر فرمایا: نبی پاک نے مرض الموت کے وقت واضح طور پہ فرمایا کہ میری تکلیف اسی زہر کی وجہ سے بڑھ رہی ہے جو خیبر کے موقع پر دیا گیا! ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں: 📚 صحيح البخاري (جلد6/صفحه 9) 📜 4428 - وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ» یعنی مرض الموت کے وقت موت کا سبب یہی زہر تھا جو خیبر کے وقت زینب بن الحارث نے دیا تھا۔ 2ـ بزرگان اہل سنت کی اس بات پر تاکید کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی ہے: الف: عبداللہ بن مسعود: 📚 المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 60) 📜 4394 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لِأَنْ أَحْلِفُ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً إِنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " ✅ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4394 - على شرط البخاري ومسلم 📃 عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: میں نو مرتبہ قسم کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید کیا گیا ہے لیکن ایک بار بھی یہ قسم نہیں کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید نہیں کیا گیا ہے اور یہی سبب ہے کہ اللہ پاک نے محمد مصطفی ص کو نبی بھی منتخب کیا اور شہید بھی منتخب کیا۔ یہ حدیث بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے ۔ علامہ ذہبی حاشیہ میں لکھتے ہیں یہ روایت بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے۔ بـ عامر الشعبی: 📚 المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 61) 📜 4395 - فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ غَيْرَ مَرَّةٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: «وَاللَّهِ لَقَدْ سُمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُمَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَقُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ صَبْرًا، وَقُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ صَبْرًا، وَقُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَبْرًا، وَسُمَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ صَبْرًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَمَا نَرْجُو بَعْدَهُمْ» 📃 شعبی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! نبی پاک کو زہر دیا گیا ہے اور ابوبکر کو زہر دیا گیا ہے اور عمر کو قتل کیا گیا کہ وہ صبر کی حالت میں تھا اور عثمان کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور علی بن ابی طالب کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور امام حسن بن علی کو زہر دیا گیا اور حسین بن علی کو صبر کی حالت میں قتل کیا گیا (رضی اللہ عنھم)اس کے بعد ہم (دنیا سے) کیا امید رکھیں؟! 3ـ علماء اہل سنت کی تصریح: علماء اہل سنت نے واضح طور پہ لکھا ہے کہ نبی پاک کی شہادت ہوئی ہے۔ الفـ علی بن عبد الکافی السبکی 📚 شفاء السقام في زيارة خير الأنام صلى الله عليه وآله وسلم 📜 الثالث: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم شهيد، فإنه صلى الله عليه وآله وسلم لما سم بخيبر، وأكل من الشاة المسمومة، وكان ذلك سما قاتلا من ساعته، مات منه بشر بن البراء رضي الله عنه، وبقي النبي صلى الله عليه وآله وسلم وذلك معجزة في حقه، صار ألم السم يتعاهده إلى أن مات به صلى الله عليه وآله وسلم [وقال] في مرضه الذي مات فيه: (ما زالت أكلة خيبر تعاودني حتى كان الآن أوان قطعت أبهري). قال العلماء: فجمع الله له بذلك بين النبوة والشهادة. وتكون الحياة الثابتة للشهداء لا تختص بمن قتل في المعركة، فإنا إنما اشترطنا ذلك في الأحكام الدنيوية، كالغسل، والصلاة، أما الآخرة فلا، وهذا لا شك فيه بالنسبة إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم. 📃 علامہ سبکی لکھتے ہیں: بے شک نبی پاک ص شہید ہیں کیونکہ نبی پاک کو خیبر کے موقع پہ ذہر دیا گیا تھا اور زہر آلود بکری کا گوشت کھایا یہ وہ زہر تھا جو ایک لحظہ میں مار دیتا ہے جس سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی اور نبی پاک بچ گئے کہ یہ در حقیقت نبی پاک کے حق میں ایک معجزہ ہے، موت کے وقت تک یہ زہر کا درد نبی پاک کو ہوتا رہتا تھا کہ نبی پاک نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے)۔ علماء نے کہا ہے: نبی پاک کے لیے اللہ تعالی نے نبوت اور شھادت دونوں کو جمع کردیا۔ شہداء کی جو زندگی اور حیاتی ہے وہ ایسے شہیدوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جو جنگ کے میدان میں شہید ہوتے ہیں البتہ اتنا ہے کہ ہمارے ہاں میدان شہید ہونے والوں کے دنیاوی احکام الگ ہیں جیساکہ غسل اور نماز لیکن آخرت میں الگ نہیں ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نبی پاک بھی شہید ہیں (چہ جائیکہ ان کے لیے جنگی شہید والے احکام نہیں ہیں)۔ ب ـ ابن بطال: 📚 شرح صحيح البخارى لابن بطال (جلد 5/صفحه 347) 📜 7 - باب: إِذَا غَدَرَ المشْرِكُون بِالْمُسْلِمِينَ هَلْ يُعْفَى عَنْهُم؟ 📃 ابن بطال لکھتے ہیں: نبی پاک نے ام المومنین عائشہ کو بتایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے) لیکن نبی پاک نے انہیں (یہودیوں کو) معاف کردیا اور معلوم نہ ہونے تک ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالی نے زہر کے نقصان کو دور کردیا پھر نبی پاک کو اللہ تعلای نے معجزانہ طور پر اس کید و فریب سے آگاہ فرمایا کہ بکری کی بھونی ہوئی ٹانگ سے آواز ائی کہ وہ زہر الود ہے پھر اللہ تعالی نے زہر کے نقصان سے تا حیات نبی پاک کو بچایا یہاں تک کہ موت کا وقت آن پہنچا تو زہر نے شدت اختیار کرلی اور اس کا درد محسوس کرنے لگے اور اللہ تعالی نے نبی پاک کے لیے اسی کھانے کے بدلے شہادت نصیب فرمائی جس کی وجہ سے ان یہودیوں کو سزا اور عقاب نہیں کیا۔ ج_ عبدالعزیز بن باز 📚 فتح الباري، المؤلف : أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى : 852هـ)، المحقق : عبد العزيز بن عبد الله بن باز ومحب الدين الخطيب 📜 وروى ابن سعد عن شيخه الواقدي بأسانيد متعددة في قصة الشاة التي سمت له بخيبر، فقال في آخر ذلك: "وعاش بعد ذلك ثلاث سنين حتى كان وجعه الذي قبض فيه. وجعل يقول: ما زلت أحد ألم الأكلة التي أكلتها بخيبر عدادا حتى كان هذا أوان انقطاع أبهري" عرق في الظهر وتوفي شهيدا انتهى 📃 بن باز فتح الباری کے تحقیقی نسخہ میں لکھتے ہیں: تعلیماتِ اہلبیتؑ [ چهارشنبه بیست و یکم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 13:41 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
|
||
| [قالب وبلاگ : تمزها] [Weblog Themes By : themzha.com] | ||