|
Voice of Islam
إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسلامُ
| ||
|
✍️ مضمون: جھوٹی ذات کا رعب اور مولا علیؓ کی سچی اولاد (علوی) کی حقیقت : آج کل ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ اپنی اونچی ذات کا جھوٹا رعب دکھانے کے لیے خود کو "سید" کہتے ہیں اور مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی سچی علوی اولاد (جیسے قطب شاہی علوی اعوان وغیرہ) پر فقرے کستے ہیں۔ شریعت اور تاریخ سے جاہل ان لوگوں کو آئینہ دکھانے کے لیے، اسلام کا پورا خاندانی نظام اور انگریز دور کا کالا سچ نیچے آسان زبان میں بیان کیا جا رہا ہے:- 1. اسلام میں خاندانوں کے درجات : (اوپر سے نیچے تک کی پوری کہانی)
اسلامی تاریخ میں خاندانوں کی ترتیب کو اس آسان نقشے سے سمجھیں:-
• قبیلہ قریش (سب سے بڑا دائرہ): مکہ مکرمہ کا وہ معزز قبیلہ جس میں ہمارے نبی پاک ﷺ پیدا ہوئے۔ اس قبیلے کے لوگ قریشی کہلاتے ہیں۔
• بنو ہاشم (قریش کے اندر خاص خاندان): قریش قبیلے کے اندر وہ سب سے محترم خاندان ہے جس سے نبی پاک ﷺ کا اپنا گھرانہ ہے۔ اس خاندان میں نبی پاک ﷺ کے چچا حضرت عباس، حضرت جعفر، اور چچا زاد بھائی حضرت علیؓ کی اولادیں شامل ہیں۔
اللہ پاک نے اس پورے خاندان کو اتنا اونچا مقام دیا ہے کہ ان سب پر زکوٰۃ اور خیرات لینا شرعاً حرام ہے۔
• پنجتن پاک (اہلِ کساء): یہ بنو ہاشم کے اندر بھی وہ سب سے خاص اور پاک ہستیاں ہیں جنہیں نبی پاک ﷺ نے اپنی چادر میں لیا۔ ان میں حضور ﷺ کے علاوہ سیدہ فاطمہؓ، امام حسنؓ، امام حسینؓ اور مولا علیؓ شامل ہیں۔ بنو ہاشم کا کوئی دوسرا بڑا مرد اس پاک چادر میں شامل نہیں تھا۔
• علوی سادات (مولا علیؓ کی اولاد): مولا علیؓ کی تمام اولاد "علوی سادات" کہلاتی ہے۔ شریعت کا قاعدہ ہے کہ نسل باپ سے چلتی ہے۔
چونکہ مولا علیؓ خود پنجتن پاک کے روحِ رواں اور بنو ہاشم کے سردار ہیں، اس لیے ان کی ساری اولاد سید اور معزز ہے، خواہ وہ سیدہ فاطمہؓ کے بطن سے ہو یا دوسری پاک بیبیوں سے (جیسے حضرت عباس علمدار یا محمد بن الحنفیہ)۔
ان سب پر زکوٰۃ ویسے ہی حرام ہے جیسے آلِ رسول پر حرام ہے۔
2. انگریز دور کا کالا سچ : جھوٹے سید کیسے بنے؟
جو لوگ آج اپنی اونچی ذات کی "پھوں پھاں" دکھاتے ہیں، انہیں تاریخ کا آئینہ دیکھنا چاہیے۔ برصغیر میں جب انگریزوں کی حکومت آئی، تو انہوں نے اراضی الاٹ کرنے اور نوکریاں دینے کے لیے ذات پات کے نئے قانون بنائے۔
اس دور میں بہت سے کم ذات اور غیر مسلم خاندانوں نے اچھے فائدے اور سماجی رتبہ پانے کے لیے راتوں رات سرکاری کاغذات میں اپنے ناموں کے ساتھ "سید" لکھوا لیا۔
اصل سادات اور علوی بزرگ تو دین کی خدمت میں مصروف تھے اور خاموش رہے، لیکن یہ جو بناوٹی اور نقلی سید بنے، انہوں نے اپنی کمتری کو چھپانے کے لیے دوسروں پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا۔
کہتے ہیں کہ "اصل سونا کبھی اپنی چمک کا رعب نہیں جھاڑتا، صرف پیتل ہی سونا بننے کے لیے زیادہ شور مچاتا ہے"۔ یہ نقلی لوگ آج وہی شور مچا رہے ہیں۔
3. علویوں نے "سید" لقب کیوں چھوڑا؟
جب علویوں کی نسل (خصوصاً حضرت عباس علمدار اور محمد بن الحنفیہ کی اولاد) اسلام پھیلانے پنجاب اور کوہستانِ نمک کے علاقوں میں آئی، تو ان کی بہادری اور دین کی خدمت کی وجہ سے مقامی لوگوں نے انکی بہادری اور دین سمجھنے اور سیکھنے میں مدد گاری کیوجہ سے انہیں قطب شاہی "کھوکھر" و "اعوان" کہنا شروع کر دیا۔
عربی میں اعوان کا مطلب ہے "دین کے مددگار"۔ یہ کوئی ہندو ذات نہیں تھی، بلکہ مولا علیؓ کی اولاد کا ایک اعزازی نام تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ، بزرگوں نے انگریز دور حکومت میں ایک اجتماعی فیصلہ کے نتیجہ میں آل رسول کی بڑھتی ہوئی پاپولیشن کے پیش نظر انکی خاص پہچان اور عزت و احترام کی خاطر اپنے نام کے ساتھ "سید" لکھنا چھوڑ کر اپنا پدری نسب بھی آل رسول پر قربان کر دیا جس کی وجہ سے آج کچھ بدنسلے انہیں ہندؤالنسل ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں اور مقامی القاب قطب شاہی کھوکھر و عوان یا علوی لکھنے لگے، جس کا فائدہ اٹھا کر نقلی لوگوں نے انہیں ہندو النسل کہنا شروع کر دیا۔
لقب بدلنے سے رگوں کا خون نہیں بدلتا!
4. آخری اور لاجواب سوال: کیا مولا علیؓ سید ہیں؟
ان فقرے کسنے والے جاہلوں کو محفل میں گھیرنے کے لیے ان کے سامنے یہ سیدھا اور صاف سوال رکھیں:-
"کیا تم مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو 'سید' (سردار) مانتے ہو یا نہیں؟"
• اگر وہ کہتے ہیں کہ "نہیں مانتے"، تو ان کا ایمان ہی خطرے میں ہے، کیونکہ حضور ﷺ نے خود مولا علیؓ کو امت کا سردار فرمایا ہے۔
ایسے بدعقیدہ شخص سے بات کرنا ہی وقت کا ضیاع ہے۔
• اور اگر وہ کہتے ہیں کہ "ہاں، ہم مولا علیؓ کو سید مانتے ہیں"، تو پھر ان سے اگلا سوال پوچھیں:-
"جب باپ خود سید (سردار) ہے، تو شریعت اور دنیا کے کس قانون کے تحت اس کی سگی اولاد کا سید ہونا جرم یا گناہ بن گیا؟"
دنیا کا کوئی قانون، کوئی لغت اور اسلام کی کوئی شریعت یہ نہیں کہتی کہ باپ تو معزز اور سید ہو، لیکن اس کی سگی اولاد (چاہے وہ کسی بھی پاک بیوی سے ہو) معزز نہ رہے۔
جو لوگ ایسا کہتے ہیں، وہ دراصل اپنی جھوٹی انا کی وجہ سے اسلام کے خاندانی نظام کا مذاق اڑاتے ہیں۔
آخری فیصلہ:
جس پاک خون کی گواہی خود محمد مصطفیٰ ﷺ کی شریعت (حرمتِ زکوٰۃ) دے رہی ہو، اسے کسی انگریز دور کے نقلی چوہدری کی تصدیق کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
جھوٹے سیدوں کا شجرہ انگریز کے کاغذات سے شروع ہوتا ہے، جبکہ علویوں کا شجرہ نسب سیدھا غدیرِ خم اور مکہ مکرمہ کی وادیوں سے ہوتا ہوا مولا علیؓ تک جاتا ہے۔ لہذا، ایسے جاہلوں کی باتوں پر دلبرداشتہ ہونے کے بجائے ان کی عقل پر مسکرانا چاہیے۔ [ یکشنبه هفدهم آبان ۱۴۰۵ ] [ 23:2 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
*وفاتِ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے متعلق شیعی روایات کا تحقیقی جائزہ(شیعہ علماء کی نظر میں)* *(حصہ✍️ح کتاب سلیم بن قیس میں سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنھا کی وفات، ان پر ہونے والے مظالم اور ان کی پسلی ٹوٹنے (کسرِ ضلع) کے حوالے سے متعدد روایات نقل کی گئی ہیں۔ ان روایات میں سب سے نمایاں روایت وہ طویل خبر ہے جسے سلیم بن قیس نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ متنِ روایت: > «إنك أول من يلحقني من أهل بيتي، وأنت سيدة نساء أهل الجنة، وسترين بعدي ظلماً وغيظاً حتى تُضربي ويُكسر ضلع من أضلاحك، لعن الله قاتلك، ولعن الآمر والراضي والمعين والمظاهر عليك وظالم بعلك وابنيك» "بے شک تم میرے اہل بیت میں سے سب سے پہلے مجھ سے ملو گی، اور تم اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہو، اور عنقریب تم میرے بعد ظلم اور غیض و غضب دیکھو گی یہاں تک کہ تمہیں مارا جائے گا اور تمہاری پسلیوں میں سے ایک پسلی توڑ دی جائے گی، اللہ تمہارے قاتل پر لعنت کرے، اور حکم دینے والے، اس پر راضی ہونے والے، مدد کرنے والے، تمہارے خلاف پشت پناہی کرنے والے، اور تمہارے شوہر اور تمہارے دونوں بیٹوں پر ظلم کرنے والے پر لعنت کرے۔" *روایت کی علمی و مأخذاتی اہمیت:* یہ روایات ان تمام حضرات کے لیے بنیادی اور اہم ترین ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں جو کسرِ ضلع (پسلی توڑنے) کے واقعے کو ثابت مانتے ہیں۔ جیسا کہ امامی عالم شیخ ہاشم الہاشمی نے تصریح کی ہے کہ اس نظریے کے حاملین کی بنیادی عمدہ اور سندی بنیاد یہی کتاب ہے *(حوار مع فضل الله حول الزهراء، ص 420)*۔ *سلیم بن قیس کی شخصیت کا تحقیقی جائزہ* علماءِ رجال اور محققین نے اس روایت کے سند اور متن دونوں کا گہرا جائزہ لیا ہے اور اسے من گھڑت اور بلا اصل قرار دیا ہے۔ متن پر نقد سے ہٹ کر، اس کے مرکزی راوی سلیم بن قیس کی تاریخی حقیقت کے بارے میں علماءِ امامیہ کے ہاں شدید اختلاف پایا جاتا ہے، جسے تین بنیادی اقوال میں تقسیم کیا گیا ہے: * **ابن أبي الحديد المعتزلي شیعی کا نقد:* ابن ابی الحدید نے *شرح نہج البلاغہ* (12/217) میں لکھا: «فأما رواية سليم بن قيس الهلالي فليست بشيء...» (سلیم بن قیس الهلالی کی روایت کی کوئی علمی قیمت نہیں، وہ معروف المذہب ہے اور اس کی روایت کو رد کرنے کے لیے اس کی اپنی کتاب 'کتاب سلیم' ہی کافی ہے، نیز میں نے بعض علماء سے سنا ہے کہ یہ نام کسی موجود شخص کا نہیں تھا، اور دنیا میں سلیم بن قیس کے نام سے کوئی شخص نہیں پہچانا جاتا تھا، اور یہ کتاب محض منسوب اور موضوع ہے) *دوسرا قول:* علماءِ رجال کی ایک جماعت نے سلیم بن قیس کو ثقہ نہیں مانا بلکہ اسے ضعفاء میں شمار کیا ہے: *🟣تمام اسانید کا مدار ایک ہی راوی (ابان بن ابی عیاش)پر ہونا:* سلیم بن قیس سے روایت کرنے والے اسانید کا تمام تر مدار صرف اور صرف ایک شخص *أبان بن أبي عياش* پر ہے۔ ابن الندیم، احمد العقیقی *(خلاصة الأقوال، ص 83)*، اور ابن داود الحلی *(رجال ابن داود، ص 249)* وغیرہ نے صراحت کی ہے کہ ابان بن ابی عیاش کے علاوہ کسی نے بھی سلیم سے یہ کتاب یا روایات روایت نہیں کیں۔ *محمد علی الاردبیلی* نے (جامع الروایۃ:جلد1 ص9) پر ابان بن ابی عیاش کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ *ابن الغضائری نے اس کے متعلق لکھا ہے:* *شیخ طوسی نے لکھا ہے* "تابعی ضعیف" (رجال طوسی : ص126) *📚کتاب سلیم بن قیس" کی استنادی حیثیت* اب آپ کے سامنے کتاب سلیم بن قیس کی استنادی حیثیت کے حوالے سے علماءِ امامیہ کا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں ۔ 1.ابن الغضائري:انہوں نے صراحت کے ساتھ لکھا: «الكتاب موضوع، لا مرية فيه» (یہ کتاب بلا شک و شبہ من گھڑت ہے) اور اس کے وضع کا الزام ابان بن ابی عیاش پر عائد کیا: «وينسب أصحابنا وضع كتاب سليم بن قيس إليه» (رجال ابن الغضائري، ص 36) 2.ابن داود الحلي نے رجال ابن داود(ص 178) میں سلیم بن قیس کے متعلق لکھا: « کتابہ موضوع» (اس کی کتاب من گھڑت ہے) 3.مرتضى الحائري: نے كتاب الخمس(ص 646) میں لکھا: «أبان بن أبي عياش مرمي بالضعف وبجعل كتاب سليم والله العالم»۔ 4.محمد باقر البهبودي: انہوں نے معرفة الحديث (ص349، 363) میں کتاب کا حرف بحرف جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ یہ کتاب غلات کی وضع کردہ ہے: «الذي أعتدقه بعد سبر الكتاب صدراً وذيلأ ونقده كلمة كلمة، أن الكتاب موضوع وضعه أحد الغلاة على لسان سليم بن قيس»۔ 5.حسين الراضي نے اپنی کتاب *المؤامرة الكبرى على مدرسة أهل البيت* (ص 315) میں کتاب سلیم کو موضوع (من گھڑت) کتب میں شمار کیا۔ 6.أحمد بن موسى ابن طاؤوس الحلي (ت 673 هـ) نے *التحرير الطاووسي* (ص 253) میں کتاب کے اسناد کی تضعیف کرتے ہوئے لکھا: «الطريق غير معتبر، فيه إبراهيم بن عمر الصنعاني وأبان بن أبي عياش، طعن فيهما ابن الغضائري» 7.آیت اللہ أبو القاسم الخوئي نے *معجم رجال الحديث* (9/235، 237) میں کتاب سلیم کی تمام اسانید کو ضعیف قرار دیا۔ حماد بن عیسیٰ کے طریق میں محمد بن علی الصیرفی (ابو سمینہ) موجود ہے جو کہ ضعیف اور کذاب ہے۔ نیز شیخ طوسی کے دونوں اسانید کے بارے میں فرمایا: «طريق الشيخ إلى كتاب سليم بن قيس بكلا سنديه ضعيف» 8.آیت اللہ علي السيستاني نے کتاب سلیم کی صحت کے متعلق سوال پر فتویٰ دیا: «في سنده إشكال» (اس کی سند میں اشکال و ضعف ہے) *(نقلاً عن: التأسيس في نسبة كتاب سليم، ص 63)* 9.آیت اللہ محمد آصف محسني نے *مشرعة بحار الأنوار* (2/23) میں لکھا: «كتاب سليم لم يصل بسند معتبر، ولا أن نسخته وصلت بسند معتبر...» (کتاب سلیم نہ تو کسی معتبر سند سے ہم تک پہنچی ہے اور نہ ہی اس کا نسخہ معتبر سند سے ملا ہے) 10.حيدر حب الله (استاذ حوزہ قم) نے *إضاءات في الفكر والاجتماع* (2/536) میں جزم کے ساتھ کہا: «كتاب سليم بن قيس لا قيمة تاريخية له» (کتاب سليم بن قيس کی کوئی تاریخی علمی قیمت نہیں ہے) 11.شيخ حسين المصطفى نے اپنی مستقل کتاب *التأسيس في نسبة كتاب سليم بن قيس* (ص 65-87) میں کتاب کی تمام تر اسانید کا استقراء و تضعیف کر کے ثابت کیا کہ یہ کتاب غير صحیح ہے۔ [ یکشنبه هفدهم آبان ۱۴۰۵ ] [ 19:59 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
ولی کے محکم اور قطعی اختیارات. اس مؤقف کو کہ "اسلام نے ولی کو محکم اور قطعی اختیارات دیے تھے اور بعد میں ان کو کمزور کیا گیا"، قرآن مجید کی مخصوص آیات کے تفسیری پہلوؤں اور بالخصوص قدیم و بنیادی شیعہ فقہی مآخذ (Classical Shia Sources) سے بھرپور علمی تائید حاصل ہوتی ہے۔ قدیم شیعہ فقہاء کا ایک بہت بڑا طبقہ اسی بات کا قائل رہا ہے کہ عاقل و بالغ کنواری لڑکی کا نکاح ولی (باپ یا دادا) کی مستقل اجازت کے بغیر سرے سے باطل ہے، اور بعد کے دور میں اس میں جو نرمی پیدا کی گئی وہ اصل احکامات کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ ذیل میں قرآن اور قدیم شیعہ مآخذ سے تفصیلی دلائل پیش کیے جا رہے ہیں... ۱. قرآنی آیات سے مؤقف کا جواز اگر قرآن مجید کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو نکاح کے جتنے بھی احکامات ہیں ان میں خطاب عورتوں کے بجائے مردوں (اولیاء) سے کیا گیا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اصل اختیار ولی کا ہی ہے. • سورہ البقرہ، آیت ۲۲۱:وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا... علمی نکتہ. • سورہ القصص، آیت ۲۷ (قصہ حضرت موسیٰ و شعیب). جب حضرت شعیب علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا تو فرمایا: "إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ" (میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تم سے کر دوں)۔ یہاں بھی نکاح کی پیشکش اور اختیار باپ (ولی) نے خود استعمال کیا۔ ۲. بنیادی اور قدیم شیعہ مآخذ سے تائید قدیم شیعہ فقہ (جسے فقہِ متقدمین کہا جاتا ہے) میں ولی کے اختیار کو اتنا مستحکم مانا گیا ہے کہ باپ کی اجازت کے بغیر کنواری لڑکی کا نکاح "باطل" قرار دیا گیا ہے۔ الف) الکافی (شیخ کلینی - وفات ۳۲۹ ھ) شیخ کلینیؒ کی کتاب 'الفروع من الکافی' شیعہ حدیث کا سب سے قدیم اور معتبر مأخذ ہے۔ • امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے، آپ نے فرمایا. "الْجَارِيَةُ الْبِكْرُ الَّتِي لَهَا أَبٌ لَا تَتَزَوَّجُ إِلَّا بِإِذْنِ أَبِيهَا" • ایک اور روایت میں فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرے گی تو وہ نکاح فاسد یا باطل تصور ہوگا۔ ب) تہذیب الاحکام (شیخ الطائفہ ابو جعفر الطوسی - وفات ۴۶۰ ھ) شیخ طوسیؒ • حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت نقل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا. لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ" "ولی کے بغیر کوئی نکاح (منعقد) نہیں ہوتا۔"👍👍🫵 (تہذیب الاحکام، جلد ۷) ج) ابن ابی عقیل العُمانی اور ابن جنید الاسکافی (القدیمان) شیخ مفیدؒ سے بھی پہلے کے دور کے ان دو کبار شیعہ فقہاء کو شیعہ فقہ کی اصطلاح میں "القدیمان" (دو قدیم ترین فقیہ) کہا جاتا ہے۔ • ان دونوں بزرگوں کا قطعی فتوایٰ یہی تھا کہ باپ یا دادا کی ولایت کنواری لڑکی پر مستقل اور محکم ہے۔ • ان کے نزدیک اگر لڑکی بالغ بھی ہو جائے، تب بھی وہ باپ کی مرضی کے بغیر خود مختار نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے بعد میں آنے والی ان تشریحات کو رد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ بلوغت کے بعد ولی کا اختیار ختم یا کمزور ہو جاتا ہے۔ ۳. تشریحات کو کس طرح مشکوک اور کمزور کیا گیا؟ یہ نقطہ کہ بعد کے علماء نے اس اختیار کو مشکوک کیا، شیعہ فقہ کی تاریخ میں "روایات کے تعارض (Conflict of Hadith)" کی صورت میں نظر آتا ہے۔🌹🌹🌹 • قدیم دور میں حکم بالکل صاف تھا کہ ولی کی اجازت شرط ہے۔ • لیکن بعد کے ادوار میں کچھ ایسی روایات کو زیادہ وزن دیا جانے لگا جن میں تقیہ کے حالات یا مخصوص استثنائی صورتوں کا ذکر تھا • نتیجہ یہ نکلا کہ جدید دور کے اکثر مجتہدین اور مراجع (فقہائے متاخرین) نے اس محکم حکم کو کمزور کرتے ہوئے اب یہ فتوایٰ دینا شروع کر دیا ہے کہ "احتیاطِ واجب کی بنا پر ولی کی اجازت ضروری ہے"۔ یعنی انہوں نے "حرمت اور بطلان" کے قطعی حکم کو "احتیاط" کے دائرے میں لا کر اس کی وہ سختی ختم کر دی جو قدیم مآخذ اور عہدِ ائمہؑ میں موجود تھی۔🫵🫵🫵 لہذا، [ یکشنبه هفدهم آبان ۱۴۰۵ ] [ 9:24 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
*سید زادی کا غیر سید سے نکاح: قرآن، سنت اور فقہ جعفریہ کی روشنی میں علمی تحقیق*
تحریر: آغا ڈاکٹر کاشف علی رضوانی مدیر: مکتب فاطمیہ(س) انسٹیٹیوٹ
خلاصہ
یہ مقالہ پاکستان کے بعض علاقوں (خصوصاً پارا چنار اور اسکردو) میں پائی جانے والی اس غلط فہمی کا علمی رد پیش کرتا ہے جس کے تحت سید زادی کا غیر سید سے نکاح حرام سمجھا جاتا ہے، اور بعض انتہا پسند عناصر نے اس بنیاد پر بے گناہ افراد کو قتل تک پہنچایا ہے۔
یہ مقالہ چار سطحوں پر استدلال کرتا ہے: (1) قرآن مجید کی ازدواجی ممانعتوں کی جامع اور محدود فہرست، (2) نبی کریمؐ اور ائمہ طاہرینؑ کے دور کے عملی واقعات، (3) شیعہ فقہ کے معتبر مراجع کی واضح فتاویٰ، اور (4) نسب پر مبنی امتیاز کی عقلی و کلامی تردید۔ نتیجہ یہ ہے کہ سید زادی کا غیر سید سے نکاح فقہ جعفریہ میں بالکل جائز اور حلال ہے، اور اسے حرام سمجھنا جاہلیت کی باقیات اور اسلام کی روح کے منافی ہے۔
کلیدی الفاظ: سید، غیر سید، نکاح، فقہ جعفریہ، قرآن، سنت، نسب، جاہلیت
اول: تمہید
برصغیر پاک و ہند کے بعض سید گھرانوں میں ایک ایسی رسمی ممانعت پائی جاتی ہے جو شیعہ فقہ کے مسلمات سے واضح طور پر متصادم ہے: سید زادی کا غیر سید سے نکاح ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس مسئلے نے ایک دردناک شکل اختیار کی ہے، جب پارا چنار سے تعلق رکھنے والے ایک جاہل سید خاندان کی جانب سے اسکردو میں معصوم بچوں سمیت ان کے والدین کو ذبح کرنے کا واقعہ پیش آیا، اور سوشل میڈیا پر مراجع عظام کو گالیاں بکی گئیں۔ یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات سے انحراف ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک مخصوص جاہلیت کارفرما ہے جو نسب کو دین پر فوقیت دیتی ہے۔
اس مقالے کا مقصد یہ ہے کہ اس مسئلے کو قرآن، سنت اور فقہ جعفریہ کی محکم اور مستند دلیلوں کی روشنی میں واضح کیا جائے، تاکہ معاشرے کی اصلاح اور اس طرح کے جاہلانہ اقدامات کی روک تھام ہو سکے۔
دوم: قرآن مجید کی ازدواجی ممانعتوں کی جامعیت
اسلامی فقہ میں نکاح کی ممانعتوں (محرمات) کا بنیادی ماخذ سورۃ النساء کی آیات 22 اور 23 ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام خواتین کی تفصیل بیان فرمائی ہے جن سے نکاح دائمی طور پر حرام ہے:
«وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ... حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ... وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ» (النساء: 22-23)
اس آیت کے دو اہم فقہی پہلو ہیں:
پہلا: ممانعتوں کی فہرست جامع اور محدود (حصری) ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر محرم رشتے کی تفصیل بیان فرمائی ہے اور اسے "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ" (تم پر حرام کیا گیا) کے صیغے سے بیان فرمایا ہے۔
دوسرا: اس فہرست میں سید اور غیر سید کے فرق کا کوئی ذکر نہیں۔ اصول فقہ (اصول فقہ) کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جو چیز قرآن نے حرام نہیں قرار دی، وہ اصولاً حلال ہے۔ لہٰذا سید زادی کا غیر سید سے نکاح قرآن کی رو سے بالکل جائز ہے، اور اسے حرام قرار دینا اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے مقرر کردہ حدود سے تجاوز ہے۔
سوم: نبی کریمؐ اور ائمہ طاہرینؑ کی عملی سنت
نظری استدلال کے علاوہ اسلامی تاریخ کے متعدد محکم واقعات اس بات کی قطعی دلیل ہیں کہ نسب کا اختلاف نکاح میں کبھی رکاوٹ نہیں رہا۔
(الف) نبی کریمؐ کا خود سید زادی کا غیر سید سے نکاح کرانا
1. حضرت زینب بنت جحشؑ اور زید بن حارثہ کا نکاح: حضرت زینب بنت جحش نبی کریمؐ کی پھوپھی زاد بہن تھیں، یعنی ہاشمی سید زادی۔ زید بن حارثہ آپؐ کے آزاد کردہ غلام تھے اور نسب کے لحاظ سے ہاشمی نہیں تھے۔ ابتدا میں حضرت زینبؑ نے نسبی برتری کی بنیاد پر انکار کیا، لیکن نبی کریمؐ نے یہ نکاح کرایا، اور اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی:
«وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ» (الأحزاب: 36)
یہ واقعہ اعلان نبوت کے بعد کا ہے، اور نبی کریمؐ کا اس نکاح کو کرانا اور پھر نسبی برتری کے انکار کو آیت کے ذریعے رد کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سید زادی کا غیر سید سے نکاح دین میں کوئی قباحت نہیں رکھتا۔
2. حضرت ضباعہ بنت زبیرؑ اور حضرت مقداد بن اسودؓ کا نکاح: حضرت ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب نبی کریمؐ کی چچا زاد بہن تھیں (ہاشمی سید زادی)، اور حضرت مقداد بن اسودؓ غیر ہاشمی صحابی تھے۔ نبی کریمؐ نے خود یہ نکاح کرایا۔
چہارم: شیعہ فقہ کے معتبر مراجع کی واضح رائے
شیعہ فقہ جعفریہ میں اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں۔ آیت اللہ العظمیٰ خویی سے ایک سوال کیا گیا:
سوال: کیا سید زادی (جس پر صدقہ حرام ہے اور خمس لے سکتی ہے) کا نکاح ایسے مرد سے ہو سکتا ہے جو سید نہیں؟
جواب: "مؤمن مرد مؤمن خاتون کا ہم کفو ہے، اور ایک دوسرے سے نکاح میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ اس مسئلے میں علوی (سید) اور غیر علوی میں کوئی فرق نہیں، سید زادی غیر سید مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔" (آیت اللہ خویی، احکام شرعی برای زنان، ج1، ص240)
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے اس مسئلے کو مزید وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بعض متعصب افراد کی جانب سے اس نکاح کی ممانعت اس حد تک پہنچی ہے کہ "اگر کوئی سید زادی کو پیغام نکاح دے تو اسے قتل کر دیا جائے"، اور انہوں نے اس رویے کو "خرافہ و ضلالت" (اوہام اور گمراہی) قرار دیا ہے جو ائمہ اور تمام فقہا کے اجماع کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ آیت اللہ خویی اور آیت اللہ گلپایگانی، جو خود سید تھے نے اپنی بیٹیوں کی شادیاں غیر سیدوں سے کیں۔ (مکارم شیرازی، انوار الفقاہۃ، ج2، ص571)
پنجم: "نسب پرستی" کی عقلی و کلامی تردید
(الف) "کفو" کا صحیح مفہوم
اسلام میں نکاح کے لیے "کفو" (برابری) کا معیار بنیادی طور پر دین داری اور اخلاق ہے، نہ کہ نسب۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: "جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص رشتہ لے کر آئے جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے نکاح کرو۔" (وسائل الشیعہ، ج14، باب اول، ح1)۔ سید زادی کا غیر سید دیندار مرد سے نکاح کفو کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
(ب) "صدقہ" اور نکاح کا الگ الگ حکم
ایک جذباتی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ "صدقہ کھانے والے پر سید زادی کیسے حلال ہو سکتی ہے؟" اس کا جواب یہ ہے کہ صدقہ اور نکاح دو الگ الگ احکام ہیں۔ سید کے لیے صدقہ حرام ہونا "مالی معاونت" کے سلسلے میں ایک خاص ضابطہ ہے تاکہ ان کی عزت نفس محفوظ رہے، اس کا نکاح کے جواز سے کوئی تعلق نہیں۔ جیسے ایک امیر آدمی کو زکوٰۃ نہیں ملتی لیکن وہ شادی کر سکتا ہے، اسی طرح سید زادی صدقہ نہیں لے سکتی لیکن وہ کسی بھی نیک کردار مسلمان مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔
(ج) "ماں اور بیٹے" کی جذباتی مثال کی تردید
ایک اور جذباتی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ "سید زادی ماں اور امتی بیٹا ہے، ماں کا نکاح بیٹے سے کیسے ہو سکتا ہے؟" یہ استدلال فقہی طور پر بالکل بے بنیاد ہے۔ نکاح کی ممانعتوں میں "ماں اور بیٹا" سے مراد حقیقی نسبی یا رضاعی رشتہ ہے، نہ کہ مجازی یا سماجی نسبت۔ اگر اس مجازی نسبت کو ممانعت کی بنیاد مانا جائے تو پھر سید مرد کا غیر سید لڑکی سے نکاح بھی حرام ہونا چاہیے کیونکہ وہ "بیٹی" کے مثل ہے۔ اور یہ خود اس استدلال کی خود ساختہ بطلان ہے۔
(د) تقویٰ ہی معیار فضیلت ہے
قرآن مجید نے واضح طور پر فرمایا:
«إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ» (الحجرات: 13)
آیت اللہ مکارم شیرازی نے اسی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ نسب کی بنیاد پر نکاح کو حرام قرار دینا جاہلیت کی باقیات ہیں۔
ششم: سوشل میڈیا پر مراجع عظام کو گالیاں بکنا اور قتل و غارت کا جواز
اس مقالے کا ایک اہم محرک یہ ہے کہ حالیہ واقعات میں بعض افراد نے مراجع عظام کو گالیاں بکیں اور قتل و غارت کو "جواز" قرار دیا۔ اسلامی تعلیمات میں:
1. مراجع عظام کی توہین یہ علمائے دین کی حرمت اور ان کی علمی کاوشوں کی توہین ہے، جو خود حرام ہے۔ قرآن نے فرمایا: «یَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ» (المجادلہ: 11)۔
2. بے گناہ مسلمانوں کا قتل یہ اسلام میں سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔ قرآن نے فرمایا: «مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا» (المائدہ: 32)۔
3. "نسب کی حفاظت" کے نام پر قتل آیت اللہ مکارم شیرازی نے واضح کیا کہ یہ رویہ ائمہ اور تمام فقہا کے اجماع کے خلاف ہے، اور قرآن نے فرمایا: «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» (الحجرات: 1) یعنی اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔
نتیجہ:
مندرجہ بالا چاروں سطحوں کے استدلال سے درج ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں:
اول: قرآن مجید کی ازدواجی ممانعتوں کی فہرست جامع اور محدود ہے، اور اس میں "سید غیر سید" کا فرق شامل نہیں، لہٰذا یہ نکاح اصولاً حلال ہے۔
دوم: نبی کریمؐ نے خود حضرت زینب بنت جحش جیسی ہاشمی سید زادی کا نکاح زید بن حارثہ سے کرایا، حضرت ضباعہ بنت زبیر کا نکاح حضرت مقداد سے کرایا۔ یہ عملی سنت اس نکاح کی قطعی (جواز) کی دلیل ہے۔
سوم: شیعہ فقہ جعفریہ کے معتبر مراجع آیت اللہ خویی، آیت اللہ مکارم شیرازی نے واضح فتویٰ دیا ہے کہ یہ نکاح جائز ہے، اور اسے حرام قرار دینے کو "خرافہ و ضلالت" اور اجماع کے خلاف قرار دیا ہے۔
چہارم: نسب کی بنیاد پر قتل و غارت، مراجع عظام کو گالیاں، اور بے گناہوں کی ذبح یہ سب اسلامی تعلیمات کے قطعی منافی ہیں اور جاہلیت کی باقیات ہیں، جن کی کوئی دینی جواز نہیں۔
لہٰذا پارا چنار اور اسکردو کے حالیہ واقعات اسلامی فقہ میں کسی بھی طور پر جائز نہیں، اور مسلمانوں بالخصوص شیعہ علماء اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس قسم کی سوچ جو لاعلمی یا خاندانی روایات پر مشتمل ہے کو ختم کرنے کےلئے علمی دلیلوں کی روشنی میں اس جاہلانہ رسم کا قلع قمع کریں اور نکاح کے حق کو تحفظ فراہم کریں۔
حوالہ جات
1. آیت اللہ خویی، احکام شرعی برای زنان، ج1، ص240۔ 2. آیت اللہ مکارم شیرازی، انوار الفقاہۃ، ج2، ص571۔ 3. ابن حجر، فتح الباری، حضرت ضباعہ بنت زبیر اور حضرت مقداد کے نکاح کا ذکر۔ 4. سیوطی، الدر المنثور، حضرت زینب بنت جحش کے نکاح کی روایت۔ 5. کشی، رجال الکشی، ص241، امام صادقؑ کی بیٹی کی شادی کی روایت۔ 6. وسائل الشیعہ، ج14، باب اول، ح1 (کفو کے معیار کے بارے میں)۔ 7. آیت اللہ مکارم شیرازی کا فقہی ویب سائٹ، سید اور غیر سید کے نکاح کے بارے میں فتویٰ۔ [ پنجشنبه چهاردهم آبان ۱۴۰۵ ] [ 18:53 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
صرف علی ع ہی صدیق اکبر و فاروق اعظم ہیں: [ چهارشنبه سیزدهم آبان ۱۴۰۵ ] [ 17:15 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
کیا امام زین العابدین علیہ السلام نے یزید لعین کی بیعت کرلی تھی؟ تحریر: سید علی اصدق نقوی ملحوظہ: یہ ہماری ایک دو سال پرانی مفصل تحقیق کا حصہ ہے کہ جس میں ہم نے ایسی تمام روایات کی سندی و متنی تحقیق کی ہے جن میں یہ شائبہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام نے ظالمین کی بیعت کرلی تھی۔ حدیث اور اس سے متعلقہ علوم یقینا از اشرف و افضل علوم ہیں۔ اور ان میں علم روایت اور علم درایت دونوں شامل ہیں۔ جب تک انسان دونوں کو جمع نہ کرلے اس کے لیئے حدیث پر کلام مناسب نہیں اور بتحقیق درایت، روایت سے افضل ہے جیسا کہ متعدد فرامین ائمہ علیہم السلام سے ثابت ہے اور جیسا کہ عقل کا تقاضا ہے۔ نواصب کتب تشیع سے ایسی مرویات نقل کیا کرتے ہیں کہ جن میں ذکر ہوا ہے کہ ائمہ علیہم السلام نے گویا غیر معصوم کی بیعت کرلی تھی۔ اسی قبیل سے الکافی کی ایک روایت مروی ہے کہ جس میں امام سجاد علیہ السلام نے معاذ اللہ یزید پلید کی بیعت کرلی تھی۔ چنانچہ مروی ہے: 313- ابْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ (عَلَيْهِ السَّلام) يَقُولُ إِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ فَبَعَثَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ أَتُقِرُّ لِي أَنَّكَ عَبْدٌ لِي إِنْ شِئْتُ بِعْتُكَ وَإِنْ شِئْتُ اسْتَرْقَيْتُكَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ وَاللهِ يَا يَزِيدُ مَا أَنْتَ بِأَكْرَمَ مِنِّي فِي قُرَيْشٍ حَسَباً وَلا كَانَ أَبُوكَ أَفْضَلَ مِنْ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالإسْلامِ وَمَا أَنْتَ بِأَفْضَلَ مِنِّي فِي الدِّينِ وَلا بِخَيْرٍ مِنِّي فَكَيْفَ أُقِرُّ لَكَ بِمَا سَأَلْتَ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ إِنْ لَمْ تُقِرَّ لِي وَاللهِ قَتَلْتُكَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَيْسَ قَتْلُكَ إِيَّايَ بِأَعْظَمَ مِنْ قَتْلِكَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ (عَلَيْهِما السَّلام) ابْنَ رَسُولِ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) مَعَ يَزِيدَ لَعَنَهُ اللهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَقَالَتِهِ لِلْقُرَشِيِّ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أُقِرَّ لَكَ أَلَيْسَ تَقْتُلُنِي كَمَا قَتَلْتَ الرَّجُلَ بِالأمْسِ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ لَعَنَهُ اللهُ بَلَى فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) قَدْ أَقْرَرْتُ لَكَ بِمَا سَأَلْتَ أَنَا عَبْدٌ مُكْرَهٌ فَإِنْ شِئْتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ شِئْتَ فَبِعْ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ لَعَنَهُ اللهُ أَوْلَى لَكَ حَقَنْتَ دَمَكَ وَلَمْ يَنْقُصْكَ ذَلِكَ مِنْ شَرَفِكَ. میں کہتا ہوں: اس روایت کی سند صحیح ہے، اگرچہ ابن محبوب نے کئی غرائب کو روایت کیا ہے اور اس نے کئی مقامات پر تدلیس بھی کی ہے جس کو ہم اپنی کتابِ رجال میں واضح کر چکے۔ مگر یزید لعین کا مدینہ آنا تواریخ میں وارد نہیں ہوا اور یہ امر ثابت نہیں ہے۔ اس ہی روایت کے حاشیہ میں علامہ مجلسی رحمہ اللہ کا کہنا ہے: اس میں الکافی کے محقق نے اضافہ کیا ہے: یہی بات محدث نوری رضی اللہ عنہ نے خاتمۃ المستدرک میں اور علامہ مجلسی رحمہ اللہ نے بحار الانوار میں بیان کی ہے (4)۔ ان شاء اللہ ہم اپنا رسالہ بھی جلد ذکر کریں گے۔ حق بات یہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام نے ایک لحظہ کے لیئے بھی کسی غیر معصوم کی بیعت نہیں کی۔ اور ایسی روایات اور دیگر روایات جو کتب تشیع میں اسرائیلات میں سے مروی ہیں یا غنوصی و سریانی مصادر سے آئی ہیں، اور اس پر ہم الگ تحقیقات پیش کر چکے ہیں۔ اس سب میں اہل بصیرت کے لیئے نشانی ہے کہ Ḥadīth Dogmatism یعنی حدیث پرستی کا منہج کس قدر نقصان دہ ہے کہ جس میں انسان درایت اور قرائن سے عاری ہوکر کتب اربعہ یا دیگر کتب کی تمام روایات کو اس مفروضے پر قبول کرے کہ چونکہ یہ مصنفین سے نقل ہیں تو یہ سب کی سب صادر از معصوم علیہ السلام ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہی کتب میں انہی مصنفین کی کتب سے ایسی مرویات نقل ہوئی ہیں جو تورات و انجیل کی گستاخانہ فقرات سے آتی ہیں یا جو اسرائیلات اور یہود و نصاری کے قصوں کو امام علیہ السلام سے جوڑ کر پیش کرتی ہیں۔ اور انہی روایات میں تضادات کثیرہ بھی پائے جاتے ہیں جو کہ کتب کے ادنیٰ مطالعے سے معلوم ہوجائے گا۔ پس یہ نہایت سطحی منہج ہوا کہ ہم ایک حدیث کو پڑھ کر قبول کریں جب تک اس کا مکمل تجزئہ و تحلیل نہ کریں اور اس کے تاریخی، کلامی، فقہی سیاق اور دیگر متعلقہ تحقیقات کو پورا نہ کریں۔ اور دوسری طرف رجالی منہج بھی نہایت سطحی ہے کہ ہم رجال کی بناء پر احادیث کو رد یا قبول کریں کہ اسانید کو بھی گھڑا گیا ہے اور کتب مصنفین میں بھی روایات شامل کی گئی ہیں۔ اس سے قدرے بہتر ایکڈیمک طرز تحقیق ہے کہ جو ان دونوں سطحی مناہج کی محدودیت سے کافی حد تک آزاد ہے، البتہ اس کے نتائج ان دونوں مناہج والوں کے حق میں نہیں اور خود ایکڈیمک منہج کی اپنی محدودیت ہے۔ پس حق منہج وہ ہے جو تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کو جمع کرے اور جو اصول، سنت، عقل، فطرت، عرف، تاریخی سیاق، لسانی پہلو، دیگر ادیان سے تقابل اور سب علوم درایت و روایت کی متنوع جہات کا احاطہ کرنے کے بعد حاصل ہو۔ مگر ایسا شخص کہاں دستیاب ہوگا؟ مآخذ: (1) الكافي، ج 8، ص 234 – 235، الرقم: 313 کیا امام زمانہ ؑ کے علاوہ باقی آئمہ اہل بیت ؑ کی گردن پر طاغوت کا طوق تھا؟ وأخبرني جماعة، عن جعفر بن محمد بن قولويه وأبي غالب الزراري (وغيرهما) عن محمد بن يعقوب الكليني، عن إسحاق بن يعقوب قال إنه لم يكن أحد من آبائي إلا وقد وقعت في عنقه بيعة لطاغية زمانه، وإني أخرج حين أخرج ولا بيعة لاحد من الطواغيت في عنقي ہمارئے آباء و اجداد میں سے کوئی بھی ایک ایسا نہیں گزرا جس کی گردن پہ اس زمانے کے طاغوت کی بیعت نہ ہو ۔ لیکن جب میں خروج کروں گا تو میری گردن پر کسی طاغوت کی بیعت نہیں ہو گی۔ اس روایت میں محمد بن یعقوب روای مجھول ہے الغيبة - الشيخ الطوسي - ج ١ - الصفحة ٣١٥ شيخ مفيد رضوان الله تعالي عليه نے اس سلسلے میں نقل کہا ہے : قد اجمعت الأمّة على أن أمير الموءمنين عليهالسلام تأخّر عن بيعة أبي بكر ... والمحققّون من أهل الإمامة يقولون: لم يبايع ساعة قطّ . امت کا اس پر اجماع ہے که امير المؤمنين عليه السلام نے چھے مہینے تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی اب اس کے بعد اہل سنت والے کہتے ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے بیعت کی۔ لیکن شیعہ محققین کا اس پر عقیدہ ہے کہ حضرت علیہ السلام نے ایک لحظہ کے لئے بھی ابوبکر کی بیعت نہیں کی ۔ الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبري البغدادي (متوفاى413 هـ)، الفصول المختارة، 56، تحقيق السيد علي مير شريفي ، ناشر: دار المفيد ـ بيروت، الطبعة: الثانية، 1414 هـ ـ 1993م [ شنبه یازدهم مهر ۱۴۰۵ ] [ 7:45 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
تقلید غیر معصوم کے حرام ھونے 1 »»»» قال الصادق ع ((إياكم و التقليد فإنه من قلد في دينه هلك إن الله تعالى يقول اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَ رُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ فلا و الله ما صلوا لهم و لا صاموا و لكنهم أحلوا لهم حراما و حرموا عليهم حلالا فقلدوهم في ذلك فعبدوهم و هم لا يشعرون )) ترجمہ 2 »»»» عن أمير المؤمنين عليه افضل الصلاة والسلام (وينتقم من اهل الفتوى في الدين لما لا يعلمون ، فتعساً لهم ولأتباعهم ، اكان الدين ناقصاً فتمموه ؟ أم كان به عوج فقوموه ؟ أم الناس هموا بالخلاف فأطاعوه ؟ ام أمرهم بالصواب فعصوه؟) 3 »»»» قال ايضاً عليه السلام :-(( ترد على احدهم القضيه في حكم من الاحكام فيحكم فيها برأيه ، ثم ترد تلك القضيه بعينها على غيره فيحكم فيها بخلاف قوله ... ) 4 »»»» عن ابي بصير قال قلت لأبي عبدالله (ع) اتخذوا احبارهم ارباباً من دون الله فقال : (اما والله ما دعوهم الى عبادة انفسهم ولو دعوهم ما أجابوهم ولكن احلوا لهم حراماً وحرموا عليهم حلالاً فعبدوهم من حيث لا يشعرون) 5 »»»» وقد جاء في بيان الائمة عليهم السلام ج3 ص 99 : ترجمہ : 6 »»»» وايضاً على نفس المعنى في يوم الخلاص ص 279: 7 »»»» وعن امامنا ومقتدانا سيد الاوصياء أمير المؤمنين صلوات الله وسلامه عليه : 8 »»»» عن أبي بصير قال : قلت لأبي عبد الله (ع) ( ترد علينا أشياء ليس نعرفها في كتاب الله ولا سنة فننظر فيها ؟ قال لا أما انك ان أصبت لم تؤجر ، وان أخطأت كذبت على الله عز وجل ) الكافي الشریف ج1 ص77 9 »»»» عن يونس بن عبد الرحمن قال ، قلت لأبي الحسن الأول (ع) ( بما أوحد الله ؟ فقال يا يونس لا تكونن مبتدعاً ، من نظر برأيه هلك ، ومن ترك أهل بيت نبيه (ص) ضل ، ومن ترك كتاب الله وقول نبيه كفر ) 10 »»»» وعن أمير المؤمنين (ع) قال : ( فقهائهم يفتون بما يشتهون وقضاتهم يقولون ما لا يعملون وأكثرهم بالزور يشهدون من كان عنده دراهم كان موقراً مرفوعاً وان كان مقلاً فهو عندهم موضوع ) 11 »»»» عن ْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيّاً ع يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَ لَا تُفْتُوا النَّاسَ بِمَا لَا تَعْلَمُونَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَدْ قَالَ قَوْلًا آلَ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ وَ قَدْ قَالَ قَوْلًا مَنْ وَضَعَهُ غَيْرَ مَوْضِعِهِ كَذَبَ عَلَيْهِ فَقَامَ عَبِيدَةُ وَ عَلْقَمَةُ وَ الْأَسْوَدُ وَ أُنَاسٌ مِنْهُمْ فَقَالُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا نَصْنَعُ بِمَا قَدْ خُبِّرْنَا بِهِ فِي الْمُصْحَفِ قَالَ يُسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ عُلَمَاءُ آلِ مُحَمَّدٍ (ع ) 12 »»»» قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ وَ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ يُسَمَّوْنَ بِهِ وَ هُمْ أَبْعَدُ النَّاسِ مِنْهُ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَ هِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى فُقَهَاءُ ذَلِكَ الزَّمَانِ شَرُّ فُقَهَاءَ تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مِنْهُمْ خَرَجَتِ الْفِتْنَةُ وَ إِلَيْهِمْ تَعُودُ)) 13 »»»» عن رسول الله ص .. يا ابن مسعود (علماؤهم وفقهاؤهم خونة فجرة ، ألا إنهم أشرار خلق الله ، وكذلك أتباعهم ومن يأتيهم ويأخذ منهم ويحبهم ويجالسهم ويشاورهم أشرار خلق الله يدخلهم نار جهنم (صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لا يَرْجِعُونَ) يقول الله تعالى (لَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُوا فَلا فَوْتَ وَأُخِذُوا مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ) . يعني العلماء والفقهاء ). 14 »»»» وفي سفينة البحار ومدينة الحكم والاثار ج2 ص57 وص58 ج4 التماس دعا !! علی رضا ، [ پنجشنبه دوم مهر ۱۴۰۵ ] [ 7:24 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
بررسی حدیث ردّ الشمس الف؛ سابقه تاریخی ردّ الشمس ؛- پیامبران گذشته :از جمله مواردی که می تواند شاهد صدقی برای حدیث رد الشمس باشد ، نقل این واقعه برای پیامبران گذشته ، همچون حضرت سلیمان و یوشع می باشد که در منابع شیعه و سنی به آن اشاره گردیده است ولی از طرف مستشکلین ایرادی بر آنها گرفته نشده است و بلکه برعکس توسط کسانی که پاسخ اشکال کنندگان را داده اند (اعم از شیعه و سنی) شاهد صدقی برای این واقعه بیان گردیده است .البته در یکی از سایتهای اهل سنت متعلق به کشور کویت به آدرس www.kuwaitchat.net ادعا گردیده است که این حدیث را شیعیان از قصه رجوع خورشید برای سلیمان گرفته اند که آن هم از اسرائیلیات است . مشخص می باشد که این سخن ادعایی بدون دلیل بیش نمی باشد و توجه اعضای این سایت را به منابع اهل سنت که این حادثه را نقل کرده اند جلب می نمائیم (فصل چهارم) .علامه مجلسی رحمه الله به نقل از مناقب ابن شهر آشوب می گوید : « و عن ابن عباس بطرق کثیره انه لم تردّ الشمس الّا لسلیمان وصیّ داود و لیوشع وصیّ موسی و لعلیّ بن ابی طالب وصیّ محمّد صلوات الله علیهم اجمعین » (1).(از ابن عباس به طرق زیادی نقل گردیده است که : خورشید برنگشت مگر برای سلیمان ، وصیِ داوود ، و برای یوشع ، وصیّ موسی ، و برای علی بن ابی طالب ، وصیّ محمد صلی الله علیه و آله ) .فخر رازی در تفسیر خود می گوید : « و اما سلیمان فان الله تعالی ردّ له الشمس مره و فعل ذلک ایضا للرسول حین نام و رأسه فی حجر علی … (۲).(و اما سلیمان پس خداوند تعالی یک مرتبه برگرداند برای او خورشید را و همچنین برای رسول الله صلی الله علیه (و آله) و سلم هنگامی که خوابیده بودند و سر ایشان بر روی دامن علی علیه السلام بود ) .سبط ابن جوزی در جواب به اشکال جدش ادعای اجماع می کند و می گوید : « … و قد حبست لیوشع بالاجماع …»(3) . ( خورشید به اجماع علما برای یوشع حبس گردید ) .ابن حجر عسقلانی می گوید : « … و جاﺀ ایضا انها حبست لموسی لما حمل تابوت یوسف »(4) .( همچنین آمده است که خورشید برای موسی متوقف گردید ، هنگامی که تابوت یوسف را حمل می کرد) .ماجرای توقف خورشید برای حضرت موسی را عینی چنین بیان می کند : « … و وقع لموسى علیه الصلاه والسلام تأخیر طلوع الفجر روى إبن إسحاق فی المبتدأ من حدیث یحیى بن عروه عن أبیه أن الله عز وجل أمر موسى علیه الصلاه والسلام بالمسیر ببنی إسرائیل وأمره بحمل تابوت یوسف ولم یدل علیه حتى کاد الفجر یطلع وکان وعد بنی إسرائیل أن یسیر بهم إذا طلع الفجر فدعا ربه أن یؤخر طلوعه حتى یفرغ من أمر یوسف ففعل الله عز وجل ذلک وبنحوه ذکر الضحاک فی تفسیره الکبیر … » (5).( و برای موسی علیه الصلاه و السلام تأخیر خورشید از طلوع واقع گردید و آنرا ابن اسحاق در کتاب مبتدأ از حدیث یحیی بن عروه و او از پدرش روایت کرده است که خداوند عز و جل امر کرد به موسی علیه السلام و الصلاه به حرکت با بنی اسرائیل و فرمان داد به او به حمل کردن تابوت یوسف ولی او آنرا پیدا نکرد تا جایی که نزدیک بود فجر طلوع کند پس از خداوند خواست که طلوع خورشید را به تأخیر بیاندازد تا از امر یوسف فارغ آید ، پس خداوند عز و جل آنرا انجام داد . و مانند این مطلب را ضحاک در تفسیر کبیر بیان کرده است ) .ابن تیمیه می گوید : « … وقد أخرجا فی الصحیحین عن أبی هریره قال غزا نبی من الأنبیاﺀ فقال لقومه لا یتبعنی رجل قد ملک بضع امرأه یضع امرأه یرید أن یبنی بها ولما یبن ولا رجل قد بنى بیتا ولم یرفع سقفه ولا رجل اشترى غنما أو خلفات وهو ینتظر ولادها قال فغزوا فدنا من القریه حتى صلى العصر قریبا من ذلک فقال للشمس أنت مأموره وأنا مأمور اللهم احبسها علی شیئا فحسبت علیه حتى فتح الله علیه … »(6) .( در صحیح بخاری و صحیح مسلم به نقل از ابوهریره آمده است پیامبری از پیامبران الهی جنگید و به قوم خود گفت : مردی که صاحب طعام زنی می باشد وزنش زائیده است و می خواهد برای او سر پناهی بسازد ولی هنوز نساخته است و مردی که خانه ای ساخته است ولی هنوز سقفش را بنا نکرده است و … به همراه من نیاید . پس هنگام نماز عصر و یا نزدیک به آن به روستا رسید پس به خورشید گفت : تو مأموری و من نیز مأمور هستم ؛ خدایا خورشید را برای من نگاه دار . پس خورشید متوقف شد تا فاتح گردید … ) .این روایت را کنجی شافعی نیز نقل می کند و بعد از آن می گوید : « هذا حدیث متفق علی صحته رواه البخاری فی الغلول و اخرجه مسلم فی الجهاد و رواه احمد بن حنبل فی مسنده و … و رواه الطبرانی فی معجمه »(7) .(بر صحت این حدیث اتفاق نظر وجود دارد و آنرا بخاری در باب غلول و مسلم در باب جهاد و احمد بن حنبل در مسندش نقل کرده اند و … همچنین طبرانی در معجمش .)این روایت را بدرالدین عینی چنین بیان می کند : « حدثنا ( محمد بن العلاﺀ ) قال حدثنا ( ابن المبارک ) عن ( معمر ) عن ( همام بن منبه ) عن ( أبی هریره رضی الله تعالى عنه) قال قال رسول الله غزا نبی من الأنبیاﺀ فقال لقومه … » (8).(ابوهریره به نقل از رسول الله صلی الله علیه و آله می گوید: پیامبری از پیامبران جنگید و به قوم خود گفت …)او بعد از نقل حدیث می گوید : « والحدیث أخرجه البخاری أیضا فی النکاح وأخرجه مسلم فی المغازی عن أبی کریب أیضا عن ابن المبارک به . ذکر معناه قوله غزا نبی من الأنبیاﺀ قال ابن إسحاق هذا النبی هو یوشع بن نون … » (9).(حدیث را بخری نیز در باب نکاح آورده است و همچنین مسلم در باب مغازی. ابن عینی ماجرای دیگری را هم برای حضرت یوشع به این صورت نقل می کند : « وقال ابن إسحاق لما مات موسى علیه السلام وانقضت الأربعون سنه بعث یوشع بن نون نبیا فأخبر بنی إسرائیل أنه نبی الله وأن الله قد أمره بقتال الجبارین فصدقوه وبایعوه … فسقط سور المدینه فدخلوها وقتلوا الجبارین وکان القتال یوم الجمعه فبقیت منهم بقیه وکادت الشمس تغرب وتدخل لیله السبت فخشی یوشع أن یعجزوا فقال أللهم أردد الشمس علی فقال لها إنک فی طاعه الله وأنا فی طاعه الله وهو معنى قوله إنک مأموره وأنا مأمور یعنی إنک مأموره بالغروب وأنا مأمور بالصلاه أو القتال قبل الغروب … » (10).( ابن اسحاق گفته است هنگامی که موسی علیه السلام از دنیا رفت و چهل سال از آن گذشت خداوند یوشع بن نون را به عنوان پیامبر فرستاد و او بنی اسرائیل را از این امر مطلع کرد و اینکه خداوند به او فرمان داده است که با ستمکاران بجنگد ، پس بنی اسرائیل او را تصدیق کردند و با او بیعت نمودند … پس شهر سقوط کرد و داخل شهر گردیدند و ستمکاران را کشتند و جنگ در روز جمعه بود و مقداری از ستمکاران باقی مانده بودند و خورشید نزدیک به غروب کردن بود و وارد شدن به شب شنبه پس یوشع ترسید که شکست بخورد پس گفت : خدایا خورشید را بر من برگردان . و به خورشید گفت : تو در طاعت الهی هستی و من نیز . و این معنای گفته اوست که تو مأموری و من نیز ؛ یعنی تو مأمور به غروب هستی و من مأمور به نماز خواندن و یا جنگ قبل از غروب … ) .بیهقی این ماجرا را چنین نقل می کند : « … وعلى یوشع بن نون حین قاتل الجبارین یوم الجمعه ، فلما أدبرت الشمس خاف أن تغیب قبل أن یفرغ منهم ویدخل السبت فلا یحل له قتالهم فیه ، فدعا الله فرد علیه الشمس حتى فرغ من قتالهم … » (11).( و خورشید برای یوشع بن نون برگشت هنگامی که در روز جمعه با ستمکاران می جنگید ، پس هنگامی که خورشید پشت کرد ترسید که قبل از اینکه از جنگ با آنها تمام شود خورشید غروب کند و وارد شنبه شود و در نتیجه جنگیدن با آنها برایش جایز نباشد ، پس به درگاه الهی دعا کرد و خورشید برای او برگردانده شد تا جایی که جنگ با آنها به پایان رسید ) . [ یکشنبه بیست و نهم شهریور ۱۴۰۵ ] [ 20:23 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
بسم تعالی درس نمبر ۲ (مولانا سید رمیز الحسن موسوی)
👈 *بسترِ مرگ پر شیطان کی موجودگی*
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
"کوئی انسان ایسا نہیں جس کی موت کے وقت شیطان اپنے نمائندوں میں سے کسی ایک کو اس کے پاس نہ بھیجے۔ وہ اسے وسوسوں میں مبتلا کرتا، اس کے دین میں شک پیدا کرتا اور اسے کفر کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وسوسہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اس کی روح جسم سے جدا نہ ہوجائے۔
لیکن اگر محتضر مؤمن ہو تو شیطان اس پر غالب نہیں آسکتا اور نہ ہی اس کا ایمان چھین سکتا ہے۔ لہٰذا جب بھی تم کسی محتضر کے پاس جاؤ تو اسے شہادتین کی تلقین کرو تاکہ شیطان اس پر قابو نہ پاسکے۔"
👈شیطان نے مہلت کیوں مانگی؟*
جب شیطان نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو وہ اللہ کی رحمت سے دھتکار دیا گیا۔ اس وقت اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک مہلت طلب کی تاکہ انسانوں کو گمراہ کرسکے۔
«قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» "اے میرے پروردگار! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔"(سورہ ص 79)
اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مقررہ وقت تک مہلت عطا فرمائی: «إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ» "ایک مقررہ وقت کے دن تک۔"(سورہ ص 81)
شیطان نے قسم کھائی کہ وہ اللہ کے خالص بندوں کے علاوہ تمام انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا:
«رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ» "اے میرے پروردگار! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں بھی زمین میں ان کے لیے گناہوں کو خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا، سوائے تیرے ان بندوں کے جو مخلص ہیں۔"(سورہ حجر 39-40)
لہٰذا یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیطان انسان کو آخری لمحات تک گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی مکاری اور وسوسوں سے باز نہیں آتا۔
👈شیطان کی آخری کوششوں کے کون کون سے حربے ہیں؟*
1۔ شیطان کا کفر و شرک کی دعوت دینا
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ جب ہمارے کسی شیعہ کی موت کا وقت آتا ہے تو شیطان اس کے دائیں اور بائیں جانب سے آتا ہے تاکہ اسے ایمان سے گمراہ کرکے کفر کی طرف لے جائے، لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس سے محفوظ رکھتا ہے۔
2۔ شبہات اور شکوک پیدا کرنا
شیطان آخری وقت میں اپنے کارندوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ انسان کے دل میں دینی عقائد کے بارے میں شک و شبہات پیدا کریں۔
3۔ امامت و ولایت سے دور کرنا
ولایت اور امامت سے دوری شیطان کا ایک بڑا جال ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ مؤمن کو اہلِ بیتؑ سے جدا کردے اور اسے ان کی محبت و ولایت سے دور کردے۔
4۔ کمزوریوں اور دنیوی وابستگیوں کا غلط استعمال کرنا
شیطان انسان کی دنیوی وابستگیوں اور کمزوریوں سےفائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
روایت میں بیان ہوا ہے کہ موت کے وقت انسان کو شدید پیاس لگ سکتی ہے۔ شیطان ٹھنڈے پانی کا پیالہ لے کر آتا ہے اور پانی دینے کے بدلے اللہ تعالیٰ یا رسولؐ کا انکار کرنے کی شرط رکھتا ہے۔ اگر انسان اس کے بہکاوے میں نہ آئے تو وہ سعادت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔
5۔ برے اخلاق و صفات کا سبب بننا
حسد، تکبر، دنیا سے شدید محبت اور والدین کی نافرمانی، یعنی عاقِ والدین، جیسے برے اخلاق انسان کی سوء عاقبت اور برے انجام کا سبب بن سکتے ہیں۔
👈شیطان کے وسوسوں سے بچاؤ کے طریقے*
1۔ ایمان کو مضبوط رکھنا
انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں اپنے ایمان کو اتنا مضبوط کرے کہ آخری وقت میں شیطان اسے ڈگمگا نہ سکے۔
2۔ محتضر کو تلقین کرنا
محتضر کے پاس شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا انتہائی مؤثر قرار دیا گیا ہے۔
3۔ نماز کو قائم رکھنا
جو شخص اپنی نمازیں وقت اور شرائط کے مطابق ادا کرتا ہے، موت کے وقت ملک الموتؑ شیطان کو اس سے دور بھگا دیتے ہیں۔
4۔ محتضر کو مصلّٰی پر منتقل کرنا
اگر ممکن ہو تو محتضر کو گھر میں اس جگہ منتقل کیا جائے جہاں وہ شخص زیادہ نماز پڑھا کرتا تھا۔
5۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا
محتضر کے قریب سورۂ یٰسین اور سورۂ صافات کی تلاوت کرنا بھی بیان کیا گیا ہے۔
6۔ دعائے «رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا» پڑھنا
ہر واجب نماز کے بعد اس دعا کی مدد انسان کے ایمان کو ثابت قدم رکھنے کا ذریعہ بیان کی گئی ہے۔
7۔ دعائے عدیلہ پڑھنا
دعائے عدیلہ پڑھنا اور اپنے عقائد کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا آخری وقت میں شیطان کے شر سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
8۔ اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت پر قائم رہنا
اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت دنیا، برزخ اور موت کے وقت انسان کے کام آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا باعث بنتی ہے۔
👈 *خلاصہ درس*
موت انسان کی زندگی کا انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ اس وقت شیطان انسان کو وسوسوں، شکوک اور مختلف ترغیبات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی ہی میں ایمان کو مضبوط کرے، نماز کی پابندی کرے، قرآن سے وابستہ رہے، اپنے اخلاق درست کرے اور اہلِ بیتؑ کی محبت و ولایت کو مضبوطی سے تھامے۔
محتضر کے وقت اسے شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور دعاؤں کے ذریعے اس کے ایمان کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرنا اسلامی تعلیمات میں اہم امور کے طور پر بیان ہوا ہے۔
👈 *چند وضاحتیں*
مُحتَضَر : وہ شخص ہے جو حالتِ نزع میں ہو اور جس کی روح جسم سے جدا ہونے والی ہو۔ دعائے رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا: مفاتیح الجنان میں یہ دعا تعقیباتِ نماز کے ضمن میں آئی ہے دعائے عدیلہ: مفاتیح الجنان میں موجود ہے، اور اس کا تعلق خاص طور پر حالتِ احتضار اور موت کے وقت ایمان کی حفاظت سے بیان کیا گیا ہے۔ [ چهارشنبه چهارم شهریور ۱۴۰۵ ] [ 14:17 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
صحاح ستہ کے شیعہ راوی جنہوں نے ھماری صحاح ستہ کا 80٪ بوجھ اٹھایا ھوا ھے ، ابان بن تغلب بن رباح قاری کوفی ابراہیم بن یزید بن عمرو بن اسود بن عمرو نخعی کوفی احمد بن مفضل ابن کوفی حفری اسماعیل بن ابان اسماعیل بن خلیفہ ملائی کوفی اسماعیل ابن زکریا خلقانی کوفی اسماعیل بن عباد بن عباس طالقانی اسماعیل بن عبدالرحمن بن ابی کریمہ مشہور مفسر اسماعیل بن موسی فزاری کوفی ت :- ث :- ثوبر بن ابی فاختہ ج : - جریر بن عبدالحمید جنبی کوفی جعفر بن زیاد احمر کوفی جعفر بن سلیمان ضبعی بصری جمیع بن عمیرہ بن ثعلبہ کوفی تیمی ح :- حارث بن عبداﷲ ہمدانی حبیب بن ابی ثابت اسدی حسن بن حیَ حکم بن عتیبہ کوفی حماد بن عیسیٰ حمران بن اعین خ : - ز : - زید بن الحباب کوفی تمیمی س :- سالم بن ابی حفصہ عجلی کوفی سعد بن طریف الاسکاف حنظلی کوفی سعید بن اشوع سعید بن خیثم سلمہ بن الفضل الابرش سلمہ بن کمیل بن حصین حضرمی سلیمان بن صرد خزاعی کوفی سلیمان بن طرخان تیمی بصری سلیمان بن قرم بن معاذضبی کوفی سلیمان بن مہران کاہلی کوفی مشہور بہ اعمش ش :- [ دوشنبه بیست و ششم مرداد ۱۴۰۵ ] [ 11:8 ] [ ڈاکٹر غلام عباس جعفری، آزاد کشمیر ]
|
||
| [قالب وبلاگ : تمزها] [Weblog Themes By : themzha.com] | ||